تمہارا پیسہ جو تم نے اس کیمپنی پر لگاٸے تمہارے اکاوٸنٹ میں جمع کرو دیے ہے
اب دوبار مجھے سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا
ایک منٹ بتانا پسند کرو گی کہ کیمپنی کیسے بیچی ہے
وہ دانت پیتسہ بولا
مشہور بزنس مین زیب لغاری
اس نام نے میر کے تن بدن میں آگ لگا دی
غصہ سے موبائل دیوار پر مارا جو دو ٹکڑوں میں تقسيم ہو گیا
نہیں اس بار تمہیں میں جیتنے نہیں دو گا
ہر بار تم میرا حق لے جاتے ہو
مگر دوسری طرف سے جو کہا گیا وہ اُس کے گمان میں بھی نہیں تھا
غصہ سے اُس کی گردن کی رگیں تن گٸی
یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو
میں ٹھیک کہا رہی ہوں اب ہمارا گزرا ممکن نہیں
بہتر یہی ہے کہ ہم اب جدا ہو جاٸے میں بہت سوچا میر مگر تمہارے دھوکے کے بعد تم پر اعتبار کرنے کو دل نہیں کرتا
طلاق کے پیپر تمہیں کل تک مل جاٸے گے
یہ کیمپنی میرے نام ہے اور یہ مسلسل نقصان میں جا رہی ہے
اس لیے تمہیں بتاٸے بغیر اسے بیچ دیا
ہے
میری طرف سے آفس کے پورے سٹاف کو بونس دے دو
وہ فون بند کرتا مسکرا دیا
______________________________
زیب تمہیں تو میں نہیں چھوڑو گا۔
تمہاری وجہ آج اتنا بڑا پروجيکٹ ہاتھ سے نکل گیا
وہ اپنے آفس کی ہر چیز پر غصہ نکل رہا تھا
سٹاف کے کیسی ممبر میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ اُسے روک سکے
فون کی آواز سے وہ روکا سکرین پر چمکتے نام سے اُس نے خود کو کنٹرول کیا
ہیلو جان کیسی ہو تم کب آ رہی ہوں آٸی مس یو شایان کیسا ہے
فون اٹھاتے ساتھ اُس نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی
ہاٸے اللہ یہ کتنے بدتمیز ہے ایسے گھوری جا رہے ہے میں ناشتہ کیسے کرو
زیب اس کے ہاتھوں میں لرزش دیکھ کر مسکرا دیا
پرنسس تم آرام سے ناشتہ کرو مجھے ایک ضروری کال کرنی
وہ اُس کا ماتھا چومتا باہر آ گیا
اور نور کی روکی سانس بحال ہوٸی
ہاں بولو اکرم وہ موبائل کان سے لگتا باہر لگے بینچ پر بیٹھ گیا
سر مبارک ہو پروجيکٹ ہم مل گیا ہے وہ ہماری کیپمنی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہے اُس کی انکھیں چمکی
”اور وہ جو دوسرا کام تھا“ جی سر وہ بھی ہو گیا ہے پیمنٹ کر دی ہے
”گڈ“
یہ آپ کیا کر رہے ہے پیچے ہٹے میں ناشتہ بناتی ہوں
نہیں پرنسس میں بنا رہا ہو تم بس مجھے دیکھو
زیب نے جلدی سے آملیٹ بنایا ساتھ اُس کے بریڈ کے سلاٸس رکھے
اور چاٸے کا ایک کپ ٹرے میں رکھے وہ ٹیبل تک آیا جہاں نور بیٹھی تھی
جی تو حاضر ہے پرنسس آپ کے مصوم سے شوہر کے ہاتھ کا بنا ناشتہ
کھا کر بتاٸے کیسا لگا وہ اُس کی پلیٹ میں آملیٹ اور سلاٸس رکھتا شوخ ہوا
بہت مزا کا ہے آپ بھی کرٸے نہ ناشتہ وہ اس کی لو دیتی نظروں سے گھبرا کر بولی
جو مسلسل اسے ناشتہ کرتے دیکھ رہا تھا
نہیں تم کرو ابھی مجھے بھوک نہیں ہے
مگر آپ کو تو بہت درد ہوا ہو گا آپ نے بنڈج بھی نہیں کیا
میں ٹھیک ہو پرنسس اور مجھے کوٸی درد نہیں ہوا کیوں کے میری مرہم میرے پاس آ گٸی
وہ ساتھ لگتا اس کے سر پر بوسہ دیتا بولا
اب میں فریش ہو کر آتا ہو تب تک تم تیار ہو جاو ناشتہ کرتے ہے
اُس کے بال ایک ساٸیڈ پر کر کے گلے میں خوبصورت سا نکلیس پہنایا جس میں دونوں کے نام کے پہلے حرف موجود تھے
اُس کا رخ اپنی طرف موڑا پھر اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا
اس کو ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھنا پرنسس
مگر نور تو اُس کے سینے پر موجود اپنے نام کو دیکھ رہی تھی جو ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوا تھا
یا زیب نے ہونے نہیں دیا تھا
رات کو شاید اندھیرا ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آیا تھا
یہ اپنے نام پر وہ ہاتھ لگتی بولی انکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے
کتنا درد ہوا ہو گا
کچھ نہیں ہوا پرنسس تم اپنے آنسو صاف کرو
پرنسس گھبیر لہجے میں پکارہ میری طرف دیکھو۔
وہ جو نظریں جھکاٸے لیٹی تھی اس کی طرف دیکھا
جہاں محبت کے دیپ جل رہے تھے وہ زیادہ دیر ان انکھوں میں دیکھ نہ سکی اور نظریں جھکا دی
تمہیں پتہ تمہاری یہ نیلی انکھوں نے کتنا تڑپایا ہے مجھے
جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تب سے تمہاری انکھیں مجھے بہت پسند تھی
وہ بس سانس روکے اس کی دھڑکن سن رہی تھی جو اس وقت 120 کی سیپڈ سے ڈور رہی تھی
وہ غصہ سے اٹھ کر جانے لگی جب زیب نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
”یہ کیا بدتمیز ہے“ ششش!!! وہ کچھ بولنے لگی جب زیب نے اُس کے ہلتے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
کتنا بولتی ہو نہ پرنسس تم آج کی لڑائی کسی اور دن کے لیے ادھار کر لو
ابھی میرے بدلا لینے کی باری ہے وہ گھبیر لہجے میں بولا
اور اُس کی نتھلی اتر دی جو نور سے زیادہ زیب کو ڈسٹرب کر رہی تھی
”یہ آپ کیا کر رہے ہے “ وہ اپنی سانس درست کر کے بولی
کیا کہا آپ نے ابھی اُسے لگا شاید کچھ غلط سنا ہے
یہی پرنسس تم کتنی وزنی ہو قسم سے میری تو کمر ٹوٹ گٸی
وہ تو صدمہ سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اپنی دلہن کو وزنی کہہ رہا ہے
نور نے پہلے اپنی طرف دیکھا کہ وہ کہاں سے موٹی ہے پھر ایک جھٹکے سے گھونگھٹ اٹھایا
زیب اس کی ساری کارواٸی دیکھا مسکرا رہا تھا
اگر میں اتنی ہی وزنی ہوں تو کسی ماچس کی تیلی سے شادی کر لیتے آپ
پھر اُسے اٹھا کر جاہا مرضی گھومتے رہتے۔ وہ غصہ سے بولی کہاں برداشت تھا اُسے کوٸی موٹا کہے
وہ اُسے لیے کمرے میں داخل ہوا جاہا دروازے سے لے کر بیڈ تک گلاب کے پھولوں سے راستہ بنایا گیا تھا
ہیٹ شیپ بیڈ پر پھول ہی پھول ہے پورے کمرے میں نور کی تصویریں تھی
مایوں کی مہندی اُس کے بچپن کی ساری تصاویر وہ حیرانگی سے پورے کمرے کو دیکھا رہی تھی
زیب نے آرام سے اُسے نیچے اترا پھر اُس کا ہاتھ پکڑا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا
اُسے بیڈ تک لیا اُس کو بیٹھا کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
اور اپنی سانس درست کرنے لگا اللہ تم کتنی بھاری ہو پرنسس
اس بات پر نور کو جٹھکا لگا وہ گھونگھٹ کے اندر سے بولی
سب ٹھیک ہے نہ اکرم“ جی سر سارے انتظام کر دیے ہے وہ نظریں جھکاٸے کھڑا اسے تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا
اوکے تم اب جاو اور جب تک میں نہ کہاو کسی کو نہیں بتانا میں کہا ہوں
ٹھیک ہے سر
نور خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی اور ڈر بھی رہی تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے
______________________________
وہ اُسے لیے اندر داخل ہوا پورے کارٹیج کو اُس نے گلاب کے پھولوں سے سجایا تھا
داٸیں طرف صوفہ سیٹ پڑا تھا جبکہ باٸیں طرف دو کرسیوں ڈاٸینگ ٹیبل تھا
پورے گھر کو کینڈلیز سے روشن کیا گیا تھا
ہاٸے اللہ یہ تو جنگل ہے یہ مجھے کہی جانوروں کے پاس چھوڑ کر تو نہیں جا رہے
نور نے ڈرتے ڈرتے اس طرف دیکھا جس کے چہرے پر کوٸی تاثر نہیں تھا
یہ کچھ بول کیوں نہیں رہے پتہ نہیں کیسے بدلہ لے گے
یااللہ مدد کرنا میری وہ دل میں خدا سے مدد طلب کر رہی تھی
”تھوڑی دیر بعد گاڑی روکی“ زیب باہر آیا اور اُس کی ساٸیڈ کا دروازہ کھولا
نور نے سامنے دیکھا تو یہ لکڑی کا بنا کارٹیج تھا
زیب نے اس کو گود میں اٹھایا اور اندر کی طرف چل پر
دروازے کے پاس اُس اکرم کھڑا نظرآیا
آنسو پھر سے انکھوں میں جمع ہو نے لگے
پرنسس اب گر تم روی تو میں یہاں پر چھوڑ کر خود گھر چلا جاو گا
انکھوں میں موجود نمی دیکھ کر وہ مضوعی غصہ سے بولا
وہ آنسو پونچتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہے یہ گھر کا راستہ نہیں
وہاں جہاں تمہارے اور میرے علاوہ کوٸی نہ اور میں اپنا بدلہ آرام سے لے سکو
اب آپ اپنی پرنسس سے بدلہ لے گے وہ مصومیعت سے بولی
بلکہ جب پرنسس نے اتنا تنگ کیا ہے بدلہ لینا تو بنتا ہے میرا وہ معنی خیزی سے بولا
وہ گاڑی سے باہر آیا ڈراٸیور کو کچھ پیسے دیے کے وہ آرام سے گھر چلا جاٸے
”باہر نکلو ابھی“ وہ بیک ڈور اوپن کیا اُس کے سر پر کھڑا مضوعی غصہ سے بولا
میں کیوں باہر نکلو اُس لگا وہ یہاں سنسان راستہ میں اکیلا چھوڑ جاٸے گا
تم میری بات ایک ہی دفعہ سمجھ کیوں نہیں آتی پرنسس
اب وہ جھکا اور آرام سے اُسے اپنے بازوں میں اٹھ لیا
یہ آپ کیا کر رہے ہے
کچھ نہیں پرنسس میرا یہاں کچھ کرنے کا اردہ نہیں ہے
اُس نے آرام سے اُسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی
پرنسس یار بس بھی کرو “ کیا سیلاب لانے کا اردہ ہے
رو رو کر انکھیں سرخ کر لی ہے تم نے
وہ آنسو پونچتا بولا
آپ کو کیا ہے میں جو مرضی کرو وہ سوں سوں کرتی بولی
اور وہ پھر رونے لگی
یہاں زیب کی برداشت کی حد تھی ایک تو وہ مسلسل روی جا رہی تھی
دوسرا اُس کی بات بھی نہیں مان رہی تھی
ڈراٸیور گاڑی روکو وہ دھاڑا ۔
”اس کی آواز سے وہ بھی ڈر کر کار کے دروازے کے ساتھ لگ گٸی“
”ج جی سر“ اس کی آواز سے اُس نے بریک لگاٸی
کچھ زیادہ نہیں ہے سالی صاحبہ کم کرٸے
ہم غریب لوگ ہے وہ شرارت سے بولا
نہیں جی اتنے تو بس اتنے نہیں تو ہم اپنی آپی اپنے پاس رکھ لیتے ہے
یہ ظلم مت کیجٸے گا سالی صاحبہ آپ کی آپی کے بغیر اب دل نہیں لگتا
یہ لے کیا یاد کرے گی کسی سخی سے پالا پڑا ہے
وہ ایک لاکھ کا چیک اُس کے ہاتھ پر رکھتا بولا
اسی طرح مستی میں ہی رخصتی کا وقت ہو گیا
وہ قرآن کے ساٸے میں رخصت ہوتے اپنے پیا کے گھر چلی گٸی
آپ مجھے سے بدلا لے گے وہ آہستہ بولی
بلکہ بس تم تیار رہنا
______________________________
چلے جیجو نکلے ایک لاکھ
کس لیے سالی صاحبہ وہ دودھ پیتے بولا
یہ جو آپ دودھ پی رہے ہے
سب لوگ اُن کے ادرگرد موجود تھے
یہ چوٹا سا گلاس ایک لاکھ کا ہے
بلکہ جیجو اب جلدی کر وہ اپنی مہندی لگی ہتھیلی پھیلاتے بولی
ویسے یہاں کوٸی اور بھی بہت پیارا لگ رہا ہے وہ شرارت سے بولے
کون
”مسز عباس “ قسم سے آج آپ ہمارا دل بے ایمان کر رہی ہے
شرم کرٸے کیا ہو گیا ہے آپ کو کچھ تو لحاظ کرلے
ویسے آج کمرے میں جلدی آجاٸیے گا وہ سرگوشی کرتے چلے گٸے
پیچے وہ ادھر اُدھر دیکھتی کہی کسی نہ سنا تو نہیں
______________________________
ویسے پرنسس بہت پیاری لگ رہی ہو سب جب کھانے میں مصروف ہو گٸے تو وہ تھوڑا قریب ہوتا بولا
آج تو تم سے سارے بدلے لینے ہے جتنا تم نے مجھے تڑپایا ہے
آج سب کا حساب ہو گا وہ گھبیر لہجہ میں بولا
وہ اسٹیج پر بیٹھا بے صبری سے اُس کا انتظار کر رہا تھا
”جب وہ آتی دیکھاٸی دی
سرخ رنگ کے فرشی گرارے پہنے خوبصورت میک اپ کیا“
”ناک میں چمکتی نتھلی جو زیب کا سکون برباد کر رہی تھی“
وہ اسیٹج کے قریب پہنچی جب زیب نے اُس کے آگے اپنا ہاتھ کیا جسے کانپتے ہاتھوں سے نور نے تھما لیا
وہ دونوں ساتھ بیٹھے چاند اور سورج کی جوڑی لگ رہے تھے
مریم بیگم دل ہی دل میں بیٹی اور داماد کی نظر اتر رہی تھی
کتنے پیارے لگ رہے ہے نہ ہمارے بچے وہ عباس صاحب کے ساتھ کھڑی ہوتی خوشی سے بولی
اللہ اُن کی خوشیاں سلامت رکھ
آمین
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain