جبکہ نمرہ انکھیں پوری کھولے اُسے دیکھنے میں مصروف تھی
وہ چند لمحوں بعد پیچھے ہوا
تمہارے ہونٹوں سے اظہار سن کر جتنی خوشی مجھے ہوٸی ہے بتا نہیں سکتا
اور تمہیں چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جان
وہ اُس کے گرد حصار بنا کر بولا
بس یہ ایک چھوٹا سا ڈرامہ تھا تاکہ تم سیدھی ہو جاو
وہ نمرہ کی ناک دباتا مسکرایا
تم اتنے دن سے ڈرامہ کر رہے تھے وہ اُس کے حصار سے نکلتی ہوٸی بولی
جس پر ابان نے شرارت سے اثبات میں سر ہلایا
تم بہت بدتمیز ہو مجھے سے اب بات مت کرنا اور کوٸی ضرورت نہیں کل کمرے میں آنے کی
ورنہ تمہارا سر پھاڑ دو گی
وہ اُسے پیچھے کرتی واشروم میں گُھس گٸی
جسے جب دل چاہے تم اپنے مرضی سے اپنا بنا لیا اور دل بھر گیا تو دور پھینک دیا
وہ مسلسل اُسے کے سینے پر تھپڑ مار رہی تھی
اور وہ خاموش کھڑا اُسے سن رہا تھا
پہلے تم نے مجھے اپنی محبت کا احساس کرایا
اور جب میرے دل میں محبت پیدا ہوٸی تم چھوڑنے کی بات کر رہے ہوں
ابان نے جھٹکے سے سر اٹھایا
وہ محبت کا اظہار کر گٸی تھی
وہ مہندی کی دلہن بنی اُس کا دل بے ایمان کر رہی تھی
اگر تم نے باہر کچھ بھی کہا تو میں اپنی جا
آپ سے وہ کافی حد تک خود کو سنھبال چکی تھی
مگر میں کچھ نہیں سنا چاہتا وہ جانے لگا
اُس کے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ چہرا بھگو رہے تھے
روک لو یار وہ دل میں اُس سے مختب تھا
یہ روک کیوں نہیں مجھے
روک لو پاگل لڑکی وہ دروازے تک پہنچ گیا تھا
اُس نے مایوس ہو کر ہنڈل پر ہاتھ رکھا۔
نمرہ جلدی سے اُس کے قریب پہنچی اور اُس کو اپنی طرف موڑا
ابان کا تو دل بھنگڑے ڈالنے کا کر رہا تھا
تمہیں نے مجھے سمجھ کیا رکھ ہے ابان میں کوٸی کھلونہ ہوں
نمرہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا
وہ اُس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی
اور اُن صاحب کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے
جہاں وہ کھڑکی کے سامنے کھڑی نیچے کا منظر دیکھ رہی تھی
تم نے مجھے بلایا وہ سنجيدہ سی صورت بنا کر بولا
نمرہ نے لہجے کا سرد پن شدت سے محسوس کیا
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے وہ انگلیاں مرڑوتی ہوٸی بولی
کل سے اُسے بہت سوچا مگر دل نے بس ابان کے حق میں گواہی دی
تمہیں کہا ہے نہ میں ابھی تھوڑی دیر میں سب کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کر لو گا
جان چھوٹ جاۓ گی تمہاری مجھے سے
وہ اُس کی بات کاٹ کر اُس کی انکھوں میں دیکھتا بولا جہاں اب نمکین پانی جمع ہونے لگا تھا
وہ نظروں کا زوایہ بدلتا ہوا منہ موڑ گیا
وہ اُسے سبق سکھینا چاہتا تھا
مگر دل تو اُس پاگل لڑکی کے آنسو چُنے کا کر رہا تھا
جو اظہار نہیں کر رہی تھی بس روی جا رہی تھی
میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں
عباسی ہاوس میں دونوں فمیلیز کا بھرپور استقبال کیا گیا
رخسانہ بیگم بھی خوش تھی دوبارہ سے اس خاندان کو اکھٹا دیکھ کر
وہ اپنے کسی دوست سے بات کر رہا تھا
جب ایک بچی اُس پاس آٸی اور اک کاغذ پکڑا کر چلی گٸی
اُس نے کاغذ کھولا اور اندر لکھی تحریر پڑھی
بےساختہ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آٸی
وہ سب کی نظروں سے بچتا اوپر نمرہ کے روم کی طرف چل دیا
دل میں تو اپنی جنگلی بلی کا ری ایکشن سوچ کر ہی گدگدی ہو رہی تھی
وہ سرشاری سے مسکراتا اُس کے روم تھا پہنچا
دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا
اپنے پاپا کو معاف کرو گی گڑیا ہر اُس غلطی کے لیے جو مجھے سے ہوٸی
وہ نم انکھوں سے اثبات میں سر ہلا کر اُن کے سینے لگ کر رونے لگی
ہم تو آپ سے ٹھیک طرح سے معافی بھی نہیں مانگ سکے
اور آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہی ہے وہ نم لہجے میں بولے
پاپا آپ بار بار سوری بول کر مجھے شرمندہ مت کرے
حور نے اُن کا چہرا صاف کیا نور کی بھی انکھیں نم تھی
چلیں وہ آگے بڑھتے بولے
وہ بھی چہرا صاف کیے نور کے ساتھ باہر آٸی
ماشااللہ آج تو ہماری نند پلس بھابھی بجلیاں گرا رہی ہے
وہ حور کے چہرے کو دیکھتی شرارت سے بولی
جہاں بےچینی واضع دیکھی جا سکتی تھی
اس وقت وہ یلو کلر کے لہنگے اور شوٹ شرٹ میں مبلوس تھی پنک لپ سٹک ہونٹوں پر لگاۓ
بالوں کو کھلا چھوڑ کر ایک ساٸیڈ پر کیا تھا پھولوں کا زیور پہنے وہ خود بھی ایک خوبصورت پھول لگ رہی تھی
بھابھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ انگلیاں مروڑتی بولی
ڈر کس بات کا گڑیا کچھ نہیں ہو گا اور ویسے بھی میرا بھاٸی کوٸی آدم خور نہیں جو تمہیں کھا جاۓ گا
آخری بات نور نے شرارت سے بولی جس سے حور ہنس دی
کمرے کا دروازہ کھلا تو جمیشد صاحب اندر داخل ہوۓ
ہماری گڑیا تو بہت پیاری لگ رہی ہے وہ اُس کے قریب آۓ
اور ماتھے پر ہونٹ رکھے
وہ پاپا نور کی انکھیں میں کچھ چلا گیا تھا بس وہی دیکھ رہا تھا وہ خجل سا ہوا
چلو اب جلدی کرو کب سے کھڑی ہو جاو حور کو لے کر آو
وہ اُسے حکم دیتا باہر کی طرف چل دیا
جب کے جمیشد صاحب کھڑے بیٹے کی ادکاری دیکھ کر مسکرا رہے تھے
نور کا تو ویسے ہی شرم سے برا حال تھا وہ بھی زیب کے حکم کی تکمیل کرتی حور کے روم کی چل دی
خدا تم دونوں کی جوڑی ہمشہ سلامت رکھے جمیشد صاحب نے دل میں دعا کی
جب اُس سے مزید انتظار نہیں ہوا تو اُس نے اوپر جانے کے لیے قدم بڑھاۓ
تھے
جب وہ نیلی انکھوں والی شہزادی سڑھیاں اترتی نظر آٸی
اورنج اور گرین کے لہنگے پہنے ہلکے سے میک اپ میں
بال کھلے چھوڑے اور ہاتھوں میں گجرے ڈالے وہ زیب کا دل بے قرار کر رہی تھی
آہستہ آہستہ وہ سڑھیاں اترتی اس کے قریب آ کھڑی ہوٸی
چلیں وہ نظریں چراتی ہوٸی بولی کیوں کے زیب کی انکھوں میں محبت کے دیپ وہ دیکھ چکی تھی
چلتے ہے پہلے زرا اپنی زوجہ کی تعریف تو کر لو
وہ کیھنچ کے اُسے اپنے حصار میں لاۓ بولا
زیب چھوڑیں کوٸی دیکھ لے گا وہ یہاں وہاں دیکھتی بولی
ایک ہفتہ سے اُس نے نمرہ سے بات کرنا چھوڑا ہوا تھا
نمرہ کی بےچینی اُسے جسے مزا دے رہی تھی
کل بھی اُس نے صرف اس لیے کہا کہ وہ اظہار کر دے کہ محبت ہو گٸی ہے
مگر وہ نہ بولی
جان بڑا تنگ کیا ہے اب میری باری ہے وہ مسکراتا ہوا خود پر سپرے کرنے لگا
______________________________
وہ کب سے لاونج میں کھڑا اُس کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا
مگر وہ نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
اس وقت وہ کالے رنگ کا سوٹ پہنے ہاتھ میں قمتیی گھڑی پہنے اچھے سے بال سیٹ کیے بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
کیوں کے مہندی کمبین تھی اس وجہ سے دو جھولے رکھے گٸے تھے
اوپر جاۓ جہاں وہ سبز اور پیلے رنگ کے لہنگا چولی میں مبلوس تھی
دونوں ہاتھوں میں گجرے ڈالے پھولوں کا خوبصورت زیور پہنے وہ بغیر کسی میک اپ کے بہت حیسن لگ رہی تھی
اُس کا دھیان مسلسل ابان کی کل والی بات پر جا رہا تھا
تو کیا وہ سچ میں مجھے چھوڑ دے گا سوچتے ہی انکھیں نم ہونے لگی تھی
______________________________
وہ شیشے کے سامنے کھڑا کف لنک بند کر رہا تھا
اور ساتھ اُس کے عنابی لبوں پر شریر سے مسکراہت تھی
اس وقت وہ سفید رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں مبلوس بہت پیارا لگ رہا تھا
مجھے پتہ ہے تم نے کیا بات کرنی ہے کل مہندی کے فنکشن میں سب کو سچ بتا دو گا
کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تم پر کوٸی الزام نہیں آۓ گے
مجھے سے طلاق کے بعد تم سعد سے شادی کر لینا ٹھیک ہے
اوکے اب آرام کرو ،اُس نے فون بند کر دیا اور نمرہ کتنی دیر ساکت کھڑی رہی
______________________________
عباسی ہاوس میں ہر طرف گہما گہمی تھی
ہر کوٸی کام کرتا نظر آ رہا تھا
مہندی کے فنکشن کا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا
سیٹیج کو پیلے رنگ کے خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا
کیا بنے کا تیرا حیدر وہ سرد آہ ہوا کے سپرد کرتا بڑبڑایا
اور حور کا ایک بار پھر سوچ کر مسکرا دیا
______________________________
وہ مسلسل اُسے کال اور میسج کر رہی تھی مگر وہ کسی کا بھی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔
کل مہندی کا فنکشن تھا اور وہ ابان سے اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتی تھی
مگر وہ ایک ہفتہ سے اُسے اگنور کر رہا تھا
ساتویں دفعہ کال کرنے پر اُس نے فون اٹینڈا کیا
ہیلو!!!! وہی دلکش آواز جو نمرہ کے سماعتوں سے ٹکراٸی
آپ کیسے ہے ؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی
زندہ ہوں!!! تم بتاو کیوں فون کیا
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے
میری پناہوں میں تم آرام سے اپنی نیندیں پوری کرنا
پلیز حیدر آپ ایسی باتیں نہ کریں
جان حیدر ایک دفعہ پھر سے نام لینا میرا
وہ آج اُسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا
اس کی باتوں سے حور کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
حور کی طرف خاموشی حیدر کو مسکرانے پر مجبور کر گٸی
کہاں گٸی ہو یار وہ شوخ ہوا
جبکہ حور نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا
اور حیدر کا اُس کی حرکت پر قہقہ لگایا
چلو اب سو جاو رات بہت ہو گٸی ہے
وہ نور کا سر اپنے بازو پر رکھتا انکھیں موند گیا
جبکہ نور نے بھی اُس کے حصار میں پرسکون ہو کر انکھیں موند لی
______________________________
ایک مہینے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تھی کب سے کال کر رہا ہوں وہ بے چینی سے بولا
سوری میں سو گٸی تھی وہ مصومیعت سے سچ بولی
ہماری نیند اڑا کر آپ سو گٸی
وہ بس بہت زیادہ تھکی تھی تو بھابھی نے کہا آرام کر لو
اُس نے صفاٸی دی
کر لو آرام یار اچھی طرح اپنی نیندیں پوری کرو
میرے لیے اچھا ہو گا وہ معنی خیزی سے بولا
اس کی بات کا مطلب سمجھے کر حور کے گال سرخ ہوۓ
بس ایک دن رہا گیا ہے پھر تم مکمل طور پر میری دسترس میں ہوگی
اور پھر اُس نے تمہیں اغوا کر لیا
تمہیں ہر جگہ تلاش کیا ،،میری کیا حالت تھی میں بتا نہیں سکتی نور
ہر لمحہ تمہیں کھونے کا ڈر رہتا تھا
کس قدر بے بس تھا میں
وہ دھیرے دھیرے اُسے سب بتاتا گیا اور وہ نم انکھوں سے سر جھکا کر سنتی رہی
جانم میں نے تمہیں رونا کا تو نہیں کہا وہ مسکرا کر اُس کے آنسو صاف کرتا بولا
میں اُس دن سب ختم کرنے گٸی تھی زیب تاکہ وہ انسان دوبارہ ہماری زندگی میں داخل نہ دے
آپ سے جھوٹ صرف اس وجہ سے بولا کہ کہیں آپ کو برا نہ لگ جاۓ اُس کا نام لینا
وہ چہرا جھکا کر شرمندگی سے بولی
مجھے سب پتہ ہے جانم تمہیں صفاٸی دینے کی ضرورت نہیں
جس دن تم میر سے ملنے گٸی تھی اور مجھے سے جھوٹ بولا تھا
وہ دو دن میں نے انتہائی اذیت میں گزارے تھے
پھر مجھے سب پتہ لگا کے میر ہم دونوں کو جدا کرنا چاہتا ہے.
مجھ پر حملہ بھی اُس نے ہی کروایا تھا
وہ پورے دو ہفتے بعد نور سے میر کے بارے میں بات کر رہا تھا
ورنہ میر کے نام سے ہی اُس کا چہرا پیلا پڑ جاتا تھا
جب تم مجھے سے بار بار جھوٹ بول رہی تھی تو مجھے اُس دن غصہ آ گیا
مجھے کچھ غلط نہ ہو جاۓ اس لیے میں تمہیں بنا کچھ کہے اوپر روم میں آ گیا
اور تم مجھے غلط سمجھ کے گھر سے چلی گٸی
اُس نے نور کے لیے سپیسس پیزا مانگایا
جو اب دنیا سے بےخبر کھانے میں مصروف تھی
اور زیب اُسے مسلسل دیکھنے میں
کیا ہے اب ایسے کیا دیکھ رہے ہے وہ مسلسل اُس کی گہری نظروں سے پزل ہو رہی تھی
دیکھ رہا ہوں تم زیادہ خوبصورت ہو گٸی ہوں
آج دل بے ایمان ہو رہا ہے وہ اُس کے قریب ہوا اور پلیٹ ایک ساٸیڈ پر رکھی
نور اس کے انداز پر سٹپٹا کے جلدی سے کھڑی ہوٸی
جب میں تمہارے قریب آو تو دور نہ ہوا کرو تکلیف ہوتی ہے
میں نے آپ کو کہا بھی تھا نہیں کھانا کچھ وہ نم انکھوں سے بولی
اچھا سوری جانم بولو کیا کھانا ہے میری پرنسس نے
کچھ بہت سپیسس سا
مجھے پیزا کھانا ہے ابھی وہ لاڈ سے بولی اور اُس کے کندھے پر سر رکھ دیا
______________________________
میر کی موت کو دو ہفتے ہو چکے تھے زندگی اپنے ڈگر پر چل رہی تھی
رخسانہ بیگم اپنے بیٹے کو یاد کرتی رو پڑتی تھی
مگر انہوں نے بھی خود کو سنبهال لیا تھا
اُن کا بیٹا ایک مجرم تھا جس نے بہت سی لڑکیوں کی زندگی برباد کی تھی
اور پھر اپنےانجام کو پہنچ گیا
پلیز زیب میں نے اور نہیں کھانا۔ وہ فروٹ سے بھرا باول ایک ساٸیڈ پر کرتی ناک چڑھا کر بولی
نہیں جلدی سے پورا ختم کرو۔وہ بیڈ پر اُس کے سامنے بیٹھا پیار سے اُسے کھلا رہا تھا
پلیز زیب میرا بہت دل خراب ہوتا ہے وہ رومانسی ہوٸی مجھے سے نہیں ختم ہو گا
ابھی وہ بات کر رہی تھی کہ اچانک وہ واشروم کی طرف بھاگی
وہ واش بیسن پر جھکی الٹیاں کر رہی تھی
زیب جلدی سے اُس کے پیچھے بھاگا نمرہ نے اُسے وہی روک دیا
مگر وہ زیب ہی کیا جو بات مانے وہ اُس کے پیچھے کھڑا نور کی کمر سہلا رہا تھا
وہ منہ دھو کر باہر آٸی اور بیڈ پر بیٹھ گٸی
زیب نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا
جسے نور نے تھم کر دو گھونٹ پیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain