"اف شکر جزلان بھائ آگۓ" وہ جو دينا کی طرف تھی اور نکاح کے کپڑوں کا جائزہ لے رہی تھی جزلان کی ايک کزن کی آواز پر خوشگوار حيرت سے دوچار ہوئ۔
"واقعی" بے يقينی سے بولی۔
"ہاں نہ ابھی ارمغان بھائ کا فون آيا تھا کہہ رہے تھے آپکو لينے آ رہۓ ہيں کيونکہ جزلان بھائ آگۓ ہيں" سب کزنز ميں خوشی کی لہر دوڑی وہ تھا ہی اتنا زندہ دل ہر ايک کے ساتھ دوستی رکھنے والا۔ سب بہت خوش ہوۓ۔
وہ اپنی ساری خفگی بھول گئ۔ جو جزلان کے بے مروت رويۓ کی وجہ سے پچھلے دنوں اس نے روا رکھی ہوئ تھی۔
ارمغان کے ساتھ جس لمحے وہ حويلی آئ اور جب سبحان شاہ کے کمرے ميں داخل ہوئ سيدھی نظر سامنے بابا حضور سے باتيں کرتے جزلان پر پڑی جو گرے رنگ کی شلوار قميض پر جيکٹ پہنے اسکے دل ميں ٹھنڈک ڈال گيا تھا۔
۔
نہيں پگلے اسکی ماں نہيں بنی۔ اچھا پرسوں شام دينا آپا کی بيٹی کا نکاح ہے پلے ہی ہوجانا تھا مگر بابا حضور کی طبيعت کے سبب رک گيا اب بابا حضور کرنے پر زور دے رہے ہيں تو ميں اميد کروں گی کہ کل تم يہاں ميرے سامنے موجود ہو۔ نہ حکم ہے نہ دھمکی درخواست ہے" ان کے لہجے ميں جزلان کے لئيے مجبت ہی محبت تھی۔
"آپ بس حکم کيا کريں" جزلان نے بھی محبت سے کہا۔
"کل صبح آپکے سامنے ہوں گا" کہتے ساتھ ہی خداحافظ کرکے اس نے فون بند کر ديا۔
جزلان فون بند کرکے پاس لگے
گانے کے الفاظ کی جانب متوجہ ہوا اسے لگا اسکے حسب حال گانا لگا ہے
جہاں سے نکل کر آپ دونوں تک پہنچتا پاگلوں کی طرح سڑکوں پر مارا مارا پھرا۔ وہ تين گھنٹے ميں نے جس کرب ميں گزارے يہ ميں ہی جانتا ہوں۔ اگر وہ مجھے ايک ميسج کر ديتی تو ميری يہ حالت نہ ہوتی۔" وہ شروع ہوا تو پھر سب کہتا چلا گيا۔ صبورہ حيرت زدہ اسکی باتيں سن رہيں تھيں۔ کس قدر محب کرنے والا شخص اللہ نے انکی بيٹی کے نصيب ميں لکھا تھا۔
وہ اسکی باتوں پر مسکرائيں محبت انسان کو چھوٹا سا بچہ بنا ديتی ہے۔ جيسے بچہ چاہتا ہے کہ اسکی ماں ہر لمحہ اسے توجہ دے، کسی دوسرے کی جانب ديکھے بھی نہ۔ بالکل ايسے محبت محبوب کی توجہ چاہتی ہے ہر لمحہ۔ ہر ايک سے زيادہ۔
"اسکی جانب سے ميں تم سے معافی مانگتی ہوں" صبورہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
"پليز چچی آپ بن گئيں نہ اسکی ماں" وہ خفا خفا سا بولا۔
"
"بے وقوف ابھی تو صرف دوست بن کر فون کيا ہے۔ کيا ہوگيا ہے تم دونوں کو اسے کہتی ہوں جزلان کو فون کرے تو کہتی ہے اب نہيں کروں گی پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔اور تم يہاں آنے کو تيار نہيں۔۔مسئلہ کيا ہے"
"کوئ مسئلہ نہيں جب بيوی کو شوہر بھول جاۓ تو شوہر کاٹھ کا الو نہيں کہ پھر بھی اسکے پيچھے بھاگتا جاۓ"
"کون بھول گيا تمہيں جزلان صحيح سے مسئلہ بتاؤ" وہ الجھ گئيں"
"اس دن يہاں سے حويلی جاتے وہ مجھے ايک ميسج نہيں کرسکتی تھی۔ آپکو اندازہ نہيں مجھ پر کيا گزری ميں يہی سمجھا کہ يہ لوگ کسی انتقام کے چکر ميں آپ دونوں کو لے گۓ ہيں۔ معاف کيجئيۓ گا جو روپ ميں نے ان سب کا ديکھا تھا اسکے بعد ميں ہر گھٹيا حرکت کی ان سب سے توقع کر رہا تھا۔
پھر يہاں دھرنوں کی وجہ سے راستے بلاک تھے کوئ ايک گلی بھی نہيں تھی
وہ رات کے وقت کمرے ميں بيٹھا کچھ فائلز سامنے پھيلاۓ نۓ آرڈرز ديکھ رہا تھا کہ جویلی کے نمبر سے اسکے موبائل پر کال آ رہی تھی۔
اس نے اٹھا ليا۔۔
"اسلام عليکم" اس نے اپنے مخصوص انداز ميں سلام کيا۔
"وعليکم سلام جيتے رہو کيسے ہو بيٹا" دوسری طرف سے صبورہ کی آواز آئ۔
اسے اميد نہيں تھی کہ وہ اسے فون کريں گی۔ پورا مہينہ ہونے والا تھا جزلان کو ان دونوں کو ديکھے ہوۓ۔
"الحمداللہ آپ سنائيں"
"اللہ کا شکر ميں بھی ٹھيک ہوں مگر تمہارے لئيے اور اس بے وقوف کے لئيۓ پريشان ہوں"
"پليز چچی اگر آپ اس وقت ميری ساس بن کر بات کر رہی ہيں تو آئم سوری ميں اس بارے ميں کوئ بات نہيں کرنا چاہتا ہاں اگر دوست بن کر فون کيا ہے تو پھر ميں آپ سے بات کرسکتا ہوں۔ اسکی وکالت مت کريں" اس نے خفگی بھرے لہجے ميں کہا۔
سبحان شاہ اب گھر آچکے تھے۔ گھر آتے ساتھ ہی انہوں نے پہلا فون جزلان کو کيا۔
"کيسے ہيں آپ" سلام دعا کے بعد وہ سپاٹ لہجے ميں بولا۔
"ٹھيک ہوں۔۔سب نے معاف کرديا تم کب معاف کروگے يار۔ اتنی ہمت نہيں کہ سفر کرسکوں۔ کرسکتا تو تمہارے سامنے آکر ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتا"
"پليز ايسے مت کہيں جن کی وجہ سے ناراض تھا جب وہ آپکو معاف کرچکے تو ميں کون ہوتا ہوں آپکو معاف نہ کرنے والا۔ ميں آؤں گا" جزلان کی سنجيدگی ميں کوئ فرق نہ آيا۔
"جلدی آ جانا يار اب تو زندگی کا کوئ بھروسہ نہيں تمہيں ايک مرتبہ ديکھنا چاہتا ہوں" انہوں نے نحيف آواز ميں کہا۔
"ايسی باتيں مت کريں شکر ہے آپ اب بہتر ہيں ميں جلدی چکر لگاؤں گا" اس نے انہيں تسلی دلائ۔
______________________
ميں اس قابل تو نہيں پھر بھی مجھے معاف کردو" انہوں نے روتے ہوۓ صبورہ کے آگۓ ہاتھ جوڑے
"پليز بابا حضور ايسے مت کريں ميرے دل ميں کوئ کدورت نہيں۔" انہوں نے اپنے آنسو پونچھتے اسکے ہاتھ پکڑے۔
اللہ سب سے بڑا منصف ہے بس اس پر معاملہ چھوڑ دو تو وہ آپکی سوچ سے بڑھ کر انصاف کرتا ہے۔ آج صبورہ مطمئن تھيں کہ انہوں نے اتنی تکليفيں جھيلنے کے بعد بھی اپنا ہر معاملہ اللہ پر چھوڑا تھا اور آج اللہ نے اس غرور کے بت کا پاش پاش کرکے دکھايا تھا کہ اللہ سے بڑھ کر کوئ سزا دينے والا نہيں۔
انسان کيا اور اسکی اوفات کيا
____________________
جزلان ارمغان سے مسلسل رابطے ميں تھا دو ہفتے گزر چکے تھے مگر نہ وہ گيا تھا نہ اس نے نشوہ کو فون کيا اور نہ اس کا فون اٹھايا۔ اس کے لاتعداد ميسجز آۓ ہوۓ تھے۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ کس بات پہ خفا ہے۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتيں انکے بيڈ کے قريب رکھی کرسی پر بيٹھ گئيں۔
"ميں نے ساری زندگی صرف دھن اور دولت کی چاہ ميں گزار دی۔ اگر جزلان مجھے احساس نہ دلاتا تو ميں کبھی اپنے غرور سے باہر آہ ہی نہيں پاتا۔ پرسوں رات دانيال کو ميں نے اپنے خواب ميں ديکھا۔
وہ مجھے سے خفا تھا بے حد خفا بار بار بس يہی کہے جا رہا تھا کہ بابا آپ نے ميرے ساتھ بہت برا کيا ہے ميں کبھی آپکو معاف نہيں کروں گا۔ خواب ٹوٹا تو بس اسکے بعد اسکے لہجے کی تکليف دل ميں بڑھتی چلی گئ۔
اللہ کا شکر کررہا ہوں کہ اس نے تم دونوں سے معافی مانگنے کا موقع ديا ہے۔
بيٹا مجھے معاف کردو ايک جھٹکے نے ہی سب غرور خاک ميں ملا ديا ہے۔ ميں بھول گيا تھا کہ ميں خدا نہيں انسان ہوں ميں خدا بننے چلا تھا تو کيسے نہ اللہ کے غيض و غضب کی زد ميں آتا۔
مگر ابھی وہ کچھ بتا بھی نہيں پائ تھی کہ کال ڈراپ ہوگئ اور پھر شام تک سگنل بجال نہيں ہوۓ۔ رات ميں ارمغان نے بتايا کہ اس سے بات ہوگئ ہے اور اسے بتا ديا ہے۔ مگر باقی کی سب باتيں اس نے نہيں بتائيں وہ جان گيا تھا کہ وہ پريشانی کا شکار ہے۔ اب نشوہ پريشان تھی کہ اسکی ايک کال کا بھی اس نے جواب نہيں ديا نہ اٹينڈ کی ہے۔
رات ميں کہيں جاکر سبحان شاہ کی حالت سنبھلی تو سب نے سکھ کا سانس ليا۔
آئ سی يو سے کمرے ميں شفٹ ہونے کے بعد سب نے صبورہ کو سب سے پہلے بھيجا۔
وہ خود ميں ہمت نہيں کر پا رہيں تھيں انکا سامنا کرنے کی۔
آہستہ سے کمرے کی جانب بڑھيں۔
کمرے ميں آئيں تو سبحان شاہ نے نظريں گھما کر دروازے کی جانب ديکھا پھر انہيں پاس آنے کا اشارہ کيا جو ہچکچا رہيں تھيں۔
۔
يہ سوچ کر کے ان ہاتھوں نے کبھی اسکے باپ کو چھوا ہوگا۔ نجانے کيسے اسے لگا اسکے باپ کا لمس ان ہاتھوں ميں سمٹ آيا ہے۔ ايک ہاتھ منہ پر رکھ کر اس نے اپنی ہچکيوں کو روکنا چاہا مگر دوسری جانب بھی کسی کو دانيال کی خوشبو محسوس ہوئ۔ اسکا لمس، اسکی شبيہہ بند پردوں کے پيچھے لہرائ تو نحيف آنکھوں نے آہستہ سے کھلتے ہوۓ نشوہ کو ديکھا۔
آنسوؤں نے اپنا رستہ بنايا۔ سبحان شاہ نے آہستہ سے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اس سے معافی مانگی۔ وہ زبان جس نے اسے لہولہان کيا تھا وہ آج کچھ کہنے سے قاصر تھی۔
نشوہ ان کے ہاتھ تھام کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"ميں نے آپکو معاف کيا اللہ بھی آپکو معاف کرے" بمشکل يہ الفاظ اسکے منہ سے نکلے۔
_______________________
سبحان شاہ کی حالت يکدم پھر سے بگڑی۔ نشوہ نے روتے ہوۓ جزلان کو کال کی اور قسمت سے وہ مل بھی گئ۔
آج بے بسی کی تصوير بنا اپنی آنکھيں تک کھولنے سے محروم تھا۔ اسکے جسم کا ہر عضو صرف دعاؤں کا محتاج تھا انکی جنہيں اس نے ساری زندگی کچھ نہيں سمجھا تھا۔ تکبر انسان کو يہ بھلا ديتا ہے کہ وہ تو اپنی ايک انگلی تک کو اٹھانے کا اختيار نہيں رکھتا مگر دنيا کو اپنے غرور تلے روندنے کی خواہش کرتا ہے اور جب اللہ اس سے سب اختيار چھين ليتا ہے تب اسے سمجھ آتی ہے کہ يہ سب اللہ کا ہی عطا کردہ ہے وہ تو بے بس ہے اسکا محتاج ہے تو پھر وہ زمين پر کيونکر اور کيے لوگوں کا خدا بن سکتا ہے۔
نشوہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے پاس آئ جو ناليوں ميں جکڑا ہوا تھا۔
اس نے آہستہ سے اسکے پاس کھڑے ہو کر کانپتے ہاتھوں سے پہلی مرتبہ اپنے باپ کے باپ کودادا سمجھ کر اسکے ہاتھوں کو تھاما جو بيڈ پر رکھے تھے۔
درد کی شديد لہر دل ميں اٹھی تھی
صبورہ نے بھی اسے فوراّّ اٹھنے کا حکم ديا۔
اسکی تربيت ميں سختی شامل نہيں تھی۔ تو پھر وہ کيسے سخت دلی کا مظاہر کرتی۔
جلدی ميں نکلتے اسے جزلان کو فون کرنے کا دھيان نہ رہا۔
وہ اپنی ادھيڑ بن ميں لگی رہی۔ راستے ميں جب خيال آيا تب سگنل بار بار ڈراپ ہونے لگ گے۔
اور ہاسپٹل پہنچ کر اسے فوراّّ سبحان شاہ کے کمرے ميں جانا پڑا۔
اس کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ وہ شخص جس نے اسے دنيا سےختم کردينے کی دھمکی دی۔ جو اسکے وجود کا انکاری رہا۔ اسے معاف کرنا نشوہ کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل کام لگا۔ مگر وہ جس حالت ميں تھا نشوہ بے اختيار رو پڑی۔ بے بسی سے بيڈ پر ليٹا زندگی اور موت کی کشمکش ميں تھا۔
وہ جو يہ سمجھتا تھا کہ پيسے اور جائيداد نے اسے سارے رشتے دينے ہيں، وہ جس کے لئيۓ پيسے سے بڑھ کر کچھ نہيں تھا۔ وہ جس کی آواز سے پوری حويلی کانپتی تھی
رات ميں کہيں جا کرسبحان شاہ کی طبيت سنبھلی۔نشوہ بار بار جزلان کو کال کر رہی تھی مگں وہ اٹھا نہيں رہا تھا۔ اب تو گنل بحال ہوگۓ تھے۔ صبح وہ اور صبورہ گھر کے کاموں ميں مصروف تھيں کہ ارمغان اور شرجيل انہيں لينے آۓ۔ سبحان شاہ کو صبح ميں کسی وفت ہارٹ اٹيک ہوا تھا ہاسپٹل لے جاکر فوری ٹريٹمنٹ کروائ تھورڑا سے سنبھلے تو نشوہ کا نام زبان تھا۔ڈاکٹرز نے اسے بلانے کا کہا اور ارمغان اسے لينے بھاگا۔
"پليز بھابھی زندگی موت اللہ کے ہاتھ ميں ہے مگر انکی حالت بہت خراب ہے نہ ہو کل کو آپکو يہ پچھتاوا گھيرے کے ايک مرتے ہوۓ انسان کو معاے ہی کر ديتيں" ارمغان کی بات پر وہ تڑپ اٹھی۔ جو بھی تھا آخر وہ اسکے باپ کا باپ تھا۔ دانيال زندہ ہوتے تو کيا وہ اپنے باپ کے ساتھا ايسی بے اعتنائ برتے جانے پر خوش ہوتے۔ ماں باپ تو ماں باپ ہوتے ہيں چاہے جيسے بھی ہوں۔
اس کا دماغ کھول گيا۔
"ٹھيک ہے جب حالت سنبھلے تو مجھے بتانا" جزلان نے کہتے ساتھ ہی فون رکھ ديا۔
کھولتے دماغ سے اندر بڑھا۔
کمرے ميں آيا تو بيڈ پر سامنے ہی اس دشمن جاں کا دھپٹہ بيڈ پر پڑا نظر آيا۔
جزلان کا غصہ کچھ اور بڑھ گيا۔
"ايک ميسج۔۔ايک ميسج تو کرديتی۔" اس کا غصہ کم ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا۔
جس بری حالت سے وہ گزرا تھا يہ وہی جانتا تھا کيا کيا خدشے دماغ ميں نہيں آۓ تھے۔وہ بہت مضبوط اعصاب کا مالک تھا مگر آج اس کے لئيۓ اپنے اعصاب کو مضبوط رکھنا عذاب ہوگيا تھا۔
اس نے غصے ميں اسکے دوپٹے کا گولہ بنا کر زور سے دور پھينکا اور خود بيڈپر گرنے کے سے انداز سے ليٹ گيا۔
___________________
اس نے سکھ کا سانس ليا۔
"اب کيسے ہيں بابا حضور" اس نے سپاٹ لہجے ميں پوچھا۔
انکی حالت بہتر نہيں آپ نہيں آئيں گے کيا" ارمغان نے سبحان شاہ کی حالت بتاتے آخر ميں ہچکچاتے ہوۓ پوچھا۔
"يہاں راستے خراب ہيں کوئ دھرنا چل رہا ہے نہ ہوتا تو اب تک ميں حويلی ميں ہوتا۔ مجھے تو پتہ ہی نہين تھا۔ مين تو اس قدر خوار ہوکر آيا ہوں۔ اور کب تک حالات ٹھيک ہوتے ہيں کچھ کہہ نہيں سکتا" جزلان اس سے اپنی سوچ اپنی تکليف شئير نہين کر سکتا تھا۔
"کس وقت تم لوگ لے کر گۓ ہو۔" جزلان ريليکس ہوا تو دماغ نے بھی کام کيا۔
"ہم تو صبح گيارہ بجے لے گۓ تھے انہيں" ارمغان کے بتانے پر وہ حيران ہوا۔ پھر نشوہ پر غصہ آيا کم از کم ايک ميسج تو کرديتی۔ کيا وہ اس گھر سے نکلتے اسے ياد بھی نہيں آيا۔ کيا ان لوگوں کی محبت اتنی حاوی ہوگئ کہ جزلان کو اطلاع دينا بھی مناسب نہيں سمجھی۔
بھائ ميں اور شرجيل آۓ تھے۔ تمہيں کب سے ٹرائ کر رہے ہيں مگر نمبر نہيں مل رہا باباحضور آئ سی يو ميں ہيں ہم سب ہاسپٹل ميں ہيں انکی کنڈيشن تھوڑی دير کے لئيۓ سنبھلی تھی جس ميں انہوں نے بھابھی کا نام ليا تھا۔ ڈاکٹرز نے کہا جن کا نام ليا ہے انکو بلائيۂ بس ميں بھابھی کو لينے نکل پڑا۔ انہوں نے ميرے سامنے آپ کو کال کی تھی مگر يکدم سگنل ڈراپ ہوگۓ۔ ميں سمجھا وہ بتا چکی ہيں۔" جزلان سر پکڑ کر بيٹھ گيا وہ کس انتہا کا سوچ چکا تھا اور حقيقت کيا تھا۔
اسے لگا اسکے تنے اعصاب يک لخت صحيح ہوۓ ہيں۔۔۔آنسو کے چند قطرے تشکر ميں نکلے۔ اس نے سر اٹھا کر اوپر آسمان کی جانب ديکھا وہ اس وقت گھر کے لان ميں کھڑا تھا۔ کتنی ٹھنڈ تھی۔۔رات کا کيا پہر تھا دھند نے اسے اپنی لپيٹ ميں ليا ہوا تھا مگر اسے کچھ ہوش نہيں تھا اسکا دل دماغ بس ايک وجود کی جانب لگے تھے۔
روڈ کچھ کھلی تو لوگوں نے گھر واپسی کا سفر کيا کيونکہ شہر سے باہر جانے کے راستے ابھی بھی بند تھے۔
جزلان نے بھی مايوسی سے گھر واپسی کا سفر کيا۔ گھر پہنچا ہی تھا کہ ارمغان کا نمبر ديکھ کر اس نے ايک سے دوسری بيل نہيں ہونے دی اور کال اٹينڈ کی۔
"نشوہ اور چچی کہاں ہيں" وہ غراتے ہوۓ بولا۔
ارمغان اس کا لہجہ سنتے ہی ششد رہ گيا۔
"ہمارے پاس ہيں"
"ہمت کيسے ہوئ تم لوگوں کی انہين لے جانے کی ميں کسی کو نہيں چھوڑوں گا اگر تم ميں سے کسی نے انہيں ہاتھ بھی لگايا" اسکے لہجے ميں ذرہ برابر فرق نہيں پڑا۔
"کيا کہہ رہے ہو بھائ" ارمغان اس کا لہجہ سن کر بھونچکا رہ گيا اتنا تو سمجھ آگيا کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے۔
"کون لے کر گيا ہے نشوہ اور چچی کو اور کيوں" وہ پھنکارا۔
"
اور آپ سب سے بڑے بچانے والے ہيں ميں بے بس ہوں ميں حقير ہوں۔۔۔ميری وشہ کو بچا ليں وہ اسکا بال بھی بيکا نہ کرسکيں اے اللہ" آنسو اسکے گالوں پر پھسل آۓ۔ ہونٹ بھينچے ہاتھ کی مٹھی تھوڑی کے نيچے رکھے بازو کھڑکی پر ٹکاۓ وہ بے بسی کی انتہا پر تھا
مگر جزلان کی تو حالت ہی غير ہوگئ يہ سب سن کر وہ تو اڑ کر پہنچنا چاہتا تھا۔
گاڑی لاک کرکے وہ پيدل چلتا بسوں کے اڈے پر پہنچا۔
مگر کوئ گاڑی جانے کو تيار نہيں تھی کہ لوگ وہاں سے نکلنے والی گاڑیوں کو نزر آتش کر رہے تھے۔ جزلان کو لگا کسی آکٹوپس نے اسے اپنے شکنجے ميں لے ليا ہے۔ دل تھا کہ لگتا تھا بند ہوجاۓ گا۔ واپس اپنی گاڑی کی جانب آيا۔ لاک کھول کر واپس بيٹھا۔
تين گھنٹے گزر گۓ۔ اور جزلان کو لگا يہ قيامت کی گھڑياں ہے دعا مانگ مانگ کر اسکے ہونٹ خشک ہوگۓ۔ موبائل کو ديکھ ديکھ کر اسکی آنکھيں پتھرا گئيں۔
آخر وہ بے بسی سے رو پڑا۔ "اے اللہ اسے بچا ليں اسے ان درندوں سے بچا ليں جن سے ميرا بھی کوئ تعلق تھا۔ ميں بے بس ہوں ميں کيسے اس تک پہنچوں اللہ اس کی حفاظت اب آپ ہی کرسکتے ہيں
اضطرات بڑھتا جا رہا تھا۔ دل کی بری حالت تھی۔ اسکے گھر والے اسکی بيوی کو جان سے مار ديں گۓ اب تو وہ ان سے ہر گری ہوئ سوچ کی توقع کرتا تھا۔
يہ سوچنا ہی محال تھا کہ اسکی جان سے پياری بيوی ان سفاک لوگوں کے ہاتھ لگ گئ۔
کاش اسے پتہ ہوتا وہ گھر کے باہر پہرے بٹھا ديتا مگر۔ ۔۔۔۔
بے بسی سی بے بسی تھی۔ ايک گھنٹہ انتظار کے بعد آخر وہ تنگ آکر گاڑی کو لاک کرکے باہے نکلا۔ لوگ ايک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔
"بھائ صاحب کب تک روڈ کلئير ہوں گے۔" جزلان نے ايک بندے سے پوچھا جو گاڑی سے نکل کر بيزار شکل بناۓ کھڑا تھا۔
"کچھ نہيں پتہ ميں نے گوجرانوالہ جانا تھا مگر سننے ميں آرہا ہے کہ باقی شہروں کی جانب جانے والے سارے راستے بند ہيں۔اوپر سے سگنل بند کردئيے ان خبیثوں نے بندہ نہ پيچھے والوں کو بتا سکتا ہے نہ يہاں سے نکل سکتا ہے' وہ بھی وہی کہانی دہرا رہا تھا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain