Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

وہ مسکراتا ہوا بولا
کچھ دیر بعد وہ منہ دھو کر آٸی پھر حیدر نے اُس کے ہاتھ کی بنڈج کی زخم زیادہ گہرا نہیں تھا
پھر اُس نے لاٸیٹ سا میک اپ کیا
زبردست آپ کتنا اچھا میک اپ کرتے ہے وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر خود کو شیشے میں دیکھتی بولی
”تھنک یو ڈول“ چلو اب چلے آگے بہت دیر ہو گٸی ہے
”جی چلے“ وہ اُسے لیے گاڑی تک آیا پھر دروازہ کھول کر اُسے بٹھایا پھر خود ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھا اب اس کا رخ ہال کی طرف تھا
______________________________

Mirh@_Ch
 

رونے کی وجہ سے سرخ شہد رنگ انکھیں سرخ ہوتی ناک اور گلابی گال وہ مہبوت سا اُسے دیکھا رہا تھا
آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہے وہ اُس کی نظروں سے گبھراتی آہستہ سے بولی
جس سے وہ ہوش میں آیا
جاو ڈول منہ دھو کر آو پھر میں بنڈج کر دیتا ہوں
اگر میں منہ دھو کر آو گی تو میرا سارا میک اپ خراب ہو جاٸے گا
اتنی مشکل سے کیا ہے میں نے وہ منہ بسور کر بولی
میں تمہاری ہیلپ کر دو گا میک اپ میں
آپ کو میک اپ کرنا آتا ہے وہ حیران ہوٸی
ہاں تھوڑا بہت تمہاری وہ بدتمیز کزن ہے نہ نمرہ اُس نے سکھایا تھا

Mirh@_Ch
 

وہ اُسے لینے لغاری ہاوس پہنچا لاونج میں یہاں وہاں دیکھتے وہ نظر نہ آٸی تو اب اُس کا رخ روم کی طرف تھا
حور کے روم کے پاس پہنچ کر آہستہ سے دستک دی
جب اندر سے کوٸی آواز نہ آٸی وہ دروازے پر ہاتھ رکھتا اندر چلا گیا
جہاں میڈم تیار ہو کر رونے میں مصروف تھی
وہ بھاگ کر اُس کے پاس پہنچا
ڈول کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو وہ اُس کے آنسو صاف کرتا بولا
اور یہ ہاتھ پر چوٹ کیسے لگی
وہ میں تیار ہو رہی تھی وہاں میں چپکلی دیکھی
میں بھاگنے لگی تو میرا پاوں پھسل گیا اور پرفیوم کی بوتل گر کر ٹوٹ گٸی اور میرے ہاتھ میں لگ گٸی
وہ سوں سوں کرتی مصومیت سے بولتی بہت پیاری لگی

Mirh@_Ch
 

bari mushkil se time mila hai post krni ka or nahi kr sakti sorry ---next kal

Mirh@_Ch
 

وہ انکھیں گھوما کر شرارت سے بولی
ٹھیک بھاٸی ویسے بھی آپ ہماری ایک اکلوتی سالی صاحبہ ہے
یہ لے وہ اپنی جیب سے 5000 نکلتا اُس کے ہاتھ پر رکھتا بولا
یاہوہوہو وہ پیسے پکڑتی ایک ساٸیڈ پر ہو گٸی
یہ حور ابھی تک آٸی کیوں نہیں وہ ٹاٸم دیکھتا بولا
حیدر ادھر آو پاس گزرتے حیدر کو اُس نے آواز دی
جی بھاٸی
حیدر زرا تم جا کر حور گڑیا کو لے آو
ٹھیک ہے بھاٸی میں جاتا ہوں

Mirh@_Ch
 

نمرہ نے بڑی مشکل سے اُسے سنبھالا ہوا تھا
وہ سرخ رنگ کے فرشی گرارے میں غضب ڈھ رہی تھی
بیوٹیشن کے کیے میک میں کافی خوبصورت لگ رہی تھی
اوپر سے دل آج 120 کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا
وہ ابھی بھی نروس ہو رہی تھی جب بارات آ گٸی کا شور ہوا
______________________________
جی تو میرے پیارے جیجو اندر جانا ہے تو 5000 دینے ہو گے وہ اُس کا راستہ روکے کھڑی تھی
وہ پنک کلر کا شارٹ فراک اور ساتھ ہم رنگ باجامہ پہنے لاٸٹ سے میک اپ میں بہت اچھی لگ رہی تھی
یہ کچھ زیادہ نہیں گڑیا کچھ کم کرو
نہیں جی اتنے بڑے بزنس مین ہے آپ کے لیے یہ کون سی بڑی رقم ہے

Mirh@_Ch
 

آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے“ پالر والی نے اس کا میک بہت مشکل سے کیا تھا
جو بار بار روٸی جا رہی تھی.

Mirh@_Ch
 

دل کی خواہش کو دباتے وہ دوبارہ باتوں میں مصروف ہو گٸے
نورا(نوکرنی) دیکھو جا کر حور کیوں نہیں آٸی ابھی تک
وہ سر ہلاتی حور کے کمرے میں چلی گٸی
اور تھوڑی دیر بعد واپس آٸی
چھوٹے صاحب حور بی بی کہہ رہی ہے آپ چلے جاٸے وہ ڈراٸیور کے ساتھ آجاٸے گی
ٹھیک ہے اب ہم چلتے ہے وہ گاڑی میں بیٹا گیا اور اپنی منزل کی طرف چل دیا
کتنے سالوں بعد ایک مسافر کو اُس کی منزل ملنے والی تھی
______________________________
براٸیڈل روم میں بیٹھی وہ مسلسل اپنے ہاتھ کی انگلیاں مڑور رہی تھی.

Mirh@_Ch
 

وہ بلیک کلر کی شروانی پہنے جس کے گلے پر نفاست سے کام ہوا تھا
بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
بس کچھ دیر پرنسس پھر تمہیں مجھے سے جدا کوٸی نہیں کر سکے گا
تمہاری ہر تکلیف اور درد کو میں ختم کر دو گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے پرنسس
وہ شیشے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم چھڑک کے دل میں سوچ رہا تھا
وہ ہاتھ میں کُلا پکڑیں کمرے سے باہر آیا
جہاں لاونج میں سب اس کا انتظار کر رہے تھے
جمیشد صاحب نے دل ہی دل میں بیٹے کی نظر اتری
آج اُن کا دل شدت سے چا رہا تھا کے اُن کا بیٹا گلے لگے مگر وہ شاید ابھی بھی خفا تھا ان سے

Mirh@_Ch
 

وہ اُس سے ناراض رہنا چاہتا تھا مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اُس کو دیکھنے آ گیا
اُس کا موبائل اٹھانا پھر چیک کرنا میسج آیا کے نہیں پھر چہرے پر پھیلتی مایوسی اُسے مسکرانے پر مجبور کر گٸی
ناراضگی تو کہی دور جا سوٸی تھی
اس لیے اُس نے میسج کر کے اُسے خوش کر دیا
______________________________

Mirh@_Ch
 

جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو وہ اٹھی جاٸےنماز اپنی مخصوص جگہ پر رکھی
بیڈ سے اپنا موبائل اٹھایا آج زیب نے نہ کوٸی میسج کیا تھا نہ ہی کال کی تھی
لگتا ہے زیادہ ہی ناراض ہو گیا ہے وہ مایوسی سے موبائل رکھنے لگی
جب میسج ٹون بجی میسج کھولا تو وہ زیب کا تھا
سو جاو پرنسس اتنا نہ سوچو میں ناراض نہیں ہو
ہاٸے اللہ ان کو کیسے پتہ لگا میں جاگ رہی ہوں
وہ یہاں وہاں دیکھتی سوچنے لگی
جبکہ باہر بالکنی میں کھڑا زیب مسکرا دیا

Mirh@_Ch
 

وہ خود سے عہد کرتا سونے کی کوشش کرنے لگا
وہ تہجد کی نماز ادا کر کے خدا سے رو کر اپنے دل کا سکون مانگ رہی تھی
جو بار بار میر کا نام لے رہا اپنے ماں باپ کو دیکھنے کے لیے وہ خوش ہونے کی کوشش کرتی تھی
مگر اندر سے وہ بہت ٹوٹی ہوٸی تھی
وہ زیب کی محبت کا جواب محبت سے نہیں دے رہی تھی
یا تو وہ اُس پر غصہ کرتی یا بیزاری ظاہر کرتی
مگر وہ تھا اس کو ہسنے کی خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا
اے خدا میرے دل میں میرے محرم کی محبت ڈال دے میں منعافقت نہیں کرنا چاہتی
پلیز میرے دل کو سکون دے دے آنسو رخسار بھگو رہے تھے

Mirh@_Ch
 

جی بھاٸی میں اپنا بیگ لے کر آتی ہوں“
اوکے جلدی آنا اور اپنے پاپا کو بھی کہے دینا جانا ہے تو آ جاٸے میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں
نہ چاہتے بھی وہ تھوڑا تلخ ہو گیا
______________________________
کب تمہیں اندازہ ہو گا میرے عشق کا تمہاری وجہ سے اس مردہ دل نے دھڑکنا شروع کیا ہے
پرنسس
وہ سگریٹ پیتا اپنے بھرتی گھٹن کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
مگر اس میں تمہارا بھی کوٸی قصور نہیں انسان اپنا پہلا پیار کبھی نہیں بھولا سکتا
کل میری زندگی میں شامل ہو جاو تمہارے سارے درد سمٹ لو گا
تمہیں اتنا پیار دو گا کہ تم میر کو بھول جاو گی

Mirh@_Ch
 

وہ بغور اُس کی انکھوں میں دیکھتا بولا
اُس کے اس طرح دیکھنے سے وہ
نظریں جھکا گٸی
💕••••تعریف لکھنے بیٹھے تھے ھم ان کے مکمل حسن پر••••💕
💕••••مگر الفاظ ھی تھم گئے انکی جھکی نظریں دیکھ کر••••💕
بہت زبردست جیجو نمرہ چہقتی ہوٸی بولی
”شکریہ شکریہ “ اب آپ کی باری مسز وہ شوخی سے کہتا اس کی طرف متوجہ ہوا
مجھے نیند آ رہی ہے میں سونا چاہتی ہو وہ اٹھ کر چلی گٸی
نور کے اس طرح جانے سے زیب کے دل میں کچھ ٹوٹا
”چلو حور گھر چلے بہت کام ہے“ اُس کا موڈ سخت خراب ہو چکا تھا

Mirh@_Ch
 

ٹیمیں بنی تھی جس میں ایک طرف لڑکے اور دوسری طرف لڑکیاں تھی
لڑکوں کی ٹیم میں سعد (حیدر کا دوست) حیدر ، زیب، تھے
جبکہ کے لڑکیوں کی ٹیم میں نمرہ ،حور،اور نور شامل تھے
سب سے پہلے زیب بھاٸی بھابھی کے لیے کچھ سناٸے گے
حور خوشی سے بولی
ہم تو جی جان سے حاضر ہے گڑیا ابھی سنتے ہے کچھ
❤تیرے عشق کے گہرے ساگر میں❤
❤ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے,❤
❤تیری جھیل سی نیلی آنکھوں❤
❤میں سما جانے کو جی چاہتا ہے,❤

Mirh@_Ch
 

پرنسس آج پھر میرا دل کر رہا ہے تمہیں گود میں اٹھاو اور آگے کی بات وہ ادھوری چھوڑ کر سامنے دیکھنے لگا جہاں سے مریم بیگم آتی دیکھاٸی دے رہی تھی
دوسری طرف وہ شرم سے سرخ چہرا جھکا کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
جس پر پکڑ اور مضبوط ہوتی جا رہی تھی
مہمانوں کے جانے کے بعد ساری ینگ پارٹی لان میں مستی میں مصروف تھی

Mirh@_Ch
 

ہاتھ ابھی بھی اُس کی گرفت میں تھا۔وہ گہری نظروں سے اسے دیکھا رہا تھا
”زیب سب دیکھا رہے ہے“ وہ چہرا جھکا کر بولی جو سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا
”پرنسس ایسا نہ کرو کہی مہمانوں کے سامنے کچھ ایسا ویسا نہ ہو جاٸے“
وہ مہمانوں کو دیکھتا اس کی طرف جکھتا شرارت سے بولا
کیا نہ کرو میں؟ وہ حیرانگی سے بولی
ہاٸے یہ مصومیعت
ان بڑی بڑی انکھوں سے مارنے کا اردا ہے
وہ معنی حیزی سے بولا

Mirh@_Ch
 

گرین کلر کے خوبصورت لہنگا اور شاٹ شرٹ کے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ لیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
زیب نے بھی گرین کلر کا کرتا ساتھ سفید پاجامہ پہنے اس کے ساتھ بیٹھا ڈیشنگ لگ رہا تھا
اور بار بار اُسے تنگ کر رہا تھا
”آپ زرا پیچے ہو کر بیٹھے“ وہ بار بار اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ کرتی جس سے وہ اور قریب آ جاتا
اور پلیز یہ ہاتھ تو چھوڑے کیا کر رہے ہے۔اگر نہ چھوڑو تو وہ شوخ ہوا
”تو میں ماما کو بتا دو گی آپ کا“
کیا بتاو گی؟”وہی جو کل کیا تھا آپ نے“اچھا سچا میں بتا دو گی کیا

Mirh@_Ch
 

تم صرف میری ہو اس لیے دور رہو ورنہ تم جانتی ہوں
نہیں رہو گی دور سمجھے تم غلام نہیں ہوں تمہاری جو ہر بات منانو تمہاری اور ایک بات اور کان کھول کے سن لو ابان حسن شاہ
”میں محبت کرتی ہو اُس سے پیار ہے وہ میرا“
اور تمہاری زندگی میں شامل ہونے سے پہلے میں مرنا پسند کرو گی۔
سمجھے وہ اُسے دھکا دیتی اپنے آنسو صاف کرتی وہاں سے چلی گٸی
نہیں تم صرف میری ہو صرف میری وہ ایک مُکا دیوار پر مارتا بولا
اور جسے وہ آیا تھا ویسے ہی چلا گیا

Mirh@_Ch
 

تمہاری اتنی ہمت کے تم مجھے ہاتھ لگاو وہ غصہ سے غراتی اپنے آپ کو چھڑونے کی کوشش کرنے لگی
ابھی تم نے ہمت دیکھی کہاں ہے ڈٸیر کزن وہ اُس کا گال سہلنے لگا جب وہ چہرا موڑ گٸی
جس سے وہ مسکرا دیا
تم کیا لینے آٸے ہو یہاں پہلے تمہارے بھاٸی نے کچھ کم کیا ہے میری آپی کے ساتھ وہ غصہ سے بولی
”آرام سے میری شیرنی“ تمہیں ایک بات سمجھنے آیا ہوں
وہ لڑکا ہے نہ کیا نام تھا اُس کا وہ اپنی پیشانی مسلتا بولا
”ہاں یاد آیا سعد نام ہے اُس کا “ دور رہو اُس سے نہیں تو اچھا نہیں ہو گا تمہارے لیے بھی اور اُس کے لیے بھی
وہ سرد آواز میں بولتا اور قریب ہوا اتنا کے نمرہ اُس کی گرم سانس محسوس کر سکتی تھی