Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

جبکہ نمرہ انکھیں پوری کھولے اُسے دیکھنے میں مصروف تھی
وہ چند لمحوں بعد پیچھے ہوا
تمہارے ہونٹوں سے اظہار سن کر جتنی خوشی مجھے ہوٸی ہے بتا نہیں سکتا
اور تمہیں چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جان
وہ اُس کے گرد حصار بنا کر بولا
بس یہ ایک چھوٹا سا ڈرامہ تھا تاکہ تم سیدھی ہو جاو
وہ نمرہ کی ناک دباتا مسکرایا
تم اتنے دن سے ڈرامہ کر رہے تھے وہ اُس کے حصار سے نکلتی ہوٸی بولی
جس پر ابان نے شرارت سے اثبات میں سر ہلایا
تم بہت بدتمیز ہو مجھے سے اب بات مت کرنا اور کوٸی ضرورت نہیں کل کمرے میں آنے کی
ورنہ تمہارا سر پھاڑ دو گی
وہ اُسے پیچھے کرتی واشروم میں گُھس گٸی

Mirh@_Ch
 

جسے جب دل چاہے تم اپنے مرضی سے اپنا بنا لیا اور دل بھر گیا تو دور پھینک دیا
وہ مسلسل اُسے کے سینے پر تھپڑ مار رہی تھی
اور وہ خاموش کھڑا اُسے سن رہا تھا
پہلے تم نے مجھے اپنی محبت کا احساس کرایا
اور جب میرے دل میں محبت پیدا ہوٸی تم چھوڑنے کی بات کر رہے ہوں
ابان نے جھٹکے سے سر اٹھایا
وہ محبت کا اظہار کر گٸی تھی
وہ مہندی کی دلہن بنی اُس کا دل بے ایمان کر رہی تھی
اگر تم نے باہر کچھ بھی کہا تو میں اپنی جا

Mirh@_Ch
 

آپ سے وہ کافی حد تک خود کو سنھبال چکی تھی
مگر میں کچھ نہیں سنا چاہتا وہ جانے لگا
اُس کے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ چہرا بھگو رہے تھے
روک لو یار وہ دل میں اُس سے مختب تھا
یہ روک کیوں نہیں مجھے
روک لو پاگل لڑکی وہ دروازے تک پہنچ گیا تھا
اُس نے مایوس ہو کر ہنڈل پر ہاتھ رکھا۔
نمرہ جلدی سے اُس کے قریب پہنچی اور اُس کو اپنی طرف موڑا
ابان کا تو دل بھنگڑے ڈالنے کا کر رہا تھا
تمہیں نے مجھے سمجھ کیا رکھ ہے ابان میں کوٸی کھلونہ ہوں
نمرہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا
وہ اُس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی
اور اُن صاحب کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے

Mirh@_Ch
 

جہاں وہ کھڑکی کے سامنے کھڑی نیچے کا منظر دیکھ رہی تھی
تم نے مجھے بلایا وہ سنجيدہ سی صورت بنا کر بولا
نمرہ نے لہجے کا سرد پن شدت سے محسوس کیا
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے وہ انگلیاں مرڑوتی ہوٸی بولی
کل سے اُسے بہت سوچا مگر دل نے بس ابان کے حق میں گواہی دی
تمہیں کہا ہے نہ میں ابھی تھوڑی دیر میں سب کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کر لو گا
جان چھوٹ جاۓ گی تمہاری مجھے سے
وہ اُس کی بات کاٹ کر اُس کی انکھوں میں دیکھتا بولا جہاں اب نمکین پانی جمع ہونے لگا تھا
وہ نظروں کا زوایہ بدلتا ہوا منہ موڑ گیا
وہ اُسے سبق سکھینا چاہتا تھا
مگر دل تو اُس پاگل لڑکی کے آنسو چُنے کا کر رہا تھا
جو اظہار نہیں کر رہی تھی بس روی جا رہی تھی
میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں

Mirh@_Ch
 

عباسی ہاوس میں دونوں فمیلیز کا بھرپور استقبال کیا گیا
رخسانہ بیگم بھی خوش تھی دوبارہ سے اس خاندان کو اکھٹا دیکھ کر
وہ اپنے کسی دوست سے بات کر رہا تھا
جب ایک بچی اُس پاس آٸی اور اک کاغذ پکڑا کر چلی گٸی
اُس نے کاغذ کھولا اور اندر لکھی تحریر پڑھی
بےساختہ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آٸی
وہ سب کی نظروں سے بچتا اوپر نمرہ کے روم کی طرف چل دیا
دل میں تو اپنی جنگلی بلی کا ری ایکشن سوچ کر ہی گدگدی ہو رہی تھی
وہ سرشاری سے مسکراتا اُس کے روم تھا پہنچا
دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا

Mirh@_Ch
 

اپنے پاپا کو معاف کرو گی گڑیا ہر اُس غلطی کے لیے جو مجھے سے ہوٸی
وہ نم انکھوں سے اثبات میں سر ہلا کر اُن کے سینے لگ کر رونے لگی
ہم تو آپ سے ٹھیک طرح سے معافی بھی نہیں مانگ سکے
اور آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہی ہے وہ نم لہجے میں بولے
پاپا آپ بار بار سوری بول کر مجھے شرمندہ مت کرے
حور نے اُن کا چہرا صاف کیا نور کی بھی انکھیں نم تھی
چلیں وہ آگے بڑھتے بولے
وہ بھی چہرا صاف کیے نور کے ساتھ باہر آٸی

Mirh@_Ch
 

ماشااللہ آج تو ہماری نند پلس بھابھی بجلیاں گرا رہی ہے
وہ حور کے چہرے کو دیکھتی شرارت سے بولی
جہاں بےچینی واضع دیکھی جا سکتی تھی
اس وقت وہ یلو کلر کے لہنگے اور شوٹ شرٹ میں مبلوس تھی پنک لپ سٹک ہونٹوں پر لگاۓ
بالوں کو کھلا چھوڑ کر ایک ساٸیڈ پر کیا تھا پھولوں کا زیور پہنے وہ خود بھی ایک خوبصورت پھول لگ رہی تھی
بھابھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ انگلیاں مروڑتی بولی
ڈر کس بات کا گڑیا کچھ نہیں ہو گا اور ویسے بھی میرا بھاٸی کوٸی آدم خور نہیں جو تمہیں کھا جاۓ گا
آخری بات نور نے شرارت سے بولی جس سے حور ہنس دی
کمرے کا دروازہ کھلا تو جمیشد صاحب اندر داخل ہوۓ
ہماری گڑیا تو بہت پیاری لگ رہی ہے وہ اُس کے قریب آۓ
اور ماتھے پر ہونٹ رکھے

Mirh@_Ch
 

وہ پاپا نور کی انکھیں میں کچھ چلا گیا تھا بس وہی دیکھ رہا تھا وہ خجل سا ہوا
چلو اب جلدی کرو کب سے کھڑی ہو جاو حور کو لے کر آو
وہ اُسے حکم دیتا باہر کی طرف چل دیا
جب کے جمیشد صاحب کھڑے بیٹے کی ادکاری دیکھ کر مسکرا رہے تھے
نور کا تو ویسے ہی شرم سے برا حال تھا وہ بھی زیب کے حکم کی تکمیل کرتی حور کے روم کی چل دی
خدا تم دونوں کی جوڑی ہمشہ سلامت رکھے جمیشد صاحب نے دل میں دعا کی

Mirh@_Ch
 

جب اُس سے مزید انتظار نہیں ہوا تو اُس نے اوپر جانے کے لیے قدم بڑھاۓ
تھے
جب وہ نیلی انکھوں والی شہزادی سڑھیاں اترتی نظر آٸی
اورنج اور گرین کے لہنگے پہنے ہلکے سے میک اپ میں
بال کھلے چھوڑے اور ہاتھوں میں گجرے ڈالے وہ زیب کا دل بے قرار کر رہی تھی
آہستہ آہستہ وہ سڑھیاں اترتی اس کے قریب آ کھڑی ہوٸی
چلیں وہ نظریں چراتی ہوٸی بولی کیوں کے زیب کی انکھوں میں محبت کے دیپ وہ دیکھ چکی تھی
چلتے ہے پہلے زرا اپنی زوجہ کی تعریف تو کر لو
وہ کیھنچ کے اُسے اپنے حصار میں لاۓ بولا
زیب چھوڑیں کوٸی دیکھ لے گا وہ یہاں وہاں دیکھتی بولی

Mirh@_Ch
 

ایک ہفتہ سے اُس نے نمرہ سے بات کرنا چھوڑا ہوا تھا
نمرہ کی بےچینی اُسے جسے مزا دے رہی تھی
کل بھی اُس نے صرف اس لیے کہا کہ وہ اظہار کر دے کہ محبت ہو گٸی ہے
مگر وہ نہ بولی
جان بڑا تنگ کیا ہے اب میری باری ہے وہ مسکراتا ہوا خود پر سپرے کرنے لگا
______________________________
وہ کب سے لاونج میں کھڑا اُس کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا
مگر وہ نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
اس وقت وہ کالے رنگ کا سوٹ پہنے ہاتھ میں قمتیی گھڑی پہنے اچھے سے بال سیٹ کیے بہت ہنڈسم لگ رہا تھا

Mirh@_Ch
 

کیوں کے مہندی کمبین تھی اس وجہ سے دو جھولے رکھے گٸے تھے
اوپر جاۓ جہاں وہ سبز اور پیلے رنگ کے لہنگا چولی میں مبلوس تھی
دونوں ہاتھوں میں گجرے ڈالے پھولوں کا خوبصورت زیور پہنے وہ بغیر کسی میک اپ کے بہت حیسن لگ رہی تھی
اُس کا دھیان مسلسل ابان کی کل والی بات پر جا رہا تھا
تو کیا وہ سچ میں مجھے چھوڑ دے گا سوچتے ہی انکھیں نم ہونے لگی تھی
______________________________
وہ شیشے کے سامنے کھڑا کف لنک بند کر رہا تھا
اور ساتھ اُس کے عنابی لبوں پر شریر سے مسکراہت تھی
اس وقت وہ سفید رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں مبلوس بہت پیارا لگ رہا تھا

Mirh@_Ch
 

مجھے پتہ ہے تم نے کیا بات کرنی ہے کل مہندی کے فنکشن میں سب کو سچ بتا دو گا
کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تم پر کوٸی الزام نہیں آۓ گے
مجھے سے طلاق کے بعد تم سعد سے شادی کر لینا ٹھیک ہے
اوکے اب آرام کرو ،اُس نے فون بند کر دیا اور نمرہ کتنی دیر ساکت کھڑی رہی
______________________________
عباسی ہاوس میں ہر طرف گہما گہمی تھی
ہر کوٸی کام کرتا نظر آ رہا تھا
مہندی کے فنکشن کا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا
سیٹیج کو پیلے رنگ کے خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا

Mirh@_Ch
 

کیا بنے کا تیرا حیدر وہ سرد آہ ہوا کے سپرد کرتا بڑبڑایا
اور حور کا ایک بار پھر سوچ کر مسکرا دیا
______________________________
وہ مسلسل اُسے کال اور میسج کر رہی تھی مگر وہ کسی کا بھی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔
کل مہندی کا فنکشن تھا اور وہ ابان سے اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتی تھی
مگر وہ ایک ہفتہ سے اُسے اگنور کر رہا تھا
ساتویں دفعہ کال کرنے پر اُس نے فون اٹینڈا کیا
ہیلو!!!! وہی دلکش آواز جو نمرہ کے سماعتوں سے ٹکراٸی
آپ کیسے ہے ؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی
زندہ ہوں!!! تم بتاو کیوں فون کیا
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے

Mirh@_Ch
 

میری پناہوں میں تم آرام سے اپنی نیندیں پوری کرنا
پلیز حیدر آپ ایسی باتیں نہ کریں
جان حیدر ایک دفعہ پھر سے نام لینا میرا
وہ آج اُسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا
اس کی باتوں سے حور کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
حور کی طرف خاموشی حیدر کو مسکرانے پر مجبور کر گٸی
کہاں گٸی ہو یار وہ شوخ ہوا
جبکہ حور نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا
اور حیدر کا اُس کی حرکت پر قہقہ لگایا

Mirh@_Ch
 

چلو اب سو جاو رات بہت ہو گٸی ہے
وہ نور کا سر اپنے بازو پر رکھتا انکھیں موند گیا
جبکہ نور نے بھی اُس کے حصار میں پرسکون ہو کر انکھیں موند لی
______________________________
ایک مہینے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تھی کب سے کال کر رہا ہوں وہ بے چینی سے بولا
سوری میں سو گٸی تھی وہ مصومیعت سے سچ بولی
ہماری نیند اڑا کر آپ سو گٸی
وہ بس بہت زیادہ تھکی تھی تو بھابھی نے کہا آرام کر لو
اُس نے صفاٸی دی
کر لو آرام یار اچھی طرح اپنی نیندیں پوری کرو
میرے لیے اچھا ہو گا وہ معنی خیزی سے بولا
اس کی بات کا مطلب سمجھے کر حور کے گال سرخ ہوۓ
بس ایک دن رہا گیا ہے پھر تم مکمل طور پر میری دسترس میں ہوگی

Mirh@_Ch
 

اور پھر اُس نے تمہیں اغوا کر لیا
تمہیں ہر جگہ تلاش کیا ،،میری کیا حالت تھی میں بتا نہیں سکتی نور
ہر لمحہ تمہیں کھونے کا ڈر رہتا تھا
کس قدر بے بس تھا میں
وہ دھیرے دھیرے اُسے سب بتاتا گیا اور وہ نم انکھوں سے سر جھکا کر سنتی رہی
جانم میں نے تمہیں رونا کا تو نہیں کہا وہ مسکرا کر اُس کے آنسو صاف کرتا بولا
میں اُس دن سب ختم کرنے گٸی تھی زیب تاکہ وہ انسان دوبارہ ہماری زندگی میں داخل نہ دے
آپ سے جھوٹ صرف اس وجہ سے بولا کہ کہیں آپ کو برا نہ لگ جاۓ اُس کا نام لینا
وہ چہرا جھکا کر شرمندگی سے بولی
مجھے سب پتہ ہے جانم تمہیں صفاٸی دینے کی ضرورت نہیں

Mirh@_Ch
 

جس دن تم میر سے ملنے گٸی تھی اور مجھے سے جھوٹ بولا تھا
وہ دو دن میں نے انتہائی اذیت میں گزارے تھے
پھر مجھے سب پتہ لگا کے میر ہم دونوں کو جدا کرنا چاہتا ہے.
مجھ پر حملہ بھی اُس نے ہی کروایا تھا
وہ پورے دو ہفتے بعد نور سے میر کے بارے میں بات کر رہا تھا
ورنہ میر کے نام سے ہی اُس کا چہرا پیلا پڑ جاتا تھا
جب تم مجھے سے بار بار جھوٹ بول رہی تھی تو مجھے اُس دن غصہ آ گیا
مجھے کچھ غلط نہ ہو جاۓ اس لیے میں تمہیں بنا کچھ کہے اوپر روم میں آ گیا
اور تم مجھے غلط سمجھ کے گھر سے چلی گٸی

Mirh@_Ch
 

اُس نے نور کے لیے سپیسس پیزا مانگایا
جو اب دنیا سے بےخبر کھانے میں مصروف تھی
اور زیب اُسے مسلسل دیکھنے میں
کیا ہے اب ایسے کیا دیکھ رہے ہے وہ مسلسل اُس کی گہری نظروں سے پزل ہو رہی تھی
دیکھ رہا ہوں تم زیادہ خوبصورت ہو گٸی ہوں
آج دل بے ایمان ہو رہا ہے وہ اُس کے قریب ہوا اور پلیٹ ایک ساٸیڈ پر رکھی
نور اس کے انداز پر سٹپٹا کے جلدی سے کھڑی ہوٸی
جب میں تمہارے قریب آو تو دور نہ ہوا کرو تکلیف ہوتی ہے

Mirh@_Ch
 

میں نے آپ کو کہا بھی تھا نہیں کھانا کچھ وہ نم انکھوں سے بولی
اچھا سوری جانم بولو کیا کھانا ہے میری پرنسس نے
کچھ بہت سپیسس سا
مجھے پیزا کھانا ہے ابھی وہ لاڈ سے بولی اور اُس کے کندھے پر سر رکھ دیا
______________________________
میر کی موت کو دو ہفتے ہو چکے تھے زندگی اپنے ڈگر پر چل رہی تھی
رخسانہ بیگم اپنے بیٹے کو یاد کرتی رو پڑتی تھی
مگر انہوں نے بھی خود کو سنبهال لیا تھا
اُن کا بیٹا ایک مجرم تھا جس نے بہت سی لڑکیوں کی زندگی برباد کی تھی
اور پھر اپنےانجام کو پہنچ گیا

Mirh@_Ch
 

پلیز زیب میں نے اور نہیں کھانا۔ وہ فروٹ سے بھرا باول ایک ساٸیڈ پر کرتی ناک چڑھا کر بولی
نہیں جلدی سے پورا ختم کرو۔وہ بیڈ پر اُس کے سامنے بیٹھا پیار سے اُسے کھلا رہا تھا
پلیز زیب میرا بہت دل خراب ہوتا ہے وہ رومانسی ہوٸی مجھے سے نہیں ختم ہو گا
ابھی وہ بات کر رہی تھی کہ اچانک وہ واشروم کی طرف بھاگی
وہ واش بیسن پر جھکی الٹیاں کر رہی تھی
زیب جلدی سے اُس کے پیچھے بھاگا نمرہ نے اُسے وہی روک دیا
مگر وہ زیب ہی کیا جو بات مانے وہ اُس کے پیچھے کھڑا نور کی کمر سہلا رہا تھا
وہ منہ دھو کر باہر آٸی اور بیڈ پر بیٹھ گٸی
زیب نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا
جسے نور نے تھم کر دو گھونٹ پیا