یہ کیا کر رہے ہے زیب ڈاکٹر نے منع کیا ہے نہ دباؤ ڈالنے سے دیکھ پھر سے ہلکا ہلکا خون نکل رہا ہے
وہ اُس کو سیدھا کرتی خفگی سے بولی
یااللہ کب بڑے ہو گے زیب آپ بلکل بچوں جسی حرکت ہے آپ کی
اللہ!!! اٹھا آپ سے جا نہیں رہا اور پیار کرنے دو وہ اُس کی نقل اترتی بولی
اب ایسی بھی بات نہیں یہ تو بس چھوٹے سے زخم ہے
بڑے زخم تو ابھی تم نے دیکھ ہی نہیں
کون سے زخم وہ اُس کے قریب آٸی
بچوں زرا اس کی وڈیو بناو اچھی سی وہ اپنے دو آدمیوں حکم دیتا بولا
دوسری طرف نمرہ جو یونی کے لیے تیار ہو رہی تھی
ابان کے نمبر سے موصول ہونے والی وڈیو اوپن کی تو اُسے لگا کے گھر کی چھت اُس پر آ کے گری گٸی ہے
______________________________
وہ کب کا اٹھ اپنی پرنسس کے چہرے کو پیار سے دیکھ رہا تھا
رات کو جو بات نور نے کی اُس سے زیب کو کافی تکلیف ہوٸی
اس لیے وہ تھوڑا تلخ ہو گیا
وہ اپنے انگوٹھے سے اُس کا گال سہلا رہا تھا جب وہ تھوڑا سا کسمساٸی
وہ ایک تاریک کمرہ تھا جہاں اُسے رکھا گیا تھا سورج کی ہلکی ہلکی روشنی کمرے کو تھوڑا روشن کر رہی تھی
وہ گھر سے یونی جا رہا تھا جب کچھ لوگ اُسے پکڑ کر یہاں لے آۓ
تھوڑی دیر بعد کوٸی کمرے میں داخل ہوا اور اُس کے سامنے بیٹھ گیا
کیسے ہو دوست پہچانا مجھے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھتا مغرور ہوا
”تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو چھوڑو مجھے“ وہ اپنے آپ کو چھوڑونے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا
تمہیں میں یہاں اس لیے لایا ہوں کیوں کے تم نے ابان حسن شاہ کی جان کو ہاتھ لگنے کی غلطی کی ہے
میں کچھ سمجھا نہیں وہ حیران ہوا
”سمجھ جاو گے“
وہ غصہ سے بولا سوچ کے ہی اُس کا خون کھول رہا تھا اگر وہ دیر سے آتا تو اُس کے ساتھ کیا ہوتا
س۔سوری وہ رونے کے درمیان بولی۔”جانتی ہو اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا“ وہ اُس کے آنسو صاف کرتا گھبیر لہجہ میں بولا
چلو اپنا منہ صاف کرو پھر میں تمہیں کالج چھوڑ دیتا ہوں
اور زیب بھاٸی کو نہ بتانا یہ سب ٹھیک ہے
کل سے میں خود تمہیں لینے آ جاو گا
اب رونا نہیں اوکے وہ اُس کا گال تھپتھا پیار سے بولا جس سے وہ مسکرا دی
جو چاروں لڑکوں کا برا حال کر رہا تھا ۔تماشہ دیکھنے والے بہت سے لوگ جمع ہو گٸے تھے
اُن لڑکوں کو اچھی طرح مارنے کے بعد وہ حور تک آیا
اور اُس کا ہاتھ پکڑ کے لوگوں کی بھیڑ میں سے نکل کر گاڑی تک لایا
اُسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر وہ ڈرائيورنگ سیٹ پر بیٹھ گیا
ڈرائيور کہا ہے اور تم اکیلے کالج کیوں جا رہی تھی
اس کے بیٹھے ہی وہ درشتگی سے بولا
وہ گاڑی خراب ہو گٸی تھی میں ڈرائيور انکل کو گھر بھیج دیا
سوچا خود ہی چلی جاو گٸی
تم پاگل ہو گٸی حور گاڑی خراب ہو گٸی تھی تو مجھے کال کر لیتی گھر سے دوسری گاڑی مانگا لیتی ایسے ہی تم منہ اٹھا کر اکیلی چلی گٸی
وہ آفس سے کوٸی فاٸل لینے گھر جا رہا تھا
جب اُسے حور نظر آٸی جو کھڑی آنسو بہا رہی تھی اور کچھ لڑکے اُس کے گرد جمع چھڑا رہے تھے
جانم ہمیں بھی ساتھ لے چلو
ایک لڑکا اُس کے ڈوپٹہ کا کونہ پکڑتا بولا
ہاۓ یہ مصومیت آ جاو رانی بہت مزہ آۓ گا
حیدر گاڑی کو پارک کرتا لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اُن تک پہنچا
اور جو لڑکا یہ بکواس کر رہا تھا اُس کے کالر سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا
اور اُسے مارنا شروع ہو گیا وہ چار لڑکے اچانک آنے والی مصیبت سے گھبرا گیا
جب کے حور ایک ساٸیڈ پر کھڑی نم آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی
سب لوگ کان کھول کر سن لے اگر نور مجھے کیچن میں یہ گھر کا کوٸی کام کرتی نظر آٸی تو وہ آخری دن ہو گا تم لوگوں کا اس گھر میں۔
”اب جاو سب یہاں سے“ اور پرنسس تم ادھر آو
وہ اُس کے قریب آٸی زیب نے ایک ہاتھ سے اُس کا ہاتھ تھما
یہ بات آج تو کہہ دی ہے پرنسس آٸندہ مت کہنا
کیوں کے جب تک میری سانس چل رہی ہے تم پر تو میں آنچ نہیں آنے دو گا
اور جس دن تمہاری سانس بند ہوٸی مجھے بھی اگلی سانس نہیں آۓ گی سمجھی وہ اُس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا بولا
اب تم مجھے اس کمرے سے باہر جاتی نظر نہ آو
وہ یہ کہہ کر آنکھیں موند گیا جبکہ نور کتنی دیر اُس کے الفاظ کی شدت پر کھوٸی رہی
احساس تب ہوا جب زیب کے چہرے پر پھیلتی سختی دیکھی
انکھوں میں ایک دم سرخی آٸی
”زیب میری بات کا“ وہ ابھی وہ بات کر رہی تھی جب وہ زور سے ڈھارا
”نورا“
نورا بھی بھاگتی کمرے میں داخل ہوٸی
ج۔جی صاحب جی
ابھی جاو اور سب ملازموں کو یہاں لے کر آو
اچھا جی وہ سر اثبات میں ہلاتی چلی گٸی
نور خاموش بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی
سب ملازم اُس کے کمرے میں موجود تھے
وہ جلدی سے فاسٹ ایڈ باکس لے کر اُس کے قریب بیٹھی اُس کا زخم صاف کرنے لگی
یہ کیا حرکت ہے زیب آپ چھوٹے بچے ہے
کتنا خون بہہ گیا مگر آپ کے لیے تو سب مزاق ہے
وہ پٹی کرتے مسلسل اُسے ڈانٹ رہی تھی مگر زیب صاحب تو بس مسکرا کر اپنی پرنسس کی ڈانٹ سن رہے تھے
تم میرے پاس نہیں تھی اوپر سے تم نے سوپ بھی نورا کے ہاتھ بھیجو دیا
”تمہیں پتا ہے نہ میں بس تمہارے ہاتھ سے سوپ پیتا ہوں“ وہ اُس کے خفا خفا چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے بولا
”مر نہیں گٸی تھی“ آپ کے لیے کچھ لاٸٹ سا بنا رہی تھی
وہ جلدی میں غلط بول گٸی تھی
وہ بی بی جی نے سوپ بھیجا ہے آپ کے لیے
”وہ خود کہا ہے “
وہ کیچن میں کھانے کے لیے کچھ بنا رہی ہے
”یہ سوپ لے جاو“ اور بی بی کو کہوں کے صاحب کے زخم سے خون نکل رہا ہے
وہ حیرانگی سے زیب کو دیکھنے لگی کیوں کے زخم تو ٹھیک تھا
اب ایسے بت بنی کیا دیکھ رہی ہو جاو وہ غصہ سے بولا
اُس نے جلدی سے آ کر نور کو بتایا وہ حواس باختہ کمرے میں داخل ہوٸی
وہ اپنی بازو کی پٹی اتر چکا تھا جس سے زخم سے خون نکل رہا تھا
وہ خباثت سے قہقہ لگا کر اپنے آنٸدہ لاٸل عمل کے بار میں سوچنے لگا
______________________________
وہ ایک ہفتہ بعد گھر آ گیا تھا۔نور بھی اس کا خیال اچھے طریقے سے رکھ رہی تھی۔
چوٹ کی وجہ سے ولیمہ کا فنکشن آگے کر دیا گیا تھا
رخسانہ بیگم اور حسن شاہ بھی اُس سے ملنے آۓ تھے
نور سے انہوں نے اپنے بیٹے کی طرف سے معافی مانگی جسے نور نے بھی معاف کر دیا تھا
اب بھی وہ بیڈ پر بیٹھا اُس کا انتظار کر رہا تھا جبکہ نور اس کے لیے سوپ بنانے گٸی اور ابھی تک نہیں آٸی تھی
وہ نیوز دیکھ رہا تھا جب ”نورا“ اُس کے لیے سوپ لے کر آٸی
یہ کیا ہے وہ غصہ سے بولا
پھر سے بچ گیا کمینا انسان چھوڑو گا نہیں میں تمہیں زیب
”وہ غصہ سے کمرے میں ٹہل رہا تھا“
جبکہ کے اس کا خاص آدمی ایک ساٸیڈ پر کھڑا اپنی سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا
دفع ہو جاو تم یہاں سے اب اگر نظر آۓ تو گولی مار دو گا۔کچھ دن کے لیے کہیں غیب ہو جاو سمجھے
”اوکے سر“
وہ سر اثبات میں ہلاتا چلا گیا
اب میں تم سے وہ تمام چیزیں چھین لو گا جو تمہاری طاقت ہے
اور بہت جلد تمہاری پرنسس میری قید میں ہو گی
تمہیں میں تڑپا تڑپا کے مارو گا۔پھر کہیں جا کر مجھے سکون ملے گا
پرنسس کیوں رو رہی ہو“ ادھر دیکھو میری طرف
اُس نے دوسرے ہاتھ سے اُس کا چہرا موڑا
ان خوبصورت انکھوں پر کیوں ظلم کرتی ہو پرنسس
ادھر میرے قریب آو پرنسس وہ اُس کے قریب ہوٸی
زیب نے اُس کی انکھیں چوم لی
”اب رونا نہیں اوکے اور مسکراو“ وہ آنسو صاف کرتی مسکرا دی
تھوڑی دیر بعد نور روم میں داخل ہوٸی
وہ انکھیں بند کیا لیٹا تھا ٹانگ پر اور بازو پر پٹی تھی
اُس کی یہ حالت دیکھ نور کی انکھیں نم ہوٸی کتنا خوش تھا وہ اب یہ سب اچانک
وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں دبانے لگی
پرنسس ادھر آو وہ جو انکھیں موندے لیٹا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر تڑپ گیا
”مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی“ پرنسس پلیز ادھر آو دیکھو میں نہیں آسکتا پلیز میرے پاس آو
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گٸی
ابھی وہ اُسے سمجھ رہے تھے جب آپریشن تھیٹھر کا دروازہ کھولا
دیکھے ہم نے بولڈز نکل دی ہے اب وہ خطرے سے باہر ہے
تھوڑی دیر تک ہم انہیں روم میں شفٹ کر دے گے
ڈاکٹر اپنے پروفشنل انداز میں بولے
کیا میں اپنے ہسبنڈ کو دیکھ سکتی ہوں نور اپنے آنسو صاف کرتی بولی
بس تھوڑی دیر ہم انہوں روم میں شفٹ کرتے ہے
میں شکرانے کے نفل پڑھ کر آتی ہوں وہ وضو کرنے چلی گٸی
تھوڑی دیر بعد اُسے روم میں شفٹ کر دیا گیا
اور اُسے ہوش آنے کے بعد سب اُس سے مل کر چلے گٸے تھے
مگر وہ جس کو دیکھنا چاہتا تھا وہ نہیں آٸی
نور چندا کچھ تو بولو ورنہ تمہاری طیبعت خراب ہو جاۓ گی
مگر وہ کچھ نہ بولی۔دیکھ نہ یہ کچھ بول کیوں نہیں رہی
مریم بیگم نے عباس صاحب کو کہا
وہ اٹھا کر اُس کے قریب آیا
”نور“ ان کی آواز پر اُس نےنظریں اٹھا کر دیکھ
عباس صاحب اُس کے پاس بیٹھ گٸے اور اُس کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا
باپ کے سینے لگتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
پاپا ایسے کیوں ہوتا ہے جس سے میں پیار کرنے لگتی ہوں وہ مجھے سے دور چلا جاتا ہے وہ رونے کے درمیان بولیا
بس چندا دعا کرو اُس کے لیے وہ ٹھیک ہو جاۓ گا
کچھ بولو چندا
ماما ہمیں بھاٸی کو جلد ہسپتال لے کر جانا ہو گا
حیدر اُس کی نبص چیک کرتا بولا جو بہت سلو تھی
حیدر نے جمیشد صاحب کی مدد سے اُسے گاڑی میں لیٹایا ساتھ نور بیٹھی جو بلکہ خاموش تھی
بس ساکت نظروں سے اُس کے وجود کو دیکھ رہی تھی
_____________________________
سب آپریشن تھیٹھر کے باہر بیٹھے اُس کے لیے دعا کر رہے تھے جو سب کی جان تھا
مریم بیگم کا تو رو رو کر برا حال تھا انہیں نے تو اُسے ماں بن کر پالا تھا
وہ اُس کے گلے لگا مسکرا رہا تھا۔گولی اُس کے بازو پر لگی تھی مگر اُس نے اپنی پرنسس کو کچھ نہیں ہونے دیا
ایک بار پھر فاٸر ہوا اب کی بار گولی ٹانگ پر لگی تھی۔
جس سے وہ لڑکھڑایا مگر نور کے آگے سے نہیں ہٹا
نور کی زبان جسے تلو سے چیپک گٸی تھی ۔وہ پھٹی پھٹی انکھوں سے زیب کو خون میں لت پت دیکھ رہی تھی مگر وہ مسکرا رہا تھا
”میں تم سے بے پناہ عشق کرتا ہوں پرنسس“ یہ آخری الفاظ اُس کے منہ سے نکلے
پھر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا
فاٸر کی آواز سے سب گھر والے باہر آیا
جہاں زیب خون میں لت پت پڑا تھا اور نور اُس کا ہاتھ پکڑے زمین پر بیٹھی تھی
نور بیٹا یہ کیسا ہوا مریم بیگم اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
اچھا پھوپھو مجھے ضروری کام ہے میں چلتا ہوں
مگر زیب بیٹا تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں
پھوپھو بس تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔ٹھیک ہے جان جلدی آنا
وہ پورچ میں کھڑی گاڑی تک آیا جب اُس کے پیچھے نور بھی پہنچ گٸی
زیب روکے آپ اپنا موبائل بھول گٸے تھے
بھولا نہیں تھا پرنسس خود چھوڑ کر آیا تھا تاکے تم مجھے اچھے سے باۓ کر سکو
وہ اُس کے قریب ہوا جب اچانک نور کے ماتھے پر لیزر سے نشانہ باندھ گیا
زیب نے جلدی سے گھوم کر اُسے گلے لگا لیا اب وہ نور کی جگہ تھا
”کیا کر رہے ہے زیب چھوڑیں“باقی کے الفاظ نور کے منہ میں تھے ۔
جب فضا میں فاٸر کی آواز گونجی
زیب نے دروازہ کھولا تو وہاں نمرہ تھی جو انہیں حور اور جمیشد صاحب کا بتانے آٸی تھی
____________________________
وہ باہر آٸے تو سب کھانے کی ٹیبل پر جمع تھے
سب سے پہلے حور زیب کے گلے لگی
کیسی ہے میری گڑیا؟ میں تو ٹھیک ایک دم
آپ کیسی ہے بھابھی اب وہ نور کے گلے لگ کر بولی
میں ٹھیک ہو گڑیا نور نے اُس کا گال چوما جس سے وہ مسکرا دی
”کیسے ہو بیٹا“ جمیشد صاحب اُسے گلے لگانے کے لیے اٹھے
زندہ ہوں ابھی وہ سرد مہری سے کہتا نور کے ساتھ والی چیٸر پر بیٹھ گیا
جمشيد صاحب اپنی جگہ شرمندہ ہو کر مسکرا دیے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain