موبائل دو اپنا مجھے
میں کہا دو اپنا موبائل مجھے وہ غصہ سے غرایا
اُس نے موبائل اُس کے ہاتھ میں رکھا دیا
وہ اتنا ڈر گٸی کے کچھ بول بھی نہ سکی
اور گاڑی پھر سے اپنی منزل کی طرف چل پڑی
ایک بہت خوبصورت گھر کے آگے اُس نے کار روکی
نیچے اترو وہ پھر سے بولا آواز ویسی ہی سرد تھی
جو اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساراہٹ پیدا کر رہی تھی
اندر جا کر کوٸی ہوشیاری نہیں کرنی بس جو میں کہوں گا وہ کرتی جانا
اُس نے قدم اندر کی جانب بھرٸے ہر قدم اُس من من بھاری لگ رہا تھا
وہ شایان کو اپنے ساتھ بیٹھا کر موبائل میں بزی ہو گٸی
تھوڑی دیر بعد جب اُس نے باہر دیکھا تو یہ کوٸی اور راستہ تھا
یہ تم کہاں لے کر جا رہے ہو ہمیں وہ حواس باختہ سی بولی
مگر دوسری طرف خاموشی تھی
”بولتے کیوں نہیں“
”دیکھو تم میرے ہسبنڈ کو نہیں جانتے وہ بہت برا سلوک کرٸے گے تمہارے ساتھ “مگر وہ اب بھی خاموش رہا
بیک مرر میں دیکھا تو وہ کسی کو کال کر رہی تھی
گاڑی ایک جھٹکے سے روکی
اگر تم نے کوٸی بھی ہوشیاری کی تو تمہارے بیٹے کے لیے اچھا نہیں ہو گا
سرد آواز میں بولتا وہ گن کا رخ بچے کی طرف کر گی
”بے بی“ تمہیں ایک بات سمجھ کیوں نہیں آرہی میں بکواس کر رہا ہوں
اس کے دوبار بولنے پر وہ درشتگی سے بولا
اس کے غصہ سے بولنے سے اُس نے شایان کو اٹھایا اور اپنا بیگ اٹھ کر روم سے چلی گٸی
”مسز میر حسن“ وہ پارگنگ میں آٸی تو کسی نے پیچے سے اُس آواز دی۔
جی آپ کون؟ میں آپ کا ڈراٸیور
میر سر نے کہا ہے کہ آپ کو شاپنگ پر لے کر جانا ہے
ہمممم وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھا گٸی
اس انسان کی مجھ کبھی سجھ نہیں آتی وہ بڑبڑاٸی
اور اتنے نوکر ہے گھر میں تنہا کہاں ہے آپ اس ٹوپک پر بعد میں بات کرتے آپ انجوے کرٸے
وہ اُن کا دل چھلنی کرتا چلا گیا اور وہ اُسے جاتا دیکھتے رہے
______________________________
میر اٹھ بھی جاٸے یار 2 بج گٸے ہے
کیا ہے کیوں تنگ کر رہی ہو غصہ سے کہا
بے بی شاپنگ کرنے جانا ہے پلیز اٹھو فریش ہو جاو
”نہیں یار“ وہاں والٹ میں میرا کرڈیٹ کارڈ پڑا ہے تم اکیلی چلی جاو
”تم کون سا پہلی دفعہ آٸی ہو“ مگر بے بی میں اکیلی شایان کو کیسے سنھبالو کی
تانیہ میری جان مجھے ایک بہت ضروری کام ہے اس لیے تم اکیلی چلی جاو
اور اب مجھے سونے دو
تمہارا انعام تمہارے گھر پہنچ جاٸے گا
شکریہ سر
وہ فون بند کرتا مسکرا دیا انکھوں میں انوکھی سی چمک تھی
وہ شرٹ پہنتا گاڑی کی چابی اٹھ کمرے سے باہر آیا
”زیب کہاں جا رہے ہو“ جمشید صاحب لاونج میں اخبار پڑھ رہے تھے جب زیب سڑھیاں اترتا نظر آیا
پہلی بات آپ مجھے پر کوٸی حق نہیں رکھتے
دوسری بات میرا موڈ بہت اچھا ہے اس لیے صبح صبح میں اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا
اس لیے مجھے سے بات نہ ہی کریں تو اچھا ہے
”بیٹا معاف نہیں کرو گے اپنے باپ کو“ یہ تنہاٸی مجھے مار ڈالے کی
”وہ زخمی مسکرایا“ اچھا ڈرامہ کر لیتے ہے آپ فلموں میں کام کیوں نہیں کرتے اور ویسے بھی ابھی آپ نے تنہاٸی دیکھی کہا ہے“
وہ واشروم سے فریش ہو کر نکلا“ جب اُس کا موبائل بجا
تولیہ گردن میں ڈالتا سکرین پر چمکتا نام دیکھا کر اُس نے کال ریسو کی
”ہاں بولو اکرم پتہ لگایا اُس لڑکی کا“ وہ فون سپیکر پر لگاتا اپنے آفس کی تیاری کر رہا تھا
”جی سر وہ میر حسن شاہ کی پہلی بیوی ہے “اور اُن کا ایک بچہ بھی ہے
نکاح نامہ کے مطابق شادی کو پانچ سال ہو گٸے ہے
”گڈ“ زیب کی آنکھیں چمکی۔کہاں ٹھری ہے یہ محترمہ
سر کسی ہوٹل میں روکی ہے۔ اوکے تم مجھے اڈریس سنڈ کرو جلدی
اور ایک اور کام سارے امپوٹنٹ ڈوکومنٹ لے کر پہنچو یہاں جلدی
”اوکے سر“
ہمممم تم چلو میں آتا ہوں“ وہ سگریٹ پاوں سے مسلتا اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بولا
”نہیں تم بھی چلو“ وہ اُس کی گردن پر ہونٹ رکھ کر بولی۔
”جان تم جاو نہ دیکھوں شایان اکیلا ہے ڈر جاٸے گا“
نہیں!!! تم جانتے ہو اس ایک مہینہ میں میں کتنا مس کیا ہے تمہیں وہ اسے اپنی طرف موڑتی بولی“
”کتنا کیا ہے وہ اُس کی انکھوں میں دیکھتا بولا“
بہت زیادہ!!! اُس کے گلے میں بازو ڈالے محبت سے بولی
”میر اس کو گود میں میں لیے بیڈ روم میں لایا اور اس کو بیڈ پر لیٹا کر اس پر جھک گیا اور اُس میں کھونے لگا“
مگر آنے والا دن اس کے لیے اچھا ثابت نہیں ہونا تھا
قسمت کو کچھ اور منظور تھا
ایک دیوانے کو اُس کی دیوانگی کا صلہ ملنے والا تھا
یہ لگژری ہوٹل کا روم تھا وہ بالکنی میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا“
”جسے اپنے اندر بھرتے غصہ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو“
”تانیہ کا یہاں آنا اُسے زرا پسند نہ آیا وہ ابھی یہ سکنڈل افورڈ نہیں کر سکتا تھا“
”تانیہ سے اُس کی شادی تقریبا 5 سال پہلے ہوٸی تھی وہ اُس کے بزنس partner کی بہن تھی“
”اور میر کو بھی پسند تھی اس لیے انہوں نے شادی کر لی“
ابھی وہ آگے کا لاٸل عمل سوچ رہا تھا ۔
”جب کسی نے اُس کے گرد حصار بنایا اور اُس کے کندھے پر سر رکھا دیا“
”بے بی سونا نہیں وہ کندھے پر سر رکھے پیار سے بولی“
اس لیے دھیان سے کام کرنا کہی آخری کام نہ ہو تمہارا“
وہ سرد آواز میں بولتا فون بند کر گیا
وہ اطمینان سے آنکھیں موندھے سیٹ کی پشت پر سر ٹھکا دیا
”تمہیں مجھے سے جدا کوٸی نہیں کر سکتا پرنسس“
اب بہت جلد تم صرف میری ہو گی صرف زیب کی
”خون کی طر ح گردش کرتی ہو تم میرے جسم میں“
”بس اب کل کا شدت سے انتظار ہے جب میرا شک یقین میں بدلے گا“
وہ منہ میں بڑبڑاتا مسکرا دیا
”موبائل سے اُس نے حور کو میسج کر دیا کے وہ مصروف ہے اس وجہ سے آج وہ وہی رہے پھوپھو پاس“
”اب بس وہ کل کا انتظار کر رہا تھا کیوں کے نیند تو اب اِسے نہیں آنی تھی“
مس یو ٹو جان“ پھر میر نے اپنے بیٹا کا بوسہ لیا
چلو باقی بات بعد میں کرتے ہے
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا گاڑی کے قریب لایا
پھر آرام سے شایان کو پچھلی سیٹ پر لیٹا کر وہ ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھا اور ساتھ اس کے تانیہ بیھٹی گٸی
______________________________
”ہیلو اکرم “
”جی سر“ میں تمہیں ایک تصویر بھیجا رہا ہو کل تک مجھے اس کی پوری انورمیشن چاہیے
”اوکے سر“
اور اگر تم یہ کام نہ کر سکے تو اپنے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے
وہ اٸیرپورٹ پر پہنچا تو وہ وہی چیٸڑ پر بیٹھی اس کا ویٹ کر رہی تھی“
دیکھنے میں وہ تقریبا 22 سال کی خوبصورت لڑکی تھی.
بلیک بال جو سٹیپ میں کاٹے اس کے کندھوں سے تھوڑے نیچھے تک آتے تھے
اور براون آنکھیں جو دیکھنے والوں کو اپنی طرف ضرور متوجہ کرتی تھی
ان میں موجود چمک جو زیادہ میر کو دیکھنے پر آتی تھی
جینز اور ریڈ شرٹ پہنے خاصی بولڈ لگتی تھی
اسے آتا دیکھ وہ اُس کے گلے لگی
”آٸی مس یو بے بی“ میں تمہیں بہت یاد کیا اس کے گرد اپنے بازو کا حصار بنا کر بولی
زیب جو میر کے بلکہ سامنے بیٹھا تھا اس کا بار بار کال کاٹنا اور چہرے پر موجود ڈر اور پریشانی کو وہ کب کا نوٹ کر رہا تھا
اس کے دیکھنے پر وہ زبردستی مسکراتا اٹھ کر باہر لان میں چلا گیا
جب زیب بھی اس کے پیچھے گیا اور تھوڑے فاصلہ پر کھڑا ہو گیا
جہاں سے اُس کی آواز صاف سناٸی دے رہی تھی
اندھیر ہونے کی وجہ سے وہ زیب کو نہیں دیکھا سکتا تھا
اس کی باتیں سنے کے بعد اُس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آٸی
اب پرنسس صرف میری ہو گی
اُسے گاڑی لے جاتا دیکھا زیب بھی اُس کے پیچھے گیا
وہ میر کو غصہ میں دیکھا کر وضاحت دیتی بولی
”تو جان تم مجھے کال کر کے بتاتی تو“
میر بھی ایک دم ٹھنڈا ہوا
”کیسا ہے اب میرا شیر“ ٹھیک ہے وہ ناراضگی سے بولی
اوکے تم ویٹ کرو میں آتا ہوں
وہ پیشانی مسلتا گاڑی میں بیٹھا اور چل دیا
اور ایک وجود کھل کے مسکرایا
”اب یہ کیوں کال کر رہی ہے“ میر پریشانی سے اٹھ کر باہر لان میں آ گیا
”کال ایک دفعہ پھر آنے لگی“ ہیلو میر ڈرالنگ کسی کی خوشی سے بھرپور آواز سناٸی دی
جان کیوں بار بار کال کر رہی ہو سب ٹھیک ہے
”ہاں ٹھیک ہے سب میر“تم مجھے اٸیرپورٹ سے پک کر لو پلیز بےبی
کون سے اٸیرپورٹ سے کہاں ہو تم تانیہ
میں لاہور اٸیرپورٹ پر کھڑی ہو
باقی باتیں بعد میں کرنا ابھی پلیز
جلدی آو شایان سو گیا ہے اور میں بھی بہت تھک گٸی ہوں
تم اتنی رات کو کیا لینے آٸی ہو عقل ہے کے نہیں
”وہ غصہ سے آہستہ آواز میں بولا “ میر وہ شایان آپ کو بہت یاد کر رہا تھا اور اُسے ایک ہفتہ سے بخار بھی ہے اس لیے آ گٸی
جی پاپا“ وہ مسکراتی ہوٸی کچن میں داخل ہوٸی
جہاں نور سرخ چہرا لیا کھڑی تھی
افف آپی آپ کا یہ شرمانہ مار ڈالا مجھے وہ دل پر ہاتھ رکھتی بولی
شادی کی رات میر بھاٸی کی خیر نہیں وہ اُسے چھڑتے بولی
نمرہ میں ماما کو آواز دے دینی ہے
اوکے اوکے وہ جلدی سے مھٹاٸی لے کر چلی گٸی
اور پیچھے وہ مسکراتی رہی
مگر کون جانتا تھا یہ مسکراہت صرف کچھ پل کی ہے
جسے جیتنے کی خوشی ہو
”درد کی ایک لہر دل میں اٹھی“ تو کیا موت اتنی قریب ہے
دل میں سوچتا پھر سے موبائل میں متوجہ ہو گیا
اور کمال ضبط سے خود کو سنھبال گیا
مگر بھاٸی صاحب اتنی جلدی بھی کیا ہے
ہمیں نور کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے وہ اُن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے اُن کی پریشانی دور کر گٸے
مگر پھر بھی ہم بیٹی والے ہے کچھ تو تیاری کرنی ہو گی
سب تیاریاں ہو جاٸے گی آپ بس منہ میھٹا کرواٸے
”جی جی ضرور بھاٸی صاحب“ جاو نمرہ بیٹا مٹھاٸی لے کر آو
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا سب لاونج میں بیٹھے چاٸے سے لطف اندوز ہو رہے تھے
جی تو حسن صاحب!!! ہماری بیگم کی خواہش کے مطابق نکاح کی رسم ایک دفعہ پھر سے ادا کی جاٸے
تو بتاٸے کون تاریخ رکھی جاٸے نکاح کی
عباس صاحب چاٸے کا کپ ساٸیڈ پر رکھتے بولے
ہمارے مطابق پرسوں جمعہ کے روز نکاح اور مایوں کی رسم ادا کر دی جاٸے اور پھر مہندی اور بارات
حسن شاہ چاٸے کی چسکی لیتے بولے
زیب کے موبائل پر چلتی انگلیاں ساکت ہوٸی
سر اٹھا کے اُس نے میر کو دیکھا جو اِسے دیکھا کر مسکرا رہا تھا
کسی کی آواز پر یادوں کا تسلسل ٹوٹا
”زیب بھاٸی آجاٸے“ ماما آپ کا کھانے پر ویٹ کر رہی ہے
اوکے تم چلو میں آتا ہوں
نہیں ناراض“ میری چاکیلٹ دے
نہیں تم تو ناراض ہو نہ وہ میں حور اور نمرہ کو دے دو گا
وہ غصہ سے گھورتی ساٸیڈ ٹیبل تک آٸی اور چاکیلٹ نکال کر جانے کے لیے موڑی
مگر پھر زیب کی طرف دیکھا
یہ چاکیلٹ بس میری ہے آپ بس میرے لیے ہی لا سکتے ہے آٸی سمجھ
”انداز حق جتانے والا تھا“ جی میڈم وہ سر کو خم کرتا بولا
یہ لڑکی محبت تھی زیب لغاری کی جو آہستہ آہستہ شدت پکڑتی جا رہی تھی
مگر سامنے موجود لڑکی اس سے بےخبر
تھی
آپ اب مجھے سے بات ہی نہ کریں“ وہ ناراضیگی سے بولی
اپنے دوست کو معاف نہیں کرو گی وہ چہرے پر مصومیت سجاتا بولا
”نہ ہی بولو گی“ اور نہ بات کرو گی
سوچ لو پرنسس!!!!! پھر جو ساٸیڈ ٹیبل کے دراز میں چاکیلیٹ ہے
وہ تجس پھیلتا جا کر بیڈ پر بیٹھا گیا
اس کے عین مطابق وہ بھی اس کے سامنے کھڑی سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
وہ جانتا تھا چاکیلیٹ کی تو وہ دیوانی
کہا ہے چاکیلیٹ وہ اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلتی بولی
میں کیوں بتاو تم تو ناراض ہو نہ مجھے سے وہ چہرا دوسری طرف موڑ گیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain