Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

آج تو اتنے انکشافات ہو رہے ہيں کہ دل ہی نہيں کر رہا گھر جانے کو" جزلان کی ذومعنی بات پر نشوہ نے نظريں پھر ادھر اھر دوڑائيں۔
"اب اگر آپ نہيں گۓ تو ميں آپ کو يہيں چھوڑ کر خود ڈرائيو کرکے چلی جاؤں گی" نشوہ نے اسے دھمکی دی۔
"چليں بھئ۔۔۔"جزلان نے بدمزہ ہوتے واپسی کی طرف قدم بڑھاۓ۔
"اور اب واپسی پر ميں ہی ڈرائيو کروں گی آپ کی سست رفتار ڈرائيونگ نے ہميں صبح تک ہی گھر پہنچانا ہے۔"
وہ مزيد بولی۔
"واؤ يہ تو بہت ہی رومينٹک آئيڈيا ہے" جزلان نے اسے پھر چھيڑا۔
"مجھے لگتا ہے آئندہ آپ نے کبھی ميرے ساتھ باہر نہيں آنا۔ آپ کی يہی حرکتيں رہيں نا تو ميں دوبارہ نہيں آؤں گی"نشوہ نے اسے گھورا۔
"بيوی سے بہتر گرل فرينڈز ہی ہوتی ہيں رعب ميں تو رہتی ہيں" جزلان کی بات پر وہ اپنی بے ساختہ مسکراہٹ نہيں روک پائ۔

Mirh@_Ch
 

ميری زندگی ميں اب آنے والی دو عورتوں نے مجھے اچھا مسلمان بنا کر ہی چھوڑنا ہے" جزلان نے کافی ختم کرتے ہاتھ پيچھے باندھتے سر کو ہلکا سا جھکاۓ کہا۔
"کن دو نے" جزلان جانتا تھا کہ فوراّّ يہی سوال آۓ گا
"آپ اور چچی" جزلان نے سر اٹھاتے چہرہ اسکی جانب موڑتے مسکرا کر کہا۔
"ايکسکيوزمی ميں عورت نہيں ہوں" نشوہ نے پرسکون ہوتے منہ بنا کر کہا۔
"ہاہاہا! افسوس آپ تو کبھی مجھ سے اپنی عمر بھی نہيں چھپا سکيں گی۔ کزنز ميرجز کا ايا يہی نقصان ہوتا ہے" جزلان نے اسکے چڑنے کو کسی خاطر ميں نہ لاتے قہقہہ لگاتے اسے اور چڑايا۔
"واپس چليں اب۔۔آپ مجھے تھوڑی دير کا کہہ کر لاۓ تھے۔ جب ہم گھر سے نکلے تھے تب ساڑھے نو تھے اور اب بارہ بجنے والے ہيں" نشوہ نے اپنی گھڑی ديکھتے ناراض نظر اس پر ڈالتے ہوۓ کہا۔
"

Mirh@_Ch
 

مگر نجانے کيوں ميں کبھی اس حد تک خود ہی نہيں گيا۔ مجھے کبھی عورت کے وجود کی ہوس رہی ہی نہيں۔ ہاں بس دوستی تک ٹھيک تھا۔ اسی لئيۓ ميں نے اس رات آپ کو جب دوستی کی آفر کی تھی تو اسی تناظر ميں کی تھی کہ آپ بھی قبول کر ليں گی۔ جب آپ نے انکار کيا تو ميں نے جانا کہ لڑکيوں کی ايک قسم يہ بھی ہے جس کے لئيے مرد ميں کوئ اٹريکشن نہيں ہے۔ اب تو جن سے دوستی تھی وہ بھی نہيں رہی۔" جزلان نے اس کے چہرے کو ديکھا جس پر نجانے کيوں مگر اطمينان بکھرا تھا۔
"کيوں" وہ بے اختيار پوچھ بيٹھی۔
"کيا آپ واقعی انجان ہيں" جزلان نے گہری نگاہوں سے اسے ديکھا۔
"آپ ڈرنک بھی کرتے ہيں" نشوہ نے اس کے سوال کو نظر انداز کرکے ايک اور سوال پوچھا
"کرتا تھا مگر چچی نے اپنی قسم دی تو وہ بھی چھوڑ دی، ويسے مجھے لگتا ہے

Mirh@_Ch
 

اس کے بارے ميں کہ وہ بہت خطرناک اور ٹيلنڈڈ صحافی تھی۔
جزلان واپس پھر سے اپنی جگہ آيا اور چلنا شروع کرديا۔
"اول تو يہ کہ آپ دوبارہ سے جاب بالکل بھی نہيں کريں گی۔ اور دوسری بات يہ کہ جھوٹ کے پاؤں نہيں ہوتے" جزلان کی بات کا مطلب سمجھتے اس نے اپنی بے ساختہ امڈنے والی مسکراہٹ کافی کا سپ ليتے چھپائ۔
"نشوہ ميں نے عورت کی کبھی تذليل نہيں کی اور نہ اسے ٹشو پيپر کی طرح استعمال کيا ہے۔ انفيکٹ ميں بہت چھوٹی عمر سے شہر آکر پڑھنے لگ گيا تھا۔ جب نوجوانی کی عمر ميں پہنچا تو لڑکياں خودبخود ميری جانب بڑھيں ميں کبھی کسی لڑکی کی جانب نہيں بڑھا۔ ميں نے ابھی تک اپنے سرکل کی سب وہ لڑکياں ديکھيں جن کے لئيۓ خود کو ارزاں کرنا کوئ معنی نہيں رکھتا تھا۔ ميں آپ کو ايک حقيقت بتاؤں لڑکياں مجھے خود دوستی سے آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہار کرتی تھيں۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ بروقت بريک نا لگاتی تو ٹکرانا تو تھا ہی۔۔کافی بھی جزلان پر گر جاتی۔ رک کر اس نے خشمگيں نظروں سے جزلان کو ديکھا۔
"مجھے کيوں ايسا محسوس ہو رہا ہے کوئ بہت شدت سے ميرے بارے ميں سوچنے لگ گيا ہے۔ ميرے دوست کہتے ہيں ميری چھٹی حس بہت تيز ہے۔۔آپ بتائيں کيا واقعی ايسا ہے" جزلان کی شرارتی نظروں نے اس کی لرزتی پلکوں کا چھوا۔
"بالکل خراب چھٹی حس ہے۔ ميں ايکچولی اپنی جاب کو پھر سے جوائن کرنے کا سوچ رہی ہوں۔ سو ميں نے سوچا آپکا انٹرويو کرلوں۔ جاتے ہی دھماکا کروں گی کہ وہ بندہ جو بہت کم لوگوں کو انٹرويو ديتا ہے ميرے پاس اس کی زندگی سے متعلق بہت سی حقيقتيں ايسی ہيں جن کا کسی کو نہيں پتہ۔ کتنا مزہ آۓ گا نہ ميرے باس بہت خوش ہوں گے" نشوہ نے جس طرح بات کو گھمايا تھا جزلان سراہے بغير نہ رہ سکا۔ صحيح سنا تھا

Mirh@_Ch
 

ايک بات پوچھوں" وہ دونوں اس وقت کافی کے کپ ہاتھ ميں لئيے تاريک اور سنسان سڑک پر چل رہے تھے۔ يہ آئيڈيا بھی جزلان کا تھا۔ کافی شاپ سے کافی ليتے وہ نشوہ کو ايک ايسی سنسان سڑک پر لے آيا جہاں وہ اکثر پہلے بھی آتا رہتا تھا۔
نشوہ نے پہلی مرتبہ اس کی تخليقی صلاحيت کو سہارا تھا۔
ساتھ ساتھ چلتے وہ کافی کے سپ لے رہے تھے۔
"سو باتيں پوچھيں ڈير۔" جزلان کا نرم لہجہ نشوہ کو بہت بھلا لگتا تھا۔
"آپ کے بارے ميں ميں نے نہ صرف بہت سے اسکينڈلز سنے ہيں اور بہت سی لڑکيوں کے ساتھ آپکو کلبز اور پارٹيز ميں بھی ديکھا ہے۔۔۔کيا يہ سب صرف دوستی کی حد تک ہے يا۔۔۔۔۔"نشوہ کو جو بات اتنے دنوں سے پريشان کر رہی تھی وہ اس وقت پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
جزلان کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ ٹھہر گئ۔ يکدم وہ دو قدم اس سے آگۓ چل کر اس کا راستہ روک گيا۔

Mirh@_Ch
 

تب ميں نے آپکو غور سے اور پاس سےديکھا نہيں تھا" جزلان نے مسکراہٹ دباتے نشوہ کے ناراض چہرے کو ديکھا۔
"اور پھر يہ انکشاف کب ہوا کہ ميں خوبصورت ہوں" نشوہ نے ناراضگی سے ہی پوچھا۔
"جب جہاز ميں ايک دبنگ لڑکی کو خوف سے آنکھيں ميچے ديکھا۔۔۔جب خون کے قطروں سے بھرے چہرے کو اپنے سينے ميں چھپ کر روتے ديکھا۔۔۔اور جب بنديا لگاۓ کسی کو ہنستے ديکھا" نشوہ کو اندازہ نہيں تھا اسکے سادہ سے سوال کا جواب جزلان اتنے محبت بھرے انداز ميں دے گا۔
نشوہ کو اپنی دھڑکنيں بے ترتيب ہوتی محسوس ہوئيں

Mirh@_Ch
 

ہاں مگر سوچے سمجھے بنا بولنے کی عادی تھی۔
"جس رفتار سے آپ گاڑی چلا رہے ہيں اس حساب سے ہم اگلے ايک ہفتے تک کافی شاپ پر نہيں پہنچيں گے" نشوہ نے اسکی رفتار پر لطيف سا طنز کيا۔
"ہاہاہاہا ڈئير اسے لانگ ڈرائيو کہتے ہيں" جزلان نے اسکے طنز کا مزا ليا۔
"لانگ نہيں سست ترين ڈرائيو" نشوہ نے لقہ ديا۔
"سرديوں کی راتوں ميں، ايک خوبصورت سی لڑکی کی ہمراہی ميں بھی ميں تيز رفتاری جيسی حماقت کروں تو مجھ جيسا گھامڑ اس پوری دنيا ميں کہيں نہيں ہوگا" جزلان نے اپنی جذبے لٹاتی نظروں کو اسکے صبيحہ چہرے پر ڈالا۔
"سچی ميں حالانکہ کسی نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ ميرا تو کوئ ايک بھی نقش تعريف کے قابل نہيں" نشوہ نے جزلان کو جس بات کا حوالہ ديا جزلان اسے بھول بھی چکا تھا۔ مگر اب پوری جزئيات سے وہ لڑائ ياد آئ۔

Mirh@_Ch
 

اور آپ" جزلان کی جگر جگر کرتی نظروں کا رخ نشوہ کی جانب ہوا۔
"ہاۓ اتنی ٹھنڈ ميں باہر جا کر کافی پئيں گے" نشوہ نے منہ بناتے کہا۔
"آپ کے لئيے اب ميں جون کا موسم تو باہر کروانے سے رہا اور ميری عقل مند بيگم کافی سرديوں ميں ہی پيتے ہيں" جزلان اسکی بات سن کر بدمزہ ہوا۔
"اوکے ليکن جلدی واپس آئيں گے" نشوہ نے مانتے ہوۓ کہا۔
"شکر چليں ديکھتے ہيں" نشوہ کا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے ساتھ گھسيٹتے ہوۓ وہ بولا۔
"ديکھتے نہيں ہيں" نشوہ نے اسے تنبيہ کی۔
گاڑی ڈرائيو کرتے بھی اس کا سارا دھيان بليک جينز پر بوٹل گرين شرٹ پر بليک ہی کوٹ پہنے اور گرين کلر کا اسکارف سر پر لپيٹے نشوہ کی جانب تھا۔
وہ ايک اچھے اور صاف دل کی لڑکی تھی۔نشوہ کی يہ کچھ خصوصيات انہی دنوں جزلان پر کھليں تھيں۔دل ميں کوئ بات نہيں رکھتی تھی جو بات ہوتی منہ پر کہہ ديتی تھی۔

Mirh@_Ch
 

ميں انہيں سمجھايا اب جب وہ نہيں مان رہے تو مين اس سب کو ايسے نہيں چھوڑ سکتا۔ ميں پہلے ہی بہت گناہگار ہوں مزيد گناہگار نہيں بننا چاہتا۔ اب تک ميرے گناہوں کا دائرہ ميری ذات تک تھا جس ميں شايد اللہ مجھے معاف کر ديتا مگر اب يہ دائرہ اللہ کی مخلوق تک بڑھ گيا ہے اور اس کی کہيں کوئ چھوٹ نہيں۔" جزلان کے جواب نے طلحہ کو بے حد حيران کيا وہ جزلان سے ايسی بات کی اميد نہيں رکھتا تھا۔
اس نے کيس تيار کرنے کی ہامی بھر لی۔
____________________
"کافی پينے چليں" ابھی وہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوۓ تھے کہ جزلان نے نشوہ اور صبورہ کو باہر چلنے کا کہا۔
"بھئ تم لوگ جاؤ مين تو اب سوؤں گی پھر تہجد کے ٹائم پر اٹھا نہيں جاۓگا۔۔شب بخير" صبورہ اپنے کمرے کی جانب جاتے ہوۓ بوليں۔
"

Mirh@_Ch
 

کب تک چھپين گی" جزلان اس کے تصور سے مخاطب ہوا۔ ايک اطمينان تھا کہ نشوہ کا رويہ کم ازکم اس کے ساتھ بہتر ہوگيا ہے۔ جزلان کا ذہن ہلکا پھلکا ہوگيا تھا۔
_____________________
اگلے دن وہ سب سے پہلے اپنے ايک دوست طلحہ کے پاس گيا جو کہ وکيل تھا۔
"يار تم اپنے ہی دادا پر کيس کرواؤ گے" وہ ساری بات سن کر ہچکچايا۔
"بات ميرے دادا کی اور ميری بيوی کی نہين بات حق کی ہے۔ جب اپنے جان بوجھ کر گناہ کر رہے ہيں تو ان کا ساتھ دينے کی بجاۓ انہيں راہ راست پر لانے کی کوشش کرنی چاہئيے۔ جب وہ باتوں سے نہ مانيں تو عمل سے انہيں احساس دلانا پڑتا ہے کہ وہ غلط کر رہے ہيں۔ ميں جانتے بوجھتے انتا برا کسی کے ساتھ نہيں کرسکتا۔ انہوں نے اگر آنکھيں بند کرليں ہيں تو اس کا يہ مطلب يہ نہيں کہ ميں بھی صرف يہ سوچ کر آنکھيں بند کرلوں کہ وہ ميرے بڑے ہيں۔

Mirh@_Ch
 

اجزلان نے بھنوئيں سکيڑ کے اسکی جانب ديکھا۔
"آہاں۔۔۔۔۔کہيں محبت کا روگ تو نہيں پال ليا" جزلان کے شرارتی انداز ميں پوچھے جانے والے سوال پر اسے اپنا اعتماد قائم رکھنا مشکل لگا۔ اسی لئيے نظريں چرا گئ۔
"بندے کو اتنا بھی خوش فہم نہيں ہونا چاہئيے" اپنی جگہ سے اٹھتے۔ اپنے سامان کے پاس گئ جو وہ حويلی سے لائ تھی۔
بيگ کی زپ کھولتے کپڑے نکالنے لگی۔
"چليں شکر ہے غلط فہمی نہيں ہے يہ۔۔۔۔" جزلان نے اسکے الفاظ سے اس کے دل ميں چھپی چوری پکڑ لی۔
"اف اپنی فلموں کا اسکرپٹ بھی خود ہی لکھتے ہيں کيا" نشوہ اسکی بات سے بات نکالنے کی حرکت پر بھنا گئ۔
"ہاہاہا آپ کہتی ہيں تو وہ بھی کرلوں گا۔ ايک لو اسٹوری تو شروع کر لی ہے" جزلان کا لہجہ مسلسل شرارت لئيے ہوا تھا۔
نشوہ اسے گھوری ڈال کر واش روم ميں کپڑے چينج کرنے اور وضو کرنے چلی گئ۔

Mirh@_Ch
 

کيا ميں جان سکتا ہوں کہ اچانک يہ احسان کسی خوشی ميں۔" جزلان ديکھ رہا تھا کہ وہ جزلان سے اب تلخ رويہ رکھے ہوۓ نہين ہے۔کمرے ميں آکر بيڈ پر اسکے ہمراہ بيٹھتے جزلان نے سوال کيا
"اس لئيۓ کہ ميں پہلے يہ سمجھ رہی تھی کہ آپ سب حقيقت سے واقف ہيں اور جان بوجھ کر يہ شادی کی ہے مجھ سے انتقام لينے کے لئيۓ مگر کل سے اب تک يہ اندازہ ہوا ہے کہ آپ تو بہت سی حقيقتوں سے انجان تھے۔ اور بے قصور لوگوں کے لئيۓ ميں کوئ کدورت نہيں رکھتی" اسکے صاف گئ سے کہنے پر جزلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔
"اور اس بے قصور بندے پر مزيد احسان کرنے کا سلسلہ کہاں تک چلے گا اور اس سلسلے کی انتہا کيا ہوگی" جزلان کی ذومعنی بات پر اس کا چہرہ سرخ ہوا۔
"ابھی اتنا احسان ہی کافی ہے کہ ميں يہاں ہوں" نشوہ نے فورا اپنے خول ميں سمٹتے مسکراہٹ چھپاتے سنجيدگی خود پر طاری کرتے ہوۓ کہا۔

Mirh@_Ch
 

اس نے پہلے ہی فون کرکے نوکروں کو کمرے صاف کرنے کا حکم دے ديا تھا۔ گھر آتے ہی اس نے ايک کمرے صبورہ کو دکھايا تاکہ وہ راستے کی تھکن اتار سکيں۔ راستے سے ہی انہوں نے کھانا کھا ليا تھا۔ گھر پہنچتے پہنچتے انہيں رات ہوچکی تھی۔
صبورہ کے کمرے ميں جاتے ہی جزلان اس کی جانب آيا جو لاؤنج کی ديوار پر استادہ پينٹگ ديکھنے ميں مگن تھی۔
"آپ ميرے کمرے کو شرف بخشيں گيں يا آپکے لئيۓ الگ کمرے کا انتظام کرواؤں" پچھلے کئ دنوں وہ دونوں حويلی مين ايک ہی کمرہ شئير کر رہے تھے۔جزلان کو اب اس کے ساتھ کی عادت ہوگئ تھی۔ ايک آس لئيۓ اس نے پوچھا۔
"آپ کے ہی روم ميں رہ لوں گی" نشوہ نے رخ موڑے موڑے ہی جواب ديا۔
"موسٹ ويلکم ڈئير" جزلان نے خوشگوار حیرت سے اسکی پشت ديکھتے کہا۔ نشوہ نے مڑ کر اسکی جانب ديکھے انا اسکی تقليد کی۔
"

Mirh@_Ch
 

صبورہ الٹے قدموں واپس اپنے کمرے ميں آئ۔ کمرہ کيا تھا ايک اسٹور تھا جہاں جگہ جگہ پرانا سامان بکھرا پڑا تھا جس کے درميان ايک چارپائ رکھ کر ان ماں بيٹی کو رہنے کی جگہ دی تھی۔
صبورہ نے اسی رات سب کے سونے کے بعد نشوہ کو اٹھايا اور اس سرد رات ميں وہ حويلی ہميشہ ہميشہ کے لئيۓ چھوڑ آئ۔
__________________
وہاں سے نکل کر راستے ميں جزلان کے بار بار اصرار پر صبورہ کو اس رات وہاں سے نکلنے کی وجہ بتانی پڑی۔
جزلان کو يفين نہيں آيا کہ اس کی ماں اس قدر سفاک بھی ہوسکتيں ہيں۔
باقی کا تمام راستہ تينوں نے اپنی اپنی سوچوں ميں گم ہو کر گزارا۔
جزلان کا گھر کيا تھا پورا محل تھا۔

Mirh@_Ch
 

وہ اچھی طرح سبحان شاہ کا برين واش کررہی تھی۔
"تو کيا کروں اس بدذات کا" انہوں نے غصے سے کہا۔
"مار ڈاليں" سفاک لہجے نے باہر کھڑی صبورہ کو خوفزدہ کر ديا۔
"اس کی بيٹی کو مار ڈاليں اور اس کو بھی نکال باہر کريں۔ کل کو کوئ دانيال کی جائيداد کا واث بن کر آپ کو نيچا تو نہيں نہ دکھا سکے گا۔ ايسے کمی کمين لوگوں کو ہم اپنی جائيداد دے ديں جن کے آگے پيچھے کوئ نہيں۔ ايک چھوٹے سے گھٹيا گھرانے کی لڑکی ہے۔ کيا آپکو زيب ديتا ہے کہ آپ اس کو اس قابل بھی جانيں کہ ہمارے گھر ميں رکھيں عيش کرنے کو۔ يہ سب شان و شوکت ہماری اور اس پر دعويدار يہ غير بن جائيں۔" وہ اپنے اندر کی کھولن نکال رہی تھی۔
"صحيح کہہ رہی ہو۔ مروا دو اس کی بيٹی کو" سبحان شاہ کی زہر ميں ڈوبی آواز زروہ کو سنائ دی۔

Mirh@_Ch
 

نحانے کيسے مگر ايک دن سبحان شاہ نے صبورہ، بلال شاہ اور زروہ سے کہہ کر نشوہ کو جزلان کی منگ بنا ديا۔
زروہ کو يہ رشتہ کسی طرح قابل قبول نہيں تھا۔ وہ تو صبورہ کو ہی مشکل سے برداشت کرتی کہاں اس کی بيٹی۔
انہی دنوں بلال شاہ نے کسی کوٹھے والی سے دوسری شادی کرلی۔ زروہ شاہ ابھی صبورہ کو برداشت کرنے والے صدمے سے نہيں نکليں تھيں کہ ايک اور صدمہ مل گيا۔ اس کا تو دماغ بالکل ہی الٹ گيا۔
"ميں اب اس عورت اور اسکی بيٹی کو برداشت نہيں کرسکتی" وہ سبحان شاہ کے سامنے بيٹھی تلخی سے بولی۔
"منحوس ہے وہ آپکے بيٹے کو کھاگئ، ميری زندگی ميں عذاب لے آئ۔ کل کو اسی کی بيٹی اور يہ اس جائيداد پر راج کريں گے۔ کيا فائدہ ہوا آپکو دانيال کو اتنا عرصہ خود سے دور رکھنے کا۔ جن کے لئيۓ دور رکھا وہ تو يہاں پر خوش باش زندگی گزار رہے ہيں۔"

Mirh@_Ch
 

مجھے اميد ہے کہ اسکی پريوں سی شکل ديکھ کر وہ ساری ناراضگی بھلا ديں گے" دانيال نے اس کے آنسو چنتے ہوۓ کہا۔
مگر کيا خبر تھی کہ ڈيڑھ برس کی نشوہ کو دانيال وہاں لے جا ہی نہيں پاۓ گا۔
اپنے منتشر ذہن کے ساتھ وہ ايک دن سڑک پار کر رہا تھا کہ سامنے سے آتے ٹرالے نے اسے کچل ديا۔
صبورہ کی تو دنيا اندھيری ہوگئ۔
ريسکيو وين پر دانيال کو ہاسپٹل پہنچايا گيا۔ اس کے شناختی کارڈ اور آفس کے کارڈ سے انہوں نے باری باری نشوہ اور پھر حويلی ميں اطلاع دی۔
حويلی ميں کہرام برپا ہوگيا۔ آنافانا سب ہاسپٹل پہنچے۔
دنيا کی نظر ميں اچھا بننے کے لئيۓ سبحان شاہ نشوہ اور صبورہ کو بھی اپنے ساتھ لے گۓ۔ دانيال کی موت کے کچھ عرصے بعد ہی سب نے صبورہ کو نوکرانی سے بڑھ کر کوئ درجہ نہ ديا۔

Mirh@_Ch
 

آپ۔۔اپنی اسی کزن سے شادی کرليں۔۔اور ۔۔اور مجھے چھوڑ ديں" صبورہ ہاتھ مسلتے جس تکليف سے يہ سب کہہ رہی تھی يہ صرف وہی جانتی تھی۔
"پاگل ہوگئ ہو آپ ايسا کبھی بھی نہيں ہوسکتا ميں نے يہ شادی آپ کو چھوڑنے کے لئيۓ نہيں کی تھی ابھی ميں اتنا مضبوط ہوں کہ سب کجھ سہہ سکوں۔ آپ پريشان نہ ہو باپ ہيں کتنی دير منہ موڑ ليں گے" ماں اس کی بہت عرصہ پہلے ہی يہ دنيا چھوڑ چکی تھی۔ بس سبحان شاہ تھے جن کا غصہ کم ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا۔
"ميری وجہ سے آپکو کتنی تکليفيں سہنی پڑھ گئيں" بالآخر آنسو اس کی پلکوں کی باڑھ توڑ کر باہر آگۓ۔
"کچھ نہيں ہوا يار ايسے نہيں کريں۔ آپ تو ميری ہمت ہو آپ کو ديکھتا ہوں تو نۓ سرے سے تازہ دم ہو کر ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں۔ ديکھنا اگلی مرتبہ اپنی شہزادی کو ساتھ لے کر جاؤں گا

Mirh@_Ch
 

دن رات کا چکر يونہی چلتا رہا۔ دانيال شاہ ہر ہفتے حويلی جاتا معافی مانگتا مگر ان کے دل بيسے پتھر ہوگۓ۔ کچھ عرصہ تو بہنوں نے بات نہ کی مگر پھر وہ بھائ کے ساتھ ٹھيک ہوگئيں مگر بلال شاہ اور زروہ شاہ دانيال کو ديکھنے کے بھی روادار نہ تھے۔
مگر دانيال نے بھی ہار نہ مانی۔ اسی ميں ايک سال کا عرصہ نکل گيا اور دانيال اور زروہ کے ہاں نشوہ کی آمد ہوگئ۔ جويلی جاکر دانيال نے يہ خبر بھی سنائ مگر وہاں کسی کادل اس کے لئيۓ نہ پگھلا۔ مزيد ايک سال کا عرصہ اسی غم ميں گزر گيا اور دانيال کی صحت اسی فکر ميں گھلنے لگی۔
"دانيال ايک بات کہوں" اس دن بھی دانيال حويلی سے واپس آکر پريشان سوچ ميں بيٹھا تھا۔ صبورہ اس کے ہر دکھ درد سے واقف تھی۔ دانيال کے قريب آکر بيٹھتے اس نے دانيال کو پريشان کن سوچوں سے باہر نکالا۔
"ہمم۔۔۔کہو"دانيال نے آہستگی سے کہا۔