Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

مگر میری بات تو سنو جان
نہیں آپ جاۓ یہاں سے، وہ شرارت سے بولی
وہ اپنی شکل بسورتا اٹھ کر صوفے پر چلا گیا
______________________________
وہ روم میں داخل ہوا تو نور انکھیں موند کر لیٹی تھی
بےبی کاٹ میں اُس کا چھوٹا سا شہزادہ سو رہا تھا ماں پر گیا ہے پورا وہ مسکرا کر بولا
زیب دھیرے سے چلتا نور کے قریب پہنچا
نور نے اپنی انکھیں کھولی تو وہ مسکراتا ہوا اُسے ہی دیکھ رہا تھا
شکریہ جانم مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لیے
نور مسکرا دی
ہمارا بےبی دیکھا ہے
نہیں میں نے سوچا آپ کے ساتھ دیکھو گی
زیب نے آرام سے اُسے گود میں اٹھایا اور اُس کے پاس لے آیا
نور نے آرام سے اُسے اپنی گود میں لیا
پھر باری باری اُس کے ہر نقش کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگی

Mirh@_Ch
 

ابان نے اُس کی شکل دیکھی تو پھر حیدر کو وڈیو کال کی
جان!!!! وہ پیار سے پکارتا
مگر وہ نہ ہلی
ابان نے لپ ٹوپ اُس کے سامنے کیا
جس میں حیدر ایک بہت پیارے بچے کو لے کر کھڑا تھا
ماشااللہ بہت پیارا ہے پھر تھوڑی دیر میں یہاں وہاں کی باتیں کرتے کال بند ہو گٸی
اب بھی ناراض ہو وہ اُس کے کندھے پر اپنی تھوڑی رکھتا بولا
آپ نے مجھے ڈانٹا وہ چہرا موڑے بولی
جان ایم سوری تم جو سزا دو گی وہ مجھے قبول ہے یار
وعدہ کرۓ پہلے
پکا وعدہ جان وہ اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا بولا
آپ کی سزا ہے کہ آج آپ صوفے پر سوۓ گے وہ ہنسی ضبط کرتی بولی
یہ غلط بات ہے جان تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر مجھے نیند نہیں آتی
میں کیا کر سکتی ہوں آپ نے وعدہ کیا ہے وہ اُسے تکیہ پکڑاتی بولی

Mirh@_Ch
 

ابان پلیز چلے نہ مجھے آپی کے بےبی کو دیکھنا ہے
وہ بڑی مشکل سے اپنا بھرا ہوۓ وجود کے ساتھ اٹھ کر اُس کے قریب آٸی
جو آفس کا کوٸی کام کر رہا تھا
نمرہ بھی امید سے تھی اُس کا ساتویں مہینہ چل رہا
الٹرساوٸنڈ کے مطابق اُن کے دو جڑواں بچے تھے
اس لیے ابان اُسے کہیں لے کر بھی نہیں جاتا تھا
جان کل آپی گھر آ جاۓ گی پھر چلے گے ویسے بھی ماما گٸی تو ہے
اور میں کوٸی ریسک نہیں لے سکتا اس لیے جان تم ریسٹ کرو
وہ اُس کا ہاتھ لبوں سے چھوتا بولا
لیکن مجھے ابھی جانا ہے
پلیز میری بات مان لے
میں نے کہا نہ نہیں وہ منہ بسورتی اٹھ کر بیڈ پر جا کر لیٹ گٸی

Mirh@_Ch
 

حیدر دیکھ یہ کتنا پیارا ہے
ماشااللہ بہت کیوٹ ہے اُس بےبی کے ہاتھوں پر کس کیا
ویسے ہمارا بےبی بھی اتنا ہی کیوٹ ہو گا نہ
وہ اُس کان میں سرگوشی کرتا مسکرایا اور پھر بےبی کی طرف متوجہ ہو گیا
حور کے گال پل میں سرخ ہوۓ
اففف اب ایسے کرو گی تو پھر مجھے سے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاۓ گا
آپ بہت بے شرم ہے حیدر وہ اُسے ایک طرف کرتی مریم بیگم کے پیچھے چل دی
حور کو دوسرا مہینہ تھا حیدر ایسے ہی بات بات پر اُسے تنگ کرتا تھا
جس پر وہ شرمانے پر مجبور ہو جاتی تھی

Mirh@_Ch
 

وہ پرویشنل انداز میں بول کر چلے گٸے
پھوپھو مبارک ہو آپ نانی پلس دادی بن گٸی
وہ خوشی سے اُن کے گلے لگتا بولا
تمہیں بھی بہت مبارک ہو اللہ دھیڑوں خوشیاں دے تم کو
کچھ لمحہ بعد نرس نے کمبل میں لیپٹا ننھے سے وجود کو زیب کی گود میں دیا
یہ کتنا کیوٹ ہے بھاٸی حور اُس کے نرم گالوں پر پیار کرنے لگی
زیب نے اُس کا ماتھا چوما پھر انکھیں پھر اُس کی چھوٹی سی ناک ایک سکون کی لہر اُس کہ اندر ڈوری
پھوپھو آپ اسے سمبھالے میں شکرانے کے نفل ادا کر کے آتا ہوں
وہ آرام سے انہیں دیتا اپنی انکھیں صاف کرتا مسجد کی طرف چل دیا
ماما یہ مجھے دے پلیز
یہ بھاٸی وہ اُسے دیتی اندر روم کی طرف چل دی جہاں نور کو شفٹ کیا گیا تھا

Mirh@_Ch
 

نو مہینے بعد...........
وہ آپریشن تھیٹھر کے باہر کھڑا پریشانی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا
اندر اُس کی متاع جان ایک نٸی زندگی کو جنم دینے والی تھی
زیب بیٹا بیٹھ جاو تھک جاو گے مریم بیگم اُس کے قریب آکر بولی
جی بھاٸی آپ آرام سے بیٹھ جاۓ بھابھی کو کچھ نہیں ہو گا
وہ خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا مگر اس کا ذرہ ذرہ خدا کے آگے اپنی پرنسس کے لیے دعا گو تھا
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر آٸی
زیب بھاگنے کے انداز سے اُن کے قریب پہنچا
ڈاکٹر ماٸی واٸف
آپ کی واٸف باکل ٹھیک ہے اور مبارک ہو خدا نے آپ کو ایک پیارا سا بیٹا دیا ہے
تھوڑی دیر میں ہم اُنہیں روم میں شفٹ کر دے گے

Mirh@_Ch
 

اچھا جاو چینج کر کے آو
وہ اُسے حکم دیتا بیڈ پر لیٹ گیا
وہ ڈراٸسنگ روم میں گٸی اور اپنی وڈارب کھولی اور ایک سمپل سا پنک کلر کا جوڑ نکالا
وہ فریش ہو کر باہر آٸی چہرے سے واضع تھکن محسوس ہو رہی تھی
وہ آکر ایک زیب کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گٸی
اور وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا
جسے سے نور کو بھی سکون ملا اور وہ انکھیں موند گٸی
اور تھوڑی ہی ان پر نیند کی دیوی مہربان ہو گٸی

Mirh@_Ch
 

ولیمہ کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تھا
سب لوگ گھر واپس آ چکے تھے
وہ اپنے روم میں موجود تھی تھوڑی دیر پہلے ہی زیب اُسے چھوڑ کر گیا تھا
ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ کر اُس کی کمر میں درد ہونے لگا تھا
اوپر سے اتنی ہیوی میکسی سے اُسے الجھن ہو رہی تھی
وہ ڈریس چینج کرنے کے لیے اٹھی ہی تھی جب زیب کمرے میں داخل ہوا
پھر اُسے بیڈ پر بیٹھ کر اُس کے پاوں جوتے سے آزاد کیے
زیب میں کر لو گی آپ چھوڑے وہ اپنے پیر کینھچتی ہوٸی بولی
نہیں!!!!! میں کر رہا ہوں نہ اس لیے خاموشی سے بیٹھی رہو
ایک ایک کر کے وہ اُس کی ساری جیولیری اتر رہا تھا
پھر زیب نے اُس کا ڈوپٹہ پینوں سے آزاد کیا
جس سے نور کے بال کھل کر کمر پر بکھر گٸے
اب میں جاو چینج کرنے وہ کی طرف دیکھتی بولی

Mirh@_Ch
 

حیدر نے بلیک کلر کا ڈنر سوٹ پہنے تھا اور حور نے پرپل کلر کی خوبصورت فراک پہنی تھی
جس میں وہ بلکہ گڑیا لگ رہی تھی
اسیٹج پر وہ تینوں جوڑیاں بیٹھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ہمارے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہے مریم بیگم عباس صاحب کو دیکھتی بولی بولی
خدا ان کی خوشیاں سلامت رکھے
امین وہ دل سے بولے

Mirh@_Ch
 

اگلے دن سب کی ڈورے لگی تھی آج ان دونوں کے ساتھ نور اور زیب کا بھی ولیمہ تھا
بیوٹیشن کے مہارت سے کیے گٸے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
سنہری رنگ کی خوبصورت میکسی جس پر سونے سے کام ہوا تھا
نازک سی جیولیری پہنے وہ سیدھا زیب کے دل میں اتر رہی تھی
زیب نے گرے ڈنر سوٹ پہنا تھا اور وہ بھی بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
سب سے پہلے ہال میں نور اور زیب کی انٹری ہوٸی
تمام لاٸٹ بند تھی بس ایک لاٸٹ انہیں فوکس کر رہی تھی
زیب نے اپنے آفس کے پورے سٹاف کو انواٸٹ کیا تھا
سب ہی ان کی جوڑی کی تعریف کر رہے تھے
پھر اس کے بعد ابان اور نمرہ داخل ہوۓ
ابان نے راٸل بلیو کلر کا ڈنر سوٹ پہنا تھا
جبکہ نمرہ سیم کلر کی میکسی پہنی بہت پیاری لگ رہی تھی

Mirh@_Ch
 

رخسانہ بیگم اُسے ابان کے روم میں چھوڑ کر گٸی
پورا کمرا گلاب اور موتیاں کے پھولو سے سجا تھا
وہ اپنا گرارا سنبھالتی اٹھی اور وڈوراب سے اپنے لیے کوٸی ہلکا سر ڈریس نکل کر چینج کرنے واشروم میں چلی گٸی
پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلی دھلے ہوۓ چہرے کے ساتھ وہ آرام سے بیڈ پر آ کر لیٹ گٸی
اب تمہیں پتہ لگے گا ابان کسی کو تنگ کرنے سے کیا ہوتا ہے
وہ مسکرا کر انکھیں بند کر گٸی صبع سے تھکی تھی اس لیے جلد ہی نیند کی وادی میں کھو گٸی
وہ مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا آج اُس کی محبت ،اُس کی دسترس تھی
اُس نے دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھا اور وہ کھلتا چلا گیا
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب پہنچا جہاں وہ دنیا سے بے خبر سو رہی تھی
میرے ارمانوں پر پانی پھیر کر کتنے آرام سے سو رہی ہے وہ بڑبڑایا

Mirh@_Ch
 

اور پھر ساٸیڈ دراز سے ایک مخملی کیس نکلا
یہ تمہاری منہ دیکھاٸی
حور نے کھولا تو اُس میں پاٸل کا خوبصورت جوڑا تھا
بہت پیارا ہے اُس نے دل سے تعریف کی
حیدر نے باری باری اُس کے دونوں پیروں پر پاٸل پہناٸی
مجھے چینج کرنا ہے وہ جلدی سے پاوں کنھیچ کر کھڑی ہوٸی
اوکے وہ بھی اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنا ڈوپٹہ پینوں سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی
واشروم کا دروازہ کھولا اور وہ ٹراوزر پہنے بغیر شرٹ کی باہر آیا
حور نے نظر اٹھا کر اُسے دیکھا پھر اپنا کام کرنے لگی
میں کچھ مدد کرو
نہیں میں کر لو گی
حیدر مسکرا دیا

Mirh@_Ch
 

اُسے نے اپنا کُلا صوفے پر رکھ اور شروانی کے اوپر والے دو بٹن کھول کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
جو سر جھکاۓ مسلسل اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی
اجازت ہو تو گھونگھٹ اٹھا لو وہ دھمیی آواز میں بولا
حور نے اثبات میں سر ہلایا
حیدر نے اُس کا گھونگھٹ اٹھایا اور کتنے ہی پل وہ دیکھتا رہا گیا
اُس نے ہاتھ بڑھ کر حور کا چہرا اوپر کیا
حیدر کا لمس محسوس کر کے وہ جی جان سے کانپی
میں بہت خوش ہوں حور تم نے میری زندگی میں آ کر اُسے مکمل کر دیا
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کے بولا

Mirh@_Ch
 

نور اُسے حیدر کے کمرے میں لے آٸی اور آرام سے بیڈ پر بیٹھایا
تم یہاں بیٹھو میں حیدر کو بیھجتی ہوں نور اس کا لہنگا سیٹ کرتی بولی
وہ باہر جانے لگی جب حور نے اُسے روک لیا
بھابھی پلیز ابھی نہ جاۓ وہ اُس کا ہاتھ پکڑتی بولی
”یہی ہوں میں گڑیا“ اور اگر اُس نے کوٸی بدتمیز کی تو مجھے بتانا.
اب تم آرام کرو اوکے
وہ اُس کے گال پر پیار کرتی روم سے چلی گٸی
حور نے نظریں اٹھا کر روم کو دیکھ جو خوبصورتی سے سجا ہوا تھا
پورے کمرے میں گلاب کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی
برقی کینڈلز سے کمرے میں روشنی تھی جو ماحول میں ایک الگ فسوں پیدا کر رہی تھی
سامنے دیوار پر حیدر کی مسکراتی تصویر تھی حور اُسے دیکھنے لگی
وہ ہنستا ہوا بہت خوبصورت لگتا تھا روم کا دروازہ کھلا اور وہ اندر آیا چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی
حور جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گٸی

Mirh@_Ch
 

رخصتی کا شور ہوا حور زیب کے گلے لگے بہت روٸی زیب بھی اُسے سینے سے لگاۓ نم انکھوں سے رخصت کر رہا تھا
جبکہ کے نمرہ بھی عباس صاحب کے سینے سے لگی رو رہی تھی
وہ دونوں قرآن کے ساۓ میں رخصت ہو کر اپنے پیا کے گھر چلی گٸی
پیچھے سا اُن کی خوشیوں کے لیے دعا گو تھے

Mirh@_Ch
 

تھوڑی دیر بعد ہی بارات پہنچے کا شور مچا
دونوں دلہے اسیٹج پر بیٹھے خوبصورت لگ رہے تھے
ابان نے بلیک شروانی پہنی تھی جبکہ حیدر نے سکن کلر کی جس میں وہ بہت ہیڈسم لگ رہا تھا
کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم شروع ہوٸی
پہلے ابان اور نمرہ کا نکاح ہوا اور پھر حیدر اور حور کا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان ابان دھیرے سے بولا
جبکہ کے نمرہ نے کوٸی جواب نہیں دیا
تم تو میں گھر جا کر بتاو گا وہ دھمکی دیتا بولا
جس سے نمرہ مسکرا دی
اتنا ڈر کیوں رہی ہو یار وہ اُس کے ٹھنڈے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا مسکرا کر بولا
ن۔۔نہیں۔۔۔ت۔۔تو وہ ٹوٹے الفاظ میں بولی جبکہ ہاتھ ابھی بھی حیدر کی گرفت میں تھا
اور اُس کا لمس حور کا دل دھڑکا رہا تھا

Mirh@_Ch
 

اگلا دن بہت مصروف تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی حور اور نور کو پالر چھوڑ کر آیا تھا
اب بھی وہ دیگر کاموں میں مصروف تھا
تیار ہونے پر نور نے زیب کو میسج کیا اور وہ انہیں لینے چلا گیا
وہ سرخ رنگ کا لہنگا پہنے کوٸی اپسرا ہی لگ رہی تھی بیوٹیشن کے کیے گٸے میک اپ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
جبکہ نور راٸل بیلو کلر کی میکسی پہنے جس پر سفید سیٹون سے خوبصورت ورک ہوا تھا پہنے زیب کے دل پر بجلی گرا رہی تھی
وہ سات بجے کے قریب ہال پہچنے حور اور نمرہ کو Birdal room میں بیٹھا دیا گیا تھا
نمرہ بھی ڈیپی ریڈ کلر کا گرارا پہنے مہارت سے کیے گٸے میک اپ میں پری لگ رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اس لیے صفائی دینے لگی
وہ خاموشی سے کھلاتا رہا تھوڑی سی بریانی کھانے کے بعد زیب نے اُسے دودھ کا گلاس دیا
جسے وہ ناک منہ چڑھ کر خاموشی سے پی گٸی
اس کے انداز پر زیب کے ہونٹوں پر مسکراہت آٸی
زیب نے اُسے گود میں اٹھایا اور کمرے کی طرف چلا دیا
جانتا تھا وہ بہت تھک گٸی ہے
وہ روم میں داخل ہوا اور اسے آرام سے نیچے اترا
وہ ڈریسنگ روم میں چلی گٸی اور کپڑے چینج کر آٸی
جبکہ زیب بیڈ پر بیٹھا اُس کا انتظار کر رہا تھا
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب پہنچی اور پھر زیب کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گٸی
زیب نے بھی اُس کے گرد حصار بنایا
”آٸی لو یو “وہ دھیرے سے بولی
لو یو ٹو جانم وہ اُس کے بالوں پر بوسا دیتا بولا
اس طرح وہ ایک دوسرے کی آغوش میں پرسکون ہو کر سو گٸے
____________________________

Mirh@_Ch
 

ابان نے نمرہ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ اُس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی
وہ بھی خاموش ہو کر رسمیں انجواے کرنے لگا
______________________________
مہندی کا فنکشن رات ایک بجے تھا اختتام کو پہنچا
تمام رسموں کے بعد سب مہمان چلے گٸے تھے
وہ گھر آۓ تو تھکن کی وجہ سے حور اور جمیشد صاحب سونے چلے گٸے
جب کے نور لاونج میں بیٹھی تھی اس وقت اُسے بہت بھوک لگی تھی کھانا تو اُس نے کھایا ہی نہیں تھا
ملازم سارے چلے گٸے تھے اور نور کا خود اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا
وہ وہی بیٹھی جولیری اتر رہی تھی جب زیب ہاتھ میں ٹرے پکڑے اُس کے سامنے بیٹھا
تم نے کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی میڈیسن لی وہ خفا سا بولا
اور چمچ اُس کے منہ کے قریب لیا
زیب قسم سے دل نہیں تھا کر رہا، جانتی تھی وہ کھانے کی لاپرواٸی پر کتنا ناراض ہوتا ہے

Mirh@_Ch
 

پیچھے وہ ہونق بنا کھڑا رہا
______________________________
وہ دونوں اسیٹج پر بیٹھے اپنی دلہنوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے
ابان تو نمرہ کو دیکھا آیا مگر حیدر بے چینی سے حور کی راہ تک رہا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں آتی دیکھاٸی دی
آرام آرام سے قدم رکھے وہ چل رہی تھی
وہ اسیٹج کے قریب پہنچی تو اُن دونوں نے انہیں اوپر چڑھنے میں مدد تھی
حیدر تو بس حور کو دیکھی جا رہا تھا وہ جو پہلے ہی نروس تھی
اس طرح دیکھنا سے اُس کا بیٹھنا محال ہو گیا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو دل تو کر رہا ابھی نکاح کر کے تمہیں اپنے ساتھ لے جاو
وہ اُس کی طرف جھکتا سرگوشی کرتا مسکرایا
حور سرخ چہرا جھکا گٸی