چہرے سے لگ رہا تھا کے ناراض ہے
وہ اُس کے قریب جا کر بیٹھ گٸی۔زیب!!!
نور نے پکارا مگر وہ ویسے ہی بیٹھا موبائل پر انگلیاں چلاتا رہا
زیب!!!کیا ہے مضوعی غصہ سے کہا
ناراض ہے؟ تمہیں کیا جاو سب سے باتیں کرو میرا کی
ا
دو گنٹھے تم نے مجھے اگنور کیا ہے پرنسس
اچھا نہ سوری چلے اپنا موڈ ٹھیک کریں
نہیں!!! اچھا سوری
نور جاو بیٹھا ریسٹ کر لو سفر سے آٸی ہو
ان کی بات پر زیب کی انکھوں میں چمک آٸی
ماما بس دو منٹ جاتی ہوں
نہیں جاو کل پھر ولیمہ کا فنکشن بھی ہے ریسٹ کرو جا کے شاباش
”اچھا جی “ وہ اٹھا کر اپنے روم میں چلی گٸی
جاو زیب بیٹا تم بھی جا کر فریش ہو جاو پھر میں کھانا لگواتی ہوں
اوکے پھوپھو!!!! وہ روم میں آیا تو نور واشروم میں تھی
اُسے نے دروازہ لاک کیا اور بیڈ پر بیٹھ کر اُس کا انتظار کرنے لگا
پانچ منٹ بعد نور منہ دھو کر نکلی تو بیڈ پر اُسے دیکھا جو موبائل پر کسی کو میسج کر رہا تھا
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی عباسی ہاوس پہنچے تھے
نور تو عباس صاحب کے ساتھ بیٹھی پتہ نہیں کون سی باتیں کر رہی تھی
اور مریم بیگم زیب کے پاس بیٹھی سفر کے متعلق جس کا وہ ہو ہاں میں جواب دے رہا تھا
نظر تو بار بار اپنی پرنسس کی طرف اٹھ رہی تھی جو اس سے بے نیاز باتوں میں مصروف تھی
نور زرا میرا موبائل دینا زیب نے اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا
کیوں کے یہاں آ کر وہ تو زیب کو بھول گٸی تھی
اُسے بھی مزا آ رہا تھا شاٸیڈ تنگ کرنے میں اس لیے اُس کی طرف دھیان ہی نہیں دے رہی تھی
اُس نے مسکراہٹ دباٸے موبائل پکڑیا اور پھر سے باتیں کرنے لگی
مریم بیگم زیب کی بے چینی دیکھ رہی تھی مسکرا دی
بہت جلد میں ماما اور پاپا کو بیجھو گا بس اب تم میری ہونے کی تیاری کرو
جاو اپنا منہ دھو کر آو پھر تمہیں میں گھر چھوڑ دو
”وہ ڈھارا“ نمرہ کسی روبوٹ کی طرح اثبات میں سر ہلتی واشروم میں چلی گٸی
______________________________
وہ اُسے کسی فلیٹ پر لیا تھا
وہ دروازہ ڈھا سے بند کرتا اس تک آیا جو سہمی کھڑی تھی
تمہیں میں اُس دن بھی سمجھایا تھا کہ دور رہو اُس سے
وہ اُس کا منہ دبوچتا درشتگی سے بولا
تمہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی غصہ سے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا جس سے وہ انکھیں میچ گٸی
تم صرف ابان حسن شاہ کی ہو سمجھی اگر آٸندہ تم مجھے اُس کے ساتھ نظر آٸی
وہی زندہ دفن کر دو گا اُسے بھی اور تمیں بھی
اُسے اتنے غصہ میں دیکھ کر نمرہ کی زبان جسے بولنے سے انکاری ہو گٸی تھی
پرنسس!!!! نور نے اُس کی طرف دیکھا تو چاکیلٹ اُس کے ہاتھ سے چھین کر کھانے لگی
اور ہے وہ منہ پھولا کر بولی
ہے تو مگر وہ تب ملے گی جب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو گی
اچھا نہ سوری وہ ایک ہاتھ سے کان پکڑے جبکہ دوسرے سے ڈرائيورنگ کر رہا تھا
ٹھیک جاٸے آپ کو معاف کیا
کیا یاد کرٸے کس سخی سے پالا پڑا ہے
اس کی بات پر وہ مسکرا دیا.
آپ بہت بے شرم زیب“ وہ اپنا ڈوپٹہ درست کرتی بولی
مجھے سے اب بات مت کیجٸے گا وہ اپنا بیگ اٹھا کر گاڑی میں جا کر بیٹھ گٸی
پیچھے وہ آوازیں دیتا رہا گیا
وہ ڈرائيورنگ کرتا مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا جو اسے اگنور کرتی منہ پھولا کر بیٹھی تھی
پرنسس اچھا نہ سوری پلیز معاف کر دو
مگر وہ پھر نہ بولی
پرنسس اب اگر تم نہ بولی تو پھر میں کچھ ایسا ویسا کر دو گا
کیا ہے انداز پھاڑ کھانے والا تھا
زیب نے ہنسی دباٸی اور اپنی جیب سے چاکیلٹ نکالا
اس کی بات پر اُس نے رونی صورت بنا کر اُسے دیکھا
کیا ہوا ہے پرنسس طیبعت ٹھیک ہے تمہاری وہ اُس ماتھا چھو کر بولا
اس کی بات پر اُس نے سراثبات میں ہلایا
وہ پیچھے ڈوریاں بند نہیں ہو رہی چہرا جھکا کر بولی
اتنی سی بات اور ان خوبصورت انکھوں میں آنسو آ گٸے وہ اُس کی انکھیں چومتا پیچھے سے ڈوریاں بند کرنے لگا
اس ہاتھوں کی گردش پر وہ جی جان سے کانپی
ہو گیا پرنسس!!!! چلو اب جلدی کرو وہ اُس کا ماتھا چومتا باہر چلا گیا
تھوڑی دیر بعد وہ تیار ہو کر باہر آٸی وہ صوفے پر بیٹھا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا
وہ اُس کے قریب آ کر کھڑی ہو گٸی
زیب نے فون بند کر کے ایک ساٸیڈ پر رکھ اور ایک جٹھکے سے اُس کی کلاٸی پکڑ کر کنیھچی وہ اُس کے اوپر آ گری
یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ بوکھلا گٸی
اُس کا ہاتھ پکڑ کر وہ باہر گاڑی تک آیا
پھر اُسے اندر پھینکنے کے انداز سے بیٹھایا
اور خود ڈرائيورنگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی
______________________________
پرنسس آجاو یار!!!! وہ پیچھلے آدھے گھنٹے سے دروازے پر دستک دے رہا تھا مگر نور کی تیاری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
بس پانچ منٹ میں آتی ہو زیب اندر سے اُس کی آواز آٸی
پرنسس تمہارے پانچ منٹ کب ختم ہو گے
جب وہ پھر نہ آٸی تو زیب دروازہ کھول کے اندر گیا
وہ سفید رنگ کے فراک جس کے گلے پر سرخ رنگ کا کام ہوا تھا اور چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوے تھی
پرنسس کیا یار میں باہر انتظار کر رہا ہوں اور تم ابھی تک تیار نہیں ہوٸی
جسے اپنے اندر بھرتے غصہ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو
سعد نے انگھوٹی نکل کر نمرہ کی انگلی میں پہناٸی
یہاں اُس کے غصہ کا لاوہ اُبل گیا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیبل تک پہنچا اور ایک مکا سعد کے منہ پر مارا جس سے وہ پیچے جا گرا
ابان پھر اُس کی طرف لپکا
نمرہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی
جو بہت بری طریقے سے اُس مار رہا تھا
چھوڑو اُسے جاہل انسان مر جاٸے گا وہ چھوڑو وہ مسلسل اُسے پیچے کرنے کی کوشش کر رہی تھی
مگر وہ تو کسی کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا
سعد کو اچھی طرح مارنے کے بعد وہ
” کاوٸنٹر پر آیا “ یہ تم لوگوں کا جتنا نقصان ہوا ہے اُس نے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ وہاں رکھ اور نمرہ کی طرف آیا جو کھڑی آنسو بہا رہی تھی
کیا کہا تم نے ابھی؟ اُسے جسے یقين نہیں آیا
یہی کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی
اُس نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلا دیا گالوں میں حیا کی سرخی پھیلنے لگی تھی
اُس کے دل کی مراد پوری ہونے جا رہی تھی
یونی میں جب اُس نے پہلی بار سعد کو دیکھا تو وہ اُسے بہت پسند آیا
اُس کے بات کرنے کا انداز اُس کا ہر کام نمرہ عباس کو اُس کا دیوانہ بنا رہا تھا
مگر ایک وجود نے سختی سے اپنی مٹھیاں بند کر لی
انکھیں غصہ سے اس حد تک سرخ تھی جسے ابھی خون نکل آٸے گا
نمرہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں پر پہلے تم وعدہ کرو مجھے تھپڑ نہیں مارو گی
ایسی کون سی بات ہے جو تم مجھے سے وعدہ لے رہے ہو۔
”بتاتا ہوں بس تم پہلے وعدہ کرو“
ٹھیک ہے بابا پکا وعدہ نہیں مارو گی تھپڑ اور کچھ
اُس نے اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبی
اور اُس کے سامنے ٹیبل پر رکھ
نمرہ کیا!!!!! وہ روکا نمرہ کو وہ کچھ الجھ الجھ لگا
بولو بھی یار
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی
وہ اس وقت ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھی تھی
کوٸی خاص کام تھا جو تم نے جلدی آنے کہا وہ بیگ ٹیبل پر رکھتی بولی
ویسے ہی یار تم سے ملنے کا دل کر رہا تھا وہ شرراتی ہوا
ابھی پرسوں تو ملے تھے آپی کی رخصتی پر
یار پرسوں یعنی دو دن بعد تمہیں دیکھ رہا ہوں
خود سوچو میرا کیا حال ہو گا اب تو یونی بھی نہیں آتی تم
وہ مصوم شکل بنا کر بولا
”اور وہ ہنس دی“ گلاس ڈور کے باہر کوٸی یہ منظر غصہ سے دیکھ رہا تھا
نمرہ بیٹا کہاں جا رہی ہو تیار ہو کر “وہ جو اُسے زیب اور نور کا بتانے آٸی تھی
اس کی تیاری دیکھ کر بولی۔
ماما یونی جا رہی ایک امپوٹنٹ لیکچر ہے ایک گھنٹے تک آ جاو گی
وہ اپنی تیاری کا جاٸزہ لے کر بولی
سفید کُرتی ساتھ بلیک جینز پہنے ڈوپٹہ گلے میں ڈالے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی
کس کے ساتھ جاو گی حیدر تو گھر نہیں ہے
میں ڈرائيور کے ساتھ چلی جاو گی ماما آپ فکر مت کریں
اوکے ماما اب میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے وہ ٹاٸم دیکھتی بولی
ٹھیک ہے دھیان سے جانا
آپ سچ میں ٹھیک ہے نہ اُسے جسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا
رات جس شدت سے وہ رویا تھا اُسے ڈر تھا کے کہیں طیبعت خراب نہ ہو جاٸے
میں ٹھیک ہو پرنسس چلو جلدی پھر گھر جانا ہے
وہ اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
لگانا بلکہ ایسے چاہیے جسے حادثہ ہوا ہے
ٹھیک ہے شاہ جی مگر آپ نے بھی ہمارا ایک کام کرنا تھا اگر آپ کو یاد ہو
مجھے یاد ہے بس کسی دن وہ چڑیا ہاتھ آجاٸے میں خود لے کر آو اُسے آپ کے پاس
ٹھیک ہے شاہ صاحب آپ کا کام ہو جاۓ گا
______________________________
صبح جب زیب کی آنکھیں کھلی بے ساختہ نظر اپنی پرنسس کی طرف گٸی
جو انکھیں موندے بیڈ کروان سے ٹیک لگاۓ بیٹھی
پرنسس پیار سے پکارا
جی آپ ٹھیک ہے اُس کا ماتھا چھو کر بولی
میں ٹھیک ہو پرنسس اٹھو فریش ہو جاو پھر گھر جاتے ہے
آج تو ہمارے غریب خانہ میں رونق ہو گٸی جو شاہ صاحب یہاں تشریف لاۓ۔
چوہدری صاحب یہ تو آپ کی کرم نوازی ہے وہ بغل گیری ہو کر بولا
بیٹھے کیا لے گے کچھ ٹھنڈا یا گرم وہ ایک انکھ دبا کر خباثت سے بولا
”ٹھنڈا لے آۓ“ جاو صاحب کے ٹھنڈا لے کر آو
جی تو بتاٸے شاہ جی ہمیں کیسے یاد کیا
میر نے اپنی جیب سے ایک تصویر نکلی
اور اُس کے سامنے رکھی
اسے دنیا سے رخصت کرنا ہے منہ مانگا انعام ملے گا
بس میرے راستے کہ اس کانٹے کو ہمیشہ سے ختم کر دو
آپ ٹھیک ہے تھوڑی دیر بعد وہ اُس کا چہرا چھو کر بولی
جو ضبط سے سرخ ہو رہا تھا
پرنسس میں رونا چاہتا ہو آج تک کسی کا کندھا نصیب نہیں ہوا جس پر سر رکھ کر میں اپنا غم ہلکا کرو
میں اپنے آپ کو ایک خول میں بند کر دیا تھا
اتنا مصروف کر لیے تھا کے مجھے کھانے تک کی ہوش نہیں تھی
آپ رو لے زیب نکل جانے دے ان آنسووں کو جو اندر ہی اندر ناسور بن رہے ہے
پھر وہ اونچا لمبا مرد اتنی شدت سے رویا کے نور سے سنبھالنا مشکل ہو گیا
روتے روتے وہ اُس کی گود میں سو گیا
اور نور نے ساری رات اُسے دیکھ کر گزری
پرنسس“ کچھ لحموں کی خاموشی کے بعد وہ بولا
جی!!!!
یہ کاٹیج ماما کو بہت پسند تک اکثر ہم یہاں آتے تھے
اور خوب انجوے کرتے تھے
اس کاٹیج کا کونہ کونہ ماما نے اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے
اس لیے میں تمہیں یہاں لایا تاکہ ہم اپنی زندگی کی شروعات یہاں سے کریں
مجھے جب ماما کی یاد آتی ہے تو میں اکثر یہاں آ جاتا ہوں مجھے یہاں ہر طرف اُن کی خوشبو آتی ہے
بولتے بولتے اُس کی آواز بھر آٸی انکھوں میں نمی جمع ہونے لگی تھی
جسے وہ اندر دھکیلنے کی کوشش کر رہا تھا
ماما پاپا بھی تمہیں پسند کرتے ہمیشہ سے تم میری راہ کا کانٹا رہے ہو
مگر اب نہیں وہ غصہ اور حسد میں پاگل ہو گیا تھا
______________________________
وہ کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی جہاں شام کے ساۓ لہرا رہے تھے
جب زیب نے اُس اپنے حصار میں لیا
زیب ہم گھر کب جاٸے گے
کل جاٸے گے پرنسس
تم کیوں پوچھ رہی ہو اچھا نہیں لگ رہا یہاں کیا
نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ اس کی طرف موڑی مگر مجھے ماما پاپا کی یاد آ رہی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain