حیدر نے کالج کے باہر گاڑی روکی
کالج آ بھی گیا حور چہق کے بولی..... ہمممم
حور!!!!!! حیدر نے گھبیر آواز میں پکارا
ج....جی
یہ جگہ تو مناسب نہیں مگر آج میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنی دل کی بات تمہیں کہوں
”آٸی لو یو حور“ پتہ نہیں کب سے مگر مجھے تم سے محبت ہو گٸی ہے وہ بھی شدید والی
اس کی بات پر وہ انکھیں بڑی کریں اُسے دیکھ رہی تھی جس سے اُس کے عنابی لب مسکراۓ
مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی ہر وقت دل کرتا ہے تم میرے پاس ہو
اور وقت تھم جاۓ میں تمہیں دیکھتا اور سنتا رہو
وہ اُسے اپنے دل کا حال بتا رہا تھا اور وہ بُت بنی سن رہی تھی
جلد ہی میں ماما پاپا کو بھیجو گا اور تمہارے جواب کا انتظار رہے گا مجھے اب جاو دیر ہو رہی ہےکالج سے
اپنا خیال رکھنا حور میرے لیے
ویسے ایک بات تو بتاو رات کو سونوفال کیسی لگی میری جانم کو
”بہت بری“ اور اب آپ جلدی کریں ورنہ دیر ہو جاۓ گی
ہاں یار ایک تو تم بھی نہ مجھے روز دیر کروا دیتی ہو
ایک منٹ میں آپ کو دیر کرواتی ہوں وہ لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھتی بولی
”ہاں نہ“ وہ اُسے کھنیچ کر اپنے قریب کر گیا
اور پھر اچھی طرح اُس کی بولتی بند کرتا اپنا کوٹ اٹھا کر اُسے باۓ بولتا چلا گیا
پیچھے وہ کتنی دیر ایسے ہی کھڑی رہی
نور!!!!!! وہ کب سے کھڑا اُسے آوازیں دے رہا تھا مگر وہ کمرے میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی
نور یار آ جاو وہ بے چارگی سے بولا
کیا ہے وہ کمرے میں داخل ہوتی بولی
یار یہ ٹاٸی بندھ دو
وہ مصوم سا منہ بنا کر بولا
جس سے نور کو ہنسی بہت آٸی مگر ضبط کر گٸی
پہلے آپ وعدہ کریں مجھے ہاتھ نہیں لگاۓ گے
چلو ٹھیک وہ کچھ سوچتا مسکرایا پہلے آو تو جلدی کرو مجھے دیر ہو رہی ہے
وہ شیشے کے آگے کھڑا تھا
یہ چیٹنگ ہے زیب وہ ڈرایسنگ کے ساتھ لگی ٹاٸی بندھ رہی تھی
جب زیب نے اُس کے ماتھے پر بوسا لیا
میں کیا کیا تم نے خود ہی تو کہا تھا ہاتھ نہ لگانا
ہاں طیبعت ٹھیک ہے بس ویسے ہی جب سے تم نے آفس سنھبالا ہے وہ فری ہو گٸے ہے ہر ٹنشن سے
اوکے پھر میں چلتا ہوں حور کو کالج بھی چھوڑنا ہے
حور کے نام پر اُس کی انکھیں چمکی
”اہمم اہمم “انہوں نے مضوعی کھانسی سے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا
کہاں کھو گٸے بیٹا جی زرا ہمیں بھی بتاٸیں
وہ شرارتی انداز میں بولی
کہیں نہیں یہی ہوں وہ خجل ہوا......لگتا ہے مجھے بھاٸی صاحب اور زیب سے جلدی بات کرنی ہو گی وہ معنی خیزی سے بولی
اچھا ماما میں چلتا ہوں وہ اپنی جان بچاتا چلا گیا
پیچھے مریم بیگم اُس کے انداز پر ہنس دی
کوٸی بات نہیں مگر آٸندہ کبھی مرنے کی بات نہ کرنا وہ زرا خفگی سے بولی اور اُس کے سر پر چیت لگاٸی
اوکے ماما اینڈ پھر سے ایم ریلی سوری
”اٹس اوکے“
چلو اٹھو فریش ہو کر آو میں ناشتہ لگواتی ہوں
وہ اُس کا ماتھا چومتی چلی گٸی۔
______________________________
وہ گانے کی کوٸی دھن سیٹی پر بجاتا کمرے سے باہر آیا
لاونج میں دیکھا وہاں کوٸی نہیں تھا تو وہ کیچن میں چلا آیا
جہاں حسب معمول مریم بیگم ناشتہ بنا رہی تھی
اسلام و علیکم اینڈ گڈ مورننگ ماما
وعلیکم اسلام جان
پاپا کہاں ہے وہ فریج سے جوس نکلتا گلاس میں ڈال کر بولا
اپنے کمرے میں ہے........طیبعت ٹھیک ہے اُن کی
ساری سچُویشن کے بارے میں تم جانتے ہو ابھی سب تھوڑا ٹھیک ہوا ہے
میں تو اُس سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی مگر انشااللہ بہت جلد میں جاو گی اور کے بات
میں تم دونوں سے ایک جیسا ہی پیار کرتی ہو
میر تو حرکتیں ایسی کرتا ہے اس وجہ سے مجھے اُس کے آگے پیچھے گھومنا پڑتا ہے۔ مگر تم میرے اچھے بیٹے ہو ابی
ابان خاموشی سے اُن کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
میں تمہاری حالت سے بے خبر نہیں ہوں ”ابی“ مجھے پتہ ہے تم نمرہ سے بہت پیار کرتے ہو
وہ خاموشی سے سنتا رہا پھر ان کے ہاتھ پکڑ کے چومے
سوری ماما مجھے آپ سے اور ملازم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھے
میر کبھی کبھی کر دیتا تھا مگر ابان سب کی عزت کرتا تھا
ابی بیٹا بات کیا ہے آپ مجھے بتاۓ گے
کوٸی بات نہیں اگر ہوتی بھی تو آپ نے کون سی پوری کر دینی ہے
آپ کو تو صرف میر بھاٸی کی فکر ہے دوسرا بیٹا چاہے مر جاۓ
وہ طنز کرتا ہوا کمرے میں چلا گیا
رخسانہ بیگم نے انکھوں میں آٸی نمی صاف کی اور اُس کے روم میں داخل ہوٸی
آج انہیں اپنا یہ ہنس مکھ بیٹا بدلہ بدلہ سا لگا
بکھرے بال رف سی شرٹ اور جینز پہنے اس پر سرخ انگارہ انکھیں یہ کوٸی اور ہی ابان لگ رہا تھا
ابی!!!!! اُس کے پاس بیٹھ کر پکارا اور ابان کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
مگر وہ ویسے ہی لیٹا رہا ۔ مجھے پتہ ہے تم کس وجہ سے ناراض ہو
میں بہت جلد مریم سے تمہارے اور نمرہ کے رشتہ کی بات کرو گی۔
______________________________
وہ لاونج میں صوفے پر ٹیک لاگٸے انکھیں موندے بیٹھا تھا۔
جب ملازم اُس کے لیے کافی بنا کر لاٸی
”چھوٹے صاحب کافی“ ہممم رکھ دو
ابان نے انکھیں کھولی جو سرخ ہو رہی تھی
ابان نے کافی کا مگ اٹھایا اور زمین پر دے مارا
ایک گھنٹہ ہو گیا ہے تمہیں کافی کا کہا ہے تم اب آ رہی ہو وہ دھاڑا جس سے ملازمہ ڈر کے دو قدم پیچھے ہوٸی
رخسانہ بیگم شور کی آواز سن کر لاونج میں آٸی
”ابی“ بیٹا یہ آپ کیسے بات کر رہے ہے
ماما آپ نے کیسے ملازمہ رکھے ہوۓ ہے۔ ”کوٸی کام ٹھیک سے نہیں کرتے یہ“
رخسانہ بیگم حیرت سے بیٹے کو دیکھ رہی تھی جس کبھی کسی ملازم کے ساتھ بدتمیز نہیں کی تھی
اگر ہماری بیگم صاحبہ اجازت دے تو ہم ایک ہفتہ کے لیے مری چلے جاتے ہے ہنی مون بھی ہو جاۓ گا اور تمہیں اچھے سے سونو فال دیکھ لینا
ن۔نہیں۔۔۔۔ میں نے نہیں جانا وہ اُس کی قُربت سے گھبرا کر بولی
مگر ابھی تو میری پرنسس ضد کر رہی تھی جانے کی
وہ اُس کی آنکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا اس لیے اُسے تنگ کر رہا تھا
و...وہ....می...میں مزاق کر رہی تھی وہ سر جھکا کے کر اقرار کر گٸی
پر اب میں مزاق نہیں کر رہا تم میرے سامنے میرے فیورٹ کلر میں کھڑی ہو قسم سے دل بہت بے ایمان ہو رہا ہے
زیب اُس کی انکھوں میں شرارت نہ دیکھا پایا
جلدی کرۓ نہ!!!!!!! میں کوٸی جن ہو جو جلدی کرو وہ چڑ کر بولا
پرنسس تمہیں سچ میں سونوفال دیکھنی ہے
بلکل ابھی اور اسی وقت دیکھنی ہے
یار کچھ اور دیکھ لو
نہیں!!!!!!!
زیب نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی
سونو فال دیکھنی ہے میری شونا نے؟ وہ آہستہ آہستہ اُس کے قریب ہو رہا تھا
نور پیچھے ہوتی دیوار کے ساتھ جا لگی
زیب نے دونوں طرف ہاتھ رکھ کے اُس کے جانے کی سبھی راستے بند کر دیے
بولو جانم وہ شوخ ہوا اور اُس کے بالوں پر بوسا دیا“
مجھے سونو فال دیکھنی ہے ابھی، وہ لاڈ سے بولی۔ جانتی تھی وہ منع نہیں کرۓ گا
زیب نے پہلے اُسے حیرت سے دیکھا پھر گھڑی کو جو رات کے دو بجا رہی تھی۔
پرنسس مجھے لگتا ہے تم ابھی بھی نیند میں ہو۔ ”میں کوٸی نیند میں نہیں دیکھنی ہے تو بس دیکھنی ہے“
”وہ خفگی سے بولتی صوفے پر جا بیٹھی۔ زیب نے بے چارگی سے اُسے دیکھا“
پرنسس لاہور میں سونو فال نہیں ہوتی میں کیسے دیکھو وہ جھجھلا کر بولا
مجھے نہیں پتہ بس دیکھنی ہے وہ باضد تھی
اس وقت میں سونو فال کہا سے لاو وہ بے چارگی سے بولا
آپ میری یہ خواہش نہیں پوری کر سکتے پیار کرنے والے تو چاند سورج لانے کے وعدے کرتے ہے
وہ سنجيدہ صورت بنا کر بولی ورنہ اندر ہی اندر اُسے بہت ہنسی آ رہی تھی
تمہیں تو میں صبح پوچھو گا“ وہ اُس کا ماتھا چومتا اسٹڈی میں چلا گیا
کچھ آفس کا کام رہتا تھا
نور کی پیاس کی شدت سے آنکھ کھولی اس نے اٹھ کر دیکھا تو وہ اپنے روم میں تھی
مجھے یہاں کون لایا
ابھی وہ سوچ رہی تھی جب اُسے اسٹڈی کی لاٸٹ جلتی نظر آٸی
تو مسٹر آ گٸے ہے؟ ابھی بتاتی ہو جو اتنا انتظار کروایا ہے مجھے
وہ کچھ سوچتی اسٹڈی میں داخل ہوٸی
زہے نصیب!!! ”شکر ہے ہماری زوجہ محترمہ کو اپنے مصوم سے شوہر کا خیال آیا“
وہ سٹڈی میں آفس کا کوٸی کام کر رہا تھا جب نور نے اُس کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی۔
”زیب“ تھوڑی دیر بعد وہ بولی!!!!
ایک مہینے بعد وہ آفس آیا تھا جس سے اُس کا کافی ورک پنڈنگ پڑا تھا
اس کی غیر موجودگی میں اکرم نے اچھے سے اُس کے بزنس کو سنبھالا تھا
اُسے گھر پہنچتے پہنچتے بارہ بج گٸے۔ وہ لاونج میں داخل ہوا تو بے اختیار نظر اُس دشمن جان پر گٸی
جو سب سے بے نیاز صوفے پر سو رہی اور اُس پسندیدہ لباس پہنے ہوۓ تھی
زیب اُس کے قریب پہنچا اپنا کوٹ صوفے پر رکھا
اور دھیرے سے اسے اپنے بازوں میں اٹھا لیا
کمرے میں داخل ہو کر اُسے آرام سے بیڈ پر لیٹایا
اور خود چینج کرنے چلا گیا فریش ہو کر وہ نکلا اور اُس کے قریب بیٹھ گیا
گڈ ویری گڈ بہت جلد تمہیں میں اپنے پلن کا بتاو گا تب تک آج رات کی مستی میری طرف سے انعام
ایک خوبصورت حسینہ تمہارے کمرے میں پہنچ جاۓ گی
”شکریہ باس “ ہمممم ٹھیک ہے
وہ فون بند کرتا پھر سے اپنے کام میں مشغل ہو گیا
تو تیار ہو جاو ڈٸیڑ کزن ایک بڑے سپراٸز کے لیے
وہ خباست سے ہنستا کوٸی اور نمبر ڈاٸل کرنے لگا
______________________________
وہ کب سے اُس کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
آج اُس نے زیب کا فیورٹ کلر ریڈ پہنا ہوا تھا
نور نے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے 11 بجا رہی تھی
پھر دروازے کی طرف دیکھا جہاں اُس کے آنے کے کوٸی آثار موجود نہیں تھے
انکھیں نیند سے بوجھل تھی اُس نے صوفے کی پشت پر ٹیک لگا کر بیٹھ گٸی
کچھ دیر بعد نیند کی دیوی اُس پر مہربان ہو گٸی
دل آج الگ ہی انداز میں ڈھرکا وہ نظریں چوڑا گٸی
حیدر نے بغور اس کا نظریں چڑانا دیکھا اور پھر مسکرا دیا
میرا ویٹ کرنا میں لینے آ جاو گا
ج۔ جی ٹھیک ہے وہ جلدی سے کہہ کر کالج کے اندر چلی گٸی
حیدر کی نظروں نے دور تک اُس کا پیھچا کیا
”تو آگ دونوں طرف لگی ہے “وہ مسکرا کر سوچتا گاڑی میں بیٹھ گیا
______________________________
ہاں جاسم پتا لگایا اُس کے ٹاٸم ٹیبل کا
وہ ایک ہاتھ سے فون کان کو لگاۓ جب کے دوسرے ہاتھ سے حرام مشروب اپنے اندر انڈیل رہا تھا
اس وقت وہ اپنے فام ہاوس پر موجود تھا
جی باس سب پتا لگا لیا ہے
جس میں حیدر کھونے لگا بڑی مشکل سے اُس نے خود کو اس سحر سے آزاد کیا
وہ اس لیے کے ہم تو اچھے والے دوست ہے اس لیے بھاٸی نہیں صرف حیدر
ٹھیک ہے وہ خوشدلی سے بولی
اتنی جلدی کالج آ گیا وہ گاڑی روکنے پر بولی
واقع ہی اتنی جلدی آ گیا وہ گھبیر لہجے میں بولا
حور نے نظریں اٹھ کر اُسے دیکھا بلاشبہ وہ ایک حسین مرد تھا
بلیک کلر کی شرٹ ساتھ جینز پہنے نفاست سے بالوں کو سیٹ کیے
شفاف کالی آنکھیں اور ہلکی سے شیو وہ حور کو آج بہت خوبصورت لگا
اور اُس نے انکھوں کو کھولا جس سے عباس صاحب اور مریم بیگم نے سکون کا سانس لیا
”میری جان ٹھیک ہو اب عباس صاحب پیار سے بولے“ ایک پل کو نمرہ کا دل کیا انہیں سب بتا دے مگر پھر اُن کی پریشانی سے خاموش ہو گٸی
جی اُس نے اثبات میں سر ہلایا
______________________________
وہ اُسے کالج چھوڑنے آیا تھا سارے راستہ حور اُسے اپنے کالج کے قصے سنتی رہی اور حیدر سنتا رہا
حیدر نے دل سے یہ دعا کی کے یہ راستہ کبھی ختم نہ ہو اور وہ ایسے ہی اس کی ہمسفر بن کے اس سے باتیں کرتی رہے
حیدر بھا...... ابھی وہ بولنے لگی تھی جب حیدر نے اُسے چپ کرا دیا
بھاٸی نہیں صرف حیدر بولو
مگر کیوں وہ اپنی بڑی بڑی شہد رنگ انکھیں اور بڑی کر کے بولی
جو بخار سے تپ رہا تھا نمرہ اٹھو جان وہ اُسے ہلاتے بولی مگر وہ شاید بےہوش ہو چکی تھی“
انہوں نے جلدی سے ڈاکٹر کو فون کیا پھر فریج سے ٹھنڈا پانی لا کر اُسے پٹیاں کرنے لگی
تھوڑی دیر بعد عباس صاحب ڈاکٹر کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوۓ
”ڈاکٹر نے چیک اپ کیا کچھ دوائيں لکھ کر دی اور انجکشن لاگیا
کیا ہوا ہے اسے عباس صاحب پریشانی س ڈاکٹر سے پوچھا
پریشانی کی کوٸی بات نہیں بس انہوں نے کسی چیز کی ٹینشن لی ہے اس وجہ سے بے ہوش ہو گٸی ہے میں انجکشن لگا دیا ہے کچھ دیر میں ہوش آ جاۓ گا
وہ پرویشنل انداز میں بولتا چلا گٸے
مریم بیگم اُسے پٹیاں کرتی رہی تھوڑی دیر بعد اُس کے جسم کی حرارت کم ہوٸی
نور نے اُس کی ٹاٸی باندھی اور وہ اُسے اپنی نظروں سے مسلسل اُسے تنگ کرتا رہا
”اوکے شونا“ میں جا رہا ہوں اپنا خیال رکھنا وہ اُس کا ماتھا چومتا چلا گیا
_____________________________
مریم بیگم نمرہ کو جگانے آٸی دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوٸی
جہاں پورا کمرا ابھی بھی رات کا منظر پیش کر رہا تھا۔
یا خدا اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا 11 بج رہے ہے اور یہ ابھی تک نہیں اٹھی
انہوں نے پردے ساٸیڈ پر کیے جس سے سورج کی روشنی کمرے میں داخل ہوٸی
نمرہ میری جان اٹھ انہوں نے پیار سے قریب آ کر اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا
پھر کس سے ملے گا آپ کو آرام وہ نظریں اٹھ کر اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولی
جس سے تمہیں ملا تھا وہ اُس کے ماتھے سے بال ہٹاتا بے خود سا بولا
”مل گیا آرام آپ کو “ ایسا ویسا وہ شرارتی ہوا
چلے اب چھوڑے ناشتہ کرۓ ٹھنڈا ہو رہا ہے
وہ اُسے صوفے پر بیٹھتی ناشتہ سرور کرنے لگی
ناشتہ کرنے کے بعد اُس نے اپنے بال سیٹ کیے پھر دو پرفیوم مکس کر کے لاگٸی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain