وہ شرٹ لے کر اُس کے قریب پہنچی اچانک اُس کی نظر زیب کے سینے پر پڑی
جہاں اس کا نام پوری آب وتاب سے لکھا ہوا تھا
نور نے خفگی سے اُس کی طرف دیکھا جو زرا خجل ہو کر شرٹ پہنے لگا
آپ اس زخم کو بھرنے کیوں نہیں دے رہے وہ ناراضگی سے بولتی زخم کا معاٸنہ کرنے لگی
میں نے کیا کیا پرنسس وہ مصوم بنا
یہ اب میں بتاو وہ اُس پر مرہم لگنے لگی جب زیب نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
اس سے مجھے آرام نہیں ملے گا پرنسس
شونا کا مطلب میری جان“ وہ اُس کا ناک دباتا بولا
اچھا اب چھوڑے دیر ہو رہی ہے آپ کو
”
نور نے موقعے کو غنیمت جانا اور اُس حصار سے نکل کے دروازہ کھولنے چلی گٸی۔ اور وہ واشروم میں گُھس گیا
دروازہ کھولا تو ملازمہ ناشتہ لے کر کھڑی تھی
نور ناشتہ کی ٹرے لے کر اندر آٸی اور ٹیبل پر رکھی
پھر واڈروپ سے زیب کے کپڑے اور میچنگ ٹاٸی نکلی
تب تک زیب بھی فریش ہو کر نکلا۔ شونا زرا شرٹ دینا وہ رخ موڑے بولا
وہ قہقہ لگتا اسے پکڑانے ڈورا
وہ کمرے سے باہر جانے لگی جب وہ ایک جست میں اُس کے قریب پہنچا اور اُسے اپنی طرف کنیھچا جسے وہ اُسکے سینے سے آ لگی
اففف میرا سر توڑ دیا وہ اپنا سر سہلاتی بولی
ادھر دیکھو میری طرف وہ اُس کا چہرا تھوڑی سے پکڑتا اپنے چہرے کے قریب کر گیا
کہا لگی ہے وہ فکرمندی سے اس کے چہرے کا معاٸنہ کر بولا
یہاں وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی بولی
”زیب نے اُس جگہ بوسا دیا“ اور بھی کہی لگی ہے
وہ پیار سے دیکھتا بولا۔نور نے نفی میں سر ہلایا
”شونا“ آج دل نہیں کر رہا آفس جانے کا
ہاہاہاہا یہ شونا کیا ہے
ایک ہفتہ بعد......
زیب اٹھ جاۓ آفس کے لیے دیر ہو جاۓ گی وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اُسے جاگنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
مگر زیب صاحب سے گھوڑے گدھے بیچ کر سوۓ تھے
زیب میں آپ کو آخری مرتبہ کہہ رہی ہو اٹھ جاۓ اُسے ساٸیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ ہاتھ میں لے کر اُسے وراننگ دی
”مگر پھر وہ ٹس سے مس نہ ہوا“تو نور نے پانی کا پورا جگ اُس پر انڈلیے دیا
وہ جو مزے سے سو رہا تھا ایک دم ہڑبڑا کے اٹھا
اُسے لگا شاید طوفان آ گیا ہے مگر جب ہنسی ضبط کرتی کھڑی نور کو دیکھا تو سمجھا گیا شرارت کس کی ہے
روکو زرا تمہیں میں بتاتا ہو وہ اُسے پکڑاے بھاگا جو انکھوں میں شرارت لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔
نہیں زیب وہ کمرے میں کبھی ادھر تو کبھی اُدھر بھاگ رہی تھی
تم نے مجھے نہلایا ہے اب تمہاری باری ہے پرنسس
مگر مجھے تم سے محبت ہے شدید محبت “وہ اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا
اپنا چہرا ہلکا سا اُس کے چہرے سے مس کیا
”وہ تھوڑا سا کسماٸی پھر سو گٸی“ جس سے ابان کے ہونٹوں پر مسکراھٹ در آٸی
تم جانتی نہیں تم میرے لیے کیا ہو؟ ”تمہارے دور جانے کے ڈر سے میں نے یہ قدم اٹھایا جانتا ہو غلط کیا مگر میں تمہیں کھونے سے ڈرتا تھا نمی “وہ اُس کے سوتے وجود سے سرگوشیوں میں باتیں کرتا ہوا اُس کا ماتھا چوم کر چلا گیا
اُسے سوتے ہوۓ احساس ہوا کوٸی اُسکے بلکل قریب بیٹھا ہے اور اُس سے باتیں کر رہا ہے
اُس نے انکھیں کھولنے کی کوشش کی تب کسی نے اپنی محبت کا لمس اُس کے ماتھے پر چھوڑا
اُس نے دیکھنے کی کوشش کی مگر عکس دھندلا تھا
وہ گھر آٸی اور اپنے کمرے میں چلی گٸی ۔سر میں اُس کے شدید درد ہو رہا تھا
وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلی اور بیڈ پر ڈھا گٸی
اپنی قسمت کے بارے میں سوچ کر آنسو پھر سے آنکھوں میں جمع ہونے لگے
کیوں کیا ابان تم نے ایسا کتنی عزت تھی میرے دل میں تمہاری آج سب ختم کر دیا تم نے
وہ اپنی قسمت پر رو رہی تھی مگر یہ قسمت کب کسی کا ساتھ دیتی ہے روتے روتے وہ سو گٸی
اُسے سوۓ ابھی کچھ ہی دیر ہوٸی تھی جب کو کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوا
اور اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے بغور دیکھنے لگا
”نفرت ہے مجھے تم سے شدید نفرت“ بار بار نمرہ کے الفاظ اُس کے گرد گردش کر رہے تھے
نہیں پہلے سعد کو چھوڑو“ ورنہ میں گولی چلا دو گی
اوکے اوکے دیکھو میں کر رہا ہوں کال تم پلیز گن نیچے رکھو
ہاں تم چھوڑ دو اُس لڑکے دوسری طرف سے فون اٹھانے پر وہ دھاڑا
ج۔جی سر اس کی آواز پر گھبرا کر وہ بولے
دیکھو نمرہ میں نے چھوڑ دیا ہے اُسے پلیز یہ گن نیچے رکھو
وہ آہستہ سے اُس کے قریب ہوا اس سے پہلے وہ گرتی ابان نے اُسے تھام لیا
کیسا لگ رہا ہے مسز ابان وہ اُسے اپنے حصار میں لیتا بولا
چھوڑو مجھے ذلیل کیمنے انسان نفرت ہے مجھے تم سے شدید نفرت وہ اُس کی گرفت میں مچلتی بولی
مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی
مگر میں تو تم سے بےپناہ محبت کرتا ہو
اگر کہتی ہو تو عمل کر کے بھی دیکھ سکتا ہو وہ سرگوشی کرتا بولا
”ابان نے ہلکے سے اُس کے گال کو چھوا“
”چھوڑو مجھے بدتمیز انسان“ تمہاری شرط پوری ہو گٸی ہے نہ تو پلیز سعد کو چھوڑ دو
وہ روتے ہوٸے بولی اس وقت وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی
چھوڑ دو گا پہلے اپنی بیوی سے پیار تو کرنے دو
اگر اب تم نے مجھے ہاتھ لاگیا تو میں خود کو جان سے مر دو گی
وہ اُس کی گرفت سے نکلتی ٹیبل پر رکھی گن اٹھا کر بولی
اس کی اچانک حرکت پر وہ ششدہ کھڑا اُسے دیکھا رہا تھا
دیکھو نمرہ اسے نیچے رکھ دو چل جاۓ گی
ہاں تو کیا فصیلہ کیا ہے ڈٸیر کزن؟ وہ ساکت بیٹھی نمرہ کو دیکھتا بولا
یہ جو تم کر رہے ہو نہ ابان شاہ اللہ پوچھے گا تم سے
ڈرو اللہ سے جاہل انسان وہ چیختے ہوے بولی
یہ لیکچر بعد دینا بس یہ بتاو نکاح کرو گی کے نہیں
نکاح کر کے تم میرا جسم تو حاصل کر لو گے مگر میری روح تک رساٸی حاصل نہیں کر سکو گے
پھر وہ تھوڑی دیر میں مسز ابان شاہ بن گٸی مشکل سے اُس نے نکاح نامہ پر ساٸن کٸے
وہ بیڈ پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا عنابی ہونٹ مسلسل مسکرا رہے تھے
”حور“ اُس نے ہولے سے نام پکارا دل کو سرور ملا
”حورحیدر عباس“ مسکراھٹ گہری ہوٸی دل کو جسے قرار ملا
بہت تنگ کرتی ہو تم یار اب تو راتوں کو نیند بھی نہیں آتی
گن گن کے بدلے لو گا بس ایک دفعہ میری ہو جاو
مسکراھٹ ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی
اُسے پتہ ہی نہیں چلا اور محبت اپنا کام کر گٸی
اُس کا مصوم چہرا شہد رنگ انکھیں کب اُسے گھاٸل کرگٸی اُسے پتہ نہ چل سکا
مگر دور قسمت کی انکھوں میں آنسو تھے
محبت میں تو امتحان ہوتے ہے دیکھنا یہ تھا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں
یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ذلیل انسان میں مر کے بھی تم سے شادی نہ کرو
”ایسی بات ہے اُس کے تیور کچھ سخت ہوۓ“
پھر تم اپنے دیوانے کو اپنی انکھوں کے سامنے مرتا دیکھو گی
وہ سفاکی سے کہتا کوٸی نمبر ڈاٸل کرنے لگا
”یہ تو ڈٸیر کزن تمہارے عشق کا حال“
اُس کی حالت دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
پلیز ابان اُسے چھوڑ دو اُس کا کوٸی قصور نہیں
میں اپنی شرط تمہیں بتا چکا ہوں اگر تم ہاں کر دو تو میرے آدمی اُسے چھوڑ دے گے
اوکے صرف پانچ منٹ اس سے زیادہ نہیں
”ہممممم“ اچھا جی جو آپ کا حکم
______________________________
”کیوں بلایا ہے مجھے یہاں“ وہ اُس کے سامنے کھڑی غصہ سے بولی
بیٹھو تو ”ڈیر کزن “ آرام سے بات کرتے ہے وہ صوفے کی طرف اشارہ کرتا بولا
وہ خود اُس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا
بات یہ ہے کہ تمہارا دیوانہ میرے قبضے میں ہے
اگر اُس کی سلامتی چاہتی ہو تو ابھی تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب آۓ گے
بس تمہیں مجھے سے نکاح کرنا ہو گا
پھر میں تمہیں اور تمہارے دیوانےکو چھوڑ دو گا
تمہیں نہ مجھے سے پیار کرنا ہو گا وہ بھی بہت زیادہ اُس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا
توبہ ہے ویسے زیب وہ اُسے دھکا دیتی کھڑی ہوٸی
ہاہاہاہاہا وہ اس کی حرکت پر قہقہ لگا کر ہنس دیا
کہاں جا رہی ہو روکو تو
”نہیں “ابھی آپ کے اردے کچھ ٹھیک نہیں
”اچھا ادھر تو آو“ نہیں میں زرا کھانا دیکھ لو نورا نے بنایا ہے کے نہیں
”منع کیا ہے نہ تمہیں کام کرنے سے“ بس دیکھنے جاو گی پانچ منٹ پلیز
وہ بھی خاموشی سے چلا گیا اس کے بعد رخسانہ بیگم نے دونوں کو پیار دیا اور وہ بھی اُن کے پیچھے اپنے آنسو صاف کرتی چلی گٸی
______________________________
پرنسس اُس نے اپنے سینے سے لگی اپنی متاع جان کو پکارا جو اب بھی رو رہی تھی
نور ،جانم،جان،بےبی جب اُس کی پکار پر سر نہیں اٹھایا تو وہ شرارت سے بولا
تاکہ اُس کا موڈ بدل سکے۔ ”جی“ نیلی انکھیں سنہری انکھوں سے ٹکراٸی
تم سے کہا بھی ہے یہ خوبصورت انکھیں ہستی ہوٸی اچھی لگتی ہے
وہ آنسو صاف کرتا مسکرایا
اب اگر تم روٸی تو سزا ملے گی وہ بھی بہت سخت
”کیسی سزا“ وہ مسکرا کر اس کی طرف متوجہ ہوٸی
ز..یب ا۔اسے۔۔۔کہ۔۔کہے ۔۔۔۔چ۔۔چلے۔۔۔۔ جا۔۔۔جاۓ
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی
پھوپھو لے جاۓ اسے یہاں سے وہ غصہ سے دھاڑا
مگر وہ کھڑی آنسو بہا رہی تھی
”میر بیٹا اٹھو چلے یہاں سے“نہیں پاپا جب تک نور مجھے معاف نہیں کریں گی
میں کہی نہیں جاو گا یہی اس کے قدموں میں بیٹھا رہو گا
م۔۔۔میں۔۔۔ن۔۔نے۔۔۔۔تم۔۔۔۔تمیہں۔۔۔۔مع۔۔۔۔معاف۔۔۔۔۔ک۔۔۔کیا
چ۔۔چلے۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔جاو۔۔۔۔ی۔۔۔۔یہاں۔۔۔۔س۔۔۔سے
وہ مشکل سے یہ الفاظ ادا کرتی ہوٸی ایک دفعہ پھر رو دی
پھوپھو لے جاۓ اسے دوبار یہ اپنی شکل نہ دیکھے
شکریہ نور.......
”بسس جاو یہاں سے زیب دھاڑا“
میں بہک گیا تھا نور پلیز مجھے معاف کر دو وہ اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا افسردہ ہوا
اس کی حرکت سے نور زیب کے سینے سے لگ گٸی
زیب نے بھی اُس کے گرد بازو کا حصار بنا کر اُسے یقین دیا کے وہ اُس کے ساتھ ہے
پھوپھو اِسے کہے یہاں سے چلا جاۓ اگر نور کی طیبعت اس کی وجہ سے خراب ہوٸی تو میں چھوڑو گا نہیں اسے
پلیز نور مجھے معاف کر دو پھر میں چلا جاو گا یہاں سے تمہیں کبھی اپنی شکل نہیں دیکھوں گا
وہ زیب کے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی اور زیب کا خون کھول رہا تھا کے وہ سامنے بیٹھے شخص کو جان سے مار دے
جو ایک دفعہ پھر اُس کی پرنسس کو تکلیف دینے آ گیا تھا
زیب کی میر کو یہاں دیکھ کر غصہ سے رگیے تنی
پھر اُس نے نور کی طرف دیکھ جو مشکل سے اپنے آنسو روکے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھی تھی
تم یہاں کیا لینے آۓ ہو وہ درشتگی سے بولا
میں نور سے معافی مانگے آیا ہو وہ نقلی آنسو انکھوں میں لاتا ندم ہوا
میں جانتا ہو میری اس حرکت سے نور کو بہت تکلیف ہوٸی ہے
مگر میں کیا کرتا زیب تم ہی بتاو نکاح کے باوجود یہ مجھ سے چھپتی تھی مجھے ہاتھ.........
”بسس“
جو کہنے آۓ ہو وہ کہو میری بیوی کا نام دوبار اپنی زبان پر مت لانا
وہ زیب کو ناشتہ کروا رہی تھی جب نورا نے اُسے رخسانہ بیگم کے آنے کا پیغام دیا
وہ زیب کے کمرے میں ہی آ گٸی۔کیسے ہو زیب میری جان
وہ پیار سے اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
میں ٹھیک ہو پھوپھو ایک دم فٹ وہ شریر ہوا
اور میری گڑیا کیسی ہے وہ نور کو اپنے پاس بلا کر محبت سے بولی
میں ٹھیک ہو خالہ جان
اس طرح وہ اُن سے ادھر اُدھر کی باتیں کرنی لگی
تھوڑی دیر بعد کمرے میں حسن صاحب داخل ہوے ساتھ اُن کے میر تھا جو سر جھکے ندم سا کھڑا تھا
نور جو زیب کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی ایکدم اُس کی مسکراھٹ غاٸب ہوٸی
جسے اُس نے بے پناہ چاہا تھا کیسے اُس نے دھوکا دیا
اب کبھی مجھے سے دور جانے کی بات نہ کرنا
وہ تھوڑا اٹھا پیار سے اُس کی آنکھیں چومی پھر اُس کا داٸیں رخسار چوم اور پھر باٸیں
جاو فریش ہو جاو پرنسس آج پھوپھو نے آنا ہے
بہت سے زخم ہے پرنسس اب میں کیا کیا دیکھو
پلیز بتاۓ زیب اور کہا چوٹ لگی ہے وہ رومانسی ہوٸی
تم تھوڑا اور قریب آو پرنسس ایسے نظر نہیں آۓ گے
”وہ اور قریب ہوٸی“ زیب نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پر رکھ
یہاں پرنسس تم نے آٹھ سال پہلے بہت گہرا زخم دیا ہے
جب تم دور جاتی ہو تو بہت درد ہوتی ہے یہاں وہ گھبیر لہجے میں بولتا اُسے شرمانے پر مجبور کر گیا
پرنسس میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں پیار نہیں بلکہ عشق کرتا ہوں
آٹھ سال تمہارا شدت سے انتظار کیا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain