ماں: بیٹا! یہ کیا لکھ رہے ہو؟ بیٹا: سلیم کو خط لکھ رہا ہوں۔ ماں: مگر تم کو تو لکھنا نہیں آتا۔ بیٹا: تو کیا ہوا سلیم کو بھی پڑھنا نہیں آتا۔
اصغر: یا مجھے تنگ مت کرو میرا پہلے ہی موڈ آف ہے.... ناصر: یار تم کبھی آن ہوتے ہو کبھی آف مجھے توڈر ہے کہ تم کسی دن فیوز نہ ہو جاؤ.....
اجمل: دنیا کا سب سے طاقتور انسان کون ہے.....؟ اسلم: ٹریفک کا سپاہی جو ایک ہاتھ سے سینکڑوں گاڑیاں روک لیتا ہے.....
سارا سامان مالک مکان (چور پکڑ کر): بہتری اسی میں ہے کہ تم سارا سامان یہیں پر چھوڑ جاؤ۔ چور: جناب یہ کیسے ہو سکتا ہے آدھا سامان تو آپ کے ہمسایوں کا ہے
پہلا دوست: یار اب تیرا کیا حال ہے...؟ دوسرا دوست: بخار ٹوٹ گیا ہے، بس اب کمر میں درد ہے... پہلا دوست: خدا نے چاہا تو کمر بھی ٹوٹ جائے گی.....
جج: تم پر سائیکل چوری کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اس لئے تمھیں عدالت چھوڑ رہی ہے.... پٹھان: تو کیا وہ سائیکل میں رکھ لوں.یا واپس کردوں.....؟
نکاح کے بعد دولہا نے مولوی صاحب سے پوچھا ” آپ کی فِیس؟ مولوی صاحب: “بیوی کی خوبصورتی کے حساب سے دے دو” دولہا نے ایک سو روپے دے دیۓ، مولوی صاحب کو بڑا غصہ آیا لیکن چپ رہے۔ اچانک ہوا چلی اور دلہن کا گھونگھٹ اٹھ گیا۔ مولوی صاحب مسکرا کر بولے “یہ لو بقایا 80 روپے”۔
امجد: یار تم نے گانے کی مشق کیوں چھوڑ دی...... اسلم: اپنے گلے کی وجہ سے.... امجد: کیوں کیا ہوا تمھارے گلے کو...؟ اسلم: پڑوسیوں نے اس کو دبانے کی دھمکی دی ہے.....
دوران سفر ریل میں ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا نماز کس طرف منو کر کے پڑھوں -جس طرف تمہارا سامان رکھا ہوا ہے -دوسرے نے جواب دیا
دولڑکیاں آپس میں کھسر پھسر کر رہی ہوں سمجھ جاؤ Data ٹرانسفر ہورہاھے جب آواز آئے چھوڑو بھی ہمیں کیاھے سمجھ جاؤ ڈیٹا save ہوگیا اب viral ہوگا
کسی شخص کو اتفاق سے ایک بڑا سرکاری عہدہ مل گیا اس کے دوست احباب خوش ہو کر اسے مبارک باد دینے لگے مگر اس نے کسی کو بھی پہنچاننے سے انکار کر دیا۔ اس نے ایک آدمی سے پوچھا:”تم کس لئے آئے ہو؟“۔ اس آدمی نے جواب دیا:”جناب! افسوس کے لیے حاضر ہوا ہوں میں نے سنا ہے کہ آپ اندھے ہو گئے ہیں
دوافیمی کہیں سیر کو جا رہے تھے، ایک افیمی نے دوسرے سے کہا ”یہ آسمان پر گول گول کیا چمکتا ہے؟“ دوسرے افیمی نے کہا۔ ”میں تو خود پر دیسی ہوں
ایک محفل میں کچھ لوگ اپنی بچپن کی خواہشات کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک وکیل کی باری آئی تو انہوں نے کہا۔ ”میری خواہش تھی کہ میں بڑا ہو کر ڈاکو بن جاوٴں۔“ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے۔ ”پھر تو آپ خوش نصیب ہیں ورنہ ہر شخص کی خواہش کب پوری ہوتی ہے۔
استاد (شاگرد سے) اچھا یہ بتاوٴ دن میں تارے کیوں نظر نہیں آتے؟ شاگرد: جناب وہ رات بھر جاگتے ہیں اس لیے دن میں سونے چلے جاتے ہیں۔
ایک عورت نے بھکاری کو روکھی سوکھی روٹیاں دیں۔ بھکاری روٹیاں لے کر کھڑا رہا۔ عورت نے کہا”روٹیاں تو دے دیں۔ اب کیوں کھڑے ہو؟“ بھکاری بولا”ہاضمے کی گولیں بھی دے دیں
استانی :ڈیٹ اور تاریخ میں کیا فرق ھے؟؟ پپو :مس ڈیٹ میں ‘گرل فرینڈ ‘ کو لے کے جاتے ھیں اور تاریخ میں ‘وکیل کو’
پاگل: ڈاکٹر صاحب، میرے جسم کے ایک حصے پر آج تک پسینہ نہیں آیا۔ آپ اس کا علاج کریں۔ ڈاکٹر: کون سے حصے پر؟ پاگل: دانت پر!!!
ستاد (شاگرد سے) :”دودھ کی حفاظت کرنے کا ہم طریقہ کیا ہے“۔ شاگرد:”جناب! دودھ کو پی لینا چاہیے۔
ایک سردار جلیبیاں بیچ رہا تھا اور آواز لگا رہا تھا آلو لے لو، آلو لے لو۔ ایک آدمی نے پوچھا، سردار جی ، یہ تو جلیبیاں ھیں۔ سردار: چپ ہو جاؤ، ورنہ مکھیاں آ جائیں گی۔
بیوی: میں چاہتی ہوں کہ کراچی میں کوئی چورنگی یا کالونی میرے نام پر بھی ہو۔ شوہر: کراچی میں یہ دونوں چیزیں تمھارے نام پر پہلے سے ہیں بیوی: خوشی سے بولی ، وہ کونسی؟ شوہر: ناگن چورنگی ، بھینس کالونی۔۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain