انہی تعريفوں نے تو آپکے پيچھے آنے پر مجبور کيا تھا" جزلان نے سگار سلگاتے کہا۔
نشوہ نے بڑھ کر اسکے منہ سے سگار نکالتے اٹھ کر ڈسٹ بن ميں پھينکا۔
جزلان اس کی اس حرکت پر ششدر رہ گيا۔
"مجھے آپکی بہت ضرورت ہے اور ميں آپکو کسی ايسے کام ميں انوالو نہيں ديکھ سکتی جس کا آپکی صحت پر برا اثر پڑے۔ آج کے بعد مجھے آپکے پاس يہ نظر بھی نہ آۓ" جس حق سے اس نے يہ سب کياتھا جزلان کا دل کيا اٹھ کر اسے خود ميں گم کرلے۔
"اور يہ پيسے ميں نے اسی ليۓ ليے ہيں کہ مالی بابا کی بيٹی کی شادی آ رہی ہے تو سوچا انہيں کچھ کپڑے دلا دوں جانتی ہوں کہ باقی کا سارا خرچ آپ نے اٹھايا ہے۔" نشوہ نے اسکے والٹ سے دس ہزار نکالتے ہوۓ کہا اور والٹ واپس کرنے کے لئيۓ جونہی ہاتھ بڑھايا والٹ کے ساتھ جزلان نے اس کہا ہاتھ بھی پکڑ کر اسے اپنے پاس بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
"يہ اچھی طريقہ ہے ميری محبت کی شدتوں سے بھاگنے کا کہ اسے ڈائيلاگز کا نام دے ديا جاۓ، لڑکياں ترستی ہيں محبت کرنے والے شوہروں کے لئيے۔۔آپ کو ميری قدر ہی نہيں" جزلان نے مصنوعی تاسف بھری نظروں سے اسے ديکھا۔
"آپ تو ہر وقت ہی محبتيں لٹاتے رہتے ہيں۔۔افسوس اپنی ساری گرل فرينڈز کی محبت اب مجھ اکيلی کو پر لٹانی پڑتی ہيں نہ اسی لئيے ابھی تک پٹارہ بھرا ہوا ہے۔ ويسے کبھی ايسا ہوا کہ آپکی فرينڈز نے ايک جگہ مل کر آپکی پٹائ کی ہو۔ ڈيٹ پر کسی کو لے گۓ اور باقی سب کو بھی پتہ چل گيا ہو" نشوہ کا لہجہ صاف مذاق اڑاتا ہوا لگا۔
"کوئ خاص دشمنی ہے آپکو مجھ سے۔ اس دن پوليس کی دھمکياں ديں رہيں تھين آج فرينڈز سے پٹنے کی باتيں۔ مجھے ڈان کہتی تھيں آپکی اپنی سوچ کسےی بڑے ڈان سے کم نہيں" جزلان جل کر بولا۔
"ہاہاہا! آپکو ياد ہے" نشوہ کو خوشگوار حيرت ہوئ۔
پھر آپکے فينز آپکو فلموں ميں ديکھنے سے محروم ہی رہيں گے۔ آپ لوگوں پر ہی پيسے خرچ کريں يہ زيادہ بہتر ہے" " اس نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔
"مفت مشورے دينا بہت آسان ہوتا ہے عمل کرنا بہت مشکل"
"آپ اپنی گرل فرينڈز پر ہی گزارا کريں"
"اب تو وہ بھی نہيں ہيں ظالم لڑکی" جزلان نے ٹھنڈی آہ بھری۔
"اف ايک تو آپ ايسا باتوں ميں لگاتے ہيں نا۔۔۔مجھے کچھ پيسے چاہئيں" اس نے اپنے آنے کا مقصد بتايا۔
"آپ سارے ہی لے ليں" جزلان نے سائيڈ ٹيبل سے اپنا والٹ اٹھا کر اسکے ہاتھ ميں پکڑايا۔
"سوچ ليں بعد ميں نہ کہنا بيوی نے ڈاکہ مارا ہے"
نشوہ نے اسے تنبيہہ کی۔
"آئ وش کبھی ميری بيوی بن کر آپ ڈاکہ ماريں ميں لٹنے کے لئيے تيار ہوں" جزلان نے نرم گرم نگاہوں سے اسکی جانب ديکھا۔
"اف جزلان آپ کے ڈائيلاگز سے اللہ بچاۓ"
"کيا کريں اب آپ کی قسمت ميں يہ فلمی بندہ ہی تھا۔۔"جزلان نے بھی افسوس کرنے ميں اس کا ساتھ ديا۔
"ويسے لوگوں کے مطابق۔۔ميرے مطابق نہيں۔۔۔آپ بہت ہيڈسم ہيں کہ فلموں مي کام کرسکتے ہيں۔۔ايکٹنگ بھی اچھی کر ليتے ہيں اور سنگنگ بھی تو پھر يہ سب کام بھی خود کيوں نہيں کرليتے الگ الگ جو سنگرز اور ايکٹرز رکھتے ہيں وہ پيسے بھی بچ جائيں گۓ اور آپکا شوق بھی پورا ہوجا ۓ گا " نشوہ نے شرارتی لہجے ميں کہا ۔
"مشورہ اچھا ہے ميں ضرور کام کروں گا ڈن ہوگيا مگر اسکی ايک شرط ہے" جزلان جتنی آسانی اور سنجيدگی سے بس کی بات مان گيا وہ نشوہ کو حيران کر گيا۔
"وہ کيا" اس نے حيران ہوتے سوال کيا۔
"اگر ميری فلم کی ہيروئن آپ ہوں تو ميں ضرور کام کروں گا۔۔۔" جزلان کی شرارتی نظريں اس کے چہرے کا طواف کر رہيں تھيں۔
سنيں" وہ جو آج چھٹی کے دن کمرے ميں مزے سے بيٹھا ليپ ٹاپ گود ميں رکھے کچھ کام کرنے ميں مصروف تھا نشوہ کی آواز پر پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوا۔ شام کا وقت تھا وہ چا ۓ لے کر آئ ساتھ ميں شايد کوئ فرمائش لے کر بھی ۔
کيونکہ وہ اس طرح اسے بہت کم مخاطب کرتی تھی۔
"جی سنائيں، چچی کہاں ہيں" اسے اجازت ديتے ساتھ ہی اس نے صبورہ کے بارے ميں پوچھا ۔
"امی يہاں ساتھ والوں کی طرف گئ ہيں انکی کچھ طبيعت ٹھيک نہيں تھی تو امی نے کہا کہ ان کی عيادت کر آئيں" نشوہ نے تفصيل بتائ۔
"اچھا آپ سے ايک بات کہنی تھی" وہ اسکے سامنے بيڈ کے کنارے پر بيٹھتے ہوۓ بولی۔
"زہے نصيب زہے نصيب آپ نے مجھ ناچيز کو بھی اپنے کسی کام کے قابل سمجھا۔" جزلان نے خوشگوار لہجے ميں کہا اور خود چاۓ کے گھونٹ بھرنے لگا۔
"اف اب آپ کے ڈائيلاگ شروع ہو جائيں گے۔ کس قدر فلمی انسان ہيں آپ"
آپ نے لوگوں کو جاننے ميں بہت بڑی غلطی کر دی۔
مجھے اب بھی آپ سے اتنی ہی محبت ہے اسی لئيے آخری اميد کے طور پر آپکو فون کيا ہے کہ اس روپے پيسے کو رشتوں ميں مت آنے ديں۔ اور جو جقدار کا حق ہے وہ خوشی خوشی محبت کے ساتھ انہيں دے ديں۔ يہ نہ ہو آپ بے حسوں ميں اکيلے رہ جائيں۔۔۔خداحافظ"
قون بند ہوتے بھی کتنی دير تک وہ ساکت اسے کان سے لگاۓ بيٹھے رہے۔ کتنا سچ کہہ گيا تھا وہ انہوں نے واقعی ساری زندگی اس دولت سے ہی محبت کی تھی اور اسی لئيۓ اللہ نے انہيں اسی تک محدود کر ديا تھا رشتوں اور انکے خالص پن کو محسوس کرنے کی حس ہی ختم کردی تھی۔ جزلان نے سوچوں کے نۓ در ان پر وا کر دئيۓ تھے ۔
آپ نے تو اسے جڑ سے اکھاڑ دينے کی سازش کی جس نے صبورہ چچی کو اس رات حويلی سے جانے پر مجبور کيا۔ يہ روپيہ پيسہ سواۓ آزمائش کے اور کچھ نہيں۔ رشتوں کو ان ميں مت توليں۔ ايک بيٹے کو تو آپ گنوا چکے ہيں۔ جو سچے رشتے باقی ہيں ان کو بچا سکتے ہيں تو بچا ليں۔
جو آپ کے اردگرد ہيں وہ صرف آپ کی دولت کی کشش کی وجہ سے آپ کے ساتھ جڑے ہيں۔ جنہيں لالچ نہيں وہ تو آپ سے دور ہيں۔ آپ کو اب بھی اندازہ نہيں کہ کون سچا ہے کون جھوٹا۔ آپ اگر محبت سے نشوہ اور صبورہ چچی کو اپنی سرپرستی ميں ليتے تو ميں يقين سے کہہ سکتا ہوں وہ کبھی کسی حصے کی ڈيمانڈ نہ کرتيں۔ ان دونوں کو پيسے کی ہوس ہے ہی نہيں۔
کتنے دنوں سے وہ ميرے ساتھ ہيں ميں کبھی خود سے کچھ دلادوں تو دلادوں انہوں نے کبھی مجھ سے کچھ مانگا ہی نہيں۔
انہوں نے موبائل اٹھا کر ديکھا تو اسکرين پر جزلان کا ہی نمبر چمک رہا تھا۔
انہوں نے کھولتے دقاغ سے فون اٹھايا
"ہيلو" انکی گرجدار آواز سنائ دی۔
"مين نے صرف يہ بتانے کے لئيے فون کيا ہے کہ نوٹس ميں نے بھيج ديا تھا اور اميد کرتا ہوں کہ آپکو مل بھی گيا ہوگا۔ ميں نے کبھی نہيں چاہا تھا کہ کبھی آپکو تکليف سے دوچار کروں مگر آپکی بے جا ضد کے آگۓ مجھے مجبور ہونا پڑا اور اس بات کا بھی افسوس ہے کہ آپ نے مجھے ايک مہرہ بنا کر اپنی سازش ميں شريک کيا۔ ميں نے ہميشہ بابا سے بھی زيادہ آپکی عزت اور آپ سے محبت کی اور آپ نے ميرے ساتھ کيا کيا۔
افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ آپ نے کبھی کسی سے محبت نہين کی سواۓ پيسے کے۔
نہ دانيال چاچو سے ايک باپ والی محبت کی اور نہ مجھ سے دادا والی۔ميں نے تو سنا تھا کہ اصل سے سود پيارا ہوتا ہے۔
مگر وہ بھول گۓ تھے کہ وہ شروع سے جو کہتا تھا کر دکھاتا تھا وہ اتنے ہی اٹل اور پکے ارادوں والا تھا۔
اب جب اس نے ان دونوں کی ذمہ داری اٹھائ تھی تو اس نے ہر حال ميں اسے پورا کرنا تھا۔
اس سب کے لئيۓ انہوں نے ہی اسے مجبور کيا تھا۔ ايک خاکی لفافے نے کچھ ماہ پہلے ان کا سکون درہم برہم کيا تھا اور ايک خاکی لفافے نے آج ان کا سکون ختم کر ديا تھا۔
انہوں نے اس لفافے کو مٹھی ميں چڑ مڑ کر ليا تھا۔ آخر کيا تھا ان ماں بيٹی ميں کے ماں نے انکے بيٹے کو پاگل کر ديا اس قدر کے اس نے کوئ ريت روايت نہيں ديکھی اور اب بيٹی نے ايسا کيا جادو کيا کہ وہ جو کبھی ان کی حکم عدولی نہيں کرتاتھا آج انہيں عدالت ميں گھسيٹنے کے چکر ميں ہے۔
ان کا دماغ غصے سے کھول رہا تھا
يکدم انکے موبائل کی آواز نے سناٹے کو چير ديا۔
"يہ نہيں کہا کہ ابھی عمل کروں گا" جزلان نے اس کی حرکت پر اسے چھيڑا۔
"لاحول پڑھيں شيطان آيا ہوا ہے آپ پہ"
"سب سے بڑا شيطان تو ميرے ساتھ ليٹا ہے"
"کيا کيا" اسکی بات پر وہ پنجے تيز کرتی اٹھی۔
"کچھ نہيں کچھ نہيں سو ہی جائيں اب" جزلان نے ڈرنے کی ايکٹنگ کی۔ دونوں ہنس پڑے۔
__________________
وہ ابھی ناشتے ميں چاۓ پی ہی رہے تھے کہ ملازم نے اخبار کے ساتھ ايک خاکی لفافہ بھی پکڑايا۔ انہوں نے عينک لگاتے حيرانگی سے اس لفافے کی جانب ديکھا۔ پھر ہنکارا بھرتے اسے چاک کيا۔ مگر اندر موجود عدالتی نوٹس پڑھتے انہيں يقين نہيں آيا کہ وہ پوتا جسے وہ اپنے سب بچوں ميں سب سے زيادہ پيار کرتے ہيں وہ ان پر نشوہ کی جائيداد کے لئيۓ واقعی کيس بھی کروا سکتا ہے۔
وہ ابھی تک اسی خوش گمانی ميں تھے کہ وہ سب اس کا وقتی غصہ تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ يہ بھی ختم ہوجاۓ گا۔
"کيا مجھ سے کترانے کی وجہ يہ انڈسٹری ہے" جزلان کی بات پر اب کی بار چپ ہونے کی باری نشوہ کی تھی۔
وہ آج اس کی ذہانت کی قائل ہوگئ۔
"مجھے نيند آ رہی ہے" اس نے نظر چراتے پھر سے رخ دوسری جانب موڑ ليا۔
"لڑکی ميری نينديں اڑا کر اتنے آرام سے کيسے سو ليتی ہو۔" اسکے گھنے سياہ بالوں ميں ہولے سے ہاتھ پھيرتے ہوۓ وہ بولا۔
"سونے کہاں دے رہے ہيں آپ مسلسل باتوں ميں لگايا ہواہے۔" نشوہ کی بے چارگی لئيۓ آواز پر وہ ہولے سے مسکرايا۔
"ميری بات کا جوات تو دے دو" اس نے دہائ دی۔
"خود سوچيں، اپنے دماغ کا بھی کبھی استعمال کر ليں"
اس نے جزلان کو جتايا۔
"شکر کرو ابھی تک دماغ سے کام لے رہا ہوں جس دن دل سے کام ليا نا تو آپ سب سے پہلے زد ميں آؤ گی" جزلان کی بات ميں چھپی پيار بھری دھمکی پر وہ کھسک کر اور آگے ہوئ۔
ہاہاہا تو کيا کہو۔۔۔ڈارلنگ، سوئيٹ ہارٹ، مائ لائف۔ مائ باربی ڈول۔۔"
"اف بس بس۔۔۔آپ صرف نشوہ ہی کہيں۔" اس نے جزلان کو درميان ميں ٹوکتے ہوۓ کہا۔
"کيا ميں آپ کو وشہ کہہ سکتا ہوں" جزلان کی بات پر وہ حيران ہوتی بازو موڑ کر ہتھيلی پر چہرہ ٹکاتے اونچی ہوئ۔حيرت سے اسے ديکھتی مسکرائ
"کہہ سکتے ہيں" پھر شہانہ انداز ميں اسے اجازت دی۔
"تھينکس ميم" جزلان کے انداز پر وہ پھر سے مسکرا اٹھی۔
"آپکا بوتيک اتنا اچھا چلتا ہے پھر آپ يہ حرام کا پيسہ کيوں کماتے ہيں" نشوہ کی بات پر وہ چند لمحے کچھ بولنے کے قابل نہ رہا۔
"يار محنت کرتا ہوں۔۔فلميں بنانے ميں بھی خون پسينہ ايک ہوتا ہے" اس نے اپنی طرف سے مضبوط دليل دی۔
"مگر آپ اسی محنت کو بوتيک پر لگائيں تو مجھے يفين ہے آپ بہت جلد بہت زيادہ گرو کريں گے۔" نشوہ کی بات پر وہ يکدم چونکا۔
کيا واقعی ۔۔۔حالانکہ کسی آنکھوں ميں محبت کے جگنو تو بہت واضح ديکھے ہيں ميں نے۔" جزلان کے جواب پر اس کی دھڑکنيں بڑھ گئيں۔
"نظر کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے" نشوہ نے ايک مرتبہ پھر اسے جھٹلايا۔
اس کے بعد جزلان نے کوئ بات نہيں کی۔
نشوہ يہی سمجھی کہ وہ برا منا گيا ہے۔
مڑ کر اسے ديکھا جو گز بھر کے فاصلے پر آنکھيں موندے دونوں ہاتھ سينے پر رکھے چت ليٹا تھا۔
"جزلان " بے اختيار اسے آواز۔
"جی جان" جزلان نے بند آنکھوں سے مسکراتی آواز ميں جواب ديا۔
"اف کتنی فلمی باتيں کرتے ہيں آپ" وہ اس کے جزلان کہنے پر بولی۔حالانکہ جزلان کے جذبوں سے چور لہجے نے دل کی دنيا تہہ و بالا کی تھی۔
"
مسکرانے اور آپکو ديکھنے پر پابندی ہے" جزلان کے سوال پر وہ جزبز ہوئ۔
"نہيں مگر ايسے مت ديکھيں"
"کيسے"
"اف مجھے نہين پتہ" تکيہ صحيح کرکے اس پر سر رکھتے وہ عاجز آکر بولی۔
اب وہ اسے کيا بتاتی کہ اسکی نظروں نے اس کے اندر کيسی ہلچل مچائ ہوئ ہے۔
جزلان نے اٹھ کر لائٹ آف کی پھر واپس اپنی جگہ سيدھا ليٹتے ہوۓ نظريں پہلے چھت پر ٹکائيں پھر رخ موڑ کر نشوہ کو ديکھا۔ جو منہ دوسری جانب کئيے ليٹی ہوئ تھی۔
"نشوہ" بے ارادہ اسے آواز دی۔
"جی"
"انتظار کے کتنے لمحے ابھی ہمارے درميان ہيں" جزلان کے پوچھے جانے والے سوال پر اسکی ہتھيلياں بھيگيں۔
"پتہ نہيں" نشوہ نے لاعلمی کا اظہار کيا۔
پھر خود ہی اپنی زبان کی تيزئيوں پر خائف ہوئ۔
کچھ اسے شرمندہ کرنے کی کسر جزلان کے قہقہے نے پوری کر دی۔
"واقعی ميں؟" جزلان کی حيرت زدہ آواز آئ۔ جبکہ وہ اسکی معنی خيز نظروں سے بچنے کے لئيے خوامخواہ ہی الماری ميں کچھ تلاش کرنے لگی۔ ہميشہ کی طرح اس کا سوال ان سنا کيا۔
پھر الماری بند کرکے اپنی جگہ پر آکر ليٹنے لگی۔
مگر جزلان کی ايکس رے کرتی نظريں اسے کنفيوز کئيۓ جارہيں تھيں۔
"کيا مسئلہ ہے" آخر تنگ آکر اسے ديکھ کر پوچھا۔
"ميں نے کيا کہا ہے" جزلان نے اچھنبے سے کہا۔
"کيوں ديکھے جارہے ہيں اور مسکرا بھی رہے ہيں" اس نے بيڈ پر بيٹھتے ہوۓ چڑچڑے لہجے ميں کہا
"
نشوہ نے واپس اپنی نماز جاری رکھی۔ الجھی تو تھی کہ وہ اتنی جلدی کيوں آگيا۔ حالانکہ کچھ دير پہلے اس نے فون کرکے کہا تھا کہ وہ ليٹ نائٹ آۓ گا وہ انتظار نہ کرے اور سوجاۓ۔
نماز ختم کرکے کچھ تسبيحات پڑھ کر وہ جاءنماز سے اٹھی ہی تھی کہ جزلان نے آہٹ پر آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اسکی جانب ديکھا۔
"خيريت آپ جلدی آگۓ" اس نے فکرمندی سے اسے ديکھتے پوچھا۔
"ہاں بس ويسے ہی" اس نے سيدھے ہوتے سائيڈ ٹيبل سے سگار نکال کر سلگايا۔
"ابھی تو رقص و سرور کی محفل شروع بھی نہين ہوئ ہوگی" نشوہ خود اس فيلڈ ميں رہ چکی تھی لہذا وہ جانتی تھی کہ ايسی پارٹيز مين کيا کچھ ہوتا ہے۔
"شکر نہيں کررہيں کہ حرام کو چھوڑ کر حلال کے پاس آگيا ہوں" جزلان نے تپے ہوۓ لہجے ميں کہا۔
"حلال کو بھی کب حلال کيا ہے" نشوہ ہميشہ کی طرح سوچے سمجھے بنا بولی
انہيں حق دلا کر رہوں گا۔ ديکھ لو ہفتہ ہوگيا ہے کوئ نوٹس آيا۔ وہ بس وقتی جوش تھا۔ ہمارا ہی خون ہے کہاں جاۓ گا۔ ہمارے پاس ہی آۓ گا" بلال شاہ کی بات پر انہيں کچھ تسلی ہوئ۔
________________
جزلان کی نئ فلم آئ تھی جس کی پروموشنز ميں وہ بے حد مصروف تھا۔ فلم ريليز ہونے کے بعد پہلے شو نے ہی فلم کو بے حد منافع ديا۔
اسی خوشی ميں ساری کاسٹ نے ايک پارٹی ارينج کی۔ جزلان بھی چلا گيا۔
اس نے نشوہ کو فون کرکے بتا ديا تھا۔ ويسے بھی ٹی وی پر ايک چينل اسکی کوريج کر رہا تھا۔ نشوہ نے ديکھ ليا تھا۔
وہ کھانا کھا کر کمرے ميں آگئ۔ ابھی اس نے عشاء شروع کی ہی تھی کہ اسکے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور جزلان کے مخصوص کلون کی خوشبو آئ۔ سلام پھير کر اس نے بيڈ کی جانب ديکھا جہاں وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے نيم دراز تھا۔
چليں" کچھ دير اسی حالت ميں رہنے کے بعد اسے خود سے الگ کرتے جزلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی جانب جاتے کہا۔
نشوہ کو لگا وہ ابھی تک اسی لمحے ميں ہے۔
_______________
"ميں کہتی ہوں جزلان کو فون کريں وہ دونوں چڑيليں کيسے اسے اپنے قبضے ميں لے کر چلی گئيں۔اللہ کرے مر جائيں وہ۔"زروہ شاہ بين کرتے ہوۓ بوليں۔
ايک ہفتہ ہوگيا تھا انہيں نہ جزلان نے ان سے رابطہ کيا تھا اور نہ ہی حويلی سے کسی نے اسے فون کيا تھا۔
"وہ کوئ دودھ پيتا بچہ نہيں کہ وہ ان ساری باتوں کو سمجھ نہ سکے۔ کچھ دنوں کی بات ہے وہ لڑکی اس کے ساتھ ٹکنے والی ہی نہيں۔ مين نے اسکی جزلان سے بيزاری نوٹ کر لی ہے۔ مجھے يقين ہے وہ خود جزلان کو چھوڑ جاۓ گی۔" بلال شاہ نے انہيں تسلی دلاتے ہوۓ کہا۔
"اور وہ جو تمہارا بيٹا بڑکيں مار کر گيا تھا
"ميری زندگی ميں ہی وہ دن آجاۓ گا" جزلان کی بات پر اس نے کانپ کر اس کاچہرہ ديکھا۔
"اگر آپ نے آئندہ اتنی فضول بات کی تو ميں۔۔ميں" اسے سمجھ نہيں آيا وہ کيا کہہ دے اور کيا کردے۔
"تو آپ کيا کريں گی" جزلان نے بھنويں اچکاتے جيسے اسکی کيفيت کا مزہ ليا۔
"تو ميں آپکے سارے سگار کوڑے کی نظر کر دوں گی" نشوہ کو کوئ اور بات نہ بن پڑی تو اسکی پسنديدہ چيز کا حوالہ ديا۔
"ہاہاہا بصد شوق" جزلان نے قہقہہ لگايا۔
"اللہ کرے کوئ پوليس والا آجاۓ اور آپکے سارے دانت اندر کرے۔ رات ميں ايک لڑکی کے ہمراہ ديکھ کر آپکو تھانے کی سير کرواۓ" نشوہ کے جلی کٹی باتوں نے جزلان کو قہقہے لگانے پر مجبور کر ديا
يکدم اسے ساتھ لگاتے خود ميں بھينچتے جزلان نے اپنے لب اسکارف سے دھکے سر پر رکھ دئيۓ۔
نشوہ کی سانسيں جيسے تھم گئيں۔
"
"تو اپنی کسی گرل فرينڈ کو ہی لانا تھا نا مجھے کيوں لاۓ" نشوہ نے کندھے اچکاتے کہا۔
اس کی بات پر جزلان نے اپنے قدم روکے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھينچا۔
نشوہ اس سب کے لئيے تيار نہيں تھی۔
يکدم اس کے سينے سے ٹکرائ۔
"کيا واقعی آپکو ميرے ساتھ کسی اور لڑکی کے ہونے نہ ہونے سے کوئ فرق نہيں پڑھتا" جزلان نے اس کی لٹ کو اسکے اسکارف ميں کرتے ہوۓ پوچھا۔
اس کے لمس نے نشوہ کی بولتی بند کر دی۔
"ميں نے کچھ پوچھا ہے" جزلان نے اسکی بازو کو تھامتے جھٹکا دے کر پوچھا۔
"ابھی تو ميں خود کنفيوزڈ ہوں آپکو کيا بتاؤں" جزلان کی اس کی صاف گويائ بہت پسند تھی۔
"کب تک اس کنفيوزن سے باہر آئيں گی" ايک اور سوال۔
"کچھ دن اور" نشوہ کی نظر اس کی شرٹ کے بٹنز سے الجھ رہی تھی۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain