Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

تمہارا پیسہ جو تم نے اس کیمپنی پر لگاٸے تمہارے اکاوٸنٹ میں جمع کرو دیے ہے
اب دوبار مجھے سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا
ایک منٹ بتانا پسند کرو گی کہ کیمپنی کیسے بیچی ہے
وہ دانت پیتسہ بولا
مشہور بزنس مین زیب لغاری
اس نام نے میر کے تن بدن میں آگ لگا دی
غصہ سے موبائل دیوار پر مارا جو دو ٹکڑوں میں تقسيم ہو گیا
نہیں اس بار تمہیں میں جیتنے نہیں دو گا
ہر بار تم میرا حق لے جاتے ہو

Mirh@_Ch
 

مگر دوسری طرف سے جو کہا گیا وہ اُس کے گمان میں بھی نہیں تھا
غصہ سے اُس کی گردن کی رگیں تن گٸی
یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو
میں ٹھیک کہا رہی ہوں اب ہمارا گزرا ممکن نہیں
بہتر یہی ہے کہ ہم اب جدا ہو جاٸے میں بہت سوچا میر مگر تمہارے دھوکے کے بعد تم پر اعتبار کرنے کو دل نہیں کرتا
طلاق کے پیپر تمہیں کل تک مل جاٸے گے
یہ کیمپنی میرے نام ہے اور یہ مسلسل نقصان میں جا رہی ہے
اس لیے تمہیں بتاٸے بغیر اسے بیچ دیا
ہے

Mirh@_Ch
 

میری طرف سے آفس کے پورے سٹاف کو بونس دے دو
وہ فون بند کرتا مسکرا دیا
______________________________
زیب تمہیں تو میں نہیں چھوڑو گا۔
تمہاری وجہ آج اتنا بڑا پروجيکٹ ہاتھ سے نکل گیا
وہ اپنے آفس کی ہر چیز پر غصہ نکل رہا تھا
سٹاف کے کیسی ممبر میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ اُسے روک سکے
فون کی آواز سے وہ روکا سکرین پر چمکتے نام سے اُس نے خود کو کنٹرول کیا
ہیلو جان کیسی ہو تم کب آ رہی ہوں آٸی مس یو شایان کیسا ہے
فون اٹھاتے ساتھ اُس نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی

Mirh@_Ch
 

ہاٸے اللہ یہ کتنے بدتمیز ہے ایسے گھوری جا رہے ہے میں ناشتہ کیسے کرو
زیب اس کے ہاتھوں میں لرزش دیکھ کر مسکرا دیا
پرنسس تم آرام سے ناشتہ کرو مجھے ایک ضروری کال کرنی
وہ اُس کا ماتھا چومتا باہر آ گیا
اور نور کی روکی سانس بحال ہوٸی
ہاں بولو اکرم وہ موبائل کان سے لگتا باہر لگے بینچ پر بیٹھ گیا
سر مبارک ہو پروجيکٹ ہم مل گیا ہے وہ ہماری کیپمنی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہے اُس کی انکھیں چمکی
”اور وہ جو دوسرا کام تھا“ جی سر وہ بھی ہو گیا ہے پیمنٹ کر دی ہے
”گڈ“

Mirh@_Ch
 

یہ آپ کیا کر رہے ہے پیچے ہٹے میں ناشتہ بناتی ہوں
نہیں پرنسس میں بنا رہا ہو تم بس مجھے دیکھو
زیب نے جلدی سے آملیٹ بنایا ساتھ اُس کے بریڈ کے سلاٸس رکھے
اور چاٸے کا ایک کپ ٹرے میں رکھے وہ ٹیبل تک آیا جہاں نور بیٹھی تھی
جی تو حاضر ہے پرنسس آپ کے مصوم سے شوہر کے ہاتھ کا بنا ناشتہ
کھا کر بتاٸے کیسا لگا وہ اُس کی پلیٹ میں آملیٹ اور سلاٸس رکھتا شوخ ہوا
بہت مزا کا ہے آپ بھی کرٸے نہ ناشتہ وہ اس کی لو دیتی نظروں سے گھبرا کر بولی
جو مسلسل اسے ناشتہ کرتے دیکھ رہا تھا
نہیں تم کرو ابھی مجھے بھوک نہیں ہے

Mirh@_Ch
 

مگر آپ کو تو بہت درد ہوا ہو گا آپ نے بنڈج بھی نہیں کیا
میں ٹھیک ہو پرنسس اور مجھے کوٸی درد نہیں ہوا کیوں کے میری مرہم میرے پاس آ گٸی
وہ ساتھ لگتا اس کے سر پر بوسہ دیتا بولا
اب میں فریش ہو کر آتا ہو تب تک تم تیار ہو جاو ناشتہ کرتے ہے

Mirh@_Ch
 

اُس کے بال ایک ساٸیڈ پر کر کے گلے میں خوبصورت سا نکلیس پہنایا جس میں دونوں کے نام کے پہلے حرف موجود تھے
اُس کا رخ اپنی طرف موڑا پھر اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا
اس کو ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھنا پرنسس
مگر نور تو اُس کے سینے پر موجود اپنے نام کو دیکھ رہی تھی جو ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوا تھا
یا زیب نے ہونے نہیں دیا تھا
رات کو شاید اندھیرا ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آیا تھا
یہ اپنے نام پر وہ ہاتھ لگتی بولی انکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے
کتنا درد ہوا ہو گا
کچھ نہیں ہوا پرنسس تم اپنے آنسو صاف کرو

Mirh@_Ch
 

پرنسس گھبیر لہجے میں پکارہ میری طرف دیکھو۔
وہ جو نظریں جھکاٸے لیٹی تھی اس کی طرف دیکھا
جہاں محبت کے دیپ جل رہے تھے وہ زیادہ دیر ان انکھوں میں دیکھ نہ سکی اور نظریں جھکا دی
تمہیں پتہ تمہاری یہ نیلی انکھوں نے کتنا تڑپایا ہے مجھے
جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تب سے تمہاری انکھیں مجھے بہت پسند تھی
وہ بس سانس روکے اس کی دھڑکن سن رہی تھی جو اس وقت 120 کی سیپڈ سے ڈور رہی تھی

Mirh@_Ch
 

وہ غصہ سے اٹھ کر جانے لگی جب زیب نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
”یہ کیا بدتمیز ہے“ ششش!!! وہ کچھ بولنے لگی جب زیب نے اُس کے ہلتے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
کتنا بولتی ہو نہ پرنسس تم آج کی لڑائی کسی اور دن کے لیے ادھار کر لو
ابھی میرے بدلا لینے کی باری ہے وہ گھبیر لہجے میں بولا
اور اُس کی نتھلی اتر دی جو نور سے زیادہ زیب کو ڈسٹرب کر رہی تھی
”یہ آپ کیا کر رہے ہے “ وہ اپنی سانس درست کر کے بولی

Mirh@_Ch
 

کیا کہا آپ نے ابھی اُسے لگا شاید کچھ غلط سنا ہے
یہی پرنسس تم کتنی وزنی ہو قسم سے میری تو کمر ٹوٹ گٸی
وہ تو صدمہ سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اپنی دلہن کو وزنی کہہ رہا ہے
نور نے پہلے اپنی طرف دیکھا کہ وہ کہاں سے موٹی ہے پھر ایک جھٹکے سے گھونگھٹ اٹھایا
زیب اس کی ساری کارواٸی دیکھا مسکرا رہا تھا
اگر میں اتنی ہی وزنی ہوں تو کسی ماچس کی تیلی سے شادی کر لیتے آپ
پھر اُسے اٹھا کر جاہا مرضی گھومتے رہتے۔ وہ غصہ سے بولی کہاں برداشت تھا اُسے کوٸی موٹا کہے

Mirh@_Ch
 

وہ اُسے لیے کمرے میں داخل ہوا جاہا دروازے سے لے کر بیڈ تک گلاب کے پھولوں سے راستہ بنایا گیا تھا
ہیٹ شیپ بیڈ پر پھول ہی پھول ہے پورے کمرے میں نور کی تصویریں تھی
مایوں کی مہندی اُس کے بچپن کی ساری تصاویر وہ حیرانگی سے پورے کمرے کو دیکھا رہی تھی
زیب نے آرام سے اُسے نیچے اترا پھر اُس کا ہاتھ پکڑا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا
اُسے بیڈ تک لیا اُس کو بیٹھا کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
اور اپنی سانس درست کرنے لگا اللہ تم کتنی بھاری ہو پرنسس
اس بات پر نور کو جٹھکا لگا وہ گھونگھٹ کے اندر سے بولی

Mirh@_Ch
 

سب ٹھیک ہے نہ اکرم“ جی سر سارے انتظام کر دیے ہے وہ نظریں جھکاٸے کھڑا اسے تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا
اوکے تم اب جاو اور جب تک میں نہ کہاو کسی کو نہیں بتانا میں کہا ہوں
ٹھیک ہے سر
نور خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی اور ڈر بھی رہی تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے
______________________________
وہ اُسے لیے اندر داخل ہوا پورے کارٹیج کو اُس نے گلاب کے پھولوں سے سجایا تھا
داٸیں طرف صوفہ سیٹ پڑا تھا جبکہ باٸیں طرف دو کرسیوں ڈاٸینگ ٹیبل تھا
پورے گھر کو کینڈلیز سے روشن کیا گیا تھا

Mirh@_Ch
 

ہاٸے اللہ یہ تو جنگل ہے یہ مجھے کہی جانوروں کے پاس چھوڑ کر تو نہیں جا رہے
نور نے ڈرتے ڈرتے اس طرف دیکھا جس کے چہرے پر کوٸی تاثر نہیں تھا
یہ کچھ بول کیوں نہیں رہے پتہ نہیں کیسے بدلہ لے گے
یااللہ مدد کرنا میری وہ دل میں خدا سے مدد طلب کر رہی تھی
”تھوڑی دیر بعد گاڑی روکی“ زیب باہر آیا اور اُس کی ساٸیڈ کا دروازہ کھولا
نور نے سامنے دیکھا تو یہ لکڑی کا بنا کارٹیج تھا
زیب نے اس کو گود میں اٹھایا اور اندر کی طرف چل پر
دروازے کے پاس اُس اکرم کھڑا نظرآیا

Mirh@_Ch
 

آنسو پھر سے انکھوں میں جمع ہو نے لگے
پرنسس اب گر تم روی تو میں یہاں پر چھوڑ کر خود گھر چلا جاو گا
انکھوں میں موجود نمی دیکھ کر وہ مضوعی غصہ سے بولا
وہ آنسو پونچتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہے یہ گھر کا راستہ نہیں
وہاں جہاں تمہارے اور میرے علاوہ کوٸی نہ اور میں اپنا بدلہ آرام سے لے سکو
اب آپ اپنی پرنسس سے بدلہ لے گے وہ مصومیعت سے بولی
بلکہ جب پرنسس نے اتنا تنگ کیا ہے بدلہ لینا تو بنتا ہے میرا وہ معنی خیزی سے بولا

Mirh@_Ch
 

وہ گاڑی سے باہر آیا ڈراٸیور کو کچھ پیسے دیے کے وہ آرام سے گھر چلا جاٸے
”باہر نکلو ابھی“ وہ بیک ڈور اوپن کیا اُس کے سر پر کھڑا مضوعی غصہ سے بولا
میں کیوں باہر نکلو اُس لگا وہ یہاں سنسان راستہ میں اکیلا چھوڑ جاٸے گا
تم میری بات ایک ہی دفعہ سمجھ کیوں نہیں آتی پرنسس
اب وہ جھکا اور آرام سے اُسے اپنے بازوں میں اٹھ لیا
یہ آپ کیا کر رہے ہے
کچھ نہیں پرنسس میرا یہاں کچھ کرنے کا اردہ نہیں ہے
اُس نے آرام سے اُسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی

Mirh@_Ch
 

پرنسس یار بس بھی کرو “ کیا سیلاب لانے کا اردہ ہے
رو رو کر انکھیں سرخ کر لی ہے تم نے
وہ آنسو پونچتا بولا
آپ کو کیا ہے میں جو مرضی کرو وہ سوں سوں کرتی بولی
اور وہ پھر رونے لگی
یہاں زیب کی برداشت کی حد تھی ایک تو وہ مسلسل روی جا رہی تھی
دوسرا اُس کی بات بھی نہیں مان رہی تھی
ڈراٸیور گاڑی روکو وہ دھاڑا ۔
”اس کی آواز سے وہ بھی ڈر کر کار کے دروازے کے ساتھ لگ گٸی“
”ج جی سر“ اس کی آواز سے اُس نے بریک لگاٸی

Mirh@_Ch
 

کچھ زیادہ نہیں ہے سالی صاحبہ کم کرٸے
ہم غریب لوگ ہے وہ شرارت سے بولا
نہیں جی اتنے تو بس اتنے نہیں تو ہم اپنی آپی اپنے پاس رکھ لیتے ہے
یہ ظلم مت کیجٸے گا سالی صاحبہ آپ کی آپی کے بغیر اب دل نہیں لگتا
یہ لے کیا یاد کرے گی کسی سخی سے پالا پڑا ہے
وہ ایک لاکھ کا چیک اُس کے ہاتھ پر رکھتا بولا
اسی طرح مستی میں ہی رخصتی کا وقت ہو گیا
وہ قرآن کے ساٸے میں رخصت ہوتے اپنے پیا کے گھر چلی گٸی

Mirh@_Ch
 

آپ مجھے سے بدلا لے گے وہ آہستہ بولی
بلکہ بس تم تیار رہنا
______________________________
چلے جیجو نکلے ایک لاکھ
کس لیے سالی صاحبہ وہ دودھ پیتے بولا
یہ جو آپ دودھ پی رہے ہے
سب لوگ اُن کے ادرگرد موجود تھے
یہ چوٹا سا گلاس ایک لاکھ کا ہے
بلکہ جیجو اب جلدی کر وہ اپنی مہندی لگی ہتھیلی پھیلاتے بولی

Mirh@_Ch
 

ویسے یہاں کوٸی اور بھی بہت پیارا لگ رہا ہے وہ شرارت سے بولے
کون
”مسز عباس “ قسم سے آج آپ ہمارا دل بے ایمان کر رہی ہے
شرم کرٸے کیا ہو گیا ہے آپ کو کچھ تو لحاظ کرلے
ویسے آج کمرے میں جلدی آجاٸیے گا وہ سرگوشی کرتے چلے گٸے
پیچے وہ ادھر اُدھر دیکھتی کہی کسی نہ سنا تو نہیں
______________________________
ویسے پرنسس بہت پیاری لگ رہی ہو سب جب کھانے میں مصروف ہو گٸے تو وہ تھوڑا قریب ہوتا بولا
آج تو تم سے سارے بدلے لینے ہے جتنا تم نے مجھے تڑپایا ہے
آج سب کا حساب ہو گا وہ گھبیر لہجہ میں بولا

Mirh@_Ch
 

وہ اسٹیج پر بیٹھا بے صبری سے اُس کا انتظار کر رہا تھا
”جب وہ آتی دیکھاٸی دی
سرخ رنگ کے فرشی گرارے پہنے خوبصورت میک اپ کیا“
”ناک میں چمکتی نتھلی جو زیب کا سکون برباد کر رہی تھی“
وہ اسیٹج کے قریب پہنچی جب زیب نے اُس کے آگے اپنا ہاتھ کیا جسے کانپتے ہاتھوں سے نور نے تھما لیا
وہ دونوں ساتھ بیٹھے چاند اور سورج کی جوڑی لگ رہے تھے
مریم بیگم دل ہی دل میں بیٹی اور داماد کی نظر اتر رہی تھی
کتنے پیارے لگ رہے ہے نہ ہمارے بچے وہ عباس صاحب کے ساتھ کھڑی ہوتی خوشی سے بولی
اللہ اُن کی خوشیاں سلامت رکھ
آمین