اسے کہنا یہ دنیا ہے یہاں کوئی چیز کبھی مکمل نہیں ہوتی ہمارا ملنا بھی نا مکمل تھا اور جدائی بھی ادھوری ہے ہاں اک موت ہے وہ بس پوری ہے ''''
اسے کہنا! اداسی جب رگوں میں خون کی مانند اترتی ہے تو بہت نقصان کرتی ہے پرندوں کی جدائی پر شجر جب بین کرتے ہیں تو بہت بے چین کرتے ہیں_
اسے کہنا ! بساط زندگی میں جب مات ہوتی ہے دکھوں کے شہر میں جب رات ہوتی ہے
اسے کہنا مکمل بس خدا کی ذات ہوتی ہے
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
احمد فراز
بس اک شخص ہی کل کائنات ہو جیسے
نظر نہ آئے تو دن میں بھی رات ہو جیسے
میرے لبوں پہ تبسم ہے موجزن اب تک
کہ دل کا ٹوٹنا چھوٹی سی بات ہو جیسے
شب فراق مجھے آج یوں ڈراتی ہے
تیرے بغیر میری پہلی رات ہو جیسے
اس کی یاد کی یہ بھی تو اک کرامت ہے
ہزار میل پر ہوکر بھی ساتھ ہو جیسے
تیرا سلوک روز مجھے زخم تازہ دے
کسی کو پہلی محبت میں مات ہو جیسے
ہمارے دل کو کوئی مانگنے نہ آیا محسن
کسی غریب کی بیٹی کا ہاتھ ہو جیسے
محسن نقوی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
اس رات دیر تک وہ رھا محو گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی
تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی
محسن میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی
(محسن نقوی)
کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔
اسے لگے میں چاند کے جیسی ہوں ۔
جو مرضی میرے یار کی ہے۔
اسے لگے میں بالکل ویسی ہوں۔
کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔
جو اشک بہا دے سجدوں میں۔
اور جیسے تیرا دعوی ہے
محبوب ہو میرے قدموں میں ۔
پر عامل رک، اک بات کہوں۔
یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟
محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔
مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔
اور عامل سن یہ کام بدل۔
یہ کام بہت نقصان کا ہے۔
سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔
جو مالک کل جہان کا ہے..
کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔
مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔
کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔
وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔
کوئی ایسا کالا جادو کر
جو جگمگ کر دے میرے دن۔
وہ کہے مبارک جلدی آ ۔
اب جیا نہ جائے تیرے بن۔
کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔
جس رہ سے وہ دلدار ملے۔
کوئی تسبیح دم درود بتا ۔
جسے پڑھوں تو میرا یار ملے
کوئی قابو کر بے قابو جن۔
کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا
کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔
کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔
وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔
وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔
اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں
مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں
مری عرضی مان، نہ خالی موڑ
مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہوجائیں ۔
کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔
مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔
یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔
میں شمع، وہ پروانہ ہو۔
زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔
کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔
جو کر دے بخت سکندر سا
کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔
کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔
کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔
وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہو جائیں
کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا
کہ وجّد وُجُود میں آ جائے
کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو
کوئی وِرد بتا
وہ آن ملے
مُجھے جینے کا سامان ملے
گر نہیں تو میری عرضی مان
مُجھے مانگنے کا ہی ڈھنگ سِکھا
کہ اشّک بہیں میرے سجّدوں میں
اور ہونٹ تھرا تھر کانپیں بّس
میری خاموشی کو بھّید مِلے
کوئی حرف ادا نہ ہو لیکن
میری ہر اِک آہ کا شور وہاں سرِ عرش مچّے
میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا
میرے خالی پن میں پُھول کِھلا
مُجھے یار ملا
سرکار ملا
تم اگر ہم سے بچھڑنے میں نہ عُجلَت کرتے
ہم عبادت کی طرح تُم سے محبّت کرتے
میں نے پوچھا تھا فقط تم سے تغافل کا سبب
بھگی آنکھوں سے سہی کچھ تو وضاحت کرتے
اُن کو دعویٰ تھا مُحبّت میں جُنوں کاری کا
ہم سے وہ کیسے خسارے کی تجارَت کرتے
دُکھ کا ہر رُوپ بہر حَال ہمارا ہوتا
ہم جو تقسیم کبھی دل کی وراثت کرتے
فیصلہ اُس نے کِیا ترک ِ مرَاسِم کا مگر
زندگی بیت گئی میری وضاحَت کرتے
ایک غزل تیرے لیے ضرور لکھوں گی
بے حساب اس میں تیرا قصور لکھوں گی
تو گفتار کا ماہر تو کردار کا ماہر
پھر بے رخی کو تیرے تیرا غرور لکھوں گی
ٹوٹ گئے بچپن کے تیرے سارے کھلونے
اب دلوں سے کھیلنا تیرا دستور لکھوں گی
رہا عشق کا دعوی تجھے تمام عمر
وفا کی دہلیز سے تجھے مفرور لکھوں گی
خود ساختہ جو ہے تیرا جدائی کا فیصلہ
ایسے ہر اقدام کو نامنظور لکھوں گی
ہمیں کہنے کہ عادت نہیں لکھنے کا شوق ہے
جذبوں کو اپنے کلام کی تاثیر لکھوں گی
تیرا وجود ، میرا وجود مجھے ایک سا لگا
پھر تجھے میں خود سے بہت دور لکھوں گی
غزل
ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﻣﺮﯼ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ!!
ﺟﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺍﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ!!
.
ﺑﭽﮭﮍﺍ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺭُﺕ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ!!
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮐﺮﮔﯿﺎ!!
.
ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻞ ﺍِﮎ ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺖ!!
ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻔﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﮔﯿﺎ!!
.
ﮐﺘﻨﯽ ﺳﺪﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ!!
ﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﺟﻔﺎ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ!!
.
رضا ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ!!
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﺧﺮﺵ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ!!
مُجھ کو جب الوداع ہی کہنا تھا
پِھر کیوں برسوں بِیتا دیئے تم نے 💔
بے نام سے یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
میں اپنی ہی الجھی ہوٸی راہوں کا تماشا
جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
وہ خواب ہواٶں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
#ندافاضلی
وہ اِس اَدا سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دُعا کَرے گا
ھَمارا ھو کَر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رَھا کَرے گا
عَطاء کَرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اَگر وُہ مَالک
وُہ دِل کی دَھک دَھک ھُوا کَرے گا
ھے رَاس دِل کَو ۔۔۔۔۔۔ اُداس مُوسَم
کِہ دُکھ کَو ۔۔۔ دِل ھِی سَہا کَرے گا
وِصال کا لَمحَہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَوٹ آئے
مَلول ھو کَر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَہا کَرے گا
اُٹھی ھو سِسکِی کِسی کے دِل سے
ڈَرو کہ وہ دِل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔صَدا کَرے گا
کِسک اٗٹھے گِی ۔۔۔، ھَمارے دِل سے
کِسی سے وُہ ۔۔۔۔۔۔ـ گَر مِلا کَرے گا
وُہ کَھائی ٹُھوکَر ۔، ھے رُوح گَھائِل
ھے دَرد کُوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دَوا کَرے گا
پھر سے آنکھوں میں خواب انشاء جی
اجتناب، اجتناب، اجتناب انشاء جی
اس کو مارے گئے ہیں کیوں پتھر؟
جس نے پھینکے گلاب انشاء جی
درد ہی ہے وفا کا بدلہ کیا؟
کیا یہی ہے ثواب انشاء جی؟
ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا
کچھ تو کیجے جناب انشاء جی
بن ترے دوسرا کوئی دیکھیں
کب ہے آنکھوں میں تاب انشاء جی
تیری چاہت میں مر رہا ہے یہاں
ایک خانہ خراب انشاء جی
ہو سکے گر تو بھول کر اس کو
بند کیجے یہ باب انشاء جی....
#ibn e insha
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain