جانا بہت ضروری ہے ڈونٹ وری ميں دھيان رکھوں گا" جزلان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی ديکھ کر وہ چونکا۔
"سب خيريت تو ہے نا"
"دعا کرنا خيريت رہے۔ خدا حافظ" وہاں سے نکلتے ساتھ ہی وہ مسلسل نشوہ کو فون ملا رہا تھا مگر وہ فون نہيں اٹھا رہی تھی۔
جزلان نے گاڑی ميں بيٹھتے ہی گاڑی اتنی تيز رفتاری سے چلائ جتنی تيزی سے وہ چلا سکتا تھا۔
اسکی گرفت اسٹيرنگ پر سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی۔
اس نے اب کی بار بلال شاہ اور ارمفان کو نمبر ملانا چاہا تو سگنل بند ہوگۓ۔ اس نے زور سے مکا اسٹيرنگ پر مارا۔
"واٹ دا ہيل" وہ اتنی زور سے چيخا۔
کچھ دور ہی گيا کہ آگے دھرنا دئيے لوگ بيٹھے تھے۔
اس نے وہاں سے گاڑی تيزی سے موڑی اور ايک اور سڑک پر اس آس ميں ڈالی کہ شايد يہاں کوئ بات بن جاۓ مگر وہی حالات گاڑيوں کی ايک لمبی قطار تھی۔
"وہ جی حويلی سے صبح کچھ لوگ آۓ تھے وہ لے گۓ" جزلان کو لگا آفس کی چھت اسکے سر پر گری ہو۔
"کيا کہہ رہی ہيں"
"جی وہ روتے ہوۓ گئيں ہيں ميں تو خود بڑی پريشان ہوں جی۔۔وہ" ابھی وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی کہ جزلان کو لگا اسکے کان سائيں سائيں کر رہے ہيں۔
وہ لوگ اس جد تک گر جائيں گے وہ سوچ بھی نہيں سکتا تھا۔
اس نے فوراّّ سبحان شاہ کا نمبر ملايا مگر کوئ اٹھا نہيں رہا تھا۔
حويلی کے فون کا بھی يہی حال تھا۔ اسے لگا وہ پاگل ہوجاۓ گا۔ تيزی سے گاڑی کی چابياں نکالتے وہ اپنے مينجر کے پاس آيا۔
"کچھ ايمرجنسی ہوگئ ہے ميں گاؤں جا رہا ہوں۔ کب تک آؤں گا ابھی نہين بتا سکتا تم يہاں کا کام ہينڈل کر لينا" جزلان جلدی جلدی اسے ضروری ہدايات دينے لگا۔
"يار آج کوئ دھرنا ہے راستے بلاک ہو رہے ہيں تم دھيان سے نکلنا۔" اسکے مينجر نے اطلاع دی۔
نشوہ کو اس نے ڈينٹسٹ کے پاس لے کر جانا تھا اسکے دانت ميں کچھ مسئلہ ہوا تھا صبح سے درد کر رہا تھا۔
جزلان نے آفس کے لئيۓ نکلتے ہوۓ ڈاکٹر سے اپائنمنٹ لے ليا تھا اور اب جلدی پہنچ کر اسے ساتھ لے جانا جاہتا تھا کہ نشوہ کا فون آگيا۔
وہ مسکرايا "دل کو دل سے راہ ہوتی ہے" فون کان سے لگاتے وہ مسکراتے لہجے ميں گويا ہوا۔
"جز۔۔جزلان" اپنی بات کے جوات ميں نشوہ کی روتی ہوئ آواز آئ۔
"وشہ کيا ہوا ہے" وہ گھبرا اٹھا۔
"جزلان وہ۔۔۔" ابھی وہ اتنا ہی کہہ پائ تھی کہ کال بند ہوگئ۔ اس نے ری ڈائل کيا تو نمبر انگيج وہ چکرا گيا۔
جلدی سے گھر کے نمبر پر فون کيا
"ہيلو" کام کرنے والی کی آواز آئ
"اسلام عليکم نشوہ اور چچی کہاں ہيں" اس نے تيزی سے پوچھا۔
"
ميرے ماتھے پر نہيں لکھا کہ ميں آپکی بيوی ہوں۔ ہالڈ آن يور اموشنز" نشوہ نے تنبيہہ کی۔
"اوکے اس کا مطلب ہے اپنے روم ميں کوئ اعتراض نہيں" جزلان نے شرارتی نظروں سے اسے ديکھا۔
"زيادہ نہين پھيليں" نشوہ اسکی بات کا مفہوم سمجھتے نظريں چراتے ہوۓ بولی۔
"اب تو آپ نے کہہ ديا ياد رکھنا رات کو مجھے گھر ہی آنا ہے" جزلان نے اسے پيار بھری دھمکی دی۔
"اچھا ابھی تو اپنے کام پر جائيں۔۔اکيلی لڑکی کو ديکھتے ہی تنگ کرنا شروع کرديا ہے" نشوہ نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ کہا۔
"اب تو پوری دنيا کو پتہ چل گيا ہے نا کہ ہم مياں بيوی ہيں" جزلان نے اپنے بازو پر رکھے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
"اف" اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
جزلان اس کے ساتھ چلتا مسلسل اسے زچ کئيۓ جا رہا تھا۔
اگلے دن وہ شام ميں جلدی جلدی کام ختم کرکے گھر جانا چاہ رہا تھا
پھر دونوں کھانا کھانے مين مگن ہوگۓ۔
کھانے کے بعد نشوہ نے گوچی کی خوبصورت سی گھڑی اس کے سامنے کی۔
"ميں اپنی سيونگز کو خرچ کرنے کے بارے ميں ہميشہ سے بہت کنجوس رہی ہوں۔ سو يہ مت سمجھيے گا کہ آپکے پيسوں ميں سے آپ ہی کو گفٹ دے رہی ہوں۔ يہ ميری اپنی سيونگز ميں سے ہے" نشوہ نے فخريہ بتايا۔
جزلان نے اسی لمحے پہلے سے پہنی گھڑی اتار کر اس کيس ميں رکھتے نشوہ کی دی ہوئ گھڑی پہنی۔
"اب ہر لمحہ اس گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ آپی محبت ميرے ساتھ رہے گی" جزلان کی لو ديتی آنکھوں نے اس کا طواف کيا۔
نشوہ بلش کرگئ۔
جزلان نے محبت سے ہاتھ بڑھا کر اسکے گالوں کو پوروں سے چھوا۔
"کيا کر رہے ہيں ہم اپنے روم ميں نہيں بيٹھے" نشوہ نے پيچھے ہوتے خفگی سے گھورا۔
"کيا ہے يار اپنی بيوی کو پيار کر رہا ہوں" جزلان نے منہ بناتے کہا۔
"
يار بہت کام پينڈنگ ہے" اس نے بے چارگی سے کہا۔
"ڈونٹ يو وری سر ميں آپا صرف ايک گھنٹہ لوں گی اور پھر بخيرو عافيت آپکو واپس يہيں چھوڑ جاؤں گی۔" نشوہ نے اسکے سامنے آتے کورنش بجا لاتے کہا۔
"اوکے مائ ڈئير ليکن کيا آپ گاڑی ڈرائيو کريں گی" جزلان نے مانتے ہوۓ اسکے ساتھ قدم آگے بڑھاتے کہا۔
"جی بالکل آج ميں آپکو اپنی ڈرائيونگ کے جلوے دکھاتی ہوں" نشوہ نے اسکے ساتھ چلتے کہا۔
وہ دونوں وہاں سے نکل کر پی سی آۓ جہاں نشوہ نے پہلے سے ہی سيٹ ريزرو کروائ ہوئ تھی۔ کيک کا آرڈر بھی ديا ہوا تھا۔
نشوہ کے سامنے بيٹھ کر کيک کاٹتے اسے اپنی زندگی کا سب سے حسين پل لگا۔
آج اسکی سچی محبت اسکے ساتھ اسکی خوشيوں کو شئير کر رہی تھی۔
جزلان نے ايک کيک کا پيس کاٹ کر نشوہ کو کھلايا۔
ميں نے سوچا آپ مجھے سرپرائزز ديتے رہتے ہيں آج کے اہم دن پر ميں آپکو سرپرائز دوں۔۔۔ہيپی برتھ ڈے" پنک شرٹ اور بلو جينز پر ليدر کی بليک لانگ جيکٹ پہنے اسکارف کو مخصوض انداز ميں سر پر لپيٹے ايک ہاتھ ميں پھولوں کا بکے لئيۓ وہ اسکی ٹيبل کے پاس آتی مسکراتی نظروں سے اسے ديکھ کر بولی۔
"تھينک يو جان" اپنی ٹيبل سے باہر آتا وہ اسے بازوؤں کے گہرے ميں ليتا حقيقت ميں اس سرپرائز پر بے حد خوش ہوا تھا۔
نشوہ نے پيچھے ہوتے بکے اسکی جانب بڑھايا جسے جزلان نے مسکراتے ہوۓ تھاما۔
نشوہ نے آگے بڑھ کر تھوڑا سا اونچا ہوتے ہولے سے لب اسکی پيشانی پر رکھے۔
جزلان کو وہ جيران کئيے جارہی تھی۔
"چليں آج کا لنچ ميری طرف سے ويسے بھی مجھے يقين ہے آپ نے کچھ نہيں کھايا ہوگا۔ کام ميں لگ کر کھانا پينا سب بھول جاتے ہيں" نشوہ نے وثوق سے کہتے اسکا بازو تھام کر چلنے کا کہا۔
ہاں کيوں" جزلان کی بات پر وہ پرسوچ انداز ميں بولی۔
"ابھی تو صبح والا اظہار ہضم نہيں ہوا تھا کہ اب پھر سے ميرا سکون چھين رہی ہيں۔ اب اتنے خوبصورت اظہار کے بعد ميں کام ميں کيا خاک دل لگے گا۔ آپ ميری بزنس بند کرا کر رہيں گی" جزلان نے دہائياں ديں۔
"اور جب مجھے سامنے ديکھيں گے تو کيا ہوگا" نشوہ کی بات پر وہ الجھا۔ ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئ۔
"ہولڈ وشہ دروازے پہ کوئ ہے۔ کم ان" اسے ہولڈ کرنے کا کہہ کر وہ فون کان سے نيچے کرتے ہوۓ بولا۔
دروازہ کھلتے جو چہرہ سامنے نظر آيا وہ اسے شاکڈ کرنے کے لئيۓ کافی تھا۔
"وشہ " نشوہ موبائل کان سے لگاۓ اسکے سامنے تھی۔
"
اللہ آپکی دعا قبول کرے ہر لمحہ" جزلان نے محبت سے اسے اپنے ساتھ لگايا۔
____________________
جزلان آج بہت دنوں بعد بوتيک پر آيا تھا۔۔سب ڈيزائنرز اور کاريگروں سے مل کر نۓ پروجيکٹس ڈيزائن کئيے وہ سارا دن نہايت مصروفيت ميں گزرا۔
دوپہر ميں بيٹھا وہ کچھ کپڑوں کے ڈيزائنز چيک کر رہا تھا کہ موبائل پر نشوہ کی کال آئ۔
"اسلام عليکم" نشوہ نے اسکی ہيلو کہنے کی عادت اب ختم کروا دی تھی۔
"وعليکم سلام جيتے رہيں" نشوہ کے انداز پر وہ سب چھوڑ چھاڑ اسکی جانب متوجہ ہوا۔
"خيريت ہے نا" جزلان نے اسکے انداز پر حيرت کا اظہار کيا۔ وہ بہت کم کال کرتی تھی زيادہ تر ميسجز سے کام چلاتی تھی۔
"آپ کے بغير دل نہيں لگ رہا" جزلان کو اسکے لہجے ميں چھپی محبت محسوس کرتے خوشگوار سی حيرت ہوئ۔
"يہ آج سورج مشرق سے ہی نکلا ہے نا"
"
وہ اکثر صبورہ سے کہتا تھا کہ "جتنی اچھی باتيں آپ کرتی ہيں دلوں کو چھولينے والی ايسی ہی اپنی بيٹی کو بھی سکھاديں وہ تو ہر وقت جلی کٹی سناتی ہے۔"
اور وہ کہتی تھيں"جتنی پر تاثير باتيں نشوہ کی ہيں شايد ميری بھی نہيں"
آج اسے يقين ہوگيا تھا وہ ساحرہ تھی اور وہ اسکے سحر ميں تاعمر گم رہنا چاہتا تھا۔
"کون سی نعمت" جزلان کے سوال پر اس نے نگاہيں اٹھائيں اور جزلان کو لگا اس کا دل ان نظروں کے ساتھ لپٹ گيا ہے۔
"آپکی مجبت کی نعمت ميں ہر لمحہ اس کا شکر ادا کرنا چاہتی ہوں تاکہ يہ مجھے اور پھر اور پھر اور۔۔۔۔ملتی ہی چلی جاۓ"
"لڑکی ڈائيلا گز سيکھ گئ نا" جزلان کی بات پر وہ ہولے سے سر نفی ميں ہلاتے مسکرائ۔
"خود ہی تو کہتے تھے محبت کی ہوتی تو پتہ چلتا يہ ڈائيلاگز نہيں مجبت ہے واقعی اب سمجھ آگيا۔"
اس نے عقيدت سے جزلان کے ہاتھ پکڑتے ان پر بوسہ ديا۔
"
کيا ساری دعائيں آج ہی مانگ لينی ہيں" جزلان نے اسکے چہرے کو نظروں کی گرفت ميں ليتے پوچھا۔ وہ ہولے سے مسکرائ۔
"ہم اللہ سے شکوے کرنے ميں نہ تو دير کرتے ہيں اور نہ دير تلک کرتے رہنے ميں کوئ شرم محسوس کرتے ہيں تو پھر شکر کرنے ميں وقت کا تعين کيوں کريں۔۔۔مجھے آج سمجھ ہی نہيں آ رہی کس کس بات پر اس کا شکر ادا کروں بس فہرست بنتی جارہی ہے۔۔اور وہ مجھے اٹھنے ہی نہيں دے رہا۔۔آپکو پتہ ہے مين نے ايک مرتبہ کہيں پڑھا تھا نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ بڑھتی جاتی ہيں دو گنا۔۔تين گنا يا شايد اس سے بھی بڑھ کر ملتی ہيں اور ميں ايک نعمت کا شکر بار بار ادا کر رہی ہوں" وہ اتنے جذب سے نظريں جھکاۓ بول رہی تھی کہ جزلان کا دل کيا وہ اتنی ہی خوبصورت باتيں کرتی جاۓ اور وہ سنتا جاۓ نجانے کيسا سحر تھا اسکی باتوں مين۔
جس وقت جزلان کی آنکھ کھلی نشوہ سامنے جاءنماز بچھاۓ دعا مانگنے ميں مشغول تھی۔
اس نے اٹھ کر گھڑی ميں ٹائم ديکھا تو ساڑھے پانچ کا وفت ہوا تھا۔ وہ تيزی سے اٹھا واش روم ميں گيا۔ کچھ دير بعد شاور لے کر اور وضو کرکے باہر آيا مسجد جانے کا وقت تو نکل چکا تھا اس نے گھر ميں ہی نماز پڑھنے کا سوچا۔
نشوہ کی دعا ابھی تک جاری تھی۔ وہ دوسری جاءنماز بچھا کر نماز پڑھنے لگا۔ جس وقت وہ نماز پڑھ کر سلام پھير کر فارغ ہوا نشوہ ابھی تک وہيں بيٹھی تھی۔
وہ دعا مانگ کر اسکے پاس بيٹھا۔
"وشہ" آہستہ سے آواز دی۔
اس نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹاتے جزلان کو ديکھا۔ اسے نشوہ کا چہرہ آج سے پہلے اتنا حسين نہين لگا تھا ايک عجيب سی روشنی پھوٹ رہی تھی اسکے چہرے سے۔۔۔کيا يہ محبت کا اعجاز تھاياکچھ اور۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
"
جزلان کی خوبصورت آواز ميں گھلی محبت نے اسے يقين دلايا کہ وہ اسکے لئيۓ بہت بہت خاص ہے اور پھر اس رات اس کے لئيے جزلان کی مجبت کو دامن ميں سمٹنا مشکل ہوگيا۔ محبتوں بھری رات نے انہيں اپنی لپيٹ ميں لے ليا۔وہ رات انکی محبت کی تکميل کی رات تھی
نشوہ نے آنکھيں بند کرتے اسکی محبت کی انتہا کو بھرتور انداز ميں اپنے ماتھے پر محسوس کيا تھا۔
شدت جذبات سے وہ روپڑی۔
"وشہ" جزلان حيران ہوا۔
"يہ کيوں" حيرت در حيرت تھی۔
"ہميشہ ميرے رہيں گے نا" اسکی خدشوں بھری آواز پر اس نے نشوہ کے ہاتھوں کو تھام کر ان پر اپنے لب رکھ دئيے۔
"آپکا ہی تھا اور آپکا ہی رہوں گا ہميشہ۔۔۔آپ کے سوا اور اب نظر ہی کچھ نہيں آتا"
"
اور آپ مجھے سميٹ ليں۔ مجھے اتنا خوف محسوس ہوا کہ اگر وہ لڑکے کچھ بھی غلط کرکے مجھے مار کر وہاں پھينک ديتے تو کون ہوتا جو مجھے کندھا دینے والا ہوتا اتنی بری موت ميں مرنا نہيں چاہتی تھی۔ وہاں صرف آپ ميرے اپنے تھے۔۔۔ اور پھر جب آپکو ميں نے ہاسپٹل ميں اپنے انتظار ميں ديکھا تو مجھے آپ پر بے تحاشا پيار آيا۔ سب کدورتيں سب رنحشيں وہيں ختم ہوگئيں تھيں۔" نشوہ اس قدر جذب سے جزلان کے حوالے سے اپنے محسوسات بتا رہی تھی کہ وہ ساکت رہ گيا۔ وہ تو سوچتا تھا کہ اتنی شديد محبت صرف وہی نشوہ سے کرتا ہے اسکی محبت کی شدت کا تو آج اندازہ ہوا تھا۔
"آپ سے اتنی سی ريکوئيسٹ ہے ہميشہ مجھے سے اتنی ہی محبت کرنا" جزلان نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوۓ آنچ ديتے لہجے ميں کہا۔
جزلان نے اپنی محبت پاش نظريں اسکے حسين چہرے پر گاڑھيں۔
"جی نہيں پہلے گانا" نشوہ نے اصرار کيا۔
"اس سے بھی پہلے ايک سوال"
"ضرور"
"ميری محبت کا انکشاف کب ہوا اب يہ نہين کہنا ابھ تک نہيں ہوا" جزلان کی بات پر وہ مسکرائ۔
"پيرس ميں اس رات جب ميں غصے ميں ہوٹل سے نکل کھڑی ہوئ تھی اور ان ہوس زدہ لڑکوں کے ہاتھ لگنے لگی تھی۔ وہاں اللہ کے بعد جس کا خيال آيا وہ آپ تھے۔ اس لمحے شدت سے اپنی عزت بچاتے يہ خيال شدت اختيار کرگيا کہ ميرا وجود کسی کی امانت ہے ۔ اور پھر جب اس پوليس والے نے بتايا کہ مسٹر جزلان نے کال کی ہے کہ انکی بيوی کھوگئ ہے تو کيا وہ آپ ہيں۔ اس لمحے شدت سے دل کيا ميں پيرس کی ان گليوں ميں ان ہواؤں ميں ہر جگہ چيخ چيخ کر کہوں کہ ميں ہی جزلان کی نشوہ ہوں۔۔ميرا دل کيا آپ کہيں سے ميرے سامنے آجائيں اور ميں اپنی ان کچھ لمحوں کی تکليف کو بيان کروں
ہاتھ نہيں لگانا اب مجھے"
"يار آپ کے لئيۓ ہی گايا تھا۔۔۔۔اچھا يقين نہيں تو ايک اور گا ليتا ہوں" وہ جلدی سے اسے ٹھنڈا کرنے کے لئيۓ بولا۔
"نہيں نہيں اسی کو جا کر سنائيں" وہ ہاتھ چھڑاتے بولی۔
"ڈرامے نہ کريں۔۔۔۔مجھے ساری سمجھ آ رہی ہے يہ باتوں کو گھمانے والی" جزلان نے اب کی بار دو منٹ خاموش ہو کر اسکی حرکتوں پر غور کرتے ہوۓ سب سمجھتے کہا۔
نشوہ کی بے اختيار ہنسی نکل گئ۔
جزلان نے بھنويں اچکائيں۔
"سيدھی ہو جائيں" جزلان نے اسے دھمکی دی۔
"پہلے گانا سنائين۔ اف کتنا رومينٹک ہے نا کوئ آپکے لئيۓ گانے گا رہا ہے" نشوہ نے دونوں ہاتھوں کو آپس ميں ملاتے حسرت بھرے انداز ميں کہا۔
"اس سے بھی زیادہ رومينٹک ہے کہ کوئ آپکو عمل سے اپنی محبت کا يقين دلا رہا ہے"
جزلان کے شرارتی لہجے پر وہ سيدھی ہوکر اسکے سامنے بيٹھتے ہوۓ اسے گھورنے لگی۔
"ابھی بھی کنفيوزڈ بات کر رہے ہيں" گھورنے کا سلسلہ جاری تھا۔
"لڑکی مجھ سے محبت کی ہوتی تو يہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوتی کہ ميری جان کون ہے" جزلان نے نفی ميں سر ہلاتے گويا اسکی عقل پر ماتم کيا۔
"بتانے ميں کيا حرج ہے " اس نے تيوری چڑھائ۔
"اوکے وہ گانا ميں نے۔۔۔۔"جزلان نے تھوڑی کے نيچے ہاتھ رکھ کر سوچتے ہوۓ وقفہ ليا۔
"ميں نے" نشوہ نے اسکے الفاظ دہراۓ۔
"اپنی ايک ايکس گرل فرينڈ کے لئيے گايا تھا۔" جزلان کی شرارتی نظروں نے نشوہ کے لال بھبھوکا چہرے کو اپنی لپيٹ ميں ليا۔
"مذاق کر رہا ہوں" اسکے خطرناک تيور ديکھ کر جزلان نے جلدی سے بات سنبھالنی چاہی اور لجاجت سے کہتے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا جسے جھٹکے سے اس نے ہٹايا۔
"
کچھ لوگوں پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے کہ وہ برائ سے بھی ايسے بچ نکل آتے ہيں کہ ان کی اچھائ متاثر نہين ہوتی۔
کيا تھا کہ اگر جزلان بھی وہاں کے مردوں کی طرح اپنی راتوں کو رنگين بناتا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ نہيں جانتا کہ اس نے عورت کی کبھی چاہ کيوں نہيں کی اسی لئيۓ کہ اللہ نے نہيں چاہا تھا کہ وہ برائ کی تہہ تک جاۓ۔
اللہ اسے کنارے سے ہی نکال لايا تھا۔
"کيا سوچ رہی ہيں" جزلان نے اسکی خاموشی کو محسوس کرليا تھا۔
"اس رات وہ گانا کس کے لئيۓ گايا" نشوہ کی شکوے بھری آواز آئ۔
"کس رات" جزلان کو ياد نہين آيا وہ کب کی بات کر رہی ہے۔
"فارم ہاؤس پر بورن فائر کی رات۔ جب ارمغان نے کہا تھا کہ يہ آپ نے بھابھی کے لئيۓ گايا ہے تو آپ نے کہا تھا ضروری نہيں" نشوہ کا منہ ابھی بھی پھولا ہوا تھا۔
"ہاہاہا! وہ تو ميں نے اپنی جان کے ليۓ گايا تھا"
ميں سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ آپ اتنی جلدی يہ سب کرليں گے"
"وشہ اس رات اس فنکشن ميں جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آپ نے کتنا ٹھيک کہا ہے۔ رشتوں کی عزت تبھی برقرار رہتی ہے جب ہم ان ميں فاصلے قائم رکھتے ہيں نہيں تو وہ بس ہوس کے لبادے ميں لپٹ کر اتنے بدبودار ہوجاتے ہيں جيسے گلے سڑے کوڑا کرکٹ کی بدبو جس کے قريب کھڑا بھی نہيں ہوا جاتا۔ مجھے اس رات ہر ايک چہرے پر سواۓ گندگی کے اور کچھ نظر نہين آيا۔ کوئ اپنے حسن کو عيان کرنے کی گندگی لئيۓ ہوۓ تھے تو کوئ اس حسن کو نچوڑنے کی گندگی لئيۓ ہوۓ مجھے وہاں سانس لينی محال ہوگئ۔ بس پھر لمحوں ميں فيصلہ ہوگيا۔ اور اس سب کے لئيۓ ميں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے آپ جيسی پاکيزہ بيوی کو ميری قسمت ميں لکھ کر مجھے برائ کی دلدل ميں دھنسنے سے بچا ليا۔" جزلان کا ايک ايک لفظ اس کے دل ميں اتر رہا تھا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain