بھاٸی آپ بھول گیا کیا؟ جب وہ کچھ نہ بولا تو حور نے اُس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھا ”بھاٸی“
ہمممم کیا کہا تم نے
بھاٸی آپ کا دھیان کہا ہے ”طبیعت ٹھیک ہے آپ کی“ وہ اُس کا ماتھا چھو کر بولی
”گڑیا ایسا کیوں ہوتا ہے جس سے میں پیار کرتا ہو اپنا سمجھتا ہو وہ دور کیوں چلے جاتے ہے“
وہ آسمان کی طرف دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا
پہلے ماما چھوڑ کر چلی گٸی پھر پاپا کو بھی ہمارا خیال نہ آیا، اور وہ بھی اپنا غم بھولنے ہمیں چھوڑ کر چلے گٸے
اور اب نور بھی مجھے سے دور جا رہی ہے
”کیسے روکو میں اُسے“ کیسے شامل کرو میں اپنی زندگی میں، وہ حور کی طرف دیکھتا بولا انکھیں ضبط سے سرخ ہو
بھاٸی سنبهالے خود کو جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے ، نور کبھی آپ کے نصیب میں نہیں تھے
وہ تو بچپن میں ہی میر بھاٸی کی ہو گٸ تھی
بھاٸی یہ کیا کمرے کا حال بنایا ہوا ہے“ وہ زیب کو گھورتی ہوٸی بولی
”کچھ نہیں ہوا گڑیا بس غصہ آ گیا تھا“ وہ سگریٹ سُگلتا ہوا بولا
”وہ غصہ سے گھورتی نورا کو آواز دینے لگی“ جی چھوٹی بی بی
نورا تم یہ بھاٸی کا کمرا جلدی سے صاف کرو،اور بھاٸی آپ جلدی سے ریڈی ہو جاٸے
کیوں کہی جانا ہے کیا؟ وہ صوفے سے اٹھا کر باہر بالکنی میں چلا گیا
”حور بھی اُس کے پیچے گٸی“ بھاٸی پھوپھو کی دو دفعہ کال آ گٸی ہے
”تو پھر کیا ہوا وہ دور آسمان پر دیکھتا بولا جہاں شام کے ساٸے لہرا رہے تھے“
بلکہ ویسے جسے اُس کی زندگی میں اندھیر پھیل گیا تھا
کچھ کہا کیا تم نے میر گاڑی میں بیھٹے ہوے ابان سے پوچھا
نہیں تو میں نے کیا کہنا ہے
______________________________
بھاٸی!!!! صبح جب حور کافی لے کر آٸی تو اُس نے دروازے پر دستک دی مگر زیب نے اندر سے کوٸی جواب نہ دیا تو وہ چلی گٸی شاٸیڈ وہ سو گیا ہے
اب ان کو پھوپھو کے گھر جانا تھا تو حور جاگنے آٸی تھی
جمشید صاحب بھی اپنے کمرے میں بند تھے
بھاٸی حور نے ایک دفعہ پھر دستک دی
آ جاو گڑیا زیب شرٹ ڈالتا بولا
زخم تو اب سوکھا چکا تھا بس زارہ سی اکڑنا تھی۔
_______
اس وقت وہ بلیک شلوار قمیض میں کھڑا شیشے کے سامنے اپنے سنہری بالوں پر جِل لگا کر اُن کو سیٹ کر رہا تھا
چہرے پر مخصوص مسکراہٹ تھی اور اُس دشمن جان کو دیکھنے کی جلدی
وہ اپنے آپ پر پرفیوم لگا کر کمرے سے باہر آیا
چھ فٹ سے نکلتا قد مضبوط وجود اور سب سے خوبصورت اُس کی سنہری آنکھیں اور اُن میں موجود چمک جو کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی ہے
وہ سڑھیاں اترتا نیچے آیا تو سب کو اپنا منتظر پایا
رخسانہ بیگم تو دل میں بیٹے کی نظر اتار رہی تھی
اوے ہوے چھا گٸے بھاٸی آپ ابان میر کے کندھے پر بازو رکھتا بولا
میری تو چلو تیاری بنتی ہے یہ توں کیوں اتنا تیار ہوا ہے وہ پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھتے بولا
جس کے لیے تیار ہوا ہوں وہ تو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی وہ منہ میں بڑابرتا ہو بولا
مگر دور کہی قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا
یہ پاکیزہ نور کس کی زندگی میں پھیلنا تھا یہ تو بس قسمت جانتی تھی.
اس کانچ سی لڑکی کی قسمت میں شاٸیڈ ٹوٹنا لکھا ہوا تھا
”او ہو ابھی سے بھاٸی کے خیالوں میں کھو گٸی آپ“ نمرہ اُس کے سامنے چٹکی بجا کر بولی
نہی۔نہیں تو وہ بوکھلا کر بولی
اچھا اب تم دونوں جاو مجھے ضروری کام ہے۔
______________________________
آج وہ بہت خوش تھا اُس کا عشق بس کچھ ہی دنوں میں مکمل طور پر اس کا ہونے والا تھا
وہ جس کی ایک مسکراہٹ پر وہ اپنی جان بھی فنا کر سکتا تھا
آج وہ آفس سے جلدی آ گیا تھا وجہ اُسے اپنے پیار سے ملنے کی جلدی تھی
اوکے ٹھیک ہے مگر اگلی بار اگر ایسا ہوا تو میں کبھی معاف نہیں کرو گی تم دونوں کو
اوکے اوکے ٹھیک ہے آپی وہ دونوں اچھے بچوں کی طرح سر ہاں میں ہلاتے بولے
آپی میں نے سنا ہے کے آج پھوپھو اور میر بھاٸی آ رہے ہے
نمرہ کی زبان پر کجلی ہوٸی نور کا چہرا منٹوں میں سرخ انار ہوا
دونوں کو پتہ تھا کے اُن کا نکاح بچپن میں ہی ہو گیا تھا
مگر کبھی بھی میر نے اپنی حد پار کرنے کی کوشش نہیں کی
اور یہی بات نور کو سب سے زیادہ پسند تھی
وہ پاگل نیلی آنکھوں والی شہزادی دیوانی تھی میر حسن کے عشق میں وہ اپنے آپ کو بہت خوش نصیب تصور کرتی تھی
جس کے عشق کو خدا نے بنا کسی رکاوٹ کے اُس کی جھولی میں ڈال دیا تھا
میری زندگی صرف میری وہ منہ میں بڑابرتا نیند کی وادی میں کھو گیا
______________________________
آپی میری جان مان جاٸے نہ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے نور کو منانے کی کوشش کر رہے تھے
مگر وہ منہ بسور کر ان سے صاف ناراضگی ظاہر کر رہی تھی
اچھا آپی سوری نہ اب ہم کبھی آپ کے ساتھ کوٸی شرارت نہیں کریں گے پرومس
پچھلی بار بھی یہ ہی کہا تھا تم دونوں نے وہ دونوں کو گھورتی ہوٸی بولی
اچھا آپی اب پکے والا پرومس کبھی کوٸی شرارت نہیں کریں گے بس اپنی پڑھاٸی پر توجہ دے گے
پلیز پلیز پلیز آپی حیدر اُس کا ہاتھ پکڑ کے بولا
یہ میں ہونے نہیں دے سکتا نور صرف زیب کی ہے میں پھر سے اپنے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دو گا
وہ جنونی انداز میں کمرے میں چکر لگا رہا تھا
چھین لو گا میں تم کو میر سے تم صرف میری ہو صرف میری
وہ وہی شیشے کے ٹوٹے ٹکروں کے قریب بیٹھا گیا اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر وہ
شیشے سے اُس کا نام اپنے سینے پر لکھنے لگا
اس وقت وہ صرف ایک جنونی انسان لگ رہا تھا
جسے ایسا کرنے سے سکون مل رہا تھا
اس طرح تم کو بھی میں ایک دن اپنے قریب کر لو گا ہمیشہ کے لیے
وہ اٹھ کر بیڈ پر دارز ہو گیا انکھیں بند کرتے وہ خوبصورت انکھیں نظر آٸی
وہ مسکرا دیا
چھٹی کے بعد بھی وہ ساری رات اپنے آفس روم میں بیٹھا رہا اور سگریٹ پیتا رہا
وہ عشق کرتا تھا نور سے بے پناہ عشق اُس کے بغیر تو وہ زندہ بھی نہیں رہا سکتا تھا
اُس کی مسکراہت اُس کی چھوٹی چھوٹی شرارتے ہر چیز سے پیار تھا اُسے
نیلی آنکھوں والی وہ خوبصورت لڑکی جان تھی زیب لغاری کی
وہ کیسے کسی اور کی ہو سکتی ہے
ساری رات وہ اُس کے بارے میں سوچتا رہا
اور جب صبح گھر پہنچا تو گارڈ نے اس کو جمشید صاحب کی آمد کا بتایا
اندر داخل ہوتے اُن کا وہ لہجہ حق جتانا آگ لگا گیا اُسے اور وہ تلخ کلامی کر گیا اُن سے
اب وہ اپنے کمرے میں موجود ہر چیز پر اپنا غصہ نکال رہا تھا
شیشے کے ٹکرے پورے کمرے میں گرے پڑے تھے قمیتی پرفیوم اپنی بے قدری کا منہ بولتا ثبوت تھے
آپ نے اپنی بیوی کھوٸی تھی تو ہم نے بھی اپنی ماں کو کھویا تھا“
”اُس کی آنکھیں گزرے وقت کو یاد کر کے ایک بار پھر بھیگنے لگی مگر وہ رونا نہیں چاہتا تھا اپنے باپ کے سامنے اس لیے منہ موڑ کر اپنے آنسو صاف کیے“
جمشید صاحب بھی رو دیا کتنا دکھ دیا تھا انہوں نے اپنے بچوں کو
اُن کی بیوی اگر مری تھی تو وہ ماں بھی تھی اِن کی کیسے میں اپنے ہی بچوں سے بدلہ لے سکتا ہوں
کیوں میں اتنے سال دور رہا اپنے بچوں سے اُن کا ضمیر ملامت کر رہا تھا
”حور میرے کمرے میں میری کافی لے آنا اگر اِن سے فارغ ہو جاو گی“
”وہ سرد آواز میں کہتا جمشید صاحب کے ساکت وجود پر ایک نگاہ ڈالتا سڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا“
______________________________
کل ہی اس کو حیدر نے بتایا تھا نور کے نکاح کے بارے غصہ سے وہ آفس میں سارے سٹاف کی شامت لا رہا تھا
آپ کے دو بچے موجود ہے
زبردست وہ زخمی سا مسکرا کر بولا
” حور سے بھی بھاٸی کی آنکھوں کا درد چھپا نہ رہا“
”جمشید صاحب تو چپ کھڑے بیٹے کے منہ اپنے لیے زہر سن رہے تھے جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بھر تھا اپنے بچوں کے دل میں“
” 12 سال جانتے ہے کتنا عرصہ ہوتا ہے جمیشد صاحب ان سالوں میں آپ ہم سے دور رہے ہے“
”جب ہمیں ڈر لگتا تھا تو ہم بھی کوٸی شفقت بڑا لمس تلاش کرتے تھے مگر آپ نہیں آیا“
تب صرف پھوپھو تھی ہمارے پاس باپ نہیں تھا
” یاد ہے وہ رات آپ کو جب آپ ہمیں پھوپھو کے پاس چھوڑ کر آٸے تھے
کتنا رویا تھا میں مگر آپ کو فرق نہیں پڑا“
”
”جو ایک قسم سے اچھا فصیلہ تھا فاطمہ نہ صرف اچھی جیون ساتھی ثابت ہوٸی بلکہ وہ ایک اچھی بھابھی بھی تھی“
”انہوں نے اپنی بہنوں کی شادی اچھے خاندانوں میں کیا“
”اور اچھے طریقے سے اپنی بہنوں کی ذمہ داری ادا کی“
______________________________
”یہ مجھے سے آپ پوچھے گے کہ میں کہا سے آ رہا ہوں“
”جہاں سے بھی آو یہ میرا گھر ہے زیب لغاری کا( وہ کبھی اپنے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں لگتا تھا)“
”آپ بتاٸے آپ کیسے راستہ بھول گٸے“
”وہ باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا“
”بھاٸی پلیز پاپا ابھی کل ہی آٸے ہے حور زیب کا غصہ دیکھ کر اس کے قریب پہنچی “
”تو جمشید لغاری صاحب آ گٸی آپ کو ہماری یاد آ گٸی “
#قسط_2
#bepanha
______________________________
”اورنگزیب لغاری کے تین بچے تھے بڑا جمشید لغاری پھر رخسانہ لغاری اور پھر مریم لغاری، اورنگزیب لغاری اور اُن کی بیوی کار حادثہ میں انتقال کر گٸے“
”اپنے والدین کے انتقال کے بعد جمیشد لغاری کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری آ گٸی “
”انہوں نے اپنی بہنوں کا خیال رکھا اُن کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو پورا کیا“
”پھر بھی گھر میں کوٸی بڑا نہ ہونے کی وجہ سے اُن کو ہمیشہ اپنی بہنوں کی فکر رہتی تھی“
”آفس سے جب وہ گھر آتے تو اکثر تھکے ہوتے لیکن پھر بھی وہ مسکراتے ہوے “
”اپنی بہنوں کے ساتھ وقت گزارتے اسی دوران اُن کی ملاقات فاطمہ سے ہوٸی “
”اپنے جیون ساتھی کے روپ میں وہ اِن کو بہت اچھی لگی اس لیے انہوں نے شادی کا فصیلہ کیا“
ہمممم آپ کی ماما کے بعد میں نے پہلی دفعہ آلو کے پراٹھے کھاۓ ہے اور ہماری بیٹی نے بہت اچھے بناۓ ہے
ابھی وہ ایک اور نوالا ڈالتے جب اُن کو اندر داخل ہوتا لڑکھراتا ہوا زیب دیکھی دیا
وہی روک جاو! وہ جو مشکل سے اپنے قدم زمین پر رکھا پا رہا تھا باپ کی آواز پر روک گیا
اور سوالیہ نظروں سے اُنہیں دیکھنے لگا
کہا سے آ رہے ہوں
یہ کوٸی ہوٹل ہے جب تمہارا دل کیا تم گھر آ جاو
وہ غصہ سے بولتے اس کے قریب پہنچے
حور بیٹا آپ کچن میں کیا کر رہی ہے
جمشید لغاری نے نورا سے حور کا پوچھا تو اُس نے بتایا کے چھوٹی بی بی کچن میں ہے تو وہ وہی آگٸے
کچھ نہیں پاپا بس آج یونيورسٹی سے آف تھا تو سوچھا اپنے پیارا پاپا کے لیے ناشتہ بنا دو
ہمممم تو پھر ہماری ڈول کیا بنا رہی ہے
آج موسم اچھا تھا اس لیے آلو کے پراٹھے آپ کو بہت پسند ہے نہ وہ مسکرا کر بولی
پسند تو ہے پر آپ کو کس نے بتایا پھوپھو نے بتایا تھا وہ پراٹھے کی ساٸیڈ چینج کرتی بولی
اچھا آپ بیٹھے میں بس 10 منٹ میں آتی ہوں
حور نے نورا کے ساتھ مل کر ناشتہ ٹیبل پر لگیا اور اپنی جگہ پر بیھٹا گٸی
تو پاپا بتاۓ کیسے بنے وہ جمشید صاحب کو نوالا منہ میں ڈالتے دیکھا کر بولی
وہ جاتے جاتے موڑا اور شرارتی نظروں سے میر کو دیکھنے لگا
”رخسانہ بیگم اس کا اشارا سمجھ گٸی اور مسکرا دی“
حسن میں نے آپی سے بات کی ہے نور کی پڑھاٸی اب مکمل ہو گٸی ہے
نکاح تو ان کا بچپن میں ہو گیا تھا مگر میں سوچ رہی ہو ایک دفعہ پھر سے نکاح کی رسم ادا ہو جاۓ
”وہ حسن اور میر کو دیکھتی بولی“
کہا تو آپ ٹھیک رہی ہے میں عباس بھاٸی سے بات کرتا ہوں
تو نور عباس بہت جلد تم میری دسترس میں آنے والی ہو وہ سوچتا مسکرا دیا
بھاٸی اتنا نہ خوش ہوں بعد میں رونا پڑے گا ابان میر کے کان میں سرگوشی کرتا بولا
بیٹا جی مجھے لگتا ہے آج آپ کا مار کھانے کا اردہ ہے میر بھی اُس کے کان پکڑاتا بولا
رخسانہ بیگم نے انکھیں دیکھتے اُسے سلاٸس پکڑایے
اور حسن شاہ موبائل ساٸیڈ پر رکھتے اپنے شرارتی بیٹے کو غصہ سے دیکھنے لگے
میر نے اپنی ہنسی چھپتے جوس کا گلاس لبوں سے لگیا
کیوں کے اکثر حسن شاہ یہی کہتے تھے جب گھر میں وہ دونوں اکیلے ہوں
مگر پتہ نہیں اُن کے اس سپوت نے کہا سے سن لیا
تب سے وہ اکثر اِن کو چڑانے کے لیے رخسانہ بیگم کو یہی کہتا تھا۔
اوکے ماما میں تیار ہونے جاتا ہوں ابان اپنی بےعزتی سے بچنے کے لیے جلدی ناشتہ ختم کرتا اٹھا
پتا نہیں کب بڑا ہو گا یہ حسن شاہ مسکرا کر بولے
بس ابھی گھر میں کوٸی چھوٹا نہیں ہے نہ جس دن مجھے سے چھوٹا آٸے گا تو اُس دن ابان بڑا ہو جاٸے گا
جی تو بیٹا جی پڑھاٸی تو مکمل ہو گٸی ہے آپ کی آگے کیا کرنا ہے
حسن شاہ نے آملیٹ اپنی پلیٹ میں رکھتے ابان سے پوچھا
پاپا اب یہ بزنس تو مجھے سے ہو گا نہیں اس لیے سوچھا آپ کی پارٹی جواٸن کر لو
ہمممم کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو کیوں میر تم کیا کہتے ہو
جی پاپا جو ابان کی مرضی ہے ویسے بھی بزنس سنبهالے کے لیے میں ہوں نہ
ہمممم چلو پھر آج تیار رہنا ہمارے ساتھ جانے کے لیے
اوکے ٹھیک ہے پاپا
حسن شاہ موبائل پر مصروف ہو گٸے
حسن کی جان یہ زار سلاٸس پکڑاٸیے گا
ابان نے ایک انکھ دباتے رخسانہ بیگم سے کہا
مورننگ ماما جانی وہ رخسانہ بیگم کے گال چومتا ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا گیا
مورننگ میری جان،آج خیریت ہمارا بیٹا اتنی جلدی کیسے اٹھ گیا
بس ماما آنکھ کھول گٸی تو آگیا وہ جوس گلاس میں ڈالتا ہوا بولا
پاپا اور بھاٸی کہاں ہے وہ جوس کا سیپ لیتا ہوا بولا
جوگنگ پر گٸے ہے آتے ہو گے وہ ٹیبل پر ناشتہ کی لوازمات رکھتی بولی
”یہ آج سورج کہا سے نکلا ہے جو ابان حسن شاہ ناشتہ کی ٹیبل پر موجود ہے“
حسن شاہ میر کے ساتھ اندر داخل ہوتے بولے
ان کی بات پر ابان بھی ہنس دیا
وہ دونوں فریش ہو کر آٸے حسن شاہ سربراہی کرسی پر بٹھیے جب کے باٸیں طرف رخسانہ بیگم اور داٸیں طرف اُن کے دونوں بیٹے جو اُن کا غرور تھے وہ بیٹھے تھے
وہ اُن کے کندھے پر مُکا مارتی بولی، ہاۓ آپ کی ان ہی اداوں کے ہم دیوانے ہے
”ایسے ویسے“ وہ ان کو کوٹ پہنتی بولی
اچھا اب باقی رومانس بعد میں اور کچھ اپنی عمر کا ہی سوچا کریں بچے بڑے ہو گٸے ہے وہ ان کو گھڑی پکڑتی ہوٸی بولی
بچے بڑے ہو گٸے ہے تو کیا ہم کون سا بوڑھے ہو گٸے ہے
وہ ان کو مسکرا کر دیکھتے ہوے بولے۔
اچھا اب آ جاٸے ناشتہ تیار ہے
____________________________
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain