سُنوگے،داستانِ غم______لِکھوں میں؟؟؟ تمہیں تُم، خُودکومیں،یاہم، لِکھوں میں؟؟؟ یہی بہترہےہم دونوں کے____حَق میں کہ جتناہوسکے____کَم کَم لِکھوں میں نہ جانےکیوں_______ میراجی چاہتا تیراقِصہ بُہت _____پُرنَم لکھوں میں یوں ہی ہوتی رہے_____شعروں کی آمَد تُمھیں سوچوں تُمھیں ہردَم لِکھوں میں ذرادَم لے_____طبیعت کی یہ عُجلت ذراٹھہروں ___ذراتھَم تھَم لکھوں میں تیری باتیں ______زمانےکوسُناؤں؟؟؟ ہوئ جو''گُفتگوباہم''، __لِکھوں میں؟؟؟
آنکھوں کا رنگ، ________بات کا لہجہ بدل گیا وہ شخص ایک شام میں ،______, کتنا بدل گیا اٹھ کر چلا گیا _______کوئی وقفے کے درمیاں پردہ اُٹھا تو سارا ____________تماشا بدل گیا حیرت سے سارے لفظ____, اُسے دیکھتے رھے باتوں میں اپنی بات کو ،_______, کیسا بدل گیا آنکھوں میں جتنے اشک تھے،__جگنو سے بن گئے وہ مُسکرایا ، اور _______ ,میری دُنیا بدل گیا شاید وفا کے کھیل سے ،_____ اُکتا گیا تھا وہ منزل کے پاس آ کے ، ________جو رستہ بدل گیا
,🍀ہم جو تم سے.........ملے ہیں🍀 💓 ❤ اتفاق................ تھوڑی ھے❤️ 🍀مل کے.. تم.. کو چھوڑ دیں🍀 ❤ مذاق ............تھوڑی ھے❤ 🍀اگر ہوتی...... تم سے محبت🍀 ❤ایک حد تک تو چھوڑ دیتے❤ 🍀پر ہماری تم ....سے محبت🍀 ❤ کا حساب.......... تھوڑی ہے❤ 🍀اب تم.............. ڈھونڈو گے🍀 ❤ میری اس ..غزل کا جواب❤ 🍀یہ... میرے دل کی آواز ہے🍀. ❤کتاب............... تھوڑی ھے💕
____ ،،، سچ کا زہر ،،، ____ تجھے خبر بھی نہیں کہ تیری اُداس ادھوری محبتوں کی کہانیاں جو بڑی کشادہ دلی سے ہنس ہنس کے سُن رہا تھا وہ شخص تیری صداقتوں پر فریفتہ با وفا و ثابت قدم کہ جس کی جبیں پہ ظالم رقابتوں کی جلن سے کوئی شکن نہ آئی وہ ضبط کی کربناک شدّت سے دل ہی دل میں خموش، چُپ چاپ مر گیا ہے احمد فراز
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ گل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاہتا ہے یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی اور کچھ روز ، کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی اور تیری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے پروین شاکر
جو تم مایوس ہو جاو، تو رب سے گفتگو کرنا❤ وفا کی آرزو کرنا سفر کی جستجو کرنا ......!! یہ اکثر ہو بھی جاتا ہے کہ کوئی کھو بھی جاتا ہے اگر مقدر کو برا جانو تو یہ سو بھی جاتا ہے......!! اگر تم حوصلہ رکهو وفا کا سلسہ رکهو جسے تم خالق کہتے ہو❤ تو اس سے رابطہ رکهو میں یہ دعوے سے کہتی ہوں کبھی ناکام نہ ہو گے .........!! جو تم مایوس ہو جاو، تو رب سے گفتگو کرنا ......!! 💓
کیوں نہ ہم اُس کو اُسی کا آئینہ ہو کر ملیں بے وفا ہے وہ تو اُس کو بے وفا ہو کر ملیں تلخیوں میں ڈھل نہ جائیں وصل کی اُکتاہٹیں تھک گئے ہو تو چلو پھر سے جُدا ہو کر ملیں پہلی پہلی قُربتوں کی پھر اُٹھائیں لذتیں آشنا آ پھر ذرا نا آشنا ہو کر ملیں ایک تو ہے سر سے پا تک سراپا اِنکِسار لوگ وہ بھی ہیں جو بندوں سے خُدا ہو کر ملیں معذرت بن کر بھی اُس کو مل ہی سکتے ہیں عدؔیم یہ ضروری تو نہیں اُس کو سزا ہو کر ملیں عدیمؔ ہاشمی
اندیشہ" بات نکلے گی تو پھر , دُور تلک جائے گی لوگ بے وجہ اُداسی کا , سبب پُوچھیں گے یہ بھی پُوچھیں گے کہ ، تم اتنی پریشاں کیوں ھو؟؟ جگمگاتے ھُوئے لمحوں سے ، گریزاں کیوں ھو ؟؟ اُنگلیاں اُٹھیں گی ، سُوکھے ھُوئے بالوں کی طرف اِک نظر دیکھیں گے ، گزرے ھُوئے سالوں کی طرف چُوڑیوں پر بھی ، کئی طنز کیے جائیں گے کانپتے ھاتھوں پہ بھی ، فقرے کَسے جائیں گے۔ پھر کہیں گے کہ ، ھنسی میں بھی خفا ھوتی ھیں اب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ھوتی ھیں لوگ ظالم ھیں ، ھر اِک بات کا طعنہ دیں گے باتوں باتوں میں ، میرا ذکر بھی لے آئیں گے ان کی باتوں کا ، ذرا سا بھی اَثر مت لینا ورنہ چہرے کے تأثر سے ، سَمجھ جائیں گے چاھے کچھ بھی ھو ، سوالات نہ کرنا اُن سے میرے بارے میں ، کوئی بات نہ کرنا اُن سے۔ بات نکلے گی تو پھر ، دُور تلک جائے گی "کفیل آزر"