Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

وہ گھر کے لیے نکلنے والے تھے جب اُنہیں خبر ملی کہ میر اب اس دنیا میں نہیں رہا
رخسانہ بیگم نور اور زیب سے اپنے بیٹے کی طرف سے معافی مانگی
کچھ بھی تھا ہے تو وہ اُن کا بڑا بیٹا تھا جس سے وہ بہت پیار کرتی تھی
حسن شاہ بھی جوان بیٹے کی موت سے ٹوٹ سے گٸے تھے
زیب اور نور نے بھی میر کو خدا کے لیے معاف کر دیا
اور اس کے آگے کے سفر کے لیے دعاگو تھے
کچھ بھی تھا میر سے دونوں کا ایک مضبوط رشتہ تھا

Mirh@_Ch
 

بہت شکریہ میری جان مجھے اتنی بڑی خوشخبری دینا کا
اُس نے نور کا ماتھا چوما
ویسا نہ میں سوچا ہے ہم کرکٹ ٹیم بناۓ گے
وہ شررات سے بولا اور ساتھ نور کے فق چہرے کو دیکھا
زیب یہ آپ کیا کہہ رہے ہے وہ پریشانی سے بولی
ٹھیک تو کہہ رہا ہوں بس تمہیں میری مدد کرنی ہو گی
وہ سنجيدگی سے بولا
نور کو تنگ کرنے میں اُسے مزا آ رہا تھا
وہ ابھی کچھ اور کہتا جب نرس کمرے میں داخل ہوٸی
اور وہ چپ ہو گیا مگر نور اب بھی پریشان تھی

Mirh@_Ch
 

وہ نور کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر محبت سے اُس کی انکھیں چومی
دیکھو اگر تم اتنا رو گی تو ہمارے بے بی پر اثر پڑے وہ اُس کا دھیاں بھٹکاتا بولا
صرف اُسے اذیت سے باہر نکلنے کے لیے
اس کی بات پر نور نے حیرانگی سے اُسے دیکھا
ایسا کیا دیکھ رہی ہو جانم
ابھی آپ نے کیا کہا
یہی کہ آپ ماما اور میں پاپا بنے والا ہوں
وہ نور کی ناک دباتا خوشی سے بولا
آپ سچ کہہ رہے ہے زیب
بلکہ سچ میری جان

Mirh@_Ch
 

وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ بیڈ پر لیٹی تھی
سر پر پٹی بندھی ہوٸی تھی وہ بہت کمزور لگ رہی تھی
زیب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اُس کے قریب پہنچا
اور بیڈ پر اُس کے پاس بیٹھ گیا
پرنسس پیار سے پکارا
نور نے مندی مندی انکھیں کھولی
اپنے سامنے زیب کو دیکھ کر اُس کی انکھیں نم ہوٸی
نور نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اُس کے گال پر رکھا
جسے زیب نے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا
اور وہ اُس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کے رو دی
جبکہ وہ اُسے خود میں بھیچ کر اُس کی کمر سہلا رہا تھا
بسس کرو جانم میں تمہارے پاس ہو کچھ نہیں ہوا تمہیں
ریلکس یار

Mirh@_Ch
 

زیادہ درد ہو رہا ہے کیا وہ اُس کے ہاتھ پر مرہم لگتا بولا
وہ نفی میں سر ہلاتی پھر سے رونے لگی
تو پھر رو کیوں رہی یار وہ بے چارگی سے بولا اور ٹیوب ٹیبل پر رکھی
ویسے ہی رونا آ رہا ہے آپ کو کیا
وہ اٹھ کر جانے لگی
ابان نے اُس کی کلاٸی تھام کر روکا اور دوبارہ اُسے اپنے سامنے بیٹھایا
کیا مسلہ ہے آپ کو ہاتھ چھوڑے میرے کوٸی حق نہیں آپ کو مجھے ہاتھ لگانے گا
وہ درشتگی سے کہتی اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑتی بھاگتی ہوٸی کمرے میں چلی گٸی
پیچھے وہ کھڑا کتنی دیر اپنی غلطی دھونڈتا رہا

Mirh@_Ch
 

وہ کیچن کی طرف گٸے قریب پہنچنے پر اُس اندر سے کھٹ پٹ کی آواز آ رہی تھی
وہ اندر داخل ہوا جہاں وہ دشمن جان ڈوپٹہ سے بے نیاز ہلکے پیازی رنگ کے سوٹ میں مبلوس بال پشت پر کھلے چھوڑے چائے بنانے میں مصروف تھی
اہممم اہممم ابان نے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا
ایک کپ چائے ملے گی وہ وہی ٹیبل کی کرسی کنھیچ کر بیٹھ گیا
نمرہ جو خیالوں میں گم اپنا کام کر رہی اُس کے آواز پر ڈر کے وہ پیچھے ہوٸی جس سے کپ میں ڈالتی چاۓ اُس کے ہاتھ پر گر گٸی
سسسس!!!!! کیا ہوا
ابان جلدی سے اُس کے قریب پہنچا
اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر دیکھ جو بلکہ سرخ ہو رہا تھا
دھیان کہا ہے تمہارا دیکھو کتنا جل گیا
وہ اُسے ڈانٹا کرسی پر بیٹھا کر ٹیوب لینے گیا
وہ نم انکھوں سے اُسے اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اب تو انہیں پکا یقین ہو گیا تھا کے یہ خوشی میں پاگل ہو چکا ہے
میں باپ بنے والا ہوں وہ خوشی سے بولا
پلیز مسٹر زیب نیچے اترے وہ چیختے ہوے بولے
_____________________________
وہ تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تھوڑی دیر پہلے ہی ہسپتال سے آیا تھا
اپنے بھاٸی کو اس حال میں دیکھ کر اُسے دکھ ہوا تھا
اُس کے بھاٸی نے جو کیا اُسی کی سزا ملی
اُس کا سانس سینے میں اٹکا ہوا تھا جس سے نہ وہ زندہ تھا نہ ہی مردہ
رخسانہ بیگم اور حسن شاہ اپنے جوان بیٹے کی حالت دیکھ کر ٹوٹ سے گٸے تھے
حسد اور جلن نے میر کو اس حال تک پہنچا دیا کہ اُسے اپنے خون کے رشتوں کی پہچان بھی بھول گٸی تھی
اُس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا وہ سب ابھی عباسی ہاوس ہی تھے
اُس کو چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی

Mirh@_Ch
 

آپ کی واٸف بہتر ہے ماتھے پر بس ہلکا سا زخم ہے جو جلد ہی ٹھیک ہو جاۓ گا
زیب نے دل میں خدا کا شکر ادا کیا
آپ کو اپنی مسز کا اب زیادہ خیال رکھنا ہو گا
کیوں کے وہ امید سے ہے بس تھوڑی سی کمزوری ہے ۔۔۔میں میڈیسن لکھ دیتا ہو آپ لے آۓ وہ پرویشنل انداز میں بولا
زیب بے یقينی سے ڈاکٹر کو دیکھ رہا
ابھی آپ نے کیا کہا ؟
یہی کے آپ میڈیسن لے آۓ ڈاکٹر حیران ہو کر بتایا
نہیں اس سے پہلے ۔۔۔ زیب کی حیرت ختم نہیں ہو رہی تھی
آپ کی واٸف امید سے ہے ۔۔۔ڈاکٹر کو زیب کی دماغی حالت پر شبہ ہوا
زیب خوشی سے آگے بڑھ اور ڈاکٹر کو گلے لگا کے گود میں اٹھ لیا

Mirh@_Ch
 

وہ بے چینی سے کمرے کے باہر چکر لگا رہا تھا
جہاں اندر اُس کی متاع جان کا علاج کیا جا رہا تھا
وہ خدا سے اُس کی سلامتی کی دعا مانگ رہا
فارم ہاوس پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا جس سے بہت سی اسمگلر ہونے والی چیزیں برآمد ہوٸی
فارم ہاوس کو پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا
اور اُس کے مالک کی تلاش جاری تھی
میر کی باڈی کو ہسپتال پہنچایا گیا اُس کے دل کی دھڑکن بہت سلو تھی
اُس کا علاج کیا جا رہا تھا مگر ڈاکٹر کے مطابق بچنے کی کوٸی امید نہیں تھی
وہ پریشانی سے پیشانی مسل رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اُس نے گھر میں کال کر کے سب کو مطمئن کیا
اور میر کے بارے میں مختصر بتا کے فون بند کر دیا
روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آۓ
زیب تیزی سے اُن کے قریب پہنچ
ڈاکٹر میری واٸف کیسی ہے ؟ اُس نے بے صبری سے پوچھا

Mirh@_Ch
 

میں نے مار دیا حیوان کو وہ تالی بجاتی خوشی سے بولی
سب اس پاگل کو دیکھ رہے تھے زیب نے اکرم کو اشارہ کیا وہ سب لڑکیوں کو باحفاظت اُن کے گھر میں چھوڑ کر آۓ
زیب نے نور کو گود میں اٹھایا اور گاڑی میں لیٹا کر ہسپتال کے لیے نکل گیا
______________________________
##
شکر ہے یہ میر مر گیا جان چھوٹی اُس بدتمیز سے
اب میں نے اتنی ساری اپیی پوسٹ کی ہے تو پلیز زرا لمبے لمبے کمنٹ کرنا
اچھی اچھی فلینگ آتی ہے
Ma masom si ☺😊😉
دیری کے لیۓ معزرت وہ میں کام میں اتنی بزی ہوٸی کے بھول گٸی

Mirh@_Ch
 

ماما پاپا سب تمہیں چاہتے ہے ہمیشہ تمہاری تعریف ہوتی ہے، مگر اب نہیں
میر نے ٹریگ پر ہاتھ رکھ اور ایک دم سے فضا میں فاٸر کی آواز گونجی
زیب پھٹی پھٹی انکھوں سے میر کو دیکھ رہا تھا
جس کے سینے پر گولی سوراخ کر کے گزر گٸی تھی
ایک اور گولی چلی جو اُس کی ٹانگ پر لگی اور وہ لڑکھڑا کے گرا اور اس طرح ایک فرعون کا غرور خاک میں مل گیا
زیب نے دیکھا تو عالیہ گن ہاتھ میں پکڑے جو اُس نے آج اٹھاٸی تھی کھڑی تھی
اس طرح وہ فاٸر کرتی رہی اور اپنے اندر بدلہ کی آگ کو بجھاتی رہی
اور وہ جو عزت سے کھیل کر خوش ہوتا تھا آج ایک عبرت ناک موت مر گیا

Mirh@_Ch
 

زیب نے دو سے تین دھکے مارے جس سے وہ ٹوٹ کر گر گیا
اندر بہت سی لڑکیاں تھی تو ڈری سہمی بیٹھی تھی
مگر زیب کی بے قرار نظر نور کو تلاش کر رہی تھی
جو اُسے کھڑکی کے پاس زمین پر پڑی نظر آٸی
”وہ جلدی سے نور کے قریب پہنچا“جسں کے سر اور ناک سے خون نکل رہا تھا
نور انکھیں کھولو وہ دیوانہ وار اُس کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالہ میں لے کر بولا
تو ڈٸیر کزن پہنچ ہی گٸے تم اپنی پرنسس تک
چلو میرا کام آسان ہو جاۓ گا دو محبت کرنے والے ایک ساتھ اس دنیا سے
رخصت ہو گے وہ سفاکی سے بولا اور گن کا رخ زیب کی طرف کیا
جو نور کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔ایک بات بتاو تمہیں زیب ؟۔
مجھے تم سے شدید نفرت ہے کیوں کے تو ہر کام میں مجھے سے دو قدم آگے رہے ہو

Mirh@_Ch
 

سن لی تھی
اُسے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا جب اُس کا موبائل بجا
اُس نے کا اٹینڈا کی تو دوسری طرف سے جو خبر اُسے دی گٸی
وہ اُس کی روح میں سکون پیدا کر گٸی
وہ جلدی سے کیز لے کر نکلا اور گاڑی فل سیپڈ پر بھاگا دی
_____________________________
علاقہ کو چاروں طرف سے زیب کے آدمیوں نے گھیر لیا تھا
وہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لے کر آہستہ آہستہ سے آگے بڑھ رہا تھا
چاروں طرف سے گولیاں چل رہی تھی
وہ پیچھے کے راستے سے جا رہا تھا پورے فارم ہاوس میں ایک یہی روم لاک ہے
اس میں ہی ہو گی نور وہ سوچتا کمرے کے قریب پہنچا اُس نے دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھ مگر وہ نہ کھلا

Mirh@_Ch
 

انہیں نے دعا مانگ کر اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا
پاپا!!!!! آج کتنے سال بعد زیب نے یہ لفظ پکارا تھا
جمشید صاحب کے بے قرار دل کو جسے قرار ملا
بولو میری جان وہ محبت سے جھک کر اُس کی پیشانی چومی
مجھے معاف کر دے میں جو آپ سے تلخ باتیں کہتا رہا وہ اُن کا ہاتھ چومتا بولا
باہر کھڑی حور خوشی سے مسکرا دی
پاپا آپ دعا کریں میری نور مجھے مل جاۓ تھک چکا ہوں مگر اُس کی کہیں خبر نہیں
آپ اللہ سے کہے وہ میری پرنسس مجھے واپس دے دیں
وہ اس وقت ایک چھوٹا سا بچا لگ رہا تھا
ضرور میری جان اللہ جلد ہی کوٸی راستہ دیکھے گا
اور شاید یہی وقت قبولیت کا تھا جب خدا نے سب کی دعائيں

Mirh@_Ch
 

بس ایک دفعہ مجھے مل جاو یہ اذیت ختم کر دو میری تھک چکا ہوں خود سے لڑتے لڑتے بس ایک بار سامنے آ جاو
آنسوں اس کے رخسار بھگو رہے تھے ایک اور رات اس کی اذیت اور تنہاٸی میں گزرنی تھی
اچانک اُسے کمرے کی فضا میں گُٹھن ہونے لگی
وہ اٹھا اور نیچھے جمیشد صاحب کے کمرے کی طرف چل دیا
وہ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوا
جہاں وہ اُسے نماز پڑھتے نظر آۓ
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اُن کے قریب پہنچا جو اب دعا کے لیے ہاتھ اٹھ رہے تھے
اور اُن کی گود میں سر رکھ کر وہی زمین پر لیٹ گیا
اُن کی انکھوں میں دعا مانگتے ہوۓ آنسو زیب کے بالوں میں جزب ہو رہے تھے
جبکہ زیب کے آنسو اُن کا دامن بھگو رہے تھے

Mirh@_Ch
 

دو دن سے اُس نے اپنا ٹھکانہ آفس کو بنایا ہوا تھا ابھی بھی وہ آفس سے تھکا ہارا گھر آیا“
گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا وہ گھر کے اندر داخل ہوا
جاہاں مکمل خاموشی نے اُس کا استقبال کیا
کبھی وہ یہاں لاونج میں بیٹھی اُس کا انتظار کرتی تھی
”وہ ایک سرد آہ ہوا کے سپرد کرتا سڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں داخل ہوا جہاں صرف تنہاٸی تھی ملی
وہ اپنا کوٹ صوفے پر پھنکتا وہ بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا اور انکھیں بند کر لی
”انکھیں بند کرتے ہی ایک خوبصورت اور پاکیزہ عکس نظر آیا چہرہ پر معدم سی مسکراہت آٸی
دو دن سے وہ اُسے ہر جگہ تلاش کر رہا تھا مگر وہ کہیں نہیں ملی
انکھیں کھولتے ہی اُس کی مسکراتی ہوٸی تصویر آنکھوں کے سامنے تھی
کہاں ہو یار تم ایک دفعہ معاف کر دو مجھے،میں نے گناہ کیا ہے یہ سوچ کر کہ تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو

Mirh@_Ch
 

جسے کسی نے بڑی مہارت سے چھپا لیا
تمہاری اتنی ہمت میر کا ہاتھ اٹھا اور نور کے خوبصورت چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا جس سے اُس کے ناک سے خون بہہ نکلا
بس کل تک کا انتظار کر لو پھر میں تمہاری یہ اکڑ توڑ کے رہو گا
وہ اُسے دھکا دیتا باہر چلا گیا نور کا سر دیوار سے لگا اور وہ وہی بے ہوش ہو گٸی
مگر ایک وجود نے نفرت سے اُسے دیکھا تمہارے انجام تک میں پہنچاو گی تم میر شاہ
وہ دل ہی دل میں عہد کر بڑبڑاٸی

Mirh@_Ch
 

اور وہ کتنی دیر اُس کے بارے میں سوچتی رہی
کیا تھا یہ شخص اتنی بے عزتی کے بعد بھی کیسے پیار سے بات کر رہا ہے
______________________________
ہممم تو کیسا لگ رہا ہے میرا غریب خانہ وہ اُس کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا
وہ دیوار کے ساتھ لگی سمٹ کے بیٹھی تھی
تم انسان نہیں جلاد ہو تمہیں ترس نہیں آتا ان مصوموں پر وہ غصہ سے غراٸی
مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ کبھی میرا تم سے کوٸی رشتہ بھی تھا
تم گٹھیا انسان خدا تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا وہ پھٹ پڑی
دو دن سے اُس نے قید میں رکھا تھا سب کے بارے میں سوچ سوچ کر اُس کی انکھیں نم ہو رہی تھی
میر ایک جھٹکے سے اٹھ جس سے اُس کے جیب میں موجود چیز دور جا گری

Mirh@_Ch
 

یہ مغرب کا وقت تھا وہ شاید نماز پر کے ٹیریس پر آٸی تھی
رونے کی وجہ سے انکھیں سرخ ہو چکی تھی
ہونٹوں پر بس نور کے لیے دعا تھی دو دن ہو گٸے تھے اُسے غاٸب ہوۓ،سب اُسے تلاش کر کے تھک گٸے تھے
مگر کوٸی فاٸدہ نہ ہوا، زیب بھی کل کا گھر واپس نہیں آیا تھا
وہ اپنی سوچو میں گُم تھی جب کسی نے اُسے کے کندھے پر ہاتھ رکھا
اُس نے موڑ کر دیکھا تو چہرے پر سنجدگی لیے ابان کھڑا تھا
وہ آہستہ سے قریب ہوا اور اپنی شال اتر کر نمرہ کے گرد پھیل دی
سردی ہو رہی ہے ایسے کھڑی رہو گی تو بیمار پڑ جاو گی
وہ اُس کی سحر انکھوں میں دیکھتا بھاری لہجے میں بولا
نور آپی کی فکر نہ کرو وہ بہت جلد مل جاۓ گی
وہ اُسے تسلی دیتا جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا

Mirh@_Ch
 

تم ایسا کچھ نہیں کرو گے میر
نور اس کا اردہ جان کر اُسے روکنے کے لیے آگے آٸی
اچھا تو پھر کون روکے گا مجھے وہ اُس لڑکی کا ہاتھ پکڑتا گھیسٹا ہوا کمرے سے باہر لے گیا
پیچھے نور اُس کی عزت کی حفاظت کی دعائيں مانگنے لگی