مگر میری بات تو سنو جان
نہیں آپ جاۓ یہاں سے، وہ شرارت سے بولی
وہ اپنی شکل بسورتا اٹھ کر صوفے پر چلا گیا
______________________________
وہ روم میں داخل ہوا تو نور انکھیں موند کر لیٹی تھی
بےبی کاٹ میں اُس کا چھوٹا سا شہزادہ سو رہا تھا ماں پر گیا ہے پورا وہ مسکرا کر بولا
زیب دھیرے سے چلتا نور کے قریب پہنچا
نور نے اپنی انکھیں کھولی تو وہ مسکراتا ہوا اُسے ہی دیکھ رہا تھا
شکریہ جانم مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لیے
نور مسکرا دی
ہمارا بےبی دیکھا ہے
نہیں میں نے سوچا آپ کے ساتھ دیکھو گی
زیب نے آرام سے اُسے گود میں اٹھایا اور اُس کے پاس لے آیا
نور نے آرام سے اُسے اپنی گود میں لیا
پھر باری باری اُس کے ہر نقش کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگی
ابان نے اُس کی شکل دیکھی تو پھر حیدر کو وڈیو کال کی
جان!!!! وہ پیار سے پکارتا
مگر وہ نہ ہلی
ابان نے لپ ٹوپ اُس کے سامنے کیا
جس میں حیدر ایک بہت پیارے بچے کو لے کر کھڑا تھا
ماشااللہ بہت پیارا ہے پھر تھوڑی دیر میں یہاں وہاں کی باتیں کرتے کال بند ہو گٸی
اب بھی ناراض ہو وہ اُس کے کندھے پر اپنی تھوڑی رکھتا بولا
آپ نے مجھے ڈانٹا وہ چہرا موڑے بولی
جان ایم سوری تم جو سزا دو گی وہ مجھے قبول ہے یار
وعدہ کرۓ پہلے
پکا وعدہ جان وہ اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا بولا
آپ کی سزا ہے کہ آج آپ صوفے پر سوۓ گے وہ ہنسی ضبط کرتی بولی
یہ غلط بات ہے جان تمہیں پتہ ہے تمہارے بغیر مجھے نیند نہیں آتی
میں کیا کر سکتی ہوں آپ نے وعدہ کیا ہے وہ اُسے تکیہ پکڑاتی بولی
ابان پلیز چلے نہ مجھے آپی کے بےبی کو دیکھنا ہے
وہ بڑی مشکل سے اپنا بھرا ہوۓ وجود کے ساتھ اٹھ کر اُس کے قریب آٸی
جو آفس کا کوٸی کام کر رہا تھا
نمرہ بھی امید سے تھی اُس کا ساتویں مہینہ چل رہا
الٹرساوٸنڈ کے مطابق اُن کے دو جڑواں بچے تھے
اس لیے ابان اُسے کہیں لے کر بھی نہیں جاتا تھا
جان کل آپی گھر آ جاۓ گی پھر چلے گے ویسے بھی ماما گٸی تو ہے
اور میں کوٸی ریسک نہیں لے سکتا اس لیے جان تم ریسٹ کرو
وہ اُس کا ہاتھ لبوں سے چھوتا بولا
لیکن مجھے ابھی جانا ہے
پلیز میری بات مان لے
میں نے کہا نہ نہیں وہ منہ بسورتی اٹھ کر بیڈ پر جا کر لیٹ گٸی
حیدر دیکھ یہ کتنا پیارا ہے
ماشااللہ بہت کیوٹ ہے اُس بےبی کے ہاتھوں پر کس کیا
ویسے ہمارا بےبی بھی اتنا ہی کیوٹ ہو گا نہ
وہ اُس کان میں سرگوشی کرتا مسکرایا اور پھر بےبی کی طرف متوجہ ہو گیا
حور کے گال پل میں سرخ ہوۓ
اففف اب ایسے کرو گی تو پھر مجھے سے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاۓ گا
آپ بہت بے شرم ہے حیدر وہ اُسے ایک طرف کرتی مریم بیگم کے پیچھے چل دی
حور کو دوسرا مہینہ تھا حیدر ایسے ہی بات بات پر اُسے تنگ کرتا تھا
جس پر وہ شرمانے پر مجبور ہو جاتی تھی
وہ پرویشنل انداز میں بول کر چلے گٸے
پھوپھو مبارک ہو آپ نانی پلس دادی بن گٸی
وہ خوشی سے اُن کے گلے لگتا بولا
تمہیں بھی بہت مبارک ہو اللہ دھیڑوں خوشیاں دے تم کو
کچھ لمحہ بعد نرس نے کمبل میں لیپٹا ننھے سے وجود کو زیب کی گود میں دیا
یہ کتنا کیوٹ ہے بھاٸی حور اُس کے نرم گالوں پر پیار کرنے لگی
زیب نے اُس کا ماتھا چوما پھر انکھیں پھر اُس کی چھوٹی سی ناک ایک سکون کی لہر اُس کہ اندر ڈوری
پھوپھو آپ اسے سمبھالے میں شکرانے کے نفل ادا کر کے آتا ہوں
وہ آرام سے انہیں دیتا اپنی انکھیں صاف کرتا مسجد کی طرف چل دیا
ماما یہ مجھے دے پلیز
یہ بھاٸی وہ اُسے دیتی اندر روم کی طرف چل دی جہاں نور کو شفٹ کیا گیا تھا
نو مہینے بعد...........
وہ آپریشن تھیٹھر کے باہر کھڑا پریشانی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا
اندر اُس کی متاع جان ایک نٸی زندگی کو جنم دینے والی تھی
زیب بیٹا بیٹھ جاو تھک جاو گے مریم بیگم اُس کے قریب آکر بولی
جی بھاٸی آپ آرام سے بیٹھ جاۓ بھابھی کو کچھ نہیں ہو گا
وہ خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا مگر اس کا ذرہ ذرہ خدا کے آگے اپنی پرنسس کے لیے دعا گو تھا
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر آٸی
زیب بھاگنے کے انداز سے اُن کے قریب پہنچا
ڈاکٹر ماٸی واٸف
آپ کی واٸف باکل ٹھیک ہے اور مبارک ہو خدا نے آپ کو ایک پیارا سا بیٹا دیا ہے
تھوڑی دیر میں ہم اُنہیں روم میں شفٹ کر دے گے
اچھا جاو چینج کر کے آو
وہ اُسے حکم دیتا بیڈ پر لیٹ گیا
وہ ڈراٸسنگ روم میں گٸی اور اپنی وڈارب کھولی اور ایک سمپل سا پنک کلر کا جوڑ نکالا
وہ فریش ہو کر باہر آٸی چہرے سے واضع تھکن محسوس ہو رہی تھی
وہ آکر ایک زیب کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گٸی
اور وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا
جسے سے نور کو بھی سکون ملا اور وہ انکھیں موند گٸی
اور تھوڑی ہی ان پر نیند کی دیوی مہربان ہو گٸی
ولیمہ کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تھا
سب لوگ گھر واپس آ چکے تھے
وہ اپنے روم میں موجود تھی تھوڑی دیر پہلے ہی زیب اُسے چھوڑ کر گیا تھا
ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ کر اُس کی کمر میں درد ہونے لگا تھا
اوپر سے اتنی ہیوی میکسی سے اُسے الجھن ہو رہی تھی
وہ ڈریس چینج کرنے کے لیے اٹھی ہی تھی جب زیب کمرے میں داخل ہوا
پھر اُسے بیڈ پر بیٹھ کر اُس کے پاوں جوتے سے آزاد کیے
زیب میں کر لو گی آپ چھوڑے وہ اپنے پیر کینھچتی ہوٸی بولی
نہیں!!!!! میں کر رہا ہوں نہ اس لیے خاموشی سے بیٹھی رہو
ایک ایک کر کے وہ اُس کی ساری جیولیری اتر رہا تھا
پھر زیب نے اُس کا ڈوپٹہ پینوں سے آزاد کیا
جس سے نور کے بال کھل کر کمر پر بکھر گٸے
اب میں جاو چینج کرنے وہ کی طرف دیکھتی بولی
حیدر نے بلیک کلر کا ڈنر سوٹ پہنے تھا اور حور نے پرپل کلر کی خوبصورت فراک پہنی تھی
جس میں وہ بلکہ گڑیا لگ رہی تھی
اسیٹج پر وہ تینوں جوڑیاں بیٹھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ہمارے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہے مریم بیگم عباس صاحب کو دیکھتی بولی بولی
خدا ان کی خوشیاں سلامت رکھے
امین وہ دل سے بولے
اگلے دن سب کی ڈورے لگی تھی آج ان دونوں کے ساتھ نور اور زیب کا بھی ولیمہ تھا
بیوٹیشن کے مہارت سے کیے گٸے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
سنہری رنگ کی خوبصورت میکسی جس پر سونے سے کام ہوا تھا
نازک سی جیولیری پہنے وہ سیدھا زیب کے دل میں اتر رہی تھی
زیب نے گرے ڈنر سوٹ پہنا تھا اور وہ بھی بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
سب سے پہلے ہال میں نور اور زیب کی انٹری ہوٸی
تمام لاٸٹ بند تھی بس ایک لاٸٹ انہیں فوکس کر رہی تھی
زیب نے اپنے آفس کے پورے سٹاف کو انواٸٹ کیا تھا
سب ہی ان کی جوڑی کی تعریف کر رہے تھے
پھر اس کے بعد ابان اور نمرہ داخل ہوۓ
ابان نے راٸل بلیو کلر کا ڈنر سوٹ پہنا تھا
جبکہ نمرہ سیم کلر کی میکسی پہنی بہت پیاری لگ رہی تھی
رخسانہ بیگم اُسے ابان کے روم میں چھوڑ کر گٸی
پورا کمرا گلاب اور موتیاں کے پھولو سے سجا تھا
وہ اپنا گرارا سنبھالتی اٹھی اور وڈوراب سے اپنے لیے کوٸی ہلکا سر ڈریس نکل کر چینج کرنے واشروم میں چلی گٸی
پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلی دھلے ہوۓ چہرے کے ساتھ وہ آرام سے بیڈ پر آ کر لیٹ گٸی
اب تمہیں پتہ لگے گا ابان کسی کو تنگ کرنے سے کیا ہوتا ہے
وہ مسکرا کر انکھیں بند کر گٸی صبع سے تھکی تھی اس لیے جلد ہی نیند کی وادی میں کھو گٸی
وہ مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا آج اُس کی محبت ،اُس کی دسترس تھی
اُس نے دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھا اور وہ کھلتا چلا گیا
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب پہنچا جہاں وہ دنیا سے بے خبر سو رہی تھی
میرے ارمانوں پر پانی پھیر کر کتنے آرام سے سو رہی ہے وہ بڑبڑایا
اور پھر ساٸیڈ دراز سے ایک مخملی کیس نکلا
یہ تمہاری منہ دیکھاٸی
حور نے کھولا تو اُس میں پاٸل کا خوبصورت جوڑا تھا
بہت پیارا ہے اُس نے دل سے تعریف کی
حیدر نے باری باری اُس کے دونوں پیروں پر پاٸل پہناٸی
مجھے چینج کرنا ہے وہ جلدی سے پاوں کنھیچ کر کھڑی ہوٸی
اوکے وہ بھی اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنا ڈوپٹہ پینوں سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی
واشروم کا دروازہ کھولا اور وہ ٹراوزر پہنے بغیر شرٹ کی باہر آیا
حور نے نظر اٹھا کر اُسے دیکھا پھر اپنا کام کرنے لگی
میں کچھ مدد کرو
نہیں میں کر لو گی
حیدر مسکرا دیا
اُسے نے اپنا کُلا صوفے پر رکھ اور شروانی کے اوپر والے دو بٹن کھول کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
جو سر جھکاۓ مسلسل اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی
اجازت ہو تو گھونگھٹ اٹھا لو وہ دھمیی آواز میں بولا
حور نے اثبات میں سر ہلایا
حیدر نے اُس کا گھونگھٹ اٹھایا اور کتنے ہی پل وہ دیکھتا رہا گیا
اُس نے ہاتھ بڑھ کر حور کا چہرا اوپر کیا
حیدر کا لمس محسوس کر کے وہ جی جان سے کانپی
میں بہت خوش ہوں حور تم نے میری زندگی میں آ کر اُسے مکمل کر دیا
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کے بولا
نور اُسے حیدر کے کمرے میں لے آٸی اور آرام سے بیڈ پر بیٹھایا
تم یہاں بیٹھو میں حیدر کو بیھجتی ہوں نور اس کا لہنگا سیٹ کرتی بولی
وہ باہر جانے لگی جب حور نے اُسے روک لیا
بھابھی پلیز ابھی نہ جاۓ وہ اُس کا ہاتھ پکڑتی بولی
”یہی ہوں میں گڑیا“ اور اگر اُس نے کوٸی بدتمیز کی تو مجھے بتانا.
اب تم آرام کرو اوکے
وہ اُس کے گال پر پیار کرتی روم سے چلی گٸی
حور نے نظریں اٹھا کر روم کو دیکھ جو خوبصورتی سے سجا ہوا تھا
پورے کمرے میں گلاب کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی
برقی کینڈلز سے کمرے میں روشنی تھی جو ماحول میں ایک الگ فسوں پیدا کر رہی تھی
سامنے دیوار پر حیدر کی مسکراتی تصویر تھی حور اُسے دیکھنے لگی
وہ ہنستا ہوا بہت خوبصورت لگتا تھا روم کا دروازہ کھلا اور وہ اندر آیا چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی
حور جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گٸی
رخصتی کا شور ہوا حور زیب کے گلے لگے بہت روٸی زیب بھی اُسے سینے سے لگاۓ نم انکھوں سے رخصت کر رہا تھا
جبکہ کے نمرہ بھی عباس صاحب کے سینے سے لگی رو رہی تھی
وہ دونوں قرآن کے ساۓ میں رخصت ہو کر اپنے پیا کے گھر چلی گٸی
پیچھے سا اُن کی خوشیوں کے لیے دعا گو تھے
تھوڑی دیر بعد ہی بارات پہنچے کا شور مچا
دونوں دلہے اسیٹج پر بیٹھے خوبصورت لگ رہے تھے
ابان نے بلیک شروانی پہنی تھی جبکہ حیدر نے سکن کلر کی جس میں وہ بہت ہیڈسم لگ رہا تھا
کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم شروع ہوٸی
پہلے ابان اور نمرہ کا نکاح ہوا اور پھر حیدر اور حور کا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان ابان دھیرے سے بولا
جبکہ کے نمرہ نے کوٸی جواب نہیں دیا
تم تو میں گھر جا کر بتاو گا وہ دھمکی دیتا بولا
جس سے نمرہ مسکرا دی
اتنا ڈر کیوں رہی ہو یار وہ اُس کے ٹھنڈے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا مسکرا کر بولا
ن۔۔نہیں۔۔۔ت۔۔تو وہ ٹوٹے الفاظ میں بولی جبکہ ہاتھ ابھی بھی حیدر کی گرفت میں تھا
اور اُس کا لمس حور کا دل دھڑکا رہا تھا
اگلا دن بہت مصروف تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی حور اور نور کو پالر چھوڑ کر آیا تھا
اب بھی وہ دیگر کاموں میں مصروف تھا
تیار ہونے پر نور نے زیب کو میسج کیا اور وہ انہیں لینے چلا گیا
وہ سرخ رنگ کا لہنگا پہنے کوٸی اپسرا ہی لگ رہی تھی بیوٹیشن کے کیے گٸے میک اپ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
جبکہ نور راٸل بیلو کلر کی میکسی پہنے جس پر سفید سیٹون سے خوبصورت ورک ہوا تھا پہنے زیب کے دل پر بجلی گرا رہی تھی
وہ سات بجے کے قریب ہال پہچنے حور اور نمرہ کو Birdal room میں بیٹھا دیا گیا تھا
نمرہ بھی ڈیپی ریڈ کلر کا گرارا پہنے مہارت سے کیے گٸے میک اپ میں پری لگ رہی تھی
اس لیے صفائی دینے لگی
وہ خاموشی سے کھلاتا رہا تھوڑی سی بریانی کھانے کے بعد زیب نے اُسے دودھ کا گلاس دیا
جسے وہ ناک منہ چڑھ کر خاموشی سے پی گٸی
اس کے انداز پر زیب کے ہونٹوں پر مسکراہت آٸی
زیب نے اُسے گود میں اٹھایا اور کمرے کی طرف چلا دیا
جانتا تھا وہ بہت تھک گٸی ہے
وہ روم میں داخل ہوا اور اسے آرام سے نیچے اترا
وہ ڈریسنگ روم میں چلی گٸی اور کپڑے چینج کر آٸی
جبکہ زیب بیڈ پر بیٹھا اُس کا انتظار کر رہا تھا
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب پہنچی اور پھر زیب کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گٸی
زیب نے بھی اُس کے گرد حصار بنایا
”آٸی لو یو “وہ دھیرے سے بولی
لو یو ٹو جانم وہ اُس کے بالوں پر بوسا دیتا بولا
اس طرح وہ ایک دوسرے کی آغوش میں پرسکون ہو کر سو گٸے
____________________________
ابان نے نمرہ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ اُس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی
وہ بھی خاموش ہو کر رسمیں انجواے کرنے لگا
______________________________
مہندی کا فنکشن رات ایک بجے تھا اختتام کو پہنچا
تمام رسموں کے بعد سب مہمان چلے گٸے تھے
وہ گھر آۓ تو تھکن کی وجہ سے حور اور جمیشد صاحب سونے چلے گٸے
جب کے نور لاونج میں بیٹھی تھی اس وقت اُسے بہت بھوک لگی تھی کھانا تو اُس نے کھایا ہی نہیں تھا
ملازم سارے چلے گٸے تھے اور نور کا خود اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا
وہ وہی بیٹھی جولیری اتر رہی تھی جب زیب ہاتھ میں ٹرے پکڑے اُس کے سامنے بیٹھا
تم نے کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی میڈیسن لی وہ خفا سا بولا
اور چمچ اُس کے منہ کے قریب لیا
زیب قسم سے دل نہیں تھا کر رہا، جانتی تھی وہ کھانے کی لاپرواٸی پر کتنا ناراض ہوتا ہے
پیچھے وہ ہونق بنا کھڑا رہا
______________________________
وہ دونوں اسیٹج پر بیٹھے اپنی دلہنوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے
ابان تو نمرہ کو دیکھا آیا مگر حیدر بے چینی سے حور کی راہ تک رہا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں آتی دیکھاٸی دی
آرام آرام سے قدم رکھے وہ چل رہی تھی
وہ اسیٹج کے قریب پہنچی تو اُن دونوں نے انہیں اوپر چڑھنے میں مدد تھی
حیدر تو بس حور کو دیکھی جا رہا تھا وہ جو پہلے ہی نروس تھی
اس طرح دیکھنا سے اُس کا بیٹھنا محال ہو گیا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو دل تو کر رہا ابھی نکاح کر کے تمہیں اپنے ساتھ لے جاو
وہ اُس کی طرف جھکتا سرگوشی کرتا مسکرایا
حور سرخ چہرا جھکا گٸی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain