پرنسس مجھے کام کرنا ہے تم انجوے کرو“ وہ اس کی نرم گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑاونے لگا
”نہیں آپ چل رہے ہے تو بس چل رہے“ اُس نے پھر سے ہاتھ پکڑ لیا
انداز دھونس جمانے والا تھا
میں کہا نہ میں نے نہیں جانا سمجھ نہیں آتی تمہیں اب کی بار وہ مضوعی غصہ سے بولا
مگر نور کو اس کا لہجہ پسند نہ آیا وہ بھراٸی انکھوں سے اس کو دیکھتی کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوٸی
افففف وہ کیسے ناراض کر سکتا تھا اپنی پرنسس کو
اُسے اپنے آپ پر شدید غصہ آیا
پرنسس!!!! زیب نے اُسے پکارا
ماضی کی ایک جھلک زہن کے پردے پر آٸی
”زیب بھاٸی چلے نہ دیکھے کتنا اچھا موسم ہے“
16سال کی نور21 سال کے زیب سے کہا رہی تھی
پرنسس میں کتنی دفعہ کہا ہے دروازہ نوک کر کے آیا کرو
وہ بیڈ پر بیٹھا اپنی یونيورسٹی کا کوٸی کام کر رہا تھا
جب اچانک وہ جمپ کر کے بیڈ پر بیٹھا گٸی
بھاٸی دیکھا باہر بارش ہو رہی ہے سب انجوے کر رہے ہے اس کی بات کو نظر انداز کرتی اس کی چیزیں سمیٹنے لگی
”چلے ٹیریس پر پلیز“ وہ اُس کا ہاتھ کھنچ کر بولی
”
ہاں مگر میرے چاند سے کم “وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا بولا
آہستہ سے اُس کے ماتھے پر بوسا دیا جس کو نور نے انکھیں بند کر کے اپنے اندر اترا
بس اب جلدی سے میری ہو جاو اب انتظار زارہ مشکل لگتا ہے
اس کی بات پر وہ شرم سے سرخ چہرا جھکا گٸی
جس میر دلچسپی سے دیکھا رہا تھا
_____________________________
وہ لان میں چیٸر پر بیٹھا سموکنگ کر رہا تھا شاٸیڈ اپنے اندر بھرتے اشتعال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا
سگریٹ کو پاوں سے مسلتے وہ کرسی کی پشت پر سر ٹھکا کے انکھیں بند کر گیا
اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کیے
اس کے ایسا کرنے سے وہ اندر تک کانپ گٸی
”میر وہ آہستہ سے بولی“ وہ سب کھانے پر ہمارا ویٹ کر رہے ہے
وہ ایک دفعہ پھر اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
مگر وہ تو کچھ سن ہی نہیں رہا تھا بس اُس کے چہرے پر پھیلی لالی اور حیا سے اٹھاتی گرتی پلکیں وہ مہبوت سا رہا گیا
وہ آہستہ سے اس کے چہرے پر جکھنے لگا جب نور نے اس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی اسے پیچھے دھکا دیا اور ہنستے ہوے بالکنی کی طرف چل دی
” دیکھے میر چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے“ وہ اُس کے بات بدلنے پر ہلکا سا مسکرا دیا
وہ اپنے کمرے طرف جا رہی تھی، جب کیسی نے اُس کا بازو کمرے کے اندر سے کیھنچا اور اندر داخل کے دروازہ بند کر دیا
نور تو اس حرکت سے بوکھلا گٸی اور اپنی نیلی انکھیں اٹھا کر دیکھا
”جو دلکشی سے دیکھا رہا تھا“ یہ کیا حرکت تھی میر وہ کچھ خفگی سے بولی
میں کتنا ڈر گٸی تھی وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے بے ترتيب ہوتی دھڑکنوں کو سنھبال کر بولی
”تم جانتی ہو کے مجھے تمہاری یہ نیلی گہری انکھیں بہت پسند ہے“ وہ اُس کی پلکیں اپنی انگلی سے چھو کر کان میں سرگوشی کر گیا“اور اُس کی کان کی لو چوم لی
میر کے اس طرح کرنے سے نور کو جسے کرنٹ لگا تو وہ اُسے پیھچے کرنے لگی
اور اُس کے بعد پاپا ہم سے دور چلے گٸے تھے
انہیں حور تک کا خیال نہ رہا کہ وہ کتنی چھوٹی ہے بس اپنا غم بھلانے چلے گیے وہ
وہ غم سے اپنے اکلوتے بھتجے کو دیکھا رہی تھی جس کے نصیب میں خوشیاں بہت کم آتی تھی
”یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے“ایک بات کہوں میری جان بیٹا انتظار اتنا لمبا نہ کروانہ کے بعد میں تم کو پچھتانا پڑے
”جی“
وہ بس اتنا بولا اور لان کی طرف چل دیا
______________________________
”یہ میر کہا چلے گٸے“ وہ میڈ کو کھانا لگنے کا کہتی کب سے میر کو تلاش کر رہی تھی
اب انہیں کیا بتاتا ہاتھ سے زیادہ تو دل میں درد ہو رہا ہے
نور ہاتھ کی بنڈیج کر کے سب کے لیے کھانا لگنے چلی گٸی تھی
”اچھا میری جان آج تم یہی روک جانا“ کوٸی خاص وجہ ہے پھوپھو
ہاں تم سے ضروری بات کرنی ہے بھاٸی صاحب کی طرف سے
مگر میں اب اس ٹوپک پر بات نہیں کرنا چاہتا وہ دو ٹوک لہجہ میں بولا
زیب بیٹا وہ باپ ہے تمہارا، اور میں بیٹا ہوں اُن کا وہ نظریں اٹھا کر بولا
جسے میں نے 12 سال انتظار کیا ہے باپ کے لمس کا وہ بھی انتظار کریں میرے دل کے موم ہونا کا
آپ جانتی ہے نہ دو مہینہ کی تھی حور
جب ماما کا انتقال ہوا تھا
پاگل! کیسے گزرے گی تیری زندگی ابان
اپنی سوچ پر وہ خود ہی ہنس دیا
وہ آہستہ سے بڑابڑایا، بس بھاٸی کی شادی ہونے دو پھر میں کرتا ہو انتظام تمہیں اپنا بنانے کا
__________________________
پرنسس بس بھی کرو اتنی بھی چوٹ نہیں لگی جتنی تم نے پٹی کر دی ہے
اس کے کہنے پر نور نے ایک بار گھور کر دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گٸی
زیب بیٹا یہ کیا حرکت تھی دیکھے کتنی چوٹ لگ گٸی
رخسانہ بیگم پریشانی سے اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
سوری پھوپھو اچانک ہو گیا پتا نہیں چلا وہ آہستہ سے بولا
ابان چوہا!!! نمرہ زور سے بولی اور وہاں ابان کو بھی بریک لگی
کہا ہے!! وہ وہی کھڑا بولا
دیکھو نمرہ میں تو مزاق کر رہا تھا تم تو میری اچھی سی پیاری کزن ہو
تمہیں پتا ہے نہ چوہے کتنے گندے ہوتے ہے اور مجھے زرا بھی اچھے نہیں لگتے ۔
”بتاو نہ کہا ہے چوہا“ مگر نمرہ اُس کے پیچھے کھڑی ہنسی سے پاگل ہو رہی تھی
”ہاہاہاہا ابان یار تم ابھی بھی چوہے سے ڈرتے ہو“ وہ ہنسی کے درمیان بولی
”روکو تم چوہیا تم میرے ساتھ مزاق کر رہی تھی“ ابان کو جب اس کی شرارت سمجھ میں آٸی تو وہ اس کو پکڑنے کے لیے بھاگا
جب تک وہ سڑھیاں اتر کر نیچھے بھاگ چکی تھی
مگر وہ کسی کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا “
اپنے لیے بندر کا لفظ سُنا اُسے کچھ ہضم نہ ہوا اس لیے وہ بھی حساب برابر کرتا بولا
”اگر میں بندر ہوں تو تمہاری شکل بھی چڑیلوں سے ملتی ہے “
ہیں میری شکل کہا سے چڑیلوں سے ملتی ہے وہ اپنے چہرے کو چھو کر بولی
مگر جب ابان کو ہنسی ضبط کرتے دیکھا تو وہ غصہ سے اس کی طرف لپکی
”میں تمھارا خون پی جاو گی“ دیکھا میں تو پہلے ہی کہا تھا کہ تمہارا سارے کام چڑیلوں والے ہے
وہ اُسے چڑا رہا تھا اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا
روکو تم!!! وہ اُس کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور وہ پورے ٹیریس میں یہاں سے وہاں جا رہا تھا
”تم یہاں کیا کر رہی ہو“ ابان نے ٹیرس پر کھڑی نمرہ سے کہا
جو اپنے خیالوں میں گُم چاند کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
اس کی آواز پر ڈر کے ایک دم پیچھے دیکھا
کیا ہے تمہیں مسٹر بندر ہر وقت کیوں میرے پیچھے پڑے رہتے ہو
یہ بندر کس کو کہا تم نے وہ دانت پیس کر بولا
یہاں تمہیں کوٸی اور نظر آ رہا ہے وہ زار اس کے قریب ہو کر مسکراہٹ دبا کر بولی
”وہ بچارا تو صدمے سے اُسے دیکھا رہا تھا“
ابان شاہ جس پر یونيورسٹی کی ہر لڑکی مرتی تھی کالی گہری آنکھیں اور اچھے سے سیٹ کیے براون بال اور مغرور چل جو اُس کی پرسنلیٹی پر سوٹ بھی کرتی تھی
”
جسے دیکھا کر نور کے گال گلابی ہو گٸے
”کیوں تم مجھے سے پیار نہیں کرتی نور کبھی اپنے اس دیوانہ کی طرف بھی دیکھو“
ہاتھ میں پکڑے گلاس پر اُس کی پکڑ مضبوط ہوتی جا رہی تھی
ایک دم گلاس ٹوٹ گیا اور کانچ کے ٹکڑے اُس کے ہاتھ کو زخمی کر گٸے
زیب بھاٸی یہ کیسے ہوا آپ کا دھیان کہا ہے
نور اُس کے قریب پہنچ کر ہاتھ پکڑ کے بولی
کچھ نہیں ہوا چھوٹا سا زخم ہے خود ہی ٹھیک ہو جاٸے گا
وہ اپنا ہاتھ کھنچ کر بولا
”
حیدر جاو روم سے فاسٹ اڈ باکس لے کر آ و
”نور آپی آپ یہاں چھپ کر بیھٹی ہے باہر کوٸی بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہا ہے“
”نور اپنے خیالوں میں گم مسکرا رہی تھی “جب نمرہ بوتل کی جن طرح حاضر ہوٸی
”میں بس آ ہی رہی تھی“ تو چلے پھر کب سے بھاٸی آپ کا انتظار کر رہے ہے
وہ شرارت سے بولی اور نور کے بلش کرنے لگی
وہ باہر آ کر رخسانہ بیگم کے پاس بیھٹا گٸی
ماشااللہ ہماری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے وہ اُس کا ماتھا چوم کر بولی
اس کے بلکہ سامنے میر بیھٹا آنکھوں میں چاہت کے دیپ جلاٸے اِس دیکھ رہا تھا
بد تمیز زرا تمہیں شرم نہیں ہے وہ اُس کے کان کنچھتی ہوٸی بولی
جس سے وہ ہنس دیا، آپ دونوں تو میری پیاری سی پھوپھو ہے
اچھا اب زیادہ مسکے لگنے کی ضرورت نہیں
سوری پھوپھو بس بزی تھا اور کام کا پریشر بہت تھا
اور کیسے ہو میر تم وہ اُس سے بغل گیری ہوا
تم سناو!!! میں بھی ٹھیک شکر ہے اللہ کا
ہر وقت ہم مصوم بچوں کو ڈراتی رہتی ہے
ہاہاہاہاہا اس کی بات پر میر ہنس دیا
تھوڑی دیر بعد زیب اور حور اندر آتے دیکھاٸی دیے
اسلام و علیکم پھوپھو اُس نے پہلے آداب سے رخسانہ بیگم کے آگے سر جھکایا اور پیار لیا
پھر مریم بیگم کے آگے سر جھکایا اور اُن سے بھی پیار لیا
”وعلیکم اسلام“ جلدی نہیں آگٸے تم زیب
مریم بیگم کا انداز خفا خفا سا تھا
ہاٸے پھوپھو ہم آپ کی اسی ادا کے تو دیوانے ہے وہ دل پر ہاتھ رکھتا بولا
جس سے سب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گٸی
مگر اس کی نظر جس کو تلاش کر رہی تھی وہ موجود نہ تھی
اسلام و علیکم اُس نے سب کو مشترک سلام کیا اور جا کر صوفے پر بیٹھا گیا
”کیسا ہے ہمارا شیر مریم بیگم میر کا ماتھا چوم کر بولی“ بلکل ٹھیک خالہ
خالو کہا ہے؟ ابان نے پوچھا
اُن کی ضروری میٹنگ تھی بس آتے ہوگے مریم بیگم نے جواب دیا
اور کیسے ہے میر بھاٸی، حیدر اُس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
میں ٹھیک تم سناو کیسی چل رہی ہے اسٹڈی
بس چل رہی ہے آپ کی جو مسز ہے وہ سکون سے رہنے ہی نہیں دیتی
mere reletives main Death ho gai hai jis ki waja se main kuch din novel post nahi kr paaongi
کالے رنگ کے شلوار قمیض میں ہمیشہ کی طرح بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
موبائل پر کسی سے بات کرتے مغرو سا شہزادہ
میر کو کسی کی نظروں کی تپیش محسوس ہوٸی تو اُس نے اوپر دیکھا
جہاں وہ کھڑی مسکرا رہی تھی گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ خود بھی ایک گلاب لگ رہی تھی
نیلی انکھیں جھکی ہوٸی تھی جو میر کے دل کو بے چین کر رہی تھی
”اس کے دیکھنے پر وہ اندر بھاگ گٸی“ میر اس کی حرکت پر مسکرا دیا
وہ اندر داخل ہوا جہاں رونق لگی تھی
کچھ نہیں جاو، وہ اُس کے سر پر چیت لگاتا بولا
______________________________
”وہ پنک کلر کی شلوار قمیض میں موجود ٹیرس پر کھڑی بے صبری سے انتظار کر رہی تھی“
ہوا سے اس کی بالوں کی کچھ آوارہ لٹیں اس کے خوبصورت چہرے کو چھو رہی تھی
نیلی آنکھوں میں بے چینی واضع تھی
تھوڑی دیر گزری جب نور کو گاڑی گیٹ سے داخل ہوتی نظر آٸی
گلابی لب مسکرا دیے، وہ گاڑی سے اتراتا ہوا نظر آیا
نہیں ہے وہ میر کی وہ صرف میری صرف میری سمجھ آٸی
”وہ زور سے دھاڑا “ جس سے حور ڈر کر پیچے ہوٸی
سوری گڑیا میں تمہیں ہرٹ کر دیا جب زیب کو اپنے لہجہ کا احساس ہوا
اور حور کو آنسو بہتا دیکھا تو اپنے رویہ کی معافی مانگی
ایک وہی تو تھی اُس کی اپنی اُس جان جس کو اس نے ماں باپ بن کر پالا تھا
”ریلی سوری گڑیا“ وہ اُس کے آنسو پونچھتا اپنے کان پکڑ کے بولا
”جس سے وہ مسکرا دی“ چلو تم تیار ہو پھر چلتے ہے۔
اور پاپا کو بھی بتا دینا اگر اپنی بہنوں سے ملنا چاہتے ہے تو آ جاٸے زیب نے زرا تلخی کہا
”اوکے جی اور حکم سر “ وہ تھوڑا جھک کر بولی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain