Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

تم نہایت ہی گھٹیا انسان ہو اگر زیب کو پتہ لگا تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا
اُسے پتہ لگا گا تو پھر نہ ابھی تو وہ تمہیں پورے شہر میں دیوانوں کی طرح دھونڈا رہا ہے
اور قسم سے اُس کی حالت مجھے بڑا مزا دے رہی ہے
چلو ڈٸیڑ کزن اب تم آرام کرو اُس نے نور کے گال تھپتانے کے لیےہاتھ بڑھایا
جب نور نے اپنا چہرا موڑ لیا
ادھر آو تم وہ لڑکیوں کی رکھوالی کے لیے رکھی ایک عورت کی طرف اشارہ کرتا بولا
جی باس؟؟؟
اس لڑکی کو تیار کر کے میرے روم میں بھیجو وہ سکڑی سمٹی بیھٹی لڑکی جس کا نام عالیہ تھا اشارہ کرتا بولا

Mirh@_Ch
 

اور یہ کون ہے وہ لڑکیوں کو دیکھتی اردگرد کا جاٸزا لیتی بڑبڑاٸی
تھوڑی دیر بعد میر ہاتھ میں سگریٹ پکڑے کمرے میں داخل ہوا
تم مجھے یہاں لے کر آۓ وہ غصہ سے اُس کی طرف بڑھی اور گریبان سے پکڑ کر پوچھا
ریلکس ایکس واٸف آرام سے بات کرتے ہے وہ اُس کے ہاتھ گریبان سے ہٹاتا بولا
تو بات کچھ ایسی ہے نور بی بی وہ وہاں رکھی ایک کرسی پر بیٹھتا بولا تم زیب کی زندگی ہو اور وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے
اور جس سے زیب محبت کرتا ہے میں وہ چیز چھین کر پھینک دیتا ہوں
ایک عیجیب سا سکون ملتا ہے مجھے اُسے تکلیف دے کر
وہ سگریٹ لبوں میں دباتا مسکرا کر بولا

Mirh@_Ch
 

کیسے سنبھالو میں خود پتہ نہیں کس حال میں ہو گی میری جان
وہ حیدر کے سینے لگی رو دی
زیب پاگلوں کی طرح اُسے پورے شہر میں تلاش کر رہا تھا
اُسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیوں نور کو اکیلا چھوڑا
اوپر سے اُسے میر بھی نہیں مل رہا تھا اب تو زیب کو پکا میر پر شک ہو چکا تھا کہ اُس نے ہی نور کو اغوا کیا ہے
______________________________
یہ ایک بڑا ہال نما کمرا تھا جہاں اُسے رکھا گیا تھا
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی لڑکیاں وہاں موجود تھی
آہستہ آہستہ نور کے حواس بحال ہونے شروع ہوۓ
اُس نے انکھیں کھولی تو خود کو کسی انجان جگہ پایا
میں تو گھر جا رہی تھی یہ کون سی جگہ ہے

Mirh@_Ch
 

وہ اُسے تلاش کرتا تھوڑا دور آ گیا جب اُسے نور کا ڈوپٹہ زمین پر پڑا نظر آیا
اُس جلدی سے ڈوپٹہ اٹھایا
یہ یہاں کیسے وہ ادھر اُدھر دیکھتا بولا
دل میں اب ہزار وسوسے آنے لگے تھے
______________________________
صبع سے رات ہو گٸی تھی مگر نور کا کہیں پتہ نہیں چلا تھا
مریم بیگم کا رو رو کر برا حال تھا۔ سب اپنی طور پر اُسے ڈھونڈا رہے تھے
کہاں ہے میری بیٹی مریم بیگم لپک کر حیدر اور ابان کے پاس پہنچی
جو ابھی گھر میں داخل ہوۓ تھے
ماما سنبھالے خود کو مل جاۓ گی آپی

Mirh@_Ch
 

وہ جلدی سے گیٹ پر آیا جہاں گارڈ کھڑے تھے
میڈم کہاں ہے وہ سرد لہجے میں بولا
میں کچھ پوچھا ہے میڈم کہاں ہے وہ غصہ سے بولا جو کوٸی جواب نہیں دے رہے تھے بس سر جھکے کھڑے تھے
سر میڈم باہر گٸی ہے ہم نے منع کیا مگر وہ چلی گٸی
اُن میں سے ایک بولا
اور تم مجھے اب بتا رہے ہو مر گیا تھا کیا میں جو مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا
کتنی دفعہ کہاں ہے کے میڈم کو اکیلی جانے نہیں دینا
مگر تم لوگ بس کام چور ہو کبھی کوٸی کام ٹھیک نہ کرنا
وہ درشتگی سے بولا.... اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو نکلو جاو یہاں سے نہیں تو شوٹ کر دو گا میں
وہ دونوں بوتل کے جن کی طرح غائب ہوۓ۔
اب کہاں تلاش کرو تمہیں میں

Mirh@_Ch
 

وہ غصہ سے کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا
اُس کے دل میں تھوڑا سا خدشہ تھا کہ شاید وہ پسند کرتی ہے میر کو
مگر کل جو اکرم نے بتایا کے میر دونوں میں شک پیدا کرنا چاہتا ہے
اُس نے کل کوشش کی کے نور خود سچ بتاۓ مگر وہ نہیں بولی
اُسے صرف غصہ تھا کہ کیوں نور نے جھوٹ بولا
اس لیے وہ بنا کچھ کہے کمرے میں آ گیا تھا
ایک جھوٹ کی وجہ سے وہ ذلیل انسان الزام لگا رہا تھا نور پر
ابھی اُس کا غصہ کچھ کم ہوا تو وہ نیچے نور کو دیکھنے آیا
وہ لاونج میں آیا پر نور یہاں نہیں تھی
کہاں چلی گٸی یہ لڑکی وہ اُسے ہر کمرے میں دیکھتا بڑبڑایا
مگر وہ کہی نہیں ملی اب زیب سچ میں پریشان ہو گیا
کیونکہ نور کہی بھی نہیں تھی

Mirh@_Ch
 

میر ایک تنہا گوشہ میں کھڑا تھا اُس نے نور کو قریب آتے دیکھا جو اپنے خیالوں میں گُم تھی
ایک ہی جست سے وہ اُس کے قریب پہنچا اور اُس کے منہ پر رومال رکھ دیا
نور نے بھی مزامت کی مگر اُس کی انکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
میر نے اُس گود میں اٹھایا اور گاڑی میں ڈالتا فارم ہاوس کے لیے نکل گیا
چہرا پر شیطنی مسکراہت تھی
ہاہاہاہا اب دیکھتا ہو تم کیسے بچتے ہو اپنی نور کو
______________________________

Mirh@_Ch
 

تین دن بعد وہی پر ملاقات ہوتی ہے شاہ جی
ٹھیک ہے میں تیاریاں کرتا ہوں اُس نے فون بند کر کے جیب میں ڈال
زیب کے گھر سے تھوڑی دور ہی میر نے اپنی گاڑی کھڑی کی تھی
اب اُسے انتظار تھا کب زیب نور کو دھکے دے کر گھر سے نکلتا ہے
______________________________
وہ وہی لاونج میں بیٹھی رو رہی تھی کمرے سے ابھی بھی چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی تھی
نہیں اس سے پہلے وہ مجھے گھر سے باہر نکلے میں خود چلی جاو گی
جب انہیں مجھے پر بھروسا ہی نہیں تو میرا یہاں روکنے کا کوٸی فاٸدہ نہیں
وہ ننگے پاوں اٹھی اور اپنا فراک سنبھالتی گیٹ سے باہر نکل گٸی۔۔۔
وہ چلتے چلتے گھر سے تھوڑی دور آ گٸی بہت سے لوگ اُسے دیکھ رہے تھے مگر پرواہ کسے

Mirh@_Ch
 

اور بنا اُسے کچھ کہے وہ سڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں گُم ہو گیا
نور میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اُسے روک سکتی
کمرے سے آنے والی آوازیں بخوبی بتا رہی تھی کہ وہ اس وقت کتنے غصہ میں ہے
______________________________
میر گیٹ سے باہر نکلتا مسکرا کر اپنے ہونٹوں سے خون صاف کرتا کسی کا نمبر ڈاٸل کرنے لگا
کیسے ہے چوہدری جی ؟
ٹھیک آپ سناۓ شاہ جی۔۔۔۔
آپ کے لیے ایک خوشخبری آپ کا کوہ نور کا ہیرا بہت جلد آپ کی پناہ میں آنے والا ہے
یہ تو بہت اچھی خبر ہے شاہ جی مگر اس وقت ہم شہر سے باہر ہے
اپنے آدمی بھیج دیتا ہوں اُسے پکڑ کر میرے فارم ہاوس لے جاۓ

Mirh@_Ch
 

وہ غصہ کی شدت سے میر کی طرف بڑھا
تم تمہاری ہمت کیسے ہوٸی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی ذلیل انسان
وہ ایک مُکا میر کے منہ پر مارتا غرایا
جبکہ میر نے بھی جوابی وار کیا اور ایک ٹانگ زیب کے پیٹ میں ماری جس سے وہ دور جا گرا
تمہیں تو میں آج چھوڑو گا نہیں میر شاہ وہ دوبارہ اُس کی طرف لپکا اور اپنا گھٹنا اٹھ کر مارا
نور سہمی ہوٸی دونوں کو لڑتا دیکھ رہی تھی
میں خود نہیں آیا تیری بیوی نے کال کر کے مجھے بلایا ہے
میری بیوی پر الزام لگتا ہے کمینے انسان گھٹیا نکل جا میرے گھر سے
وہ میر کو کُلر سے پکڑاتا باہر دھکا دیتا دھاڑا
زیب دروازہ بند کر کے اندر آیا جہاں وہ کھڑی آنسو بہا رہی تھی

Mirh@_Ch
 

چلو آو کیک کاٹے وہ اُس کا ہاتھ پکڑاتا کنھیچتا ہوا بولا
نور نے اُسے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا
میر نے ہاتھ پکڑ کے اُسے اپنی طرف کنھیچا
اس لمحہ دروازہ کھولا اور زیب اندر داخل ہوا
اندر کا منظر دیکھ کر اُس کے قدم وہی جم گٸے
ہاتھ میں پکڑی چیزیں زمین بوس ہوٸی
زیب بے یقینی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا
نور کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا

Mirh@_Ch
 

مگر کون جانتا تھا کل کا دن ان کے درمیان جداٸی لے آۓ گا
______________________________
وہ گھر میں اکیلی تھی جمیشد صاحب اپنے کی دوست کی طرف گٸے تھے
تھوڑی دیر پہلے اُسےزیب کا میسج آیا تھا کہ وہ تیار رہے کسی پارٹی میں جانا ہے
وہ تیار بیٹھی انتظار کر رہی تھی جب درواز پر بیل ہوٸی
لگتا ہے آ گٸے ہے وہ اپنا فراک سنبھالتی اٹھی
اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے میر کھڑا ہاتھ میں کیک اور گلاب کے پھول پکڑے ہوۓ تھے
کسی ہو ڈٸیر کزن سالگر بہت مبارک ہو وہ اندر داخل ہوتا بولا
تم تمہاری ہمت کیسے ہوٸی یہاں آنے کی وہ غصہ سے غراٸی
میں تو تمہیں وش کرنے آیا ہوں پہلی محبت ہو تم میری یار

Mirh@_Ch
 

چلو ایک مہینہ انتظار کر لیتے ہے پھر تو اظہار کرو گی نہ وہ سرگوشی کرتا ہوا پیچھے ہوا
وہ مجھے لگتا ہے بھاٸی بلا رہے ہے وہ اُس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی بولی
ٹھیک جاو مگر آنا تو میرے پاس ہی ہے تم نے
وہ ہاتھ چھوڑتا پیچھے ہوا اور حور اپنی دل کی دھڑکن کو سنھبالتی ہوٸی نیچے چلی گٸی
______________________________
وہ سب گھر آ گٸے تھے نور تو آتے ہی سو گٸی
جب کے زیب کل کے لیے تیاریاں کر رہا تھا کیوں کے کل اُس کی پرنسس کی سالگر تھی
دو دن سے جو ہوا وہ سب بھول کر وہ اُسے اپنی محبت کا یقين دینا چاہتا تھا

Mirh@_Ch
 

وہ چہرا موڑے کھڑی تھی نفرت کی انتہاہ محبت ہوتی ہے نمی دیکھنا کہی دل نہ ہار جاۓ وہ کہتا کمرہ سے چلا گیا
______________________________
مجھے تو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا کہ تم میرے نام ہو گٸی
وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھ خوشی سے بولا
میں بہت خوش قسمت ہو حور جو خدا نے میری محبت بنا کسی تکلیف کے مجھے دے دی
وہ ساتھ کھڑی حور کو پیار سے دیکھتا بولا
پاپا کہا ہے اگلے ماہ ہمارا نکاح اور بھاٸی آپی کی ولیمہ کی تقریب ہو گی
تم خوش ہو حور ؟وہ اُس کا ہاتھ پکڑتا محبت سے بولا
جسے سے وہ شرما کر اثبات میں سر ہلا گٸی
آج جواب نہیں دو گی میرے سوال کا وہ شوخ ہوا
وہ نہ میں گردن ہلاتی چہرا جھکا گٸی

Mirh@_Ch
 

ہاتھ مت لگو مجھے وہ چیختی ہوٸی اُس کا ہاتھ جھٹک کر ساٸیڈ پر ہوگی
کبھی معاف نہیں کرو گی تمہیں میں نفرت کرتی ہوں تم سے اور تمہاری محبت سے وہ پھنکاری
نمرہ میری بات سنو وہ اُس کا بازو پکڑتا اپنے گلے سے لگا گیا
وہ مزامت کرتی رہی مگر وہ اُس کے گرد سختی سے حصار بندھے ہوا تھا
وہ اُس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ رو دی
نفرت ہے مجھے تم نفرت وہ مسلسل ایک بات بڑبڑا رہی تھیں
مگر مجھے تم سے بہت محبت نے نمی جان وہ سر پر بوسا دیتا بولا
کتنی دیر وہ اُس کے سینے سے لگی روتی رہی
پھر جب اپنی پوزیشن کا خیال آیا تو ایک جھٹکے سے الگ ہوٸی
وہ جو انکھیں بند کیے اسے محسوس کر رہا تھا ایک دم انکھیں کھولی

Mirh@_Ch
 

وہ دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا
کمرے میں کوٸی نہیں تھا مگر واشروم سے پانی آواز آ رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ فریش ہو رہی ہے
وہ وہی اُس کا ویٹ کرتا بیڈ پر بیٹھ گیا
کچھ لمحہ بعد واشروم کا دروازہ کھولا
جس سے وہ باہر آٸی
سرخ سوجی انکھیں کے ساتھ بکھرے سے حلیہ میں وہ کہیں سے بھی نمرہ نہیں لگ رہی تھی۔
اُس وہ اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوٸی
کیا لینے آۓ ہو یہاں کچھ رہا گیا ہے برباد کرنے کو وہ سرد لہجے میں بولی
تم روٸی ہو وہ قریب پہنچ کر اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالہ میں لے کر بولا

Mirh@_Ch
 

آپ بات کیوں نہیں کر رہے ٹھیک سے میرے ساتھ
ایسا کب ہوا
ایسا ہی ہوا ہے وہ آنسو بہاتی بولی
اچھا بابا سوری بس کچھ بزی تھا بزنس کا کوٸی ایشو تھا
اب تو چپ کر جاو یار وہ بے بس ہوا
وہ کمزوری بن گٸی تھی زیب کی اور زیب اُس کے آنسوں کے آگے بے بس ہو جاتا تھا
چاۓ تو پیے ٹھنڈی ہو جاۓ گی وہ آنسو صاف کرتی بولی
اب ضرورت نہیں ہے جان تم پاس ہونا ٹھیک ہو گیا سر
ایک بات کہوں تم سے وہ اُس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتا بولا
اُس نے اثبات میں سر ہلایا
کبھی مجھے دھوکا نہ دینا نور
جو تمہارے دل میں ہے وہ مجھے بتانا کبھی جھوٹ نہ بولا
ماتھے پر بوسا دیتا وہ سرگوشی کرتا اٹھ کر نیچے چلا گیا اُس کے ساکت وجود کو وہی چھوڑ کر

Mirh@_Ch
 

اور چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اُس کےساتھ کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گٸی
زیب!!!!! پیار سے پکارا
ہمممم کہوں پرنسس ؟
کوٸی پریشانی ہے دو دن سے آپ بہت کھوۓ کھوٸے لگ رہے ہے
کیا میری کوٸی بات بری لگی ہے آپ کو
وہ نم لہجے میں بولی
اُس زیب کی کٸیر کی عادت پڑ گٸی تھی دل میں محبت کے پھول کھلنے لگ گٸے تھے
زیب تو اس کے رونے پر تڑپ ہی گیا
افففف ادھر دیکھو پرنسس
کیوں رو رہی ہوں وہ انکھیں چومتا بولا

Mirh@_Ch
 

وہ کیچن میں کھڑی سب کے لیے چاۓ بنا رہی تھی
جب زیب وہاں آیا۔۔۔ سرخ انکھیں اور ماتھے کی رگیں تنی ہوٸی
آپ کی طیبعت ٹھیک ہے زیب وہ اُس کی طرف دیکھتی پریشانی سے بولی
ہمممم ٹھیک ہے بس سر میں بہت درد ہے
آپ میرے روم میں جا کر آرام کرۓ میں چاۓ لے کر آتی ہوں
وہ سر اثبات میں ہلاتا کمرے میں چلا گیا
نور نے چاۓ کپوں میں ڈال کر ٹرے میں رکھی اور پھر حور کے ہاتھوں باہر بیجھو دی
خود زیب کے لیے چاۓ لے کر کمرے کی طرف چل دی
وہ کمرے میں داخل ہوٸی تو اُسے یہاں وہاں دیکھ مگر وہ روم میں نہیں تھا
اُس نے قدم بالکونی کی طرف بڑھے کیونکہ سلاٸیڈ ڈور اوپن تھا
وہ اُسے کرسی پر بیٹھا چاند کو دیکھتا نظر آیا
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اُس کے قریب پہنچی

Mirh@_Ch
 

یہ خاندان پھر سے ایک ہونے جا رہا تھا مگر اُن کے نصیب میں خوشی بہت کم عرصہ کی تھی
تھوڑی دیر بعد نور اور جمیشد صاحب گھر میں داخل ہوۓ
مریم بیگم نے اٹھ کر بیٹی کو گلے لگایا
باری باری وہ سب سے ملی جبکہ جمیشد صاحب بھی سب کو اکھٹا دیکھ کر بہت خوش تھے
مگر نور کا موڈ میر کو دیکھ کر خراب ہوگیا یہ بات سب نے نوٹ کی
زیب کے آنے کے بعد منگی کی چھوٹی سی رسم ادا ہوٸی
حیدر نے حور کو اپنے نام کی انگھوٹی پہناٸی
جبکہ کے نمرہ کی کی انگلی میں رخسانہ بیگم نے اپنی خاندانی انگھوٹی پہنا کر اُسے ابان کے نام کیا