زہے نصیب شکر ہے آپ کو وقت ملا ہمارے لیے بھی
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوٸی تو عباس صاحب کی آواز کانوں میں پڑی
جو شیشے کے سامنے کھڑے پرفیوم اسپرے کر رہے تھے
جناب کبھی ہمارے بنا بھی تیار ہو جایا کرۓ
وہ بیڈ کی چادر ٹھیک کرتی بولی
اب ہم کیا کریں25 سال سے آپ نے ہی ہماری عادتیں خراب کی ہے
وہ ٹاٸی اُن کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوے بولے
وقت کے ساتھ عادتیں بدل لینی چاہیے وہ ٹاٸی بندھاتی بولی
جناب یہ عادت تو مرنے کے بعد ہی چُھوٹے گی
آپ کو کتنی دفعہ کہا ہے کے فضول باتیں نہ کیا کریں
بنا مریم بیگم کی طرف دیکھے جب اُس کی نظر اُن کے چہرے طرف گٸی تو اُس کی زبان کو بریک لگی
جب کے نمرہ اس کی حالت پر ہنس رہی تھی
اوکے ماما سوری ہم آٸیندہ آپی کو تنگ نہیں وہ دونوں کان پکڑتے ہوے بولے
اس طرح کرنے پر مریم بیگم کے چہرے پر بھی مسکراہت آگٸی
چلے آپ دونوں اندر اور جا کر کپڑے چینج کرۓ اور اپنی آپی سے سوری کرۓ اور ناشتہ کی ٹیبل پر آۓ
ابھی وہ ان کو کچھ اور کہتی جب رضوانہ آتی ہوٸی دیکھاٸی دی
وہ بی بی جی صاحب آپ کو بلا رہے
اچھا تم جاو
یہاں باپ کا یہ حال ہے تو بچے تو پھر اللہ حافظ وہ منہ میں بڑبراتی اندر داخل ہوٸی
اب ان کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا
وہ ماما پہلے اس نے مجھ پر پانی پھنکا میں تو لان میں پودے دیکھنے آٸی تھی
وہ مصوم شکل بناتی بولی،ماما یہ جھوٹ بول رہی حیدر جلدی سے اپنے دفاع کے لیے آگے آیا
جب کے مریم بیگم کی گھوری دونوں کو چپ کرا گٸی جو پھر سے لڑنے کی تیاری کر رہے تھے
آپ دونوں کب بڑے ہو گے 20 کے ہو گٸے ہے دونوں لیکن عقل ابھی تک نہیں آٸی
اور یہ صبح صبح نور کے ساتھ کیا حرکت کی آپ نے بڑی بہن ہے وہ آپ کی اور کچھ دونوں میں وہ اپنے گھر جانے والی ہے
کیوں تنگ کرتے ہے آپ نور کو
وہ سوری ماما مگر آپی سوتے ہوے بہت کیوٹ لگتی ہے
اور اُن کی نیند اتنی گہری ہے کے کچھ بھی کر لو اُنے کچھ ہوتا ہی نہیں
حیدر نے ایک بار پھر دانتوں کی نماٸش کرتے ہوے اپنا کارنامہ بتایا
ہنس لے آپ بھی جاۓ میں نہیں بولتی وہ منہ پھولا کر وہی ٹیبل پر بیٹھ گٸی
اچھا اچھا میری جان ہم ابھی اُن دونوں بدتمیزوں کی کلاس لیتے ہے
ہم آپ کی ناراضی افوڈا نہیں کر سکتے ہے آپ جاۓ منہ دھو کر آۓ
وہ اس کو بجیتھی رضوانہ کو ناشتہ لگانے کا کہتی اُن دونوں کو دیکھنے چلی گٸی
وہ جب باہر آٸی تو وہ دونوں لان میں پانی سے کھیل رہے تھے
یہ آپ دونوں کیا کر رہے ہے!
مریم بیگم کی آواز پر نمرہ پاٸپ پھنکتی ان کی طرف آٸی جب کے حیدر وہی کھڑا اپنے دانتوں کی نماٸش کر رہا تھا
ماما! کہاں ہے آپ وہ کچن میں داخل ہوتی ہوٸی بولی، جہاں مریم بیگم ناشتہ بنا میں مصروف تھی
ویسے تو اس گھر میں کافی نوکر موجود تھے مگر کھانا اور ناشتہ مریم بیگم اپنے ہاتھوں سے ہی بناتی تھی
کیا ہوا ہے میری جان!
”ماما وہ دونوں بدتمیز کہاں ہے“
کیا ہوا ہے نور صبح صبح اتنا غصہ کیوں چندا
وہ ناشتہ بناتی مصروف انداز میں بولی
ماما زارا ایک دفعہ میری طرف دیکھے
وہ اُن کا چہرہ اپنی طرف موڑتی بولی
جیسے ہی مریم بیگم نے نور کی طرف دیکھا تو بے ساختہ اُن کی ہنسی نکل گٸی
کیوں اُس کے منہ پر کمال کی پنٹنگ کی گٸی تھی جس دیکھا کر اُن کی ہنسی نہیں روک رہی تھی
انکھیں کھولتے ہی اُس کی مسکراتی ہوٸی تصویر آنکھوں کے سامنے تھی
کہاں ہو یار تم ایک دفعہ معاف کر دو مجھے،میں نے گناہ کیا ہے یہ سوچ کر کہ تم مجھے دھوکہ دے رہی
بس ایک دفعہ مجھے مل جاو یہ اذیت ختم کر دو میری تھک چکا ہوں خود سے لڑتے لڑتے بس ایک بار سامنے آ جاو
آنسوں اس کے رخسار بھگو رہے تھے ایک اور رات اس کی اذیت اور تنہاٸی میں گزرنی تھی
______________________________
#bepanha
#قسط_نمبر_1
”وہ آفس سے تھکا ہارا گھر آیا“ گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا وہ گھر کے اندر داخل ہوا
جاہاں مکمل خاموشی نے اُس کا استقبال کیا
کبھی وہ یہاں لاونج میں بیٹھی اُس کا انتظار کرتی تھی
”وہ ایک سرد آہ ہوا کے سپرد کرتا سڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں داخل ہوا جہاں صرف تنہاٸی تھی ملی
وہ اپنا کوٹ صوفے پر پھنکتا وہ بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا اور انکھیں بند کر لی
”انکھیں بند کرتے ہی ایک خوبصورت اور پاکیزہ عکس نظر آیا چہرہ پر معدم سی مسکراہت آٸی
دو دن سے وہ اُسے ہر جگہ تلاش کر چکا تھا مگر وہ کہیں نہیں ملی
حـجـابــــ فـیـشــن نـہــیـں___!!
عــورتــــ کا غـــرور ھــے___!!❤
آپ سب سے گزارش ہے کہ
کہیں بھی کچھ بھی مسلہ ہو تو پلیز مجھے بلا لیا کریں 😎
مجھے لڑائی دیکھنے کا بہت شوق ہے۔🙈🙈😂😂🤪🤪
آپکی محبت ميرے وجود ميں سانس لينے لگی ہے اب" اسکی بات پر جزلان نے اسے خود ميں بھينچا۔
"اف يار تھينک يو سو مچ۔۔۔۔" وہ خوشی سے بے قابو ہوتے دل کو سنبھالنے لگا۔
"تھينکس فار دن نيوز کب پتہ چلا"
"کل جب آپ ڈانٹ کر چلے گۓ تھے تو ميرا بی پی ڈاؤن ہوا او آپکو پتہ بھی نہيں ميں ڈاکٹر پر گئ تھی وہاں پتہ چلا ميں نے پھر سب کو آپکو بتانے سے منع کرديا۔۔کيونکہ ميں يہ سب آپکو خود بتانا چاہتی تھی" نشوہ نے محبت سے اسکے چہرے کو ديکھا جہاں اسکے لئيۓ صرف محبت تھی۔
"تھينکس گاڈ۔۔تھينکس اگين" اسے مجبت سے خود سے لپٹاتے وہ دونوں ايک دوسر ميں گم ہوگۓ۔ اور محبت نے انہيں اپنی لپيٹ ميں لے ليا ہميشہ کے لئيے
The End
٭٭٭٭٭٭٭....Novel mohabt ke jugno
بسمہ کی شادی پر وہ بيوٹيشن نے جو بنديا لگائ تھی وہ بھی کيا۔۔۔۔" اسکی بات پر نشوہ کے دماغ ميں جھماکا ہوا۔
"ہاں نہ چوری سے آپکی شرٹ لےگيا تھا۔ آپ پر يہ بہت سوٹ کرتی ہے" کہتے ساتھ ہی جزلان نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔
"اف فلمی انسان۔۔۔۔ميری تو زندگی عجيب فلمی گزرنے والی ہے۔۔فلمی باپ اور فلمی بچوں ميں" نشوہ نے اس کے کندھے پر سر رکھتے کہا۔
جزلان نے مسکرا کر اسے بازوؤں کے حصار ميں ليا پھر اسکی بات پر ٹھٹھک کر اسے سامنے کيا۔
"کيا۔۔۔ کياکہا ہے ابھی آپ نے" جزلان کی بات پر اس نےمسکراتے ہوۓ اسکی جانب ديکھا۔
"کيا ميں نے تو کچھ نہيں کہا" اس نے ہونٹوں ميں مسکراہٹ دبائ۔
"نہيں يہ جو فلمی والی بات کی ہے" اس نے الجھ کر پوچھا۔
"کيا؟" وہ ابھی بھی اسے تنگ کر رہی تھی۔
"وشہ مار کھاؤگی اب" وہ چڑ کر بولا۔
ميری محبت ديکھی ہے ميرا پاگل پن نہيں ديکھا۔ دل تو کر رہا ہے واقعی گلا دبادوں۔ جو اذيت سڑک پر ميں نے اس دن سہی ہے وشہ ميں اب کبھی اسکا تصور بھی نہيں کرنا چاہتا۔۔۔آپ ميرے لئيۓ کيا ہو ميں لفظوں ميں بتا نہيں سکتا بس اتنا کہوں گا کہ ميری محبت کو پھر کبھی مت آزمانا سچ ميں زندگی ہار دوں گا" اس کے بالوں کو چھوڑتے اسکے گال پر اپنے دہکتے لب رکھے جہاں اس نے اپنے غصے کی نشانی کچھ لمحے پہلے چھوڑی تھی۔
"اتنی زور سے کاٹا ہے" وہ روہانسی ہوئ۔
"اب روز مرہم رکھوں گا" وہ شرارتی لہجے ميں کہتا اسکے سر سے اپنا سر ٹکاتا آنکھيں بند کئيے بس اسے محسوس کرنا چاہتا تھا۔
"بہت ظالم ہو ميری فيورٹ ايکسيسری پہن کر مجھے آزما رہی ہو" يکدم سر اٹھاتے اس نے نشوہ کے حسين چہرے پر ہاتھ پھيرتے کہا۔
"
جبکہ جزلان کے چہرے پر محظوظ کن مسکراہٹ تھی۔ جزلان نے اپنے دانتوں اس کے گال پر گاڑھے تھے۔
"کس قدر ظالم ہيں آپ" وہ بے يقينی سے روہانسی لہجے ميں بولی
"ميں اس سے بھی زيادہ ظالم بنوں گا اگر اب آپ نے گھر سے ايک قدم بھی مجھے بتاۓ بنا نکالا۔" جزلان جارحانہ انداز ميں بولا۔
"کھوليں ميرے ہاتھ۔" وہ پھر بولا۔
"اب تو بالکل نہيں کھولوں گی جتنے خطرناک لگ رہے ہيں۔۔آپ تو ميرک گلا ہی دبا ديں گے" وہ واقعی جزلان کے تيور ديکھ کر خوفزدہ ہوئ۔
"اگر اب ايک سيکنڈ کی بھی دير کی تو واقعی دبادوں گا" اس نے پھر دھمکی دی۔
نشوہ نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ کھولے۔
جزلان نے آزاد ہوتے تيزی سے وہاں سے بھاگتی نشوہ کی کلائ پکڑ کر اپنی جانب کھينچا۔ پھر بالوں کو جکڑ کر اسکا چہرے اپنے قريب کيا۔
"
اور کون کون شامل ہے اس تخريب کاری ميں" اس نے مشکوک نظروں سے اسے ديکھا۔
"ارمغان اور شرجيل بھائ" اس نے مجرمانہ لہجے ميں جواب ديا۔
"اوکے دو شرطوں پر معافی ملے گی۔"جزلان مانتے ہوۓ بولا۔
"منظور ہے۔۔۔دل و جان سے منظور ہے" نشوہ نے سوچے سمجھے بنا کہا۔ اس وقت اسکے ماننے سے بڑھ کر اور کچھ نہيں چاہئيے تھا اسے۔
"پہلے پو کان پکڑ کر سوری کہيں" نشوہ نے جلدی سے عمل کيا جزلان نے مسکراہٹ چھپائ۔
"اب ميرے پاس آئيں" جزلان نے اسے اشارہ کيا۔
وہ بھی پاس آگئ کہ بحرحال اسکے ہاتھ بندھے تھے وہ کيا کرسکتا تھا تھپڑ تو مارنے سے رہا۔
"اور پاس"وہ اسکے فريب جھکی۔
"اور پاس" اب نشوہ کچھ خوف کا شکار ہوتی اپنا گال اسکے پاس لائ اور پھر ايک فلک شگاف چيخ مار کر اس سے دور ہٹی۔
پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے ديکھا اور ہاتھ گال پر رکھا۔
شايد کچھ رعب پڑ جاۓ۔۔۔بس کريں نا اب کب تک خفا رہيں گے۔ کيوں جان نکالنا چاہتے ہيں۔ ايک ماہ آپکا انتظار کيا۔۔۔آپکے وجود۔۔آپکی نظروں کو مس کيا۔۔اتنی سزا بہت ہوتی ہے۔۔امی نے مجھے ميری خطا بتا دی ہے پليز جب تک آپ مجھے معاف نہيں کريں گۓ ميں آپکے ہاتھ نہيں کھولوں گی اور نہ يہاں سے اٹھنے دوں گی۔۔۔ايسے ہے تو پھر ايسے ہی صحيح ويسے بھی محبت اور جنگ ميں سب جائز ہے۔" نشوہ نے دھمکی آميز لہجے ميں کہا۔
"وشہ کيا بچپنا ہے کھوليں" وہ غصے سے چيخا۔
"وشہ آپ نے مجھے وشہ کہا اس کا مطلب ہے آپ خفا نہيں بس اب منہ سے کہہ ديں مجھے معاف کيا" اس نے خوشی سے نعرہ لگاتے آخر ميں معصوم شکل بنائ۔
ايک تو وہ لگ اتنی خوبصورت رہی تھی اور پھر محبت بھری نظروں نے محبوب کو ايک ماہ بعد نظر بھر کر ديکھا تھا دل تو وہيں پگھل گيا تھا۔
"
آہستہ آہستہ اسکی آنکھيں اردگرد کے منظر سے مانوس ہوئيں تو وہ يہ ديکھ کر حيران ہوا کہ وہ اپنے ہی فارم ہاؤس ميں تھا۔ فارم ہاؤس پر ايک جگہ الگ سے سفيد ماربل کا جھروکہ سا بنايا ہوا تھا جس کی چھت نہيں تھی مگر ستون کھڑے کرکے انکو چاروں جانب سے پھولوں کی بيلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
اس وقت اس جگہ کو برقی قمقموں سے روشن کيا گيا تھا۔ اس نے اپنی گردن سيدھی کی کہ پيچھے کسی کی موجودگی کااحساس ہوا۔
وہ حيران ہواکہ کس نے يہ حرکت کی ہے۔ يکدم چوڑيوں کی جھنکار آئ اور اسکی زندگی اسکی نظروں کے سامنے تھی۔
يک لخت اسے ديھکتے اسکے چہرے کی رنگت بدلی۔
"معاف کر ديں نا۔۔۔" دو آنکھوں ميں آس نظر آئ۔
"يہ کيا گھٹيا حرکت ہے" وہ غرايا۔
"آپ قابو ہی نہيں آ رہے تھے تو مجھے يہ پلين بنانا پڑا۔ آپ مجھے ڈان کہتے تھے نا سوچا آج بن کر دکھا ہی دوں۔۔
جيسے ہی تصوير کھچی وہ بازو چھڑاتا وہاں سے اتر گيا۔
کھانے کے وقت وہ انتظام ديکھ رہا تھا کہ ارمغان اسکے پاس آيا۔
"بھائ آپکو بابا بلا رہے ہيں" وہ بلال شاہ کا پيغام لے کر آيا۔
"کہاں ہيں" اس نے مصروف لہجے ميں پوچھا۔
" وہا باغ کے اس جانب" اس نے ايک جانب اشارہ کيا جو نسبتا تاريک تھی۔
وہ تيزی سے ادھر کی جانب بڑھا۔ حويلی بہت بڑی تھی تو سارا انتظام اسکے اندر ہی کيا گيا تھا۔
وہ آگے جاتا جا رہا تھا مگر اسے بلال شاہ کہيں نظر نہيں آۓ وہ الجھا کہ يکدم اسے اپنے پيچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا وہ جيسے ہی مڑا کسی نے اسکے منہ پن کپڑا رکھ ديا اور وہ وہيں بے ہوش ہوگيا۔
_______________
جس لمحے اسکی آنکھ کھلی اس نے خود کوکرسی پر پايا۔ ہاتھ اسکے پيچھے کرکے رسی سے جکڑے ہوۓ تھے۔
مگر اس پورے ماحول پر چھايا ہوا تھا۔
نظر بار بار چوری کی مرتکب ہو رہی تھی۔ وہ دشمن جان لگ ہی اتنی حسين رہی تھی اور ہر جگہ آگے آگے تھی۔ ہنستی مسکراتی سب سے باتيں کرتی آف وائٹ فراک اور چوڑی دار پاجامے ميں تھی جس پر کام والی کوٹی پہن رکھی تھی جو ہرے، سرخ، گلابی اور جامنی رنگوں سے مزين تھی۔ ماتھے پر چھوٹی سےی بنديا لگاۓ پرل کے آويزوں ميں آدھ کھلے بالوں ميں دمک رہی تھی۔
جزلان کی نظريں بار بار اسکے وجود سے الجھ رہی تھيں۔ ارمغان نے اسے زبردستی اسٹيج پر بلا کر نشوہ کے ساتھ کھڑا کرکے ايک تصوير لی۔ نشوہ نے سب کی موجودگی کے سبب تصوير کھينچواتے وقت محبت سے جزلان کے بازو پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے جزلان کے اندر غصے کی لہر دوڑی۔ وہ جانتی تھی کہ سب کی موجودگی کے باعث وہ اسکے ہاتھ نہيں جھٹک سکتا اور ويسا ہی ہوا تھا۔
وہ غصے سے پيچ و تاب کھا رہاتھا۔
جزلان" اس نے ہونے سے اسے پکارا۔
جزلان نے اس کی پکاران سنی کی۔
"جزلان آپ کيوں اتنا خفا ۔۔۔"
"شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔آئ ڈونٹ وانٹ ہير يور وائس ايون" جزلان کی شرربار نگاہوں نے اسے ديکھا۔
وہ بے يفينی سے اسکی جانب ديکھ رہی تھی۔ اسکے نرم اور محبت بھرے لہجے کی وہ اتنی عادی ہوگئ تھی کہ اب يقين ہی نہيں آرہا تھا وہ کبھی اس سے اس طرح بھی بات کرسکتا ہے۔ جزلان غصے سے اٹھا اور کمرے سے باہر چلاگيا۔
نشوہ کتنی ہی دير اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائ مگر اس نے مصمم ارادہ کرليا کہ اس بار وہ جزلان کو منا کر ہی چھوڑے گی۔
___________________
دينا کی بيٹی کے نکاح کے فنکشن ميں سب موجود تھے۔ نکاح ہوتے ہی ينگ جنريشن نے خوب ہلا گلا کيا ڈھولک بجائ۔ سب خوش تھے سواۓ ايک جزلان کے جو آج کسی کام کو خوش دلی سے نہيں کررہا تھا۔ سياہ شلوار قميض پر آف وائٹ چادر لئيۓ وہ خاموش تھا
پورے مہينے بعد اس دشمن جاں کو ديکھا تھا جس نے پچھلے دنوں اس کا چين و سکون سب غارت کر ديا تھا۔
آہستہ سے سلام کرتی وہ اندر داخل ہوئ۔
جزلان نے چونک کر بس ايک نظر اس پر ڈالی اور پھر واپس گھوما لی۔
" ارے آگيا ميرا بيٹا"انہوں نے مجبت سے بازو وا کئيے وہ ان کے قريب آئ۔
جزلان نے نظر اٹھا کر اسکی جانب نہيں ديکھا نظرين موبائل پر مرکوز کرکے اسے اگنور کيا۔
"بابا حضور ميں ذرا ريسٹ کرنے جا رہا ہوں تھوڑی دير تک دينا پھوپھو کی جانب چکر لگاؤں گا۔" جزلان ان سے مخاطب ہوتا اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گيا۔
کچھ دير بعد وہ بھی کمرے ميں آئ۔ سامنے ہی وہ بيڈ پر بيٹھا موبائل ميں گم تھا۔
"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain