Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

چہرے سے لگ رہا تھا کے ناراض ہے
وہ اُس کے قریب جا کر بیٹھ گٸی۔زیب!!!
نور نے پکارا مگر وہ ویسے ہی بیٹھا موبائل پر انگلیاں چلاتا رہا
زیب!!!کیا ہے مضوعی غصہ سے کہا
ناراض ہے؟ تمہیں کیا جاو سب سے باتیں کرو میرا کی
ا
دو گنٹھے تم نے مجھے اگنور کیا ہے پرنسس
اچھا نہ سوری چلے اپنا موڈ ٹھیک کریں
نہیں!!! اچھا سوری

Mirh@_Ch
 

نور جاو بیٹھا ریسٹ کر لو سفر سے آٸی ہو
ان کی بات پر زیب کی انکھوں میں چمک آٸی
ماما بس دو منٹ جاتی ہوں
نہیں جاو کل پھر ولیمہ کا فنکشن بھی ہے ریسٹ کرو جا کے شاباش
”اچھا جی “ وہ اٹھا کر اپنے روم میں چلی گٸی
جاو زیب بیٹا تم بھی جا کر فریش ہو جاو پھر میں کھانا لگواتی ہوں
اوکے پھوپھو!!!! وہ روم میں آیا تو نور واشروم میں تھی
اُسے نے دروازہ لاک کیا اور بیڈ پر بیٹھ کر اُس کا انتظار کرنے لگا
پانچ منٹ بعد نور منہ دھو کر نکلی تو بیڈ پر اُسے دیکھا جو موبائل پر کسی کو میسج کر رہا تھا

Mirh@_Ch
 

وہ تھوڑی دیر پہلے ہی عباسی ہاوس پہنچے تھے
نور تو عباس صاحب کے ساتھ بیٹھی پتہ نہیں کون سی باتیں کر رہی تھی
اور مریم بیگم زیب کے پاس بیٹھی سفر کے متعلق جس کا وہ ہو ہاں میں جواب دے رہا تھا
نظر تو بار بار اپنی پرنسس کی طرف اٹھ رہی تھی جو اس سے بے نیاز باتوں میں مصروف تھی
نور زرا میرا موبائل دینا زیب نے اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا
کیوں کے یہاں آ کر وہ تو زیب کو بھول گٸی تھی
اُسے بھی مزا آ رہا تھا شاٸیڈ تنگ کرنے میں اس لیے اُس کی طرف دھیان ہی نہیں دے رہی تھی
اُس نے مسکراہٹ دباٸے موبائل پکڑیا اور پھر سے باتیں کرنے لگی
مریم بیگم زیب کی بے چینی دیکھ رہی تھی مسکرا دی

Mirh@_Ch
 

بہت جلد میں ماما اور پاپا کو بیجھو گا بس اب تم میری ہونے کی تیاری کرو
جاو اپنا منہ دھو کر آو پھر تمہیں میں گھر چھوڑ دو
”وہ ڈھارا“ نمرہ کسی روبوٹ کی طرح اثبات میں سر ہلتی واشروم میں چلی گٸی
______________________________

Mirh@_Ch
 

وہ اُسے کسی فلیٹ پر لیا تھا
وہ دروازہ ڈھا سے بند کرتا اس تک آیا جو سہمی کھڑی تھی
تمہیں میں اُس دن بھی سمجھایا تھا کہ دور رہو اُس سے
وہ اُس کا منہ دبوچتا درشتگی سے بولا
تمہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی غصہ سے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا جس سے وہ انکھیں میچ گٸی
تم صرف ابان حسن شاہ کی ہو سمجھی اگر آٸندہ تم مجھے اُس کے ساتھ نظر آٸی
وہی زندہ دفن کر دو گا اُسے بھی اور تمیں بھی
اُسے اتنے غصہ میں دیکھ کر نمرہ کی زبان جسے بولنے سے انکاری ہو گٸی تھی

Mirh@_Ch
 

پرنسس!!!! نور نے اُس کی طرف دیکھا تو چاکیلٹ اُس کے ہاتھ سے چھین کر کھانے لگی
اور ہے وہ منہ پھولا کر بولی
ہے تو مگر وہ تب ملے گی جب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو گی
اچھا نہ سوری وہ ایک ہاتھ سے کان پکڑے جبکہ دوسرے سے ڈرائيورنگ کر رہا تھا
ٹھیک جاٸے آپ کو معاف کیا
کیا یاد کرٸے کس سخی سے پالا پڑا ہے
اس کی بات پر وہ مسکرا دیا.

Mirh@_Ch
 

آپ بہت بے شرم زیب“ وہ اپنا ڈوپٹہ درست کرتی بولی
مجھے سے اب بات مت کیجٸے گا وہ اپنا بیگ اٹھا کر گاڑی میں جا کر بیٹھ گٸی
پیچھے وہ آوازیں دیتا رہا گیا
وہ ڈرائيورنگ کرتا مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا جو اسے اگنور کرتی منہ پھولا کر بیٹھی تھی
پرنسس اچھا نہ سوری پلیز معاف کر دو
مگر وہ پھر نہ بولی
پرنسس اب اگر تم نہ بولی تو پھر میں کچھ ایسا ویسا کر دو گا
کیا ہے انداز پھاڑ کھانے والا تھا
زیب نے ہنسی دباٸی اور اپنی جیب سے چاکیلٹ نکالا

Mirh@_Ch
 

اس کی بات پر اُس نے رونی صورت بنا کر اُسے دیکھا
کیا ہوا ہے پرنسس طیبعت ٹھیک ہے تمہاری وہ اُس ماتھا چھو کر بولا
اس کی بات پر اُس نے سراثبات میں ہلایا
وہ پیچھے ڈوریاں بند نہیں ہو رہی چہرا جھکا کر بولی
اتنی سی بات اور ان خوبصورت انکھوں میں آنسو آ گٸے وہ اُس کی انکھیں چومتا پیچھے سے ڈوریاں بند کرنے لگا
اس ہاتھوں کی گردش پر وہ جی جان سے کانپی
ہو گیا پرنسس!!!! چلو اب جلدی کرو وہ اُس کا ماتھا چومتا باہر چلا گیا
تھوڑی دیر بعد وہ تیار ہو کر باہر آٸی وہ صوفے پر بیٹھا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا
وہ اُس کے قریب آ کر کھڑی ہو گٸی
زیب نے فون بند کر کے ایک ساٸیڈ پر رکھ اور ایک جٹھکے سے اُس کی کلاٸی پکڑ کر کنیھچی وہ اُس کے اوپر آ گری
یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ بوکھلا گٸی

Mirh@_Ch
 

اُس کا ہاتھ پکڑ کر وہ باہر گاڑی تک آیا
پھر اُسے اندر پھینکنے کے انداز سے بیٹھایا
اور خود ڈرائيورنگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی
______________________________
پرنسس آجاو یار!!!! وہ پیچھلے آدھے گھنٹے سے دروازے پر دستک دے رہا تھا مگر نور کی تیاری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
بس پانچ منٹ میں آتی ہو زیب اندر سے اُس کی آواز آٸی
پرنسس تمہارے پانچ منٹ کب ختم ہو گے
جب وہ پھر نہ آٸی تو زیب دروازہ کھول کے اندر گیا
وہ سفید رنگ کے فراک جس کے گلے پر سرخ رنگ کا کام ہوا تھا اور چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوے تھی
پرنسس کیا یار میں باہر انتظار کر رہا ہوں اور تم ابھی تک تیار نہیں ہوٸی

Mirh@_Ch
 

جسے اپنے اندر بھرتے غصہ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو
سعد نے انگھوٹی نکل کر نمرہ کی انگلی میں پہناٸی
یہاں اُس کے غصہ کا لاوہ اُبل گیا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیبل تک پہنچا اور ایک مکا سعد کے منہ پر مارا جس سے وہ پیچے جا گرا
ابان پھر اُس کی طرف لپکا
نمرہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی
جو بہت بری طریقے سے اُس مار رہا تھا
چھوڑو اُسے جاہل انسان مر جاٸے گا وہ چھوڑو وہ مسلسل اُسے پیچے کرنے کی کوشش کر رہی تھی
مگر وہ تو کسی کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا
سعد کو اچھی طرح مارنے کے بعد وہ
” کاوٸنٹر پر آیا “ یہ تم لوگوں کا جتنا نقصان ہوا ہے اُس نے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ وہاں رکھ اور نمرہ کی طرف آیا جو کھڑی آنسو بہا رہی تھی

Mirh@_Ch
 

کیا کہا تم نے ابھی؟ اُسے جسے یقين نہیں آیا
یہی کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی
اُس نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلا دیا گالوں میں حیا کی سرخی پھیلنے لگی تھی
اُس کے دل کی مراد پوری ہونے جا رہی تھی
یونی میں جب اُس نے پہلی بار سعد کو دیکھا تو وہ اُسے بہت پسند آیا
اُس کے بات کرنے کا انداز اُس کا ہر کام نمرہ عباس کو اُس کا دیوانہ بنا رہا تھا
مگر ایک وجود نے سختی سے اپنی مٹھیاں بند کر لی

Mirh@_Ch
 

انکھیں غصہ سے اس حد تک سرخ تھی جسے ابھی خون نکل آٸے گا
نمرہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں پر پہلے تم وعدہ کرو مجھے تھپڑ نہیں مارو گی
ایسی کون سی بات ہے جو تم مجھے سے وعدہ لے رہے ہو۔
”بتاتا ہوں بس تم پہلے وعدہ کرو“
ٹھیک ہے بابا پکا وعدہ نہیں مارو گی تھپڑ اور کچھ
اُس نے اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبی
اور اُس کے سامنے ٹیبل پر رکھ
نمرہ کیا!!!!! وہ روکا نمرہ کو وہ کچھ الجھ الجھ لگا
بولو بھی یار
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی

Mirh@_Ch
 

وہ اس وقت ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھی تھی
کوٸی خاص کام تھا جو تم نے جلدی آنے کہا وہ بیگ ٹیبل پر رکھتی بولی
ویسے ہی یار تم سے ملنے کا دل کر رہا تھا وہ شرراتی ہوا
ابھی پرسوں تو ملے تھے آپی کی رخصتی پر
یار پرسوں یعنی دو دن بعد تمہیں دیکھ رہا ہوں
خود سوچو میرا کیا حال ہو گا اب تو یونی بھی نہیں آتی تم
وہ مصوم شکل بنا کر بولا
”اور وہ ہنس دی“ گلاس ڈور کے باہر کوٸی یہ منظر غصہ سے دیکھ رہا تھا

Mirh@_Ch
 

نمرہ بیٹا کہاں جا رہی ہو تیار ہو کر “وہ جو اُسے زیب اور نور کا بتانے آٸی تھی
اس کی تیاری دیکھ کر بولی۔
ماما یونی جا رہی ایک امپوٹنٹ لیکچر ہے ایک گھنٹے تک آ جاو گی
وہ اپنی تیاری کا جاٸزہ لے کر بولی
سفید کُرتی ساتھ بلیک جینز پہنے ڈوپٹہ گلے میں ڈالے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی
کس کے ساتھ جاو گی حیدر تو گھر نہیں ہے
میں ڈرائيور کے ساتھ چلی جاو گی ماما آپ فکر مت کریں
اوکے ماما اب میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے وہ ٹاٸم دیکھتی بولی
ٹھیک ہے دھیان سے جانا

Mirh@_Ch
 

آپ سچ میں ٹھیک ہے نہ اُسے جسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا
رات جس شدت سے وہ رویا تھا اُسے ڈر تھا کے کہیں طیبعت خراب نہ ہو جاٸے
میں ٹھیک ہو پرنسس چلو جلدی پھر گھر جانا ہے
وہ اٹھ کر واشروم میں چلا گیا

Mirh@_Ch
 

لگانا بلکہ ایسے چاہیے جسے حادثہ ہوا ہے
ٹھیک ہے شاہ جی مگر آپ نے بھی ہمارا ایک کام کرنا تھا اگر آپ کو یاد ہو
مجھے یاد ہے بس کسی دن وہ چڑیا ہاتھ آجاٸے میں خود لے کر آو اُسے آپ کے پاس
ٹھیک ہے شاہ صاحب آپ کا کام ہو جاۓ گا
______________________________
صبح جب زیب کی آنکھیں کھلی بے ساختہ نظر اپنی پرنسس کی طرف گٸی
جو انکھیں موندے بیڈ کروان سے ٹیک لگاۓ بیٹھی
پرنسس پیار سے پکارا
جی آپ ٹھیک ہے اُس کا ماتھا چھو کر بولی
میں ٹھیک ہو پرنسس اٹھو فریش ہو جاو پھر گھر جاتے ہے

Mirh@_Ch
 

آج تو ہمارے غریب خانہ میں رونق ہو گٸی جو شاہ صاحب یہاں تشریف لاۓ۔
چوہدری صاحب یہ تو آپ کی کرم نوازی ہے وہ بغل گیری ہو کر بولا
بیٹھے کیا لے گے کچھ ٹھنڈا یا گرم وہ ایک انکھ دبا کر خباثت سے بولا
”ٹھنڈا لے آۓ“ جاو صاحب کے ٹھنڈا لے کر آو
جی تو بتاٸے شاہ جی ہمیں کیسے یاد کیا
میر نے اپنی جیب سے ایک تصویر نکلی
اور اُس کے سامنے رکھی
اسے دنیا سے رخصت کرنا ہے منہ مانگا انعام ملے گا
بس میرے راستے کہ اس کانٹے کو ہمیشہ سے ختم کر دو

Mirh@_Ch
 

آپ ٹھیک ہے تھوڑی دیر بعد وہ اُس کا چہرا چھو کر بولی
جو ضبط سے سرخ ہو رہا تھا
پرنسس میں رونا چاہتا ہو آج تک کسی کا کندھا نصیب نہیں ہوا جس پر سر رکھ کر میں اپنا غم ہلکا کرو
میں اپنے آپ کو ایک خول میں بند کر دیا تھا
اتنا مصروف کر لیے تھا کے مجھے کھانے تک کی ہوش نہیں تھی
آپ رو لے زیب نکل جانے دے ان آنسووں کو جو اندر ہی اندر ناسور بن رہے ہے
پھر وہ اونچا لمبا مرد اتنی شدت سے رویا کے نور سے سنبھالنا مشکل ہو گیا
روتے روتے وہ اُس کی گود میں سو گیا
اور نور نے ساری رات اُسے دیکھ کر گزری

Mirh@_Ch
 

پرنسس“ کچھ لحموں کی خاموشی کے بعد وہ بولا
جی!!!!
یہ کاٹیج ماما کو بہت پسند تک اکثر ہم یہاں آتے تھے
اور خوب انجوے کرتے تھے
اس کاٹیج کا کونہ کونہ ماما نے اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے
اس لیے میں تمہیں یہاں لایا تاکہ ہم اپنی زندگی کی شروعات یہاں سے کریں
مجھے جب ماما کی یاد آتی ہے تو میں اکثر یہاں آ جاتا ہوں مجھے یہاں ہر طرف اُن کی خوشبو آتی ہے
بولتے بولتے اُس کی آواز بھر آٸی انکھوں میں نمی جمع ہونے لگی تھی
جسے وہ اندر دھکیلنے کی کوشش کر رہا تھا

Mirh@_Ch
 

ماما پاپا بھی تمہیں پسند کرتے ہمیشہ سے تم میری راہ کا کانٹا رہے ہو
مگر اب نہیں وہ غصہ اور حسد میں پاگل ہو گیا تھا
______________________________
وہ کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی جہاں شام کے ساۓ لہرا رہے تھے
جب زیب نے اُس اپنے حصار میں لیا
زیب ہم گھر کب جاٸے گے
کل جاٸے گے پرنسس
تم کیوں پوچھ رہی ہو اچھا نہیں لگ رہا یہاں کیا
نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ اس کی طرف موڑی مگر مجھے ماما پاپا کی یاد آ رہی ہے