Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

پہلی مرتبہ کسی کو سوتے ميں يہ کہتے سنا ہے کہ وہ سو رہا ہے۔ اور حيرت ہے کہ واٹس ايپ پر دو منٹ پہلے اپنا اسٹيٹس اپ لوڈ کرنے والے اتنی جلدی سو بھی جاتے ہيں ايسی نيند کو ٹوٹکہ مجھے بھی بتائيں۔"جزلان نے لطيف سا طنز کيا۔
اب کی بار نشوہ نے پوری آنکھيں کھول کر اسے خفگی سے ديکھا جو بيڈ سے ٹيک لگاۓ اسی کو ديکھا رہا تھا۔
"ستيا ناس ہو اس واٹس ايپ اور فيس بک کا کوئ بات بندے کی راز نہيں رہ سکتی۔" وہ اٹھتے ہوۓ پھلے منہ کے ساتھ بولی۔
"آپ تو پہلے وعدے پر ہی مکر گئيں" جزلان نے تاسف بھری نظروں سے اسے ديکھا۔
"ايسا نہيں ہے۔۔" اب وہ اسے کيا بتاتی کہ جزلان کا صرف ہاتھ پکڑ لينا ہی اسکی جان نکال ديتا ہے۔
"تھينک يو" يکدم نشوہ نے اسکے قريب ہوتے اسکے کندھے پر سر رکھتے کہا۔
"کس بات کا"

Mirh@_Ch
 

وہ تو ابھی اس کے الفاظ سے اسکی محبتوں کی شدتوں کو سہہ نہيں پاتی تھی کہاں۔۔۔۔۔يہ سوچ کر ہی اسکے دل کی دھڑکن تيز ہوئ۔
ابھی وہ اسی ادھيڑ بن ميں تھی کہ جزلان کا سامنا کيسے کرےگی کہ اسکی گاڑی کا ہارن بجا۔
وہ بجلی کی تيزی سے اٹھی
کمرے کی لائٹ بند کی،نائٹ بلب جلايا اور بيڈ پر ليٹ کر کمبل سر تک لے کر سوتی بن گئ۔
کچھ دير بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئ اور ساتھ ہی نشوہ کی دھڑکنوں ميں تيزی آگئ۔
تھوڑی دير بعد اسے محسوس ہوا جيسے جزلان بيڈ پر بيٹھا ہے۔
اور پھر اس نے نشوہ کا کمبل منہ سے ہٹايا۔
"چچ چچ۔۔۔۔لوگوں کو اتنے بڑے بڑے دعوے نہيں کرنے چاہئيں" جزلان کی مسکراتی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ۔
"ميں سو رہی ہوں" نشوہ کی بات پر ايک بے ساختہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر بکھری۔

Mirh@_Ch
 

نہيں ميں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ميرے اس فيصلے کی وجہ کسی سے کوئ لڑائ، کينہ اور کوئ بھی ايسی وجہ نہيں۔ بے ميرا خيال ہے ميرا سفر اس انڈسٹری ميں يہيں تک تھا۔ ميں اب زيادہ توجہ اپنے بوتيک کے بزنس کو دينا چاہتا ہوں" اس نے نہايت سہولت سے جواب ديا۔
ايک دو اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دے کر اس نے کانفرنس ختم کردی۔ نشوہ بھی ٹی وی بند کرکے کمرے ميں چلی گئ۔
کمرے ميں آکر وہادھر ادھر کی چيزيں سميٹنے لگی پھر کچھ دير بعد ابھی وہ اپنے واٹس ايپ اسٹيٹس پر ايک موٹيويشنل کوٹ لکھ کر پوسٹ کر رہی تھی کہ جزلان کا پھر سے ميسج آيا۔ اس نے پوسٹ کرکے ميسج کھولا۔
"ميں نے اپنے الفاظ کا پاس رکھا ہے اب ديکھتے ہيں کہ آپ کہاں تک اپنے الفاظ کو ياد رکھے ہوۓ ہيں۔ وانا ميک يو مائن ناؤ۔۔سو گيٹ ريڈی" جزلان کی بات کا مفہوم سمجھتے اب اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوۓ تھے۔

Mirh@_Ch
 

اس کا ہر عمل اتنا حيران کن تھا کہ نشوہ کو لگا وہ ساری زندگی اسکے ليۓ ايک بند کتاب ہی رہے گا جسے وہ ہر بار نۓ سرے سے پڑھے گی۔
وہ اپنے ہر عمل سے اسے اور بھی خاص بناتا جا رہا تھا وہ بے اختيار روتے ہوۓ اللہ کے حضور سجدے ميں جھک گئ جس نے اسے قدر کرنے اور بے انتہا محبت کرنے والا شخص ديا تھا۔
وہ کيسے اسکی محبتوں کا شکريہ ادا کر پاۓ گی۔ اسے لگا وہ ساری زندگی اسکی محبت کے احسانوں کے بوجھ سے اٹھ نہيں پاۓ گی۔
آنسو قطار در قطار بہتے جا رہے تھے۔
يقيناّّ وہ اللہ کی نظر ميں بھی بہت خاص تھا کہ اتنی جلدی وہ اسے راہ راست پر لے آيا تھا۔ نشوہ نے بے اختيار سوچا۔
"سر آپکے اتنے بڑے فيصلے کی وجہ کيا کسی سے کوئ چپقلش ہے" اب صحافی سولوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔

Mirh@_Ch
 

کہ آپ سب اچھے الفاظ ميں مجھے ياد رکھيں گے۔ ميں نے جس جس کے ساتھ کام کيا ميرے ايکٹرز سے لے کر، ٹيکنيشنز سپورٹ بوائز اور حتی کہ ميرے پروڈکشن ہاؤس کے چوکيدار تک سب کہ ميں تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ہر لمحے ميرا ساتھ ديا۔ ميں کبھی بھی آپ سب لوگوں کو بھلا نہيں سکتا اور خاص طور پر ميرے فينز جن کی محبتوں نے ميرے پہلے پروجيکٹ سے لے کر آخری تک مجھے پذيرائ دی۔ آخر ميں ميری محبت کا شکريہ جس نے مجھے سب خاميوں سميت قبول کيا۔" آخری ميسج اس نے کس کو ديا نشوہ اچھی طرح جانتی تھی۔
وہ سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ تين چار دن پہلے اسکی فلم کے سلسلے ميں ہونے والی پارٹی سے پہلے جو بات ہوئ جزلان اس پر اتنی جلدی عمل کرڈالے گا۔
وہ اس کی محبتوں کی شدتوں پر اپنے آنسو روک نہيں پائ۔ کيا تھا وہ شخص نشوہ کو لگا وہ اسے کبھی جان نہيں پاۓ گی۔

Mirh@_Ch
 

اچھا نشوہ ميں کمرے ميں جارہی ہوں جزلان آۓ ت مجھے بتا دينا ابھی جاگ رہی ہوں" صبورہ بيگم اسے ٹی وی آن کرتے ديکھ کر بوليں۔
جزلان نے جس چينل کا کہا تھا نشوہ نے معمول کے سے انداز ميں وہ چینل لگايا۔ تو لائيو جزلان کی پريس کانفرنس آ رہی تھی۔
بڑی سےی ٹيبل کے دوسری جانب وہ بيٹھا کچھ کہہ رہا تھا۔
نشوہ نے تيزی سے آواز اونچی کی۔ اس کے اسٹيج کے پيچھے جو لکھا تھا وہ نشوہ کو حيرت زدہ کرنے کے ليۓ بہت تھا۔
"فيرويل کانفرنس ٹودا موسٹ ٹيلنٹڈ اينڈ ينگ ڈائريکٹر اينڈ پروڈيوسر جزلان شاہ"
"آج ميرا آپ سب کے ساتھ يہ آخری دن ہے۔ کچھ وجوہات ايسی ہيں جن کی وجہ سے ميں يہ انڈسٹری چھوڑ رہا ہوں۔ مين آپ سب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے اس تمام عرصے ميں مجھے عروج کی بلنديوں پر پہنچايا۔ شہرت، محبت سب مجھے مل گيا اب اس سے زيادہ کی چاہ نہيں ميں اميد کرتا ہوں

Mirh@_Ch
 

نشوہ عشاء کی نماز کے بعد چاۓ بنا رہی تھی۔
"امی آپ ليں گی اس وقت چاۓ" نشوہ نے ماں سے پوچھا جو لاؤنج ميں بيٹھی کوئ سورۃ پڑھنے ميں مصروف تھيں۔
"نہيں بيٹا اس وقت چاۓ پی تو پھر نيند نہيں آۓ گی۔ جزلان کا پتہ کيا کہاں ہے" صبورہ نے سہولت سے منع کر تے جزلان کے بارے ميں استفسار کيا رات کے دس بج چکے تھے۔
"مين کر رہی تھی ابھی تو ان کا فون بزی تھا۔ دوپہر کو جب نکل رہے تھے تو رات دير سے آنے کا کہا تھا"نشوہ نے کچن سے ہی کھڑے کھڑے جواب ديا
ابھی وہ چاۓ کا کپ لئيۓ لاؤنج ميں آئ ہی تھی کہ جزلان کا ميسج آيا۔
"وشہ ٹی وی آن کريں آپکے لئيے ايک سرپرائز ہے" ساتھ ميں کسی چينل کا نام بھی تھا۔ نشوہ
ميسج پڑھ کر يہی سمجھی کہ اسکی فلم سے متعلق کوئ خبر ہوگی۔

Mirh@_Ch
 

مجھے بھی يقين نہيں آتا يہ ميں ہوں ايسے جذبوں سے دور بھاگنے والی اب لگتا ہے سر تا پا اسکی محبت کی بارش ميں ساری عمر بھيگتے رہنا چاہتی ہوں" نشوہ نے کھوۓ ہوۓ لہجے ميں کہا۔
"جزلان بھائ کو بتايا ہے يا سب" مزنی نے رازداری سے پوچھا۔
"نہيں يار انہيں بتانے کی ہمت نہيں کر سکتی اور پھر کچھ جذبے صرف محسوس کرنے کے ہوتے ہيں بتانے کہ نہيں۔ خير يہ بتاؤ کب ملو گی تم سے ملنے کو تو اب دل بے چين ہوگيا ہے" نشوہ نے محبت سے کہا۔
"بس يار آجکل کچھ مصروف ہوں جلد ہی کوئ ملنے کا پروگرام رکھتے ہيں۔۔ اللہ تمہيں بہت خوشياں دے۔ ميری سب دعائيں تتم دونوں کے ساتھ ہيں" مزنی کے لہجے ميں سچے دوستوں والی محبت جھلک رہی تھی ۔
"تھينکس ڈئير۔۔بس دعا کرتی رہنا اور اپنا خيال رکھنا۔۔اللہ حافظ"۔
__________________________

Mirh@_Ch
 

بہت محبت کرنے لگ گئ ہو" نشوہ نے محظوظ ہوتے سوال کيا کہاں نشوہ جيسی خشک مزاج لڑکی سے ايسے کسی رشتے کی اميد کی جا سکتی تھی۔
"يار سچ کہوں وہ بندہ ہے ہی محبت کے قابل۔۔اس نے مجھے کبھی پچھلی بدتميزيوں کا طعنہ ديا ہی نہيں۔ وہ ميرے ہر نۓ دن کو پہلے سے زيادہ محبت سے لبريز کر ديتا ہے۔ اس نے ميرے کوئ ايسی راہ ہی نہيں چھوڑی کہ جہاں ميں اسکی محبت سے بھاگ جاتی۔ عجيب پاکيزہ محبت ہے اس کی۔ مجھے لگتا ہے مجھے اس سے محبت نہيں عشق ہو گيا ہے اسکی ہر ادا اتنی پياری لگتی ہے۔ اس کا ديکھنا۔۔مجھے مخاطب کرنا۔۔مجھے محبت سے تھامنا۔۔مزنی ميں اس کے عشق ميں مبتلا ہوگئ ہوں" نشوہ نے اپنی سب محسوسات ہميشہ کی طرح مزنی سے شئير کئيے۔
"اللہ نشوہ يقين نہين آ رہا يہ تم کہہ رہی ہو" مزنی تو حيرت زدہ رہ گئ اسکی باتيں سن کر۔
"

Mirh@_Ch
 

مزنی نے شرارتی لہجے ميں پوچھا۔
نشوہ نے اسے سارے حالات سے آگاہ کيا۔
"يار يقين نہيں آتا کہ کوئ اپنوں کے ساتھ اتنا بھی سفاک ہو سکتا ہے۔ حد کردی تمہارے دادا نے۔ مگر مجھے يہ جان کر خوشی ہوئ ہے کہ جزلان بھائ تمہارے حق ميں اتنے اچھے ہيں۔۔ اب مزيد ان کا امتحان مت لو اور اچذی سی زندگی شروع کرو۔۔انہوں نے پھر وہاں سے آنے کے بعد تمہارے داد پر کيس کيا"
"پتہ نہيں يار جزلان نے اس طرح کی کوئ بات نہيں بتائ۔ اور ويسے بھی امی کہتی ہيں جب وہ شخص تمہارے حق ميں اس قدر اچھا ہے تو تمہيں کيا ضرورت ہے اس روپے پيسے کی۔۔اور صحيح بھی ہے يار يہ پيسہ سواۓ رشتوں کو توڑنے اور کيا ديتا ہے۔ ميرے پاس امی کے علاوہ ايک جزلان کا ہی رشتہ ہے ميں انہيں اب کسی بھی خاندانی گندی سياست کی نظر نہيں کرنا چاہتی۔" نشوہ کے لہجے ميں جزلان کے لئيۓ محبت ہی محبت تھی۔

Mirh@_Ch
 

ہيلو" نشوہ کے نمبر پر انجان نمبر سے ميسجز آ رہے تھے اس نے انباکس کھولا تو وہ مزنی کا نمبر تھا۔ وہ اسے فون اٹينڈ کرنے کا کہہ رہی تھی۔ ابھی وہ اسے کال کرنے ہی لگی تھی کہ مزنی کا فون آگيا۔
"کہاں ہوتی ہو لڑکی۔۔۔"
"ميں تو يہيں ہوتی ہوں تم کہاں ہوتی ہو آجکل ميں پچھلے دو ہفتوں سے کال کر رہی ہوں فون ہی بند ہے تمہارا اس سے پہلے کتنے ميسجز کئيے کسی ايک کا بھی جواب نہيں" نشوہ نے شکوہ کيا۔
"ہاں يار بس ايک ماہ پہلے ميرا موبائل گم ہوگيا اور تمہيں پتہ ہے نمبرز سارے موبائل ميں سيو کردو تو پھر کہاں ياد رہتے ہيں۔ موبائلز کا سب سے بڑا نقصان۔۔۔تو بس نيا ليا پھر تمہارا نمبر ليا مگر پھر پچھلے دنوں کچھ مصروف رہی کہ تمہيں بتا ہی نہيں سکی کہ يہ سب ہوا۔ خير تم سناؤ کيسی گزر رہی ہے زندگی۔۔۔اتنے دلوں کی دھڑکن کے ساتھ زندگی گزارنے کا ايکسپيرينس کيسا ہے۔"

Mirh@_Ch
 

اس رات اس نے وہاں موجود کسی لڑکی سے نہ تو ہاتھ ملايا اور نہ کسی کو اجازت دی کہ اس کے بازو اور کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ اب وہ کسی کی امانت تھا اور وہ اس ميں ايک لمس کی بھی خيانت نہيں کرنا چاہتا تھا۔
وہ اپنے اردگرد ديکھ رہا تھا نشوہ نے کتنا صحيح کہا تھا جس بے جحابی سے سب آپس مين مل رہے تھے واقعی يہ تفريق کرنا مشکل تھا کہ کون کس کی بيوی ہے اور کون کس کا شوہر اور کئ تو ايسی تھيں جو غير شادی شدہ تھيں مگر وہ اس طرح لڑکوں کے ساتھ کھڑی تھيں کہ ابھی تک جزلان نشوہ کے ساتھ کبھی ايسے کھڑے ہونے کی ہمت نہين کر پايا۔
اسے لگا وہ گدھوں کے درميان کھڑا ہے جو ايک دوسرے کے جسموں کو نوچ رہے ہيں اور پھر اس نے ايک فيصلہ کيا۔

Mirh@_Ch
 

چاچو کی عمر نے انہيں اس ہيرے کو سنبھالے رکھنے کا موقع نہيں ديا مگر وہ اس کو تاعمر سنبھال کر رکھنا چاہتا تھا۔
"اور اگر ميں پلٹ آؤں" جزلان نے مجبت پاش نظروں سے اپنی نيک سيرت بيوی کو ديکھا۔ وہ جو اس دنيا اور آخرت دونوں کے لئيۓ اس کا انعام تھی۔ ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگايا
"تو ميں ايک لمحہ بھی ضائع کئيۓ بناآپکو ہر وہ مان بخش دوں گی جو ايک شوہر کا حق ہے۔ وہ لمحہ ہماری محبت کی تکميل کا ہوگا" اسکی محبت بھری نظروں ميں زيادہ دير اسکی ديکھنے کی ہمت نہيں تھی۔
"مکر تو نہين جائيں گی؟" جزلان نے يقين مانگا۔
"بالکل بھی نہيں" نشوہ نے يقين دلايا۔
اور اس رات اس محفل کا حصہ بن کر نشوہ کے الفاظ اسکے دماغ ميں گونجتے رہے۔

Mirh@_Ch
 

ميں صرف اس دنيا ميں ہی نہيں جنت ميں بھی آپکے ساتھ داخل ہونا چاہتی ہوں آپکی پيروی کرتے ہوۓ۔" نشوہ کی باتوں نے جزلان کی پوری ہستی ہلا کر رکھ دی۔ وہ سوچ بھی نہين سکتا تھا کہ وہ جس کام کو کام سمجھ رہا تھا وہ اسکی دنيا تو تباہ کر ہی رہا تھا اللہ کے پاس جانے والے رستے بھی کھوٹے کر رہا تھا۔
"ميں يہ سب پہلے بھی کہہ ديتی مگر ہمارا دين کہتا ہے کہ نصيجت بھی تب کرو جب يہ سمجھو کہ اب اس کا اثر ہوگا۔ اب جب آپ اور ميں محبت کے اس موڑ پر آگۓ ہيں جہاں سے آگے مان کا رشتہ شروع ہوتا ہے تو مين نے يہ سب کہنے کا سوچا ہے۔ پہلے کہتی تو شايد آپ ان باتوں کو سوچتے بھی نا۔۔" نشوہ کی بات کو اس نے دل ميں سراہا اللہ نے واقعی اس کی قسمت ميں ہيرا لکھا تھا۔
ايک ہيرا اللہ نے دانيال چاچو کی قسمت ميں لکھا تھا اور ايک ہيرا اللہ نے اسے ديا تھا۔

Mirh@_Ch
 

کيا کل کو آپ مجھے کسی کے ساتھ شئير۔۔۔"
"نشوہ" جزلان کی دھاڑ نے نشوہ کو خاموش کروا ديا۔
"کيا ميں غلط کہہ رہی ہوں، آپ اپنے فلم کی ہيروئن کو ہی ديکھ ليں۔۔دو بچوں کی ماں ہے۔۔اور دو بچے اصل ميں ہيں کس کے کيا آپ يا کوئ اور جانتا ہے۔۔۔کيا وہ اسی شوہر کے ہين جس کو اس بات سے غرض نہيں کہ اسکی بيوی دن ميں کس کے ساتھ ہوتی ہے اور رات۔۔۔۔جزلان يہ سب دلدل ہے اور ميں چاہتی ہوں آپ اس سے باہر آجائيں۔ مين آپکی امانت ہوں اور آپ ہی کی رہنا چاہتی ہوں۔"
وہ جزلان کے قريب آتے ہوۓ بولی۔
"ميں يہ سوچنا بھی نہين چاہتی کہ ميرے اندر جو لفمہ جا رہا ہے وہ دوزخ بنا رہا ہے يا ميرے تن پر جو کپڑا ہے وہ مجھے کل کو قبر ميں ناگ بن کر کاٹے گا يا پھر يہ کہ کسی نامحرم کا کوئ لمس بھی چھو کر ميری جسم کو ناپاک بنا دے کہ کل کو ميں اللہ کے سامنے نظر بھی نہ اٹھا سکوں۔

Mirh@_Ch
 

ميں جانے کو تيار ہوں ليکن اگر وہاں آپکے کسی ايکٹر۔ کسی کو ڈائيريکٹر يا کسی پروڈيوسر نے مجھ سے ملتے ہوۓ بوسہ ديا۔۔۔يہ پھر ميرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔جو کہ وہاں ايک عام سی بات ہے تو کيا آپ برداشت کريں گے" نشوہ کے سوال نے اسکے چہرے کا رنگ اڑا ديا۔
"کيا فضول بات ہے" جزلان نے ناگواری اور کسی قدر غصے سے کہا۔
اس کے ليۓ يہ تصور ہی سوہان روح تھا کہ نشوہ کو کوئ غير گھور کر ديکھے بھی کہاں يہ۔۔۔۔ اس نے سر جھٹکا۔
"جزلان اسی ليۓ مين نے اس رات بھی آپکو کہا تھا کہ يہ سب حرام کام ہے۔ جب آپکے پاس رزق کمانے کے حلال طريقے موجود ہيں تو اس کو چھوڑ کيوں نہيں ديتے۔ آپکی فلم کی جو ہيروئن ہے وہ شادی شدہ ہے۔۔۔۔اس انڈسٹری ميں تو آ کر پتہ ہی نہين چلتا کون کس کا شوہر ہے اور کون کس کی بيوی۔۔۔جس بے غيرتی سے سب ايک دوسرے سے ملتے ہيں

Mirh@_Ch
 

تب کھلے دل سے اسے قبول کر ليتے تو شايد دانيال کے ساتھ وہ سب نہ ہوتا۔
اور يہ شايد انسان کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
کيونکہ اس سے آگے صرف پچھتاوے کی آگ سلگتی رہ جاتی ہے جو لمحہ بہ لمحہ انسان کو جلا کر آخر ميں راکھ کا ڈھير بنا ديتی ہے وہ بھی جل رہے تھے لمحہ بہ لمحہ۔
_____________________
"وشہ ميری فلم نے ريکارڈ بزنس کيا ہے اور کل شام ہی باہر بھی اس کے شوز سٹارٹ ہوۓ ہيں۔ سب نے مل کر گرينڈ پارٹی رکھی ہے ميری وش ہے کہ آپ بھی چليں آج" شام سات بجے کا وقت تھا جزلان کچھ دير پہلے ہی واپس آيا تھا اور اب پارٹی ميں جانے کی تياری کر رہا تھا۔ ساتھ ساتھ نشوہ سے بھی ساتھ جانے کی رضامندی چاہ رہا تھا۔
جو جزلان کے پريسڈ کپڑے الماری ميں ہينگ کررہی تھی۔
"

Mirh@_Ch
 

"نہيں" سبحان شاہ راکنگ چيئر پر بيٹھے تھے۔ دونوں اس وقت سبحان شاہ کے کمرے ميں موجود تھے۔
"کيا مطلب" انہوں نے الجھ کر باپ کی جانب ديکھا۔
"کوئ اسکے پاس نہيں جاۓ گا" وہ جو سامنے بنی پينٹنگ پر نظريں گاڑے بيٹھے تھے مضبوط لہجے ميں بولے۔
"مگر کيوں بابا حضور" بلال شاہ الجھ گۓ۔
"کيونکہ جزلان نے مجھے ضمير کے کٹہرے ميں کھڑا کر ديا ہے پہلے يہاں سے پيشياں بھگتا لوں پھر اسے سے بات کروں گا" انہوں نے کھوۓ ہوۓ لہجے ميں کہا۔
بلال شاہ اور کوئ بھی نہيں جانتا تھا اس دن فون پر انکی جزلان سے بات ہوچکی تھی جس دن نوٹس ملا تھا۔
اس دن سے لے کر سبحان شاہ گم صم ہوگۓ تھے۔ جزلان نے انہيں سچائ کے آئينے ميں انہيں انہی کا وہ چہرہ دکھايا تھا کہ جسکے کرخت نقوش وہ ديکھ کر سہہ نہيں پا رہے تھے۔ انہيں لگا دانيال کی موت کے پيچھے صبورہ کا نہيں بلکہ ان کا اپنا ہاتھ تھا۔

Mirh@_Ch
 

ميں نے اس دن بھی کہا تھا اپنا دماغ استعمال کريں" نشوہ نے اس کے کندھے سے سر اٹھاتے آج پہلی بار اسکے چہرے کو اتنے قريب سے ديکھا۔ دل نے کيا کيا خواہشيں اس ايک لمحے ميں نہيں کيں تھيں۔۔۔۔ مگر ابھی وہ انتظار ميں تھی۔
"وشہ کيوں کنفيوز کر رہی ہيں دل ميں جو بھی کہہ ديں۔" جزلان نے اکتا کر کہا۔
"کچھ باتيں اپنے وقت پر اچھی لگتی ہيں" کہتے ساتھ ہی اس نے جزلان کا حصار آہستہ سے توڑا اور کمرے سے چلی گئ۔ "
______________________
"ديکھا آپ نے يہ کيا بھيجا ہے اس نے۔۔ميں کل ہی اس صاحبزادے کا دماغ ٹھيک کرتا ہوں۔ جمہ جمہ آٹھ دن ہوۓ نہيں اس لڑکی کو اپنی زندگی ميں شامل کئيے ہوۓ کہ ہم اسے زہر لگنے لگ گۓ۔ ہماری برسوں کی محبتوں کا يہ صلا دے رہا ہے۔۔۔اب اس سب پر حتمی بات کرنی بہت ضروری ہوگئ ہے" بلال شاہ کے ہاتھ وہ عدالتی نوٹس لگ گيا تھا جو جزلان نے بھيجا تھا۔

Mirh@_Ch
 

"يہ توجہ۔۔۔يہ خيال رکھنے کے انداز۔۔۔۔ابھی بھی انکاری ہيں" جزلان کی آنکھوں سے لپکتے جذبوں نے نشوہ کو نگاہيں جھکانے پر مجبور کر ديا۔
اس نے آہستہ سے جزلان کے کندھے پر سر رکھ ديا۔
جزلان تو آج اس کے انداز ديکھ ديکھ کر حيرت کا شکار ہوتا جا رہا تھا۔
"ميری لائف ہميشہ ذمہ داريوں کے چکر ميں ہی گزری۔ اور کبھی مين نے محبت کی نہيں۔ دوسرے الفاظ ميں ان روينٹک ہوں۔ تو اتنی شديد محبت کو اتنے قريب سے محسوس کرنے کے ليۓ اور محبت کا اقرار کرنے ميں کچھ تو وقت لگے گا۔ آپکی اپنی زندگی ميں اہميت کو تو مان چکی ہوں محبت کو بھی محسوس کرچکی ہوں مگر اپنی محبت آپ پر آشکار کرنے ميں کچھ وقت چاہئيے۔" نشوہ کے لفظوں نے اسے الجھا ديا۔
"کس بات کا انتظار کر رہيں ہيں" اس نے نشوہ کے سر پر اپنے گال مس کرتے اسے اپنے حصار ميں ليتے کہا۔