Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

وہ سب کو سلام کرتی اوپر اپنے کمرے میں چلی گٸی
ابان کو اُس کی سرخ روٸی سی انکھیں بےچین کر گٸی
آج ہم تم سے کچھ مانگنے آۓ ہے مریم مجھے یقين ہے تم ہمیں خالی ہاتھ نہیں بیجو گی
رخسانہ بیگم نے بات کا آغاز کیا
ہم ابان کے لیے نمرہ کا ہاتھ مانگتے بہت خوشی ہو گی مجھے اگر ہم پھر سے ایک رشتہ میں جڑا جاۓ گے
مریم بیگم تھوڑی حیران ہوٸی پھر بولی
آپی مجھے تو کوٸی مسلہ نہیں ابان بہت اچھا بچہ ہے
دوسرا وہ میر سے کافی مختلف ہے وہ عباس صاحب کی طرف دیکھتی بولی
جو اثبات میں سر ہلا کر اپنی رضامندی دے گٸے
ہمیں یہ رشتہ منظور ہے آپی نمرہ آپ کی ہی بیٹی ہے وہ خوشی سے بولی

Mirh@_Ch
 

تو میری نٸی شادی شدہ زندگی خراب ہو جاۓ گی
ت۔۔۔تم۔۔۔نے شادی کر لی وہ لڑکھڑاتی زبان میں بولی
ہاں جب تم نے کر لی تو میں کیوں تمہارے سوگ میں بیٹھا رہتا
اب جاو ورنہ مجھے گارڈ کو بلانا پڑے گا
وہ غصہ سے بولا اور اس کی سنے بغیر دروازہ اس کے منہ پر بند کرتا چلا گیا
پیچھے وہ وہی بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کے رو دی
تو کیا یہ تھی اُس کی محبت مجھے کچھ کہنے بھی نہیں دیا
تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آنسو صاف کرتی اٹھی اور کار میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوٸی
وہ دس منٹ میں گھر پہنچی لاونج میں اُسے رخسانہ بیگم اور حسن شاہ بیٹھے تھے
ساتھ ابان اور میر بھی تھا

Mirh@_Ch
 

وہ سعد سے ملنے اُس کے گھر آٸی تھی ۔نمرہ نے سوچ لیا تھا کہ وہ ابان سے طلاق لے کر سعد سے شادی کر لے گی
اُس نے دو سے تین بار دستک دی مگر کسی نے دروازہ نہیں کھولا
وہ واپس جانے لگی جب اندر سے اُسے قدموں کی آواز سناٸی دی
اور تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا سامنے وہ کھڑا تھا
جسے وہ پورے دو ہفتوں بعد دیکھ رہی تھی
جی کیا کام ہے آپ کو وہ ساکت کھڑی نمرہ پر اجنبی نگاہ ڈالتا بولا
تم سے کچھ بات کرنی ہے مجھے!!!!! لیکن مجھے تم سے کوٸی بات نہیں کرنی اس لیے اپنا اور میرا وقت ضائع نہ کرو
سعد یہ تم کیسے بات کر رہے ہو مجھے سے وہ رومانسی ہوٸی
بلکہ ٹھیک بات کر رہا ہو تم جاو یہاں سے اگر میری بیوی نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا

Mirh@_Ch
 

نہیں سر بہت کوشش کی ہے مگر ایک لفظ زبان سے نہیں نکلا اس نے
ہمممم زیب اُس کے قریب گیا جو نڈھال ایک طرف پڑا تھا
زیب نے سانس چیک کی تو وہ نہیں چل رہی تھی
یہ تو مر گیا ہے کہا گٸے تھے تم لوگ کہا بھی تھا اسے مرنے نہیں دینا۔
وہ غصہ سے اُس پر دھاڑا۔۔۔۔۔
ایک یہی گواہ تھا ہمارے پاس وہ بھی اب نہیں رہا
کیسے پہنچو گا میں اب اُس آدمی تک وہ غصہ سے یہاں وہاں ٹہلتا بولا
اب کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہو
انتظام کرو اس کے لیے
ٹاٸم دیکھ تو دو بج رہے تھے
پھوپھو انتظار کر رہی ہو گی میرا وہ بالوں میں ہاتھ پھڑاتے بڑبڑایا

Mirh@_Ch
 

ایک نٸے دن کا سورج طلوع ہوا جس کی صبع بہت روشن تھی
وہ اُس کے جاگنے سے پہلے ہی آفس کے لیے نکل گیا
نور کی آنکھ کھلی تو خود کو کمرے میں اکیلا پایا
”یہ کیا ساری رات گھر نہیں آۓ“ وہ سوچتی زیب کا نمبر ڈاٸل کرنے لگی تاکہ پوچھ سکے وہ کہا ہے
مگر اُس نے کال اٹینڈ نہیں کی بس کے میسج کر دیا
کہ وہ مصروف ہے اور تم تیار ہو کے ڈرائيور اور جمیشد صاحب کے ساتھ اپنے گھر چلی جاو۔
ساٸیڈ دراز میں رنگ رکھی ہے حیدر کے لیے وہ بھی لے لینا
میں جلد پہچنے کی کوشش کرو گا
نور نے بجھے دل کے ساتھ موبائل ساٸیڈ پر رکھ اور فریش ہونے چلی گٸی
______________________________
ہاں بولو کچھ یہ کے نہیں وہ کمرے میں داخل ہوتا بولا

Mirh@_Ch
 

اُسے اپنے قریب آتا دیکھ وہ دونوں چیخے مارنا شروع ہو گٸی
اُس نے کمرے کی لاٸٹ جلاٸی اور انہیں دیکھ جو انکھیں بند کر کے چیخ رہی تھی
بند کرو اپنا یہ ریڈیو وہ اپنے اوپر سے سفید چادر ہٹاتا بولا
وہ دونوں انکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی
جسے ہی بات سمجھ آٸی نمرہ اُسے مارنے کے لیے لپکی
تم بدتمیز اگر ہمارہ دل بند ہوجاتا پھر وہ اسے پکڑے تھپڑوں سے اُس کی تواضع کرتی بولی
بندر نہ ہو تو وہ حور کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر چلی گٸی

Mirh@_Ch
 

یہ رات دو بجے کا وقت تھا وہ دونوں کولڈ ڈرنک اور پیزا پر ہاتھ صاف کرتی ہارر موی دیکھ رہیں تھی
یار نمرہ بس کرو اب وہ کشن اپنی انکھوں کے سامنے رکھتی بولی
حور بھی بہتر ہو گٸی تھی جب کے نمرہ بھی حور کے آنے سے اپنا غم بھولے بیٹھی تھی
چپ کر کے بیٹھو حور دیکھنا اس کمرہ میں ضرور بھوت ہو گا
کمرہ میں صرف ایل سی ڈی کی روشنی تھی
باقی پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا
وہ دونوں موی دیکھنے میں مگن تھی جب کمرے کا دروازہ ایک دم زور سے بند ہوا
وہ دونوں اُچھل کے ایک ساتھ جڑ کے بیٹھ گٸی
ک۔۔۔کون ہے نمرہ اپنی گھبراہت پر قابو پاتی بولی
کوٸی جواب نہ ملنے پر وہ دوبارہ فلم کی طرف متوجہ ہوٸی
جب انہیں بیڈ پر کوٸی بیٹھا نظر آیا
جو اب اٹھ کر آہستہ آہستہ ان کے قریب آ رہا تھا

Mirh@_Ch
 

اُس کی نیند کے پیش نظر زیب نے موبائل سٸلینٹ موڈ پر کر دیا
اور خود بالکونی میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد زیب کے موبائل پر کال آنے لگی
اُس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف میر تھا
زیب نور کیسی ہے میری کال نہیں اٹھا رہی وہ اُس نے ضروری بات کرنی تھی مجھے سے
کال پک کرتے ہی وہ جلدی سے بولا
زیب کے تو تن بدن میں آگ لگ گٸ
وہ ٹھیک ہے اُس کا خیال رکھنے کے لیے میں موجود ہوں
اس لیے تم دوسروں کی زندگی میں داخل اندازی نہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے
وہ سرد آواز میں بولتا فون بند کر گیا
رات گزر رہی تھی مگر نیند انکھوں سے کوسوں دور تھی

Mirh@_Ch
 

کیا مجھے خوش ہونا کا حق نہیں وہ آسمان کی طرف منہ کر کے شکوہ کرتا بولا
کیوں کیوں کیوں!!!!!!! ہر دفعہ میرا ساتھ ایسے ہوتا ہے وہ بالوں کو مُٹھی میں جکڑاتا ہوا بولا
اس وقت وہ ایک جنونی انسان لگ رہا تھا
دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو وہ اٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہوا
وہ گھر میں داخل ہوا تو رات کے گیارہ بج چکے تھے
وہ کمرہ میں داخل ہوا ایک نظر سوٸی ہوٸی نور پر ڈالی اور چینج کرنے ڈریسنگ روم میں چلا گیا
وہ باہر آیا جب نور کا موبائل بج
زیب نے دیکھا تو وہاں میر کی کال آ رہی تھی غصہ انکھوں میں پھر سے آیا
فون اٹھاو نور
اُس کا میسج آیا

Mirh@_Ch
 

وہ فریش ہو کر نکلی تو زیب کہی نہیں تھا
انہیں کیا ہوا
کوٸی ضروری کام ہو گا اس لیے چلے گٸے وہ بڑبڑاتی اپنے بال بنانے لگی
______________________________
وہ بلاوجہ گاڑی سڑکوں پر گھوما رہا تھا
بار بار وہ منظر سامنے آ رہا تھا جب میر نے نور کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
تو کیا میرا پیار نظر نہیں آتا تمہیں نور کیوں دل توڑ دیا تم نے
ابھی تو زخم بھرنا شروع ہوۓ تھے
کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تمہیں آنسو انکھوں سے بہہ رہے تھے
اُس نے گاڑی ایک ساٸیڈ پر روکی اور باہر نکل کر گہرے سانس لینے لگا
وہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگایا نیچے بیٹھتا چلا گیا
آنسو مسلسل انکھوں سے بہہ رہے تھے

Mirh@_Ch
 

اس بات پر زیب کے دل میں کچھ ٹوٹا تو کیا وہ اُس کا یقين جیت نہیں پایا
وہ اپنی پرنسس کی ایک ایک حرکت جانتا تھا۔
اُسے پتہ تھا کے نور جھوٹ بول رہی ہے
مگر کیوں کیا اُس کے پیار میں کوٸی کمی رہے گٸی تھی
اچھا کون سی دوست؟ اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا شاید اب سچ بتا دے
آپ اُسے نہیں جانتے بہت اچھی دوست ہے میری وہ اپنا بیگ صوفے میں رکھتی بولی
نظریں تو وہ ملا نہیں سکتی تھی کیوں کہ جھوٹ بول رہی تھی
اچھا وہ گفٹ کس نے بیھجا ہے وہ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا
وہ میرا Lover نے جو مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔ وہ شررات سے کہتی فریش ہونے کے لیے واشروم میں گھس گٸی
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی شرارت کتنی مہنگی پڑنے والی ہے اُسے
زیب بیڈ سے اٹھا اور اپنی کار کی کیز پکڑے کمرے سے نکل گیا
اگر وہ تھوڑی دیر اور روکتا تو ضرور کچھ برا ہو جاتا

Mirh@_Ch
 

وہ گھر میں داخل ہوٸی جب اُسے پورچ میں زیب کی گاڑی نظر آٸی
یہ آج اتنی جلدی آ گٸے
وہ لاونج میں داخل ہوٸی اور جمیشد صاحب کو سلام کر کے اپنے روم میں چلی گٸ
وہ کمرے میں داخل ہوٸی ہوٸی جب اُس بیڈ پر انکھوں پر بازو رکھ کر لیٹا زیب نظر آیا
وہ اُس کی خوشبو پہچان چکا تھا اس لیے بولا
کہا گٸی تھی وہ اس ہی پوزیشن میں لیٹا سوال کیا
اگر انہیں سچ بتا دیا تو یہ غصہ کرٸے گے ۔۔۔۔ ویسے بھی رات کی طیبعت خراب ہے
وہ میں ایک دوست کی طرف گٸی تھی
وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی جھوٹ بولنا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے یہ کوٸی نور سے پوچھے

Mirh@_Ch
 

وہاں کیوں روک گٸی آو میرا پاس وہ حرام مشروب گلاس میں انڈیلتا بولا
نہیں۔۔۔۔پلیز مجھے۔۔۔۔۔گھر جانے دو میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑہ ہے
میں تو گھر سے اپنی امی کی دواٸیاں لینے نکلی تھی
تم لوگ کیوں لٸے آۓ ہو پلیز خدا کا واسطہ ہے تمہیں وہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی اُس کے سامنے بیٹھا یہ شخص انسان نہیں حیوان ہے
گھر بھی چلے جاۓ گے پہلے میرا ساتھ کچھ وقت تو گزارو ویسے بھی آج میں بہت خوش ہوں
وہ اُس کو بیڈ پر دھکا دیتا اُس پر جھکا گیا
بنا اُس کے آنسوں کی پروا کیے اپنی ضرورت پوری کرنے لگا

Mirh@_Ch
 

یہ لے سر ساری پکس دیکھ لے کیسی بنی ہے
میر!!!! ایک ایک کرتا ساری تصویریں دیکھنے لگا انکھوں میں شیطنی تھی
گڈ ویری گڈ بہت اچھا کام کیا ہے تم نے
یہ لو تمہاری پیمنٹ
وہ اپنی جیب سے نوٹوں کی گڈی نکلتا اُسے دیتا بولا
ہممم تو زیب اب دیکھو میں تمہاری خوشحال زندگی میں کیسے آگ لگتا ہوں
اُس نے اپنا موبائل نکلا اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ تصویریں زیب کو سینڈ ہو چکی تھی
یہ جو تم اتنا اڑ رہی ہوں نور بی بی دیکھنا تمہارا سارا غرور مٹی میں کیسے ملتا ہے
وہ خباست سے ہنستا بیڈ پر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھولا اور ایک اکیس سال کی لڑکی کمرے میں داخل ہوٸی
جس نے بہت ہی بیہودہ لباس زیب تن کیا تھا اور وہ کھڑی آنسو بہا رہی تھی

Mirh@_Ch
 

وہ ٹیبل پر موجود اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولا
اس لمحہ کیمرہ کی انکھیں میں یہ منظر محفوظ ہوا
نور کا چہرا غصہ کی شدت سے سرخ ہوا
مجھے لگا تھا تم بدل گٸے مگر تمہاری سوچ ویسی ہی گندی اور خودغرض ہے
وہ اُس کا ہاتھ جھٹکتی درشتگی سے بولی
اچھا ہوا جو تم نے مجھے چھوڑ دیا اور میری زندگی میں زیب آۓ
اُن جیسا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھ
تم تو اُن کی جوتی کے برابر نہیں وہ ذرا اونچی بولی جس سے باقی ٹیبل پر موجود لوگ ان کی طرف متوجہ ہوے
یہ جس کے لیے تم اتنی اڑ رہی ہو دیکھتا ہوں کیسے یقین کرتا ہے اور کتنا پیار ہے اُسے تم سے
وہ اپنا کوٹ اٹھاتا چلا گیا
پیچھے نور بھی بل پے کر کے گھر کے لیے روانہ ہوٸی

Mirh@_Ch
 

جس میں For my love noor lihka tha
نہیں یہ جھوٹ ہے وہ صرف میری ہے
______________________________
کیوں بلایا ہے مجھے وہ اُس کے سامنے بیٹھتی سرد لہجے میں بولی
”تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں نور “ تانیہ نے مجھے چھوڑ دیا وہ میرے بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے گٸی
وہ جھوٹے آنسو انکھوں میں لاتا بولا
تو میں کیا کرو
یہ تو تم جانتے ہو گے میر حسن شاہ انسان جسے کرتا ہے اُس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوتا ہے وہ طنز کرتی بولی
تم نے میرا دل توڑا تو تمہارا بھی ٹوٹا
میں جانتا ہوں تم اب بھی مجھے سے پیار کرتی ہو اس لیے میرے بلانے پر آ گٸی
تم زیب کو چھوڑ دو میں دوبارہ تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
میں تمہیں بہت پیار دو گا

Mirh@_Ch
 

دوسری تصویر میں میر نے نور کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔تیسری میں وہ کسی بات پر مسکرا رہے تھے“
ایسے ہی بہت سی تصویریں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
زیب کو دنیا گھومتی ہوٸی محسوس ہوٸی ۔۔۔ نہیں میری پرنسس مجھے دھوکا نہیں دے سکتی۔وہ مجھے سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔
وہ دماغ میں پیدا ہونے والے اندیشوں کی نفی کرتا بڑبڑایا۔۔۔۔۔۔وہ گھر ہی ہو گی یہ جھوٹی ہے تصویریں
اُس نے جلدی سے اپنا کوٹ اٹھایا اور گھر کے لیے نکل گیا
وہ کمرے میں داخل ہوا تو خالی کمرہ اُسے منہ چڑھا رہا تھا
وہ چینج ڈریسنگ روم میں داخل ہوا اپنی ایک شرٹ نکلنے لگا
جب اُس ایک ریڈ کلر کا باکس نظر آیا
اُس باکس کھولا تو اندر گلاب اور ایک چیٹ تھی

Mirh@_Ch
 

نہیں تم پلیز ایک دفعہ مل لو تمہیں تمہاری محبت کا واسطہ وہ افسردہ لہجے میں بولا
ٹھیک ہے کہاں ملنا ہے وہ حامی بڑھتی بےزار سی بولی
میں ایدڑیس سینڈ کرتا ہوں
ہمممم ٹھیک ہے
تھوڑی دیر بعد وہ اپنا بیگ اٹھا کر ایڈریس پر پہنچ گٸی
______________________________
وہ آفس میں بیٹھا کوٸی فاٸل چیک کر رہا تھا۔جب اُس کے موباٸل فون پر میسج ٹون بجی“
اُس نے اوپن کیا تو واٹس اپ پر کچھ تصویریں سینڈ کی گٸی تھی۔۔۔۔
جہاں نور اور میر کسی کافی شاپ پر بیٹھے تھے۔

Mirh@_Ch
 

وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلی تو اُس کے موبائل پر کسی کی کال آنے لگی
ہیلو کون؟
نور نے فون کان سے لگتے ہوۓ کہا
مگر دوسری طرف سے کوٸی کچھ نہ بولا
کون ہے بھاٸی!!!! اگر بولنا نہیں تو کال کیوں کی
میں میر بات کر رہا ہوں
تم کیوں کال کی ہے مجھے۔۔۔۔۔میں تم سے ملنا چاہتا ہوں نور
کس لیے ملنا چاہتے ہو
تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں میرا ضیمر مجھے سونے نہیں دیتا
میں نے تمہیں معاف کیا میر چھوڑ دو میری جان میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی میں

Mirh@_Ch
 

تھوڑی دیر بعد دو آدمی گرم پانی لاۓ
ہاں تو بتاو جاسم تم نے میری بہن کو کیوں اغوا کیا اور کس کے لیے تم کام کرتے ہو
م۔۔میں۔۔۔کچ۔۔کچھ۔۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔جا۔۔۔جانتا
وہ ٹوٹے لفظوں میں بولا
زیب نے اکرم کو کوٸی اشارہ کیا
پھر اُس کُھولتے ہوے پانی میں جاسم کے پاوں رکھ دیا۔
پورا کمرہ اُس کی درد ناک چیخوں سے گونج اٹھا
بولو کس کے لیے کام کرتے وہ درشتگی سے بولا
جس سے وہ صرف نہ میں سر ہلانے لگا
اگر یہ کچھ نہ بتاۓ تو خوارک کو زیادہ کر دو ٹھیک ہے
وہ اکرم کو حکم دیتا اپنا کوٹ اٹھاتا چلا گیا
______________________________