عباسی ہاوس میں آج میں رونق تھی سب نوکروں کی ڈورے لگی ہوٸی تھی
نمرہ بیٹا وہ گجرے کہاں ہے تمہیں دیے تھے
وہ ماما سوری میں رکھ کر بھول گٸی ابھی لاتی ہوں
وہ اپنے کمرے میں گجرے لینے آٸی جب اچانک سے دروازہ بند ہو گیا
”اسے کیا ہوا“ وہ ادھر اُدھر دیکھتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گٸی
ابھی وہ اپنا لہنگا سنبھالتی گجرے کا تھیل اٹھاتی باہر کی طرف جانے لگی
کسی نے اُس کا بازو پکڑ کے اپنی طرف موڑا اور دیوار کے ساتھ لگا کر اُس کا راستہ بند کر دیا
”یہ سب اتنا اچانک ہوا کے وہ کچھ سمجھ ہی نہ پاٸی“ جب نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ سرخ انکھیں لیے اسے گھور رہا تھا
تانیہ یہ تم اچھا نہیں کر رہی“ وہ پیکینگ کرتی تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا
میر پلیز میں کچھ دنوں کے لیے سکون سے رہنا چاہتی ہوں
تمہارے ساتھ تمہاری قربت سے مجھے گُھٹن ہونے لگی ہے
شاید تم سے دور رہا کر میں کچھ بہتر محسوس کرو
”تانیہ جان میں اکیلا کیسا رہو گا“ عیاشی کے لیے کوٸی مل ہی جاٸے گی وہ طنز کرتی دوبار اپنے کام میں مصروف ہو گٸی
میں کچھ دنوں بھاٸی کے پاس رہو گی پھر سوچو گی یہ رشتہ آگے جا سکتا ہے کے نہیں
مگر جان؟ اوکے میر میں چلتی ہو ڈارٸیور آ گیا ہے باقی باتیں بعد میں کرتے ہے وہ شایان کو اٹھاتی چلی گٸ
تم مجھے نہ جانو ،بےبی،ڈرالینگ ایسے ناموں سے بولایا کرو
ابھی میرا دماغ خراب نہیں ہوا وہ غصہ سے بولی
اچھا مجھے نیند نہیں آ رہی وہ بچوں کی طرح بولا
پر مجھے آ رہی ہے اس لیے میں سونے جا رہی ہوں گڈ ناٸیٹ
روکو ایسے نہیں گڈ ناٸیٹ کس دو وہ پھر شوخ ہوا
توبہ ہے ویسے وہ سرخ چہرا لیا فون بند کر گٸی
وہ سب سے فارغ ہو کر کمرے چینج کرنےآٸی
بیٹھ کر اُس کی کمر اکڑ گٸی تھی اب بس وہ سونا چاہتی تھی
وہ واشروم میں جانے لگی جب اُس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی
سکرین پر نام دیکھ کر اُس نے غصہ سے کال پک
آپ نے مجھے فون کیوں کیا ہے؟کیوں کا کیا مطلب بیوی کو کال کیوں کرتے ہے۔
”مجھے کیا پتہ ہو کیوں کرتے میری کون سی بیوی ہے جو مجھے پتہ ہو گا“
وہ غصہ اور بے چارگی سے بولی۔ کیوں کے وہ رات کے ایک بجے اُسے کال کر رہا تھا مگر وہ بہت تھکی تھی بس سونا چاہتی تھی۔
”دیکھے زیب بھا“ ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی جب وہ ایک دم بولا
اللہ توبہ لڑکی کیا ہو گیا ہے ابھی نکاح کو کچھ گھنٹے ہی ہوٸے ہے کیوں توڑنا چاہتی ہو ہمارا نکاح
تم نے خود کو گھونگھٹ میں رکھ کر اچھا کیا پرنسس اگر میں تمہارا یہ روپ باہر دیکھ لیتا تو سب کے سامنے سنبھالنا مشکل ہوتا
چلو اٹھو باہر چلتے ہے اس سے پہلے میں خود پر کنٹرول کھو دو اور کوٸی گستخی ہو جاٸے
وہ اُس کا چہرا گھونگھٹ میں چھپتا اُس کا ہاتھ پکڑ کے باہر لے آیا جہاں سب ان کا انتظار کر رہے تھے
ان کے آنے کے بعد ہلدی کی رسم ادا ہوٸی جس سے وہ پھر کوٸی نہ کوٸی شرارت کر دیتا اور وہ سرخ ہو کر چہرا جھکا جاتی
12 بجے کے قریب ان کی واپسی ہوٸی کیوں کے کل مہندی کا فنکشن تھا تو سب کو اُس کی تیاری کرنی تھی
ٹھیک اب جو میں کرو گا مجھے کچھ مت کہنا وہ اس کی طرف جھکتا بولا
اور سنھبالنے کا موقع دیا بغیر اس کو گود میں اٹھا لیا اور اندر کی طرف چل پڑا
پیچھے سارے آوازے دیتے رہے گٸے
______________________________
وہ اُسے کمرے میں لیا اور پھر بیڈ پر آرام سے بیٹھا کر روم کا دروازہ لاک کیا
نور جو اس طرح سب کے سامنے اٹھانے سے پہلے ہی شرم سے سرخ ہو رہی تھی
دروازہ لاک کرنے سے وہ بلکل ہی گھبرا گٸی
وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب پہنچا پھر اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا
و۔۔۔ہ آ۔۔۔آپ ن۔۔۔نے در۔۔۔وا۔۔زہ ک۔۔۔کیوں ل۔۔لاک ک کیا ہے
بوکھلاہٹ اور شرم سے اس کے منہ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی وہ اُس سے تھوڑا دور ہو کر بیٹھ گٸی
وہ اسیٹج پر بیٹھا بے چینی سے اُس کا انتظار کر رہا تھا
مگر وہ تھی کے اُس کا صبر آزما رہی تھی
حور دیکھو وہ کہا رہا گٸی ہے اس کے بے صبری سے کہنے پے جمشید صاحب کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گٸی
اور حور بھی ہنسنے لگ گٸی
صبر میرے بھاٸی آجاتی ہے
پھر تھوڑی دیر بعد وہ آتی دیکھاٸی دی پھولوں کی روش پر چلتی نیلی آنکھوں والی شہزادی
مگر اُس کے منہ پر گھونگھٹ دیکھ کر وہ سخت بدمزہ ہوا
وہ اسیٹج سے اتر کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُس کے قریب پہنچا یہ چہرا کیوں چھپایا ہے وہ اس کے قریب ہوا
میری مرضی میرا چہرا ہے میں جو مرضی کرو وہ دھیمی آواز میں بولی
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟
قبول ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟
قبول ہے
اور وہ نور عباس سے نور زیب بن گٸی
عباس صاحب کے گلے لگتی وہ شدت سے رو دی
اللہ تمہیں خوش رکھے چندا وہ اس کا ماتھا چومتے بولے
بس اپنے پاپا کا سر کبھی جھکنے نہ دینا
ہمیشہ خوش رہو
تھینک یو سو مچ بھاٸی وہ اُس کے گلے لگتی بولی
______________________________
وہ سر پر سرخ ڈوپٹہ کا گونگھٹ کیا بیٹھی تھی جب کے ایک طرف عباس صاحب اور دوسری طرف حیدر بیٹھا تھا
اُس نے دونوں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تھا
مولوی صاحب کی آواز کمرے میں گونجی
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟
قبول ہے وہ دھیمی آواز میں بولی
یار دیکھے تو!! وہ بے چارگی سے بولا
جب زیب نے اپنے جوتے دیکھے تو پہلے وہ حیران ہوا کے یہ میرے ہی پاوں ہے نہ
کیوں کے ہمارے دلہے میاں نے جوتوں کی جگہ سلیپز پہنے تھے
تو کیا ہوا ہے وہ اپنی بوکھلاہت مٹاتا بولا اتنے پیارے لگ رہے ہے تم کیا پتہ ہو فیشن کا وہ اُسے وہ حیرت زدہ چھوڑ کر اسیٹج پر چلا
تھوڑی دیر بعد حور اُس کے پاس آٸی
کام ہوا میرا گڑیا کہ نہیں
جی ہو گیا یہ لے کیمرہ اس میں محفوظ ہے آپ کی پرنسس کی ہنسی وہ مسکراتی بولی
شکریہ گڑیا یہ تمہارا گفٹ وہ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبی نکلتا ہوا بولا
حور نے جب کھولی تو اس میں چھوٹی سی ڈاٸمنڈ کی نوزپن تھی
عباس صاحب اور مریم بیگم اُن کا استقبال کر رہے تھے
مایوں کے فنکش کا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا
ہر طرف گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا
اسٹیج پر جھولا رکھا تھا وہ بھی گلاب کے پھولوں سے سجا تھا
یہ زیب کا پلین تھا کیوں کے اُس کی پرنسس کو گلاب کے پھول بہت پسند تھے
وہ اسٹیج پر جانے لگا جب حیدر اس کے پاس آیا
”بھاٸی روکے“ کیا ہوا ہے؟
ایک مرتبہ اپنے جوتوں کی طرف دیکھے
ہوا کیا ہے وہ مضوعی غصہ سے بولا
نور اُس کا اوپر سے لے کر نیچے تک جاٸزہ لے رہی تھی جب اُس کی نظر زیب کے جوتوں پر پڑی
پہلے تو اُسے حیرت ہوٸی کے اتنا بڑا بزنس مین اور یہ پھر وہ قہقہ لگا کر ہنستی چلی گٸی
نمرہ جو اُس سے نظر بچا کر چاکیلٹ کھانے لگی تھی اس کی آواز سے ایک دم بوکھلا کر وہی رکھ دی
ہنستے ہنستے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گٸے
”لگتا آپی کو کوٸی دورہ پڑ گیا ہے حیدر کو بتاتی ہوں“ وہ سوچتی اُس کے روم سے چلی گٸی
میں بزی ہو اتنا فارغ ٹاٸم نہیں ہے میرے پاس“ وہ میسج سینڈ کرتی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گٸی۔
تھوڑی دیر بعد زیب کی گاڑی اندر آتی دیکھاٸی دی
بیک سیٹ پر جمیشد صاحب اور حور بیٹھے تھے
جب کے ڈراٸیونگ سیٹ پر وہ بیٹھ اپنی تمام طرح واجہات سے چھا رہا تھا
پیچھے ایک اور گاڑی تھی وہ شاید زیب کے دوست تھے
وہ کار کا دروازہ کھولتا باہر نکلا سفید شلوار قیمض پہنے اور اُس کے اوپر بلیک واسکٹ جو اُسے کافی سوٹ کر رہی تھی
جل سے نفاست سے بال سیٹ کیے وہ کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا
وہ بس مسکرا دی کیوں کے اسے تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
وہ کوٸی جواب دیے بنا چاکیلٹ کھانے لگی
تھوڑی دیر بعد نمرہ اپنا لہنگا سنبھلتی کمرے میں داخل ہوٸی
ہاتھ میں ویسا ہی باکس تھا
آپی یہ زیب بھاٸی نے بھیجا ہے وہ اُس کے پاس رکھتی وہی بیٹھ گٸی
پیلے رنگ کے لہنگے میں وہ بھی بہت کیوٹ لگ رہی تھی
اب کھولے بھی یار کیا دیکھ رہی ہے
اُس نے کھولا تو ویسے ہی سرخ گلاب کے بیچ اُس کا فیورٹ ناول تھا
میسج ٹون پھر بجی
نور اب اگر تم نے جواب نہ دیا تو میں خود آ جاو گا
ابھی وہ اُس کے میسج کا جواب دیتی جب دروازے پر دستک ہوٸی وہ ایک دم سے بوکھلا گٸی
”آ جاو“ وہ خود کو سنبهالتی بولی
آپی یہ زیب بھاٸی نے بھیجا ہے آپ کے لیے
حیدر نے اندر آتے ہوے ایک خوبصورت سا باکس اُس کے پاس رکھتا بولا
اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ باکس کھولا تو اس میں سرخ گلاب اور بہت سے چاکیلٹ تھے
”وہ نم انکھوں سے مسکرا دی“ میسج ٹون پھر بجی
میری چاکیلٹی کوٸین کے لیے اُس کے دوست پلس فیوچر ہسبنڈ کی طرف سے
سوری پرنسس
وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود کے بارے میں سوچ رہی تھی
آج وہ کسی اور کے نام ہونے جا رہی تھی
کیا میں میر کو بھولا پاو گی
وہ خود سے سوال کرتی وہی بیڈ پر بیٹھ گٸی
تمہیں بھولنا ہو گا اُسے وہ بے وفا ہے جب وہ اپنی زندگی میں خوش ہے تو تم کیوں خوش نہیں رہا سکتی دل سے کہی آواز آٸی
وہ وہی سوچوں میں گم بیٹھی رہی جب اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی
میسج باکس کھولا تو زیب کا میسج تھا
#چاہتوں کے #رنگوں میں ہر #رنگ میرا تم #سے تم #تک ہے.
میرى #جان کبھی #سمجھو تو #سہی زندگی کا ہر #لمحہ تم سے #تم تک ہے.
اب بھی ناراض ہو پرنسس
جاٸے میں آپ سے نہیں بولتی وہ ناراضگی سے فون بند کر گٸی
”اور وہ ارے ارے کرتا رہے گیا“ پاگل
ہاں تو زیب صاحب کل آپ کو اپنی پرنسس کو بھی منانا پڑے گا
وہ شرٹ اترتا مسکراتا ہوا بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا
______________________________
وہ پیلے رنگ کے خوبصورت سے نیٹ کی میکسی پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی جس پر بہت نفاست سے سٹون کا کام کیا گیا تھا
لمبے بالوں کی فرینچ چوٹیا بناٸے اور ڈریس کے ہم رنگ ڈوپٹہ جو نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا
میک اپ سے پاک چہرا جو سادگی میں بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا
پھولوں کا زیور پہنے وہ خود بھی ایک پھول لگ رہی تھی
اب اپنا دماغ سیٹ کر لو نہیں تو جس طریقہ سے میں کرو کا تمہیں اچھا نہیں لگے گا اور تم شاید بے ہوش بھی ہو جاو
وہ معنی خیزی سے بولا
”آپ مجھے ڈرا رہے ہے وہ بھراٸی آواز میں بولی“ میں پاپا کو بتاو گی کےآپ نے مجھے دھمکی دی
ٹھیک ہے بتا دینا پھر میں بھی بتا دو گا کے تم ہر ہفتہ دوستوں کے ساتھ مووی دیکھنے جاتی تھی
”تو آپ بھی تو ساتھ ہوتے تھے“ وہ سوں سوں کرتی بولی
ہاں تو مجھےتم لوگوں نے ڈراٸیور بنایا ہوتا تھا
یہ تو غلط بات ہے آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ یہ بات کبھی کسی کو نہیں بتاٸے گے
ہاں تو جب تم میری شکایت لگاو گی تو میرے پاس بھی بڑے راز ہے
شادی کس لیے کرتے ہے پرنسس وہ بیڈ پر لیٹ گیا
نہیں آپ میری بات کا مطلب نہیں سمجھے
تو سمجھوں اپنا مطلب وہ شوخ ہوا
مطلب مجھ جسی لڑکی سے آپ کیسے شادی کر سکتے ہے
تم جسی سے کیا؟آپ ایک طلاق یافتہ لڑکی سے کیوں شادی کرٸے گے ابھی وہ کچھ اور بولتی جب زیب نے بیچ میں ہی اُس کی بات کاٹی
دیکھو پرنسس اگر پھر سے کوٸی فضول بات کی تو مجھے سے برا کوٸی نہیں ہو گا
اپنے ذہن سے یہ بات نکل دو کہ تمہیں طلاق ہوٸی ہے
اور یہ تو میں تمہیں کل نکاح کے بعد بتاو گا کے شادی کیوں کرتے ہے
وہ صبح کے لیے کچھ تیاریاں کر رہا تھا“جب اُس کا موبائل بجا
سکرین بر چمکتا نام دیکھ کر اُس کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گٸی
”اسلام و علیکم زیب بھاٸی “
”وعلیکم و اسلام پرنسس“ خیریت اتنی رات کو فون کیا
وہ مسکراتا ہوا بیڈروم میں داخل ہوا
وہ زیب بھاٸی!!!! دوسری جانب شاید وہ کشمکش کا شکار تھی کے بات کا آغاز کیسے کرٸے
وہ زیب بھا!!! آگے بولو وہ اس کی بات کاٹا بولا
”آپ مجھے سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہے“
وہ انکھیں بند کرتی جلدی جلدی بولی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain