ہمممم!!!!!کوٸی آ جاۓ گا ہم روم میں نہیں نیچے لاونج میں ہے
وہ ابھی بھی اُسے سینے سے لگاۓ بیٹھا تھا جیسے اُس کو چھوڑے گا تو وہ دور چلی جاۓ گی
اوکے چلو روم میں چلے ویسے بھی فجر میں تھوڑا ہی وقت ہے
وہ اُسے لیے روم میں داخل ہوا پھر دونوں نے وضو کیا اور ساتھ نماز ادا کی
______________________________
یہ صبع دس بجے کا وقت تھا کمرے میں سورج کی کرنوں کی ہلکی سی روشنی آ رہی تھی
ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ایک وجود کو کرسی کے ساتھ بندھا تھا
چہرے پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے
”ہاں بولا کچھ کے نہیں“ وہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا
نہیں سر بہت ڈھیٹ ہے بس یہی کہہ رہا ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا
ہممم اکرم جاو پانی گرم کرو وہ اُس وجود پر حقارت بڑی نگاہ ڈالتا بولا
نور صرف میر ہی بسس میر کی
نور!!!! وہ چیخ کے اٹھ گیا
اس کے اٹھنے سے نور جو ابھی کچی نیند میں تھی اُسے دیکھنے لگی
جو ابھی بھی بڑبڑا رہا تھا نور صرف میری ہے وہ مجھے سے دور نہیں جا سکتی
زیب کیا ہوا ہے دیکھے میں آپ کے پاس ہوں کہی نہیں گٸی
وہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی فکرمندی سے بولی
نرم سے لمس سے زیب نے نور کی طرف دیکھا جو پریشان سی اُسے دیکھ رہی تھی
کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا
اور اُس کے گرد سختی سے حصار بندھا
میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے نور کبھی چھوڑنہ ورنہ میں مر جاو گا
وہ اُس کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالہ میں لیتا جابجا اپنی محبت نیچاور کرتا بڑبڑایا
وہ سانس روکے اس کی شدت محسوس کر رہی تھی
زیب چند لحموں بعد اُس نے پکارا
نور اُس کا سر دباتی رہی
اورتھوڑی دیر میں نیند کی وادی میں کھو گیا
آپ میرے دل میں بہت اونچا مقام حاصل کر چکے ہے زیب
آپ کے بغیر یہ زندگی کچھ نہیں مجھے آپ سے محبت ہونے لگی ہے
وہ اُس کی پیشانی چومتی سرگوشی کرتی ہوٸی اُسے دیکھنے لگی
پھر اُس کی انکھیں چومتی پیچھے ہو گٸی
______________________________
نور میرے پاس آو؟ وہ اُس سے منہ موڑ کر کھڑی تھی
نہیں آو گی میں آپ کے پاس نہیں کرتی میں پیار آپ سے
میں صرف میر سے محبت کرتی ہوں صرف میر سے سمجھے
تم ایسا نہیں کر سکتی نور تم صرف میری ہو
ادھر دیکھو میری طرف
میں محبت کرتا ہوں تم سے سمجھتی کیوں نہیں
ابھی وہ کچھ اور کہتا جب کسی نے نور کا ہاتھ پکڑا
وہ اندر داخل ہوا تو نور اُسے لاونج میں صوفے پر بیٹھی نظر آٸی
جانم ابھی تک سوٸی نہیں رونے کی وجہ سے آواز بھاری ہوٸی تھی
آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی وہ اُس کی طرف دیکھتی بولی
پھر اُس کا کوٹ اتر کر صوفے پر رکھا
کیا ہوا ہے زیب طیبعت ٹھیک ہے وہ اپنے نرم ہاتھوں میں زیب کا چہرا لیے فکرمندی سے بولی
ہمممم ٹھیک ہے کیوں وہ اپنی ٹاٸی کی ناٹ ڈھلیی کرتا نظریں چرا کر بولا
ادھر دیکھے میری طرف بتاۓ کیا ہوا ہے
کچھ نہیں جانم بس دل گھبرا رہا ہے جسے سب کچھ بکھرنے والا ہے
اللہ نہ کریں ایسے تو نہ کہے چلے آۓ میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں تھکن کی وجہ سے ہو جاتا ہے کبھی کبھی
آپ کچھ بہتر محسوس کرے گے
ہممم وہ اُس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
صرف ماماکی یادیں تھی میرے پاس
آنسو زیب کے چہرے کو بھگو رہے تھے
اُس بارہ سال کے بچے نے ایک ہفتہ تنہا کیسے گزرا یہ صرف میں جانتا ہوں
میں انہیں کبھی معاف نہیں کرو گا پھوپھو کبھی نہیں وہ اُن کے گلے لگ گیا
بس میری جان بس کرو کیوں تکليف دے رہے ہو خود کو
پھوپھو میں چلتا ہوں وہ بنا مریم بیگم کی طرف دیکھا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جانتا تھا تھوڑی دیر اور روکا تو ضبط ٹوٹ جاۓ گا
______________________________
وہ اپنی ماں کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر گھر آیا
سرخ انکھیں اس کے رونے کی چغلی کر رہی تھی
اتنے دکھی تھے کہ اپنی بیٹی کو باپ کا پیار نہیں دے سکے
ماما کی آخری نشانی سمجھ کر ہی سنبھال لیتے گڑیا کو
مگر نہیں اُنہیں تو اپنا غم پیارا تھا نہ کے بچے
ہمارا غم ایک جیسا تھا پھوپھو وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”میری بھی ماں مری تھی“ مجھے آج بھی وہ صبع نہیں بھولتی پھوپھو
جب حور نے پاپا کے ساتھ سکول جانے کی ضد کی
تب پاپا نے اُسے دو تھپڑ مار جب میں اُن کے سامنے کھڑا ہوا تو غصہ سے وہ گھر سے چلے گٸے
اُس رات حور کو بہت تیز بخار ہو گیا کوٸی نہیں تھا میرے پاس میں تنہا اکیلا
ملازموں کی مدد سے میں اُسے ہسپتال لے کر گیا
پاپا کو تو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ میرا بچہ ابھی چھوٹا ہے
ہاۓ بلے بلے حیدر بنگڑا ڈالتا اٹھا اس کے انداز پر وہ دونوں مسکرا دیے
چلے پھر منہ تو میٹھا کرواۓ نہ جلدی ۔۔۔
مریم بیگم نے ملازمہ کو آواز دی اور پھر
زیب کا منہ میٹھا کروایا
اچھا پھوپھو جان اب میں چلتا آپ کی بیٹی انتظار کر رہی ہو گی میرا
کل آو گا نور اور جمیشد صاحب کو لے کر
ایک بات اور کہوں زیب
”جی“ اپنے باپ کو معاف کر دو
”مشکل ہے پھوپھو“ میں وہ ازیت کے سال نہیں بھول سکتا جب لوگ میری گڑیا کو منحوس کہتے تھے
کہ وہ دنیا میں آتے ہی اپنی ماں کو کھا گٸی
مگر میرا باپ نہیں تھا لوگوں کو جواب دینے کے لیے
زیب میری جان وہ ماضی بھول جانا چاہیے جو تکلیف دیتا ہو
پر میں نہیں بھول سکتا وہ آپ کے بھاٸی ہے آپ بھول سکتی ہے
مگر میں اپنے باپ کی زیادتی نہیں بھول سکتا
مگر زیب بیٹا تب وہ بھابھی کے غم میں تھے وہ بہت پیار کرتے تھے اُن سے
افففف نیچے اترو بدتمیز میں گر جاو گی
نہیں گرتی پھوپھو یار۔۔۔۔۔ اُس نے مریم بیگم کو صوفے پر بیٹھایا اور خود اُن کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی گود میں سر رکھ دیا
حیدر پھوپھی بھتیجے کا پیار دیکھ کر مسکرا رہا تھا
تو پھوپھو پہلے تو آپ یہ بتاۓ میں آپ کا بیٹا ہوں کے نہیں
یہ کیسا سوال ہے۔۔۔۔۔۔ بتاۓ تو آپ پہلے
”تم تو میرے بہت اچھے بیٹے ہو “ تو اتنا اہتمام کیوں کر رہی ہے میں کون سا پہلی بار آیا
اور دوسری بات یہ جو سامنے لنگور بیٹھا ہے پسند کرتا ہے حور کو۔
تو بتاۓ آپ کو یہ رشتہ منظور ہے وہ شرارت سے حیدر کی طرف دیکھتا بولا
مجھے تو منظور ہے رشتہ حور تو ہمیشہ سے ہی مجھے بہت پسند ہے
ں۔۔۔مطلب ہاں وہ نروس ہوتا اُسے الجھا گیا
ایک جواب دو یار کھا نہیں جاو گا میں تمہیں وہ شررات سے بولا
جی کرتا ہوں زیب بھاٸی میں پیار حور سے
زیب مسکرایا!!!! اگر میں انکار کر دو تو
میں پھر صبر کر لو گا ساری زندگی اُس کے انتظار میں بیٹھا رہو گا
ہاہاہاہاہا وہ ہنسا۔۔۔۔۔ بھاٸی!!! وہ زرا خفگی سے بولا
میری طرف سے رشتہ پکا میں ابھی پھوپھو سے بات کرتا ہوں
وہ اُسے گلے لگتا مریم بیگم کے پاس چلا گیا جو کیچن میں کام کر رہی تھی
پھوپھو ڈارلنگ!!!! وہ کیچن میں داخل ہوتا شوخی سے بولا
کیا ہوا ہے جان باہر بیٹھو میں بس آ رہی ہوں
یار آپ اسے چھوڑے اور میری بات سنے
بسس میرا بچہ دیکھو میں تمہارے پاس ہوں کچھ نہیں ہوا تمہیں
اور جس انسان نے تمہیں تکلیف دی ہے اُسے تو میں چھوڑو گا نہیں یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔
______________________________
بھاٸی ایک بات پوچھو؟ ہمممم پوچھو
وہ حور کو لے کر عباسی ہاوس آ گٸے تھے زیب نے انہیں صرف حور کے بےہوش ہونا کا بتایا تھا
اس وقت وہ دونوں لاونج میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے۔۔۔۔۔۔
آپ کو حور کی لوکیشن کا کیسے پتہ لگا
اس کی بات پر وہ مسکرایا۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ میں جو بریسلیٹ ہے اُس میں ٹریگنگ ڈیواس فٹ کی ہے۔۔۔۔۔
اس وجہ سے میں نے تمہیں میسج کیا تھا کیوں کے تم زیادہ نزدیک تھے اُس کی لوکیشن کے
اب ایک بات میں پوچھوں حیدر وہ سنجيدگی سے گویا ہوا
جی پوچھے زیب بھاٸی!!!!! کیا تم حور کو پسند کرتے ہو
کچھ سوچتا وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔ دھیرے دھیرے چلتا وہ بیڈ کے قریب آیا جہاں وہ انکھیں موندے لیٹی تھیا
گڑیا!!!!! پیار سے سر پر ہاتھ رکھ کر پکارا
جس سے حور کی انکھوں سے ایک آنسو نکل کر تکیہ پر جذب ہو گیا
بھ۔۔بھاٸی وہ اُس کے گلے لگ کر رو دی
بھ۔۔بھاٸی۔۔۔۔وہ۔۔۔بہ۔۔۔بہت۔۔۔۔گن۔۔۔گندے۔۔۔تھے
بھ۔۔۔۔بھاٸی۔۔۔ا۔۔۔۔اُس۔۔۔۔۔آد۔۔۔۔آدمی۔۔۔۔۔ن۔۔۔نے۔۔۔مج۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔ی۔۔یہاں۔۔۔چھوا۔۔
وہ اپنی گال پر ہاتھ رکھتی روتے ہوۓ بولی
زیب کی انکھیں اُس کی بات پر سرخ ہوٸی
اُس کی تو یہ سوچ کر جان نکل رہی تھی اگر حیدر وقت پر نہ پہنچتا تو کیا ہوتا
اس کے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
وہ ہسپتال پہنچا جہاں اُس حیدر کھڑا نظر آیا۔۔۔۔۔۔۔
کیسی ہے گڑیا وہ قریب پہنچ کر بےتابی سے بولا
بےہوش ہے ابھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آتے دیکھاٸی دیا
کیسی ہے میری بہن ڈاکٹر صاحب؟انہیں ہوش آ گیا ہے
ٹینشن کی وجہ سے بے ہوش ہو گٸی تھی اب بہتر ہے
وہ پرویشنل انداز میں کہتے چلے گٸے
حیدر نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔زیب بھاٸی میں شکرانے کے نفل پڑھ کر آتا ہو
وہ اُسے بتاتا اپنی انکھوں میں آٸی نمی کو پیچھے دھکیلتا مسجد کی طرف چل دیا
جبکہ زیب کی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا آج حیدر کی انکھوں میں کچھ اور ہی احساس نظر آیا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں اکرام جلدی پہنچو تمہارے لیے ایک کام ہے
دوسری طرف سے فون اٹھاتے وہ آڈر دیتا بولا
______________________________
وہ جمشید صاحب کے لیے چاۓ بنا رہی تھی جب ملازمہ ہاتھ میں ایک گفٹ پیک لیے کیچن میں داخل ہوٸی
بی بی جی یہ آپ کے لیے آیا ہے
وہ لال رنگ کے گفٹ جس پر خوبصورت پیگنگ ہوٸی تھی نور کی طرف بڑھاتی بولی
میرے لیے؟ اچھا ٹھیک ہے تم جاو
اُس نے جلدی سے کھولا تو اس میں گلاب کی بہت خوبصورت کلیاں تھی
نور نے اُن کی خوشبو اپنے اندر اتری اندر ایک چیٹ تھی جس میں کوٸی نام نہیں تھا
for my love
بس اتنا لکھا ہوا تھا۔ اففف زیب آپ بہت اچھے ہے
وہ گفٹ پکڑے کمرے میں داخل ہو گٸی
_______
جب پیچھے سے کسی نے اُس کا کالر پکڑا اور اپنی طرف موڑ کے ایک زور دار مُکا اُس کے منہ پر مارا
”جس سے وہ زمین پر منہ کے بل گرا“
ڈول تم ٹھیک ہو وہ حور کے ساکت وجود کو ہاتھ لگاتا بولا
وہ پھر اُسے مارنے کے لیے بڑھا جب حیدر نے حور کو اپنے پیچھے کر کے اُس کے وار کو روکا
اور اپنی ٹانگ اُس کے پیٹ میں ماری تب تک زیب بھی وہاں پہنچ گیا اور حور کو اپنے گلے لگایا
میرا بچہ ٹھیک ہو تم وہ اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا بولا
مگر وہ کچھ نہ بولی اور بے ہوش ہو کر اُس کی باہوں میں جھول گٸی....... حیدر اسے لے کر ہسپتال جاو جلدی
وہ چیخا!!!! حیدر اُس لے کر ہسپتال کے لیے نکل گیا
زیب نے کسی کا نمبر ڈاٸل کیا
پلیز چھوڑ دو مجھے خدا کا واسطہ ہے“ تم جو چاہوں گے وہ تمہیں مل جاۓ گا۔
مگر مجھے جانے دو
وہ اپنی عزت کی بھیک مانگتی بولی مگر مقابل کے سینے میں تو جسے دل ہی نہیں پتھر تھا
ایسے کیسے جانے دو تمہیں میں جانم ابھی تو تمہارے اس نوخیز حسن کا مزا لینا ہے میں نے
وہ خباست سے ہنستا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا
دیکھو تمہارے گھر میں بھی ماں بہن ہو گی پلیز خدا کے لیے مجھے جانے دو۔
”وہ پیچھے ہوتی دیوار سے جا لگی“
وڈیو بنا مت بھولنا ٹھیک ہے
جی ٹھیک ہے سر
وہ فون بند کرتا دھیرے دھیرے حور کے قریب بڑھ رہا تھا
اُس کے قریب پہنچ کر اُس نے چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا
وہ انگلی سے اُس کے گال چھو رہا تھا
حور کی انکھیں کسی اجیبی سے لمس سے کھولی
وہ اردگرد دیکھ کر جگہ کو پہچھنے کی کوشش کر رہی تھی
جب اُسے کسی کا ہاتھ اپنے گال پر محسوس ہوا
وہ ایک جھٹکے سے بیڈ پر سے اٹھ کر دروازے کے پاس گٸی
اور اُسے کھولنے کی کوشش کرنے لگی
مگر سامنے بیٹھا وجود اُس کی حالت پر ہنسس رہا تھا
اففففف جانم تھک جاو گی چھوڑو ادھر آو وہ اُس کے قریب آنے لگا
دل میں اُس کے ہزار وسوسے آ رہے تھے۔ آفس کا سارا سٹاف اپنے باس کو دیکھ رہا تھا
جو پاگلوں کی طرح پارگنگ ایریا کی طرف بھاگ رہا تھا
وہ پارگنگ میں پہنچ کر گاڑی میں بیٹھا اور کچھ ہی منٹوں میں گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی
اُس نے زیب کو بھی میسج کر دیا جس کے جواب میں زیب نے اُسے حور کی لوکیشن سینڈ کی اور اُسے جلدی پہنچنے کہا
______________________________
اُسے ایک بڑے کمرے میں رکھ جہاں ایک عدد بیڈ اور صوفہ تھا
دیکھنے میں کافی پرانا گھر لگتا تھا
جی باس آپ کا کام ہو گیا لے آۓ ہم اُس کی بہن کو
ہمممم گڈ اب تم اچھی طرح اُسے پیار کرو یہ تمہاری ہوٸی وہ سفاکت سے ہنستا بولا
جبکہ جاسم کی انکھیں حور کے سراپے کو دیکھ کر چمکی
جو ہوش و حواس سے بیگانی بیڈ پر پڑی تھی
شکریہ سر!!! ہممم اوکے تم انجوے کرو
جب چاروں طرف سے اُن گھیر لیا گیا
یہ کون لوگ ہے انکل وہ ڈر کے بولی
پتہ نہیں بی بی جی
حور نے جلدی سے کار کے شیشے اوپر کیے
بی بی جی آپ صاحب کو فون کر دے
وہ ڈری سہمی حور کو دیکھ کر بولا
حور زیب کو فون کر رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا
پھر اُسے کو حیدر کا خیال آیا کانپتے ہاتھوں سے اُس نے نمبر ڈاٸل انکھوں سے آنسو بہا رہے تھے
وہ لوگوں کو گاڑیوں سے باہر آتا دیکھ رہی تھی جو اسلحہ سے لیس تھے
ہیلو حور پہنچ گٸی گھر ؟ دوسری طرف حیدر کی محبت بڑی آواز کان میں پڑی
ح....حیدر....پل۔۔۔۔پلیز۔۔مج۔۔۔مجھے۔۔۔بچ۔۔۔بچا آہ
ہچکیوں کے درمیان وہ بولی جب حیدر کو دوسری طرف سے اُس کی چیخ سناٸی دی
”حور آر یو اوکے “وہ میٹنگ روم کی طرف جاتا واپس پلٹا
دل اُس کا تیزی سے دھڑک رہا تھا
”حور پلیز کچھ بولو“ وہ چیخا!!!!!
اگر میں وہاں ہوتا تو ان خوبصورت لبوں سے جو تم پھول برسا رہی ہو
انہیں میں چوم لیتا وہ شرارت سے بولا
دوسری طرف نمرہ جیسی بولڈ لڑکی بھی اس کے آگے کچھ نہ بول سکی
کیا ہوا جان چپ کیوں ہو گٸی اور نمرہ نے بنا کچھ کہہ کال کاٹ دی
بدتمیز، لوفر، آوارہ وہ دل ہی دل میں اُسے گالیوں سے نواز رہی تھی
______________________________
اس کی کوٸی امپوٹنٹ میٹنگ تھی اس وجہ سے اُس نے حور کو میسج کر دیا کہ وہ آج نہیں آۓ گا
اس لیے وہ ڈرائيور کے ساتھ آ جاۓ
نمرہ بھی ابھی صبح والی بات سے نہیں سنبهالی تھی اس وجہ سے اُس نے کچھ نہیں کہا
وہ گاڑی میں بیٹھی باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی
ج....جی وہ اپنا کالج بیگ اٹھا کر چلی گٸی حیدر اُس کے ہاتھوں میں لرزش دیکھ سکتا تھا
اس کے کالج کے اندر داخل ہوتے وہ گاڑی آگے بڑھا گیا
______________________________
وہ فریش ہو کر نکلا جب اُس کا شدت سے دل کیا نمرہ سے بات کرنے کو
دوسری طرف وہ اپنے بال بنا رہی تھی جب اُس کے موبائل پر کال آنے لگی
دو تین مرتبہ اُس نے اگنور کیا مگر دوسری طرف کوٸی ڈھیٹ ہی تھا جو باز نہ آیا
ہیلو کون ہے بنا دیکھے اُس نے کال پک کی
کیسی ہے ہماری بیگم صاحبہ
تم تمہاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے فون کرنے کی وہ غصہ سے بولی
ہمت تو بہت کچھ کرنے کی ہے نمرہ جان بس تم ملو تو اکیلے پھر بتاۓ
شٹ اپ بدتمیز
افففف تمہارا یہ غصہ قسم سے اس وقت تم بہت پیاری لگ رہی ہو گی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain