مگر پاپا!!! ایک منٹ بیٹا وہ کچھ کہنے لگی جب عباس صاحب نے اُسے روک دیا
ہم نے اُس کی انکھوں میں آپ کے بے پناہ محبت دیکھی ہے
اس لیے ہم انکار نہیں کر سکے
کیا آپ کو ہمارا فیصلہ منظور ہے وہ اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے
”جی پاپا منظور ہے مجھے“ ان کی انکھوں میں جلتے امید کے دیپ وہ بجھنا نہیں چاہتی تھی اس لیے راضی ہو گٸی
ٹھیک ہے پھر آپ آرام کرٸے کل آپ کے لیے بہت بڑا دن ہے
وہ اُس کا ماتھا چومتے اندر چلے گٸے
اور وہ وہی اپنی قسمت کے بارے میں سوچنے لگی
مگر ایک بات ہے پھوپھو آپ نے نور سے تو پوچھا ہی نہیں اگر اُس نے انکار کر دیا تو وہ افسردہ لہجہ میں بولا
”نہیں کرتی وہ انکار پاگل“ ٹھیک ہے پھوپھو میں اب چلتا ہوں
بہت سی تیاریاں کرنی ہے وہ مسکراتا وہاں سے روانہ ہو گیا
_____________________________
وہ لان میں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی جب عباس وہاں آٸے اور اُس کی ساتھ والی چیٸر پر بیٹھ کر چاند کو دیکھنے لگے
وہ اپنے بچوں کو بلکل اپنے دوست کی طرح ہنڈل کرتے تھے
”چندا آپ سے ایک بات کہے“ جی بولے پاپا
آج زیب آیا تھا آپ کا ہاتھ مانگنے ہم سے
ہم ہے ہاں کر دی ہے
روکو زیب بیٹا“ میں اپنے گھر کی رونق کو تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں
”مگر تمہیں مجھے سے ایک وعدہ کرنا ہو گا“
کیسا وعدہ وہ بے قراری سے بولا
تم اُس کی انکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دو گے
اگر کبھی اُسے تمہاری طرف سے کوٸی تکليف پہنچی تو وہ دن آخری دن ہو گا نور کا تمہارے ساتھ
کبھی نہیں کرو گا وہ اُن کے گلے لگتا نم انکھوں سے بولا
”شکریہ پھوپھو“ جیتے رہو خوش رہو وہ اُس کے سر پر پیار کرتی مسکرا کر بولی
تو بیٹا جی کل نکاح اور مایوں کی کی رسم ادا کرتے ہے پھر منہدی اور بارات
جی جی ضرور میں انکل میں ابھی ساری تیاریاں کرتا ہوں
وہ نظریں نیچی کرتا احترام سے بولا
”مگر بیٹا اتنی جلدی“ مریم بیگم بولی
پھوپھو یہ آپ مجھے سے بہتر جانتے ہے کے رخصتی سے پہلے طلاق ہو جاٸے تو عدت ضروری نہیں ہوتی
اور ویسے بھی اگر نور کچھ دن اور ایسے رہی تو وہ ڈپریشن میں چلی جاٸے گی
اور سوسائٹی میں بھی لوگ عجیب طرح کی بکواس کر رہے ہے
اور میں اُس کی یہ حالت نہیں دیکھا سکتا
وہ سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھتا سر جھکا گیا مگر وہ خاموش رہے
ان کی خاموشی کو وہ انکار سمجاتا اٹھ کے جانے لگا جب عباس صاحب کی آواز سے روکا
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اُن کا ہاتھ امید سے پکڑ کر بولا
”اگر ہمارے بس میں ہوا تو ضرور دے گے“ اپنے بیٹے کو مریم بیگم اس کے ماتھے سے بال ہٹاتی پیار سے بولی
پھو پھو میں آپ کا بیٹا ہو نہ
”بلکل“ آپ ہمارے سب سے پیارے بیٹے ہے
پھوپھو میں یہ جانتا ہو ایسی بات کرنے لڑکے کے گھر سے اُس کے بڑے آتے ہے
مگر ماما ہے نہیں اور پاپا کو میں لانا نہیں چاہتا اس لیے میں خود آیا ہوں
وہ دراصل پھوپھو بات یہ ہے کے میں نور سے شادی کرنا چاہتا ہو
اُسے میں دنیا جہاں کی خوشیاں دو گا کبھی کسی غم کو اُس کے قریب آنے نہیں دو گا
عباس صاحب کی بھی طیبعت خراب رہنے لگی تھی
لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے
جس سے وہ گھر کے ہو کر رہے گٸے آفس بھی حیدر سنبھالتا تھا
______________________________
پھوپھو آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے
وہ کیچن میں عباس صاحب کے لیے چاٸے بنا رہی تھی جب زیب وہاں آیا
”بولو جان کیا بات کرنی ہے“ وہ چاٸے کپ میں ڈالتی بولی
”آپ یہ چھوڑے“ وہ چیزیں وہی رکھتا اُن کا ہاتھ پکڑ کے باہر لاونج میں لے آیا جہاں عباس صاحب پہلے سے بیٹھے آفس کا کوٸی کام کر رہے تھے
مجھے آپ دونوں سے کچھ مانگنا پلیز انکار مت کیجیٸے گا
مگر ہر وقت خاموش رہتی تھی کھانا بھی نمرہ وقت پر کھلاتی تھی
بس خاموشی سے کمرے میں بند رہتی تھی
جس گھر میں پہلے اس کی ہنسی گونجتی تھی وہاں اب بس خاموشی تھی گہری خاموشی
زیب روز اس کے لیے چاکیلٹ لے کر آتا تھا مگر وہ اُس سے بھی کوٸی بات نہیں کرتی تھی
بس چاکیلٹ لے کر وہ اپنے کمرے میں موجود روم فریج میں رکھ دیتی تھی
وہ بھی خاموشی سے اس کو دیکھ کر چلا جاتا تھا
اس واقعہ کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا مگر اُس کی حالت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی
پھر آپ نے اُسے کیوں نہیں مارا وہ میرے پرنس میرے میر کو لے گٸی
وہ اپنی نم سرخ انکھیں اٹھاتی بولی
اور زیب کے پاس اس کا کوٸی جواب نہیں تھا
وہ جانتا تھا اپنے محبوب کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا کتنی اذیت دیتا ہے
وہ یہ اذیت پیچھلے آٹھ سال سے برداشت کر رہا تھا یہاں تو ویسے ہی غم ابھی تازہ تھا
وہ کسی سے بھی کچھ کہے بغیر خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
اگلے دن وہ گھر آچکی تھی
ٹھیک ہے پھر میں یہ چاکیلٹ باہر حور اور نمرہ کو دے دیتا ہوں
”وہ چاکیلٹ اٹھا کر جانے لگا“ جب نور نے اُس کے ہاتھ سے چاکیلٹ چھینی اور پھر ویسے ہی بیٹھ گٸی۔
یہ تو غلط بات ہے پرنسس تم نے تو کھانی نہیں پھر کیوں چھینی ہاتھ سے وہ خفا خفا سا بولا
اس پر بس میرا حق ہے آپ کسی اور کے لیے یہ کبھی نہیں لا سکتے
وہ حق جتاتی اپنی پرانی بات دہراتی بولی
زیب بھاٸی!!! جب کوٸی میرے پرنس کو مجھے سے چھین رہا تھا تو آپ نے کیوں
نہیں روکا
آپ نے کہا تھا نہ کہ آپ میرے پرنس کی حفاظت کرے گے
کوٸی اگر اُسے چوری کرنے آٸے گا تو آپ اُسے بہت مارے گے
پرنسس دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا
وہ چاکیلٹ اُس کے پاس رکھتا بیڈ پر ایک ساٸیڈ پر بیٹھ گیا
”مجھے نہیں کھانی یہ چاکیلٹ“ وہ ایک ساٸیڈ پر کرتی سر گھٹنوں میں رکھ کر بیٹھ گیا
”سوچ لو پرنسس“
سوچ لیا مجھے نہیں کھانی تو نہیں کھانی
مریم بیگم اور عباس صاحب اس کے بچوں جسے انداز میں کہنے پر مسکرا دیے
پکا!!!!! اپنے دوست کی بات نہیں مانو گی
”نہیں“
وہ شکرانے کے نفل پڑھ کے اُس کے لیے چاکیلٹ لایا
جانتا تھا وہ کتنی ہی اداس ہو چاکیلٹ سے دور نہیں رہے سکتی
پھوپھو میں اندر آ جاو وہ دستک دیتا بولا
آ جاو زیب بیٹا
وہ اندر داخل ہوا تو نظر اُس دشمن جان پر گٸی
اُس کی حالت زیب کے دل کو کچھ ہوا زیادہ رونے سے انکیھں سوجی ہوٸی لگ رہی تھی
زرد چہرا اور بکھرے بال ایک دن میں ہی وہ بہت کمزور لگ رہی تھی
”پرنسس“ اس کی آواز سے اُس نے چہرا اٹھایا
انکھیں اب بھی آنسوں سے لبریز تھی
بس کرو چندا عباس صاحب آگے بھر کے اُس کے سر پر شفقت بڑا ہاتھ رکھ کے نم انکھوں سے بولے
پاپا میں نے تو کبھی کسی نا محرم کی طرف نہیں دیکھا 18 سال کی تھی جب ماما نے مجھے بتایا تھا اس نکاح کے بارے میں
تب سے میں نے اپنے آپ کو میر کی امانت سمجھ ہے
وہ کیسے میرا ساتھ بیووفاٸی کر سکتا ہے
میں تو کبھی کسی اور کے بارے میں سوچا نہیں پھر وہ کیسے سوچ سکتے ہے کسی کے بارے میں
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاٸے پھر سے رو دی
”چندا بس کرو“ پھر تمہاری طبیعت خراب ہو جاٸے گی
ڈاکٹر نے منع کیا ہے تمہیں زیادہ رونے سے وہ اُس کے آنسو صاف کرتی
اُسے گلے سے لگاٸے نم لہجہ میں بولی
عباس صاحب بھی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کے ٹوٹ سے گٸے تھے
اس کے ہوش میں آنے کے بعد سب سے پہلے مریم بیگم اور عباس اندر داخل
”وہ خاموش آنسو بہا رہی تھی“ مریم بیگم کا تو دل کاٹ کے رہا گیا اپنی مصوم کی بچی کی حالت دیکھا
عباس صاحب کا بھی کچھ یہی حال تھا
گلابی گالوں میں اب زردی گھل گٸی تھی ہمیشہ چمکنے والی شفا نیلی انکھیں اب ویران تھی
مریم بیگم نے آگے بھر کے اُسے گلے لگایا
اور وہ کسی کا سہارا پاتے ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گٸی
ما۔۔۔۔ما کی۔۔۔کیوں چ۔۔۔چھوڑ دیا م۔۔۔میر ن۔۔۔۔مجھے
شدت سے رونے کی وجہ سے الفاظ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے
می۔۔۔۔میں ت۔۔۔تو اُس س۔۔۔سے ب۔۔۔ بہت پ۔۔۔ پیار کرتی تھی
بس میرا بچہ وہ تمہارے لاٸق ہی نہیں تھا
یہ سچا نہیں ہو سکتا میر کسی اور سے پیارا کرتے ہے
جھوٹ تھا سب وہ پیارا جتانا سب فریب تھا
وہ سڑھیوں پر بیٹھتی چلی گٸی
سب خاموش تھے کسی کے پاس کچھ نہیں تھا کہنے کو
بھاٸی صاحب بتاٸے گے کے کیوں دھوکا دیا میر نے میری بیٹی کو
وہ اُس کے نکاح میں تھی پھر وہ کیسے کسی اور سے شادی کر سکتا ہے
عباس صاحب غم و غصہ سے بولے
اس سب میں پہلی بار تانیہ نے سر اٹھایا جسے یقین کرنا چا رہی ہو جو اُس نے سنا ہے سچا ہے
زیب اس کی حیرانگی دیکھ کر سمجھ گیا کے میر نے اس بھی دھوکے میں رکھا ہے
مریم بیگم زیب کو خاموش بیٹھ دیکھا کر بولی
پھوپھو آپ کو جو بات میں بتانے لگا ہوں پلیز آرام سے سناٸے گا
پھو پھو یہ لڑکی میر کی بیوی ہے اور یہ بچہ بھی اُس کا ہے
اس کی بات سن کر لاونج میں خاموشی چھا گٸی
سڑھیاں اترتی نور نے یہ الفاظ سن کر نمرہ کا سہارا لیا
یہ تم کیا کہا رہے ہو زیب بیٹا عباس صاحب مشکل سے بولے
میں بلکل سچ کہا رہا ہو میں جانتا تھا آپ مجھے پر یقین نہیں کریں گے اس لیے میں سارے ثبوت لے کر آیا ہوں
اُس نے ٹیبل پر تمام ڈوکومنٹ رکھ دیے
جسے کانپتے ہاتھوں سے سب سے پہلے مریم بیگم نے پکڑا
اس سب میں تانیہ بلکہ خاموش بیٹھی تھی
ارے زیب بیٹا یہ کون ہے تمہارے ساتھ زیب کے ساتھ کسی لڑکی اور بچے کو دیکھا کر مریم بیگم نے پوچھا
اسلام و علیکم پھوپھو اُس نے سر جھکا کر اُن سے سلام لیا
وعلیکم اسلام میری جان
”بتایا نہیں کون ہے یہ“ بتاتا ہوں آپ سب گھر والوں کو بلالے پھر میں بتاتا ہوں
اور ہاں رخسانہ پھوپھو کو بھی کال کر دیجٸے گا
وہ صوفے پر بیٹھا بولا ساتھ اُس نے تانیہ کو بھی اشارا کیا بیٹھنے کا وہ بیٹھ گٸی
ایک گھنٹے تک سب وہاں موجود تھے حسن شاہ تانیہ کو یہاں دیکھ کر حیران ضرور ہوٸے مگر خاموش رہے
زیب بیٹا بولو میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے
جسے ان دونوں کے درمیان دڑرا آگٸی ہو
آپی ایم سوری یہ سب اچانک ہو گیا نمرہ اُس کے ہاتھ سے تصویر لے کر اُس کے پاس زمین پر بیٹھا گٸی
میں ابھی حیدر سے فریم مانگا کر ٹھیک کر دیتی ہو
وہ نور کو ساکت بیٹھا دیکھا کر بولی
”ہمممم چلو نیچے چلے نمرہ“ اُس نے جب نمرہ کو رونے کی تیاری کرتے دیکھا تو بولی
مگر اندر سے وہ بہت ڈر گٸی تھی ایک انجان سا خوف تھا کسی کو کھونے کا
پھر اپنا وہم سمجھ کے نیچے آ گٸی
مگر یہ وہم حقیقت بن کر کچھ دیر بعد اُس کے سامنے ہونا تھا
______________________________
آپی بس بھی کریں کب سے یہ ناول پڑھ رہی ہے
اپنے مایوں کا ڈریس چیک کر لے یار
وہ اُس کے کمرے میں چوتهی دفعہ آچکی تھی
مگر نور میڈم کا ناول ہی ختم نہیں ہو رہا تھا
نمرہ بس دو منٹ!!!!! آپی وہ غصہ سے اس کی طرف بھری
اور اس کے ہاتھ سے ناول کیھنچا لیا
اب نمرہ آگے آگے اور نور پیچھے تھی وہ دونوں پورے کمرے میں اچھل کود کر رہی تھی
نمرہ بیڈ پر چڑنے لگی جب ساٸیڈ ٹیبل پڑی میر اور نور کے نکاح کی تصویر نیچے گر گٸی
جہاں نمرہ ساکت ہوٸی وہاں ہی نور کے قدموں کو بھی بریک لگی
نور نے نیچے بیٹھ کر تصویر کو اٹھایا تو شیشہ ان دونوں کے درمیان میں سے ٹوٹا تھا
عباسی ہاوس میں تیاریاں عروج پر تھی تمام نوکروں کی ڈورے لگی تھی
آخر کو اس گھر کی لاڈلی بیٹی کا نکاح جو تھا
عباس صاحب بھی سب مہمانوں کو دعوت نامہ دینے میں مصروف تھے
اور ساتھ خوش اور اداس بھی تھے کہ اُن کے آنگن کی رونق کسی اور کے گھر میں جانے والی ہے
یہ بیٹیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہے
اُن کا روٹھنا چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا
سب کا خیال رکھنا کتنا اچھا لگتا ہے اور پھر وہ ایک دن اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے
یہ تم کیا کر رہے ہو زیب وہ ٹوٹ جاٸے گی نہیں برداشت کر سکے گی اُس کی بے وفاٸی اندر سے کہی آواز آٸی
زندگی بھر کے غم سے آزاد کر رہا ہوں اُسے اگر بعد میں پتہ لگا تب بھی وہ برداشت نہیں کرٸے گی
اس لیے اب ہی صیح وقت ہے
دل نے جواب دیا
تم دیکھا نہیں سکو گے اُس کا رونا ٹوٹنا اس لیے رہنے دو
”دماغ نے کہا“ نہیں اُسے میں ٹوٹنے ہی نہیں دو گا
وہ میری پرنسس ہے بہت بہاد ہے
دل نہ کہا!!!! دل اور دماغ کی جنگ میں وہ بری طرح اُلجھا ہوا تھا
اسی سوچ میں وہ اندر داخل ہوا اور پیچے مرے مرے قدموں سے وہ آ رہی تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain