Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

اس کے اٹل لہجے نے سبحان شاہ کے غصے اور بھی بڑھاوا ديا۔
"تو ٹھيک ہے اگر تمہارے نزديک يہ سب ٹھيک ہے تو ميں آج اور ابھی تمہيں عاق کرتا ہوں"ان کی لال بھبھوکا نظريں دانيال کے چہرے پر گڑيں تھيں۔
"مجھے اس دولت اور شان و شوکت کا لالچ کبھی نہيں رہا اور نہ ميری بيوی کو ہے۔ مجھے صرف آپ سے معافی کی خواہش تھی۔ يفيناّّ ابھی نہيں مل سکتی مگر ميں بار بار يہاں آؤں گا تب تک جب تک آپ لوگ مجھے معاف نہيں کرديتے۔" دانيال نے بات ختم کرتے صبورہ کا ہاتھ تھامتے واپسی کے لئيۓ قدم بڑھاۓ۔
____________________
دانيال صبورہ کو لے کر واپس شہر آگيا۔ دونوں نے نوکری شروع کی۔

Mirh@_Ch
 

کہ ميری بيوی کی پارسائ پر کوئ انگلی بھی اٹھاۓ چاہے وہ اٹھنے والی انگلی ميرے باپ کی ہی ہو۔"
"تمہاری يہ ہمت کے ايک آوارہ لڑکی کے لئيۓ اپنے باپ سے اس لہجے ميں بات کرو" ان کی حيرانگی کم ہونے کا نام نہيں لے رہی تھی۔
"ميں صرف يہ جانتا ہوں کہ ميری بيوی شريف ہے اور يہ ميری ذمہ داری ہے کہ اس کے بارے ميں ہر غلط لفظ نکالنے والے شخص کو روکوں۔ اسکا تحفظ اور عزت کروانا ميری ذمہ داری ہے۔بہر حال ميں نے کوئ گناہ نہيں کيا جس کے لئيۓ ميں اپنی بيوی کی بے عزتی کرواؤں۔ ميں نے اسے اپنے نکاح ميں ليا ہے ايک حلال رشتہ بنايا ہے اس کے ساتھ۔ آپ سے ميں معافی مانگتا رہوں گا کہ بحرحال مجھے آپکی اجازت لينی چاہئيۓ تھی۔ اس کے ليۓ ميں بار بار آپکے سامنے آؤں گا معافی کے لئيۓ۔ مگر اپنی بيوی کی تذليل ميں کسی صورت برداشت نہيں کروں گا"

Mirh@_Ch
 

وريشہ بہت اچھی ہے خاندان مين اوبھی بہت سے اچھے لوگ ہيں مجھے اميد ہے کہ اس کا رشتہ۔۔۔"
"بس" دانيال کی بات ابھی پوری نہيں ہوئ تھی کہ سبحان شاہ کو گونج دار آواز نے اسے چپ کرواديا۔
"دو کتابيں پڑھ کر تم ہميں پڑھانے کی کوشش مت کرو۔ اب تم ہميں سکھاؤ گے کہ ہم نے اس خاندان کو کيسے چلانا ہے۔ جو روايتيں ہمارے بڑوں نے بنا ديں اب انہيں تم چيلنج کروگے اسی لئيۓ تمہيں پڑھنے بھيجا تھا کيا؟ کہ يہ گل کھلا کر آؤ۔ اور يہ لڑکی" انہوں نے صبورہ کی جانب اشارہ کيا۔
"يہ جتنی اچھی ہے وہ ہميں ابھی سے اندازہ ہوگيا ہے۔ لڑکوں کو اپنی اداؤں سے لبھانے والی۔۔۔"
"پليز بابا" سبحان شاہ کی بات کو دانيال کی غصيلی آواز نے کاٹ ديا۔ ان کی غصيلی نگاہيں دانيال کے چہرے کی جانب اٹھيں۔
"ميں کسی کو يہ حق نہيں دوں گا

Mirh@_Ch
 

"تم نے اتنی جرات کيسے کی کيا تم اس بات سے بے خبر ہو کہ تمہارا رشتہ پہلے سے ہی زروہ کی بہن سے طے ہے۔ تمہاری بہنيں اس گھر ميں ہيں تم نے يہ سوچ بھی کيسے ليا۔ ان سب کی زندگيوں پر کتنا اثر پڑھے گا۔" دانيال جس وفت صبورہ کے ساتھ اپنی آبائ حويلی آيا وہاں تو جيسے ايک طوفان آگيا۔ سبحان شاہ کی گھن گرج پوری حويلی سن رہی تھی۔ رولا پيٹنا شروع ہوگيا۔ زروہ کی شرر بار نگاہيں صبورہ کے چہرے پر تھيں جو ايک کونے ميں مجرموں کی طرح کھڑی ہوئ تھی۔
دانيال بھی سر جھکاۓ سبحان شاہ کے سامنے کھڑا تھا۔
"بابا پليزيہ بچپن کی منگ وغيرہ يہ سب پرانی باتيں ہيں ميں مانتا ہوں کہ اس طرح سے آپ کی اجازت کے بغير شادی کرکے ميں نے غلطی کی ہے مگر صبورہ بہت اچھی ہے۔ آپ لوگ اسے ايک موقع تو ديں مجھے يقين ہے کہ وہ آپ لوگوں کو کبھی مايوس نہيں کرے گی۔

Mirh@_Ch
 

مگر قسمت ميں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ دانيال کو اپنی يونيورسٹی فيلو صبورہ پسند آگئ۔ اس کے والدين نہيں تھے اور وہ اپنے چچا کے پاس رہتی تھی۔
چچا اور چچی اتنے اچھے نہيں تھے۔ صبورہ اس قيد خانے سے کسی بھی صورت نکلنا چاہتی تھی۔ دانيال کے پرپوزل نے اس کی رہائ کا کام کيا۔
دانيال جانتا تھا کہ اس کے گھر والے راضی نہيں ہوں گے لہذا اس نے انہيں بتاۓ بنا ہی شادی کرلی۔ صبورہ کے چچا چچی کو اس سے غرض نہيں تھی کہ لڑکے کے گھر والے کيوں آمادہ نہيں ان کے سر سے تو ايک بوجھ اتر رہا تھا۔
انہوں نے سادگی سے ان کا نکاح دانيال سے کرکے اسے گھر سے رخصت کيا۔
کچھ دن تو دانيال اور صبورہ دنيا بھلاۓ ايک دوسرے ميں گم رہے پھر جيسے ہی حالات کا اندازہ ہوا دانيال اسے لئيۓ حويلی آيا۔
اور وہاں تو جيسے ايک بھونچال آگيا۔

Mirh@_Ch
 

خود آگے بيٹھ کر ڈرائيور کو چلنے کا اشارہ کيا۔
_________________
دانيال شاہ کو اپنے تمام بہن بھائيوں کی نسبت ہميشہ سے شہر جا کر پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ مگر باپ کی خواہش تھی کہ پڑھ لکھ کر وہ واپس گاؤں آکر اپنی زمينوں کو سنبھاليں۔
ان کے ہاں وٹے سٹے کے رشتے قائم کئيۓ جاتے تھے۔ جبکہ دانيال ان کے سخت خلاف تھا۔
اس کے بڑے بھائ کی بيوی زروہ شاہ کی بہن نے دانيال کی منگ تھی اور ان کی دونوں بہنيں يعنی سبحان شاہ کی دونوں بيٹياں سيما اور دينا زروہ شاہ کے بھائيوں کی بيوياں تھيں۔ دو لڑکياں ان کے خاندان کی ادھر تھيں اور دو ہی لڑکياں ان کے خاندان کی سبحان شاہ کے خاندان کا حصہ بننی تھيں۔ ايک تو بن چکی تھيں۔
دانيال کی پڑھائ ختم ہوتے ہے زروہ کی بہن نے بھی اسی سبحان شاہ کی حويلی کا حصہ بننا تھا۔

Mirh@_Ch
 

"امی ابھی بھی وہ مجھ پر سوتن لانا چاہتے ہيں اور آپ ان کا ساتھ دے رہی ہيں" نشوہ نے جس فکرمندی سے کہا جزلان سنجيدہ صورت حال کے باوجود اسے محبت سے ديکھنے پر مجبور ہوگيا۔
"بيٹا انہوں نے ويسے ہی کہہ ديا ہے ايسا نہيں ہو سکتا۔" انہوں نے انہيں ٹھنڈا کرنا چاہا۔
"چچی پليز يہ ميری ريکوئيسٹ ہے ايک بيٹے کی" جزلان کی بات پر آخر وہ مان ہی گئيں مگر وہ ايسے يہاں سے جانا نہيں چاہتی تھيں وہ تو رشتوں کو دوبارہ جوڑنے آئيں تھيں۔
"جزلان بيٹا ميری بات تو سنو" سبحان شاہ نے اسے روکنا چاہا۔
"پليز ميں مزيد کسی گھٹيا پليننگ کا نہ تو حصہ بننا چاہتا ہوں نہ ان دونوں کو بنانا چاہتا ہوں يہ اب ميری ذمہ داری ہيں اور ميں کوئ غلط نگاہ ان کی جانب اٹھنے نہيں دوں گا۔ بہت جلد آپ کو ايک اور نوٹس موصول ہوگا۔" جزلان بے لچک لہجے ميں کہتا ان دونوں کو لئيۓ باہر آيا۔ گاڑی ميں بٹھايا۔

Mirh@_Ch
 

جس کی سزا صرف اتنی ہے کہ آپکے بيٹے نے اس سے پسند کی شادی کی" تاسف بھری نظروں سے کہتا وہ کمرے سے نکل گيا۔ وہ کيوں اپنی بيوی کو ايسے لوگوں کی بھينٹ چڑھاتا جنہوں نے اپنے سگے بيٹے اور بھائ کی اولاد کے لئيۓ اب بھی دل ميں کدورت اور نفرت پالی ہوئ تھی۔
__________________
"چچی آپ بھی چليں ہمارے ساتھ مين آپکو يہاں نہيں چھوڑ سکتا" جزلان اور نشوہ اس وقت صبورہ کے سامنے کھڑے تھے۔
کچھ ہی لمحوں ميں پورے گھر کو جزلان کے فيصلے کے متعلق پتہ چل گيا۔
صبورہ نے اسے ايسا کرنے سے منع کيا اور زندگی ميں پہلی مرتبہ جزلان نے ان کی بات ماننے سے انکار کيا اور انہيں اپنے ساتھ لے جانے پر بضد رہا۔
"جزلان يہ معاملے ايسے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر حل نہيں کرتےبيٹا۔ ٹھيک ہے تم اپنی بيوی کو لے جاؤ مگر ميں ابھی يہاں سے نہيں جاؤں گی" صبورہ نے صاف انکار کيا۔
"

Mirh@_Ch
 

ميں حيران تھا کہ ايک ماں اپنی اولاد کے ساتھ ايسا کيسے کر سکتی ہے۔ اور پھر ميرے زخموں پر دو سال تک پھاۓ صبورہ چچی نے لگاۓ۔ اور يہاں تک سمجھايا کہ تمہاری ماں کسی ذہنی اذيت کا شکار ہے ورنہ تو وہ تم سے بہت پيار کرتی ہے۔ مگر افسوس وہ پيار اب مجھے آپ دينا چاہتی ہيں جب مجھے اس کی ضرورت نہيں۔
نشوہ سے ميری جن بھی جالات ميں شادی ہوئ ہے ميں اسے اپنی آخری سانس تک نبھاؤں گا۔ ميں بہت برا انسان ہوں مگر الحمداللہ ميں منافق نہيں نہ ميرے چہرے پر ہزاروں ماسک ہيں اپنوں کے لئيے۔
ميں نشوہ اور چچی کو يہاں سے لے کر جا رہا ہوں اور انہيں وہ حصہ دلوا کر رہوں گا جس پر ان کا حق ہے۔ ميں، آپ اس پر قبضہ نہيں کرسکتے جب اللہ نے وہ حق انہيں ديا ہے۔ معاف کيجئيے گا بابا حضور آپ نے کبھی نشوہ کو اپنے بيٹے کی اولاد سمجھا ہی نہيں آپ نے اسے صرف اپنی اس بہو کی اولاد سمجھا ہے

Mirh@_Ch
 

اور جہاں تک بات رہی دوسری شادی کی تو معاف کيجئيۓ گا آپ نے خود ساری زندگی دوسری عورت اور پھر اس کی بيٹی سے حسد کرتے کزاری جس ميں آپ نے اپنی سگی اولاد کی محبت کو اگنور کرديا۔ اب آپ چاہتی ہيں کہ ميں آپ ہی جيسی ايک اور عورت کو اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا دوں۔ آپ کو تو اپنی سچويشن کے بعد يہ احساس زيادہ کرنا چاہئيے کہ دوسری عورت خاوند کی زندگی ميں آنے کی اذيت کيسی ہوتی ہے۔ ميں نشوہ کے ساتھ يہ زيادتی نہيں کرسکتا اور سب سے بڑھ کر صبورہ چچی کو کوئ دکھ نہيں دے سکتا جنہوں نے تب مجھے ماں کی محبت دی جب ميں وہ محبت آپ سے پانے کا خواہشمند تھا۔ ميں وہ رات کبھی نہيں بھلا سکتا جب آپ کو بابا کی شادی کا پتہ چلا تھا اور آپ نے اپنے غم ميں مجھے اتنا مارا تھا کہ ميرے جسم پر نيل پڑ گۓ تھے۔ ميں حيران تھا

Mirh@_Ch
 

ارے کيا ہوا ميرے شہزادے کو" سبحان شاہ نے اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے اس کے سوال پر چھانے والی بوکھلاہٹ کو اپنے چہرے سے چھپانے کے لئيۓ کہا۔
"ديکھا جيسی ماں ويسی بيٹی۔۔۔بہت عاجز کيا ہوا ہے اس نے ميرے بيٹے کو۔ جب سے شادی ہوئ ہے سوکھ کر رہ گيا ہے يہاں رہنے کا ڈرامہ کرکے ميرے بيٹے کی زندگی کو بے رونق کر ديا ہے۔ بيٹا اسی لئيۓ ہم نے سوچا ہے کہ تم اپنی مرضی سے شادی کرلو۔ مين جانتی تھی يہ کبھی تمہيں سکھ نہيں دے گی۔ ماں اسکی اپنے شوہر کی زندگی کھا گئ۔ اللہ نہ کرے بيٹی کی نحوست اب۔۔۔"
"پليز امی کيسی باتيں کر رہے ہيں آپ لوگ يہ نحوست والی باتيں ہم مسلمانوں کو زيب ديتی ہيں۔ ميں جانتا ہوں کہ ميں بہت اچھا مسلمان نہيں مگر انسان ميں شايد آپ لوگوں سے بہتر ہوں۔ کم از کم موت جيسی حقيقت کو ہميں کسی انسان اور اس کی قسمت کے ساتھ جوڑنا نہيں بنتا۔

Mirh@_Ch
 

آپ آج اور ابھی ميرے ساتھ شہر جارہی ہيں جو بھی پيکنگ کرنی ہے کرليں اور آپ کو ميں يقين دلاتا ہوں کہ آپکو وہ سب ملے گا جو دانيال چاچو کا ہے مگر اس کے لئيۓ ابھی ميں جيسا کہوں آپ کو ويسا کرنا پڑے گا" جزلان نے اس کے قريب آتے اس کے آنسووں سے تر چہرے کو صاف کرتے کہا۔
اب اس کا رخ سبحان شاہ کے کمرے کی جانب تھا جہاں اسکی ماں اور باپ پہلے سے موجود تھے۔
"ارے آؤ بيٹا کچھ دير پہلے ہم تمہاری ہی بات کر رہے تھے"سبحان شاہ نے اسے ديکھتے اپنے پاس آنے کا اشارہ کيا ۔
وہ ان کے پاس ان کے تخت پر بيٹھنے کی بجاۓ کھڑا رہا۔
"کيا ميں آج پوچھ سکتا ہوں کہ نشوہ اور چچی آپ کو کب اور کيسے مليں" اس نے سواليہ نظريں ان تينوں کے چہروں پر ڈاليں۔

Mirh@_Ch
 

کس کو حق حاصل ہے کہ وہ ميرے باپ کی جائيداد سے مجھے محروم رکھے۔ کون سی کتاب يہ کہتی ہے۔۔اگر يہ سب مسلمان ہيں تو اتنا تو جانتے ہوں گۓ کہ اس وراثت ميں ميرا بھی حصہ ہے۔ چاہے ميں اس حصے کے ساتھ جو بھی کروں مگر دنيا کی کوئ عدالت مجھے وہ سب لينے پر چيلنج نہيں کرسکتی۔ کتنے سفاک لوگ ہيں يہ سب جو ميرے باپ کی جائیداد پر غاصب بنے بيٹھے ہيں۔" نشوہ نے آج ہر حقيقت پر سے پردہ اٹھا ديا تھا۔
جزلان کو اس سے کوئ شکايت نہيں تھی کہ ان کے درميان يہ رشتہ کسی محبت کے نتيجے ميں نہيں بلکہ مجبوريوں کے سبب بنا تھا۔
ہاں اسے دکھ اس بات کا تھا کہ اس کے گھر والوں نے اس سے يہ سب چھپايا تھا اور کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس کی تذليل کی تھی۔
نہ صرف يہ بلکہ کسی حقدار کو اس کے حصے سے محروم رکھنے کی بھی غلطی کی تھی۔
وہ حيران تھا کہ کيسے منافقوں سے اس کا گہرا رشتہ ہے۔

Mirh@_Ch
 

کہ آپ ہی وہ شخص ہيں جن سے ميری بات بچپن سے طے ہے۔ يہ مجھے اس دن پتہ چلا جب آپ امی کے پاس آۓ تھے۔ ميں نے يہ شادی صرف اپنا حصہ لينے کے لئيے کی تھی۔ کيونکہ اس ميل ملاپ کے چکر ميں ميری اصل بات دب گئ تھی۔ جب ميرے والد نہيں تو ان کے حصے کی حقدار ميں اور ميری ماں ہيں۔ ان کی نفرتوں کی وجہ سے ہم نے جن حالات ميں زندگی گزاری ہے کاش کہ ميں اس کی کوئ فلم آپ کو دکھا سکتی۔ کس طرح امی نے نوکرياں کرکے مجھے پالا ايک ايک روپے کو ترسے ہم۔ مجھے تو کبھی اندازہ نہ ہوتا کہ ميرا تعلق کس خاندان سے ہے اگر ميں ابو کی ڈائری نہ پڑھ ليتی جو انہوں نے اپنی شادی کے بعد کے حالات اور پريشانيوں ميں اپنے گھر والوں کی بے رخی کے سبب لکھی تھی۔ وہيں سے ميں نے يہاں کا ايڈريس لے کر عدالتی نوٹس بھجوايا تھا۔

Mirh@_Ch
 

مگر کچھ دير پہلے مجھے جو حقائق پتہ چلے ہيں ان کی وجہ سے اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ آپکی ناگواری کا سبب کچھ اور ہے اور يہ کہ آپ ايکسيںڈينٹلی نہيں کسی سازش کے نتيجے ميں ميری زندگی ميں آئ ہيں۔ پليز نشوہ اس وقت کچھ مت چھپانا جو بھی سچ آپکے اينڈ پر ہے ميں اس سے پوری طرح واقف ہونا چاہتا ہوں" جزلان کی کہی گئ باتوں نے گوکہ اسے بھی الجھايا تھا کہ آخر کون سے حقائق اسے معلوم ہوۓ ہيں اور يہ کہ وہ نشوہ کے عدالتی نوٹس بھجوانے والی بات سے ناواقف ہے۔
"ميں نے ہماری شادی سے پہلے ايک عدالتی نوٹس بابا حضور کو بھجوايا تھا جس ميں ميں نے بابا کے حصے کی جائيداد مانگی تھی۔ انہوں نے معافی مانگی تھی اور پھر يہ بتايا تھا کہ ميں آپکی منگ ہوں۔انہوں نے امی کو اس انداز سے ٹريپ کيا تھا کہ وہ ان کی باتوں ميں آگئيں۔ ميں تب تک يہ نہيں جانتی تھی

Mirh@_Ch
 

مجھے اکيلے ميں آپ سے کچھ بات کرنی ہے اگر آپ کمرے ميں چليں تو زيادہ بہتر ہوگا" جزلان کا خطرناک حد تک سنجيدہ چہرہ ديکھ کر اسے کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا لہذا کسی بھی بحث کے بنا وہ اس کے ہمراہ کمرے ميں آگئ۔
جزلان نے اندر آتے ہی دروازہ بند کيا۔
"مسئلہ کيا ہے" اب نشوہ بھی پريشان ہو اٹھی۔
"ميں نے پہلے بھی آپ سے پوچھا تھا کہ يہ شادی آپ نے کس کے دباؤ ميں کی۔ تب حالات کچھ اور تھے۔ مگر آج مين آپ سے سنجيدگی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ باباحضور آپ کے پاس کيسے آۓ۔ آپ انہيں کيسے مليں اور اچانک آپ ميری منگ کيسے نکل آئيں۔ ہماری شادی جتنی جلدی ميں ہوئ اور پھر جو حالات رہے ہم کبھی نارمل انداز ميں ايک دوسرے کے سامنے نہيں آۓ کہ ميں آپ سے يہ سب پوچھتا۔ آپکی مسلسل ناگواری کا سبب ميں يہی سمجھا تھا کہ ميری فيلڈ کی وجہ سے آپ مجھے پسند نہيں کرتيں۔

Mirh@_Ch
 

ان کی تکبرانہ آواز ميں جو راز کھل رہے تھے جزلان کے لئيۓ انہيں سہنا مشکل ہوگيا۔ وہ وہيں سے واپس پلٹ گيا تھا۔
دماغ ميں جکھڑ چل رہ تھے۔ اتنا تو اندازہ ہوگيا تھا کہ وہ نشوہ اور صبورہ کے بارے ميں بات کر رہے تھے۔ مگر اس قدر نفرت اور حصہ۔۔۔۔وہ الجھتا جارہا تھا۔
وہ سيدھا نشوہ کے پاس گيا جو کچھ عورتوں کے ہمراہ کھڑی باتيں کر رہی تھی۔ بسمہ کی رخصتی ہو چکی تھی مگر ابھی بھی کچھ مہمان موجود تھے۔
"نشوہ بات سنيں" ان سے تھوڑا دور رکتے اس نے نشوہ کو آواز دی۔
نشوہ اس کی کمرے ميں ہونے والی حرکت کے سبب کب سے اس سے چھپتی پھر رہی تھی۔
اب اتنے لوگوں کی موجودگی ميں اس کو اگنور نہيں کرسکتی تھی۔
ناراض نظروں سے اسے ديکھتے وہ اسکی جانب بڑھی۔
"جی" جزلان اپنی پريشانی کے باعث اس کی ناراضگی کو محسوس نہيں کر سکا۔

Mirh@_Ch
 

کيا محبت ايسے ہی اپنا آپ منوا ليتی ہے۔ ايک دوسرے سے نفرت کرتے کرتے وہ کس موڑ پر آگۓ تھے جہاں نفرت نے محبت کا روپ دھار ليا تھا۔
نشوہ کا آنسو چن کر اسکے ماتھے کے ٹيکے پر اپنا محبت بھرہ لمس چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر جاچکا تھا۔
يہ ديکھے بنا کہ نشوہ اس کی جرات پر کتنی دير اپنی سانسوں کو بحال کرنے ميں ناکام رہی تھی۔
________________
جزلان سبحان شاہ کے کمرے ميں کسی کام سے داخل ہونے لگا کہ اندر کی بات سن کر وہ کتنے لمحے اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔
"ميرے خيال ميں جزلان اس لڑکی کے ساتھ خوش نہيں اس سے کہو وہ اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرکے اسے بے شک شہر مين رکھے۔ ہمارا تو مقصد پورا ہوگيا اور ہم ان ماں بيٹی کے سارے کس بل نکال ديے۔ اب ميرا چيتا جيسے مرضی اپنی پسند کی زندگی گزارے يہ لڑکی يہيں پڑی سڑتی رہے گی۔۔۔انہوں۔۔ہم سے حصہ مانگنے چلی تھی۔"

Mirh@_Ch
 

کچھ نہيں ہوتا چيک کرواتے ہيں اگر ٹھيک نہيں ہوا تو اور لادوں گا آپکو" جزلان اسے تسلی دلاتے ہوۓ بولا۔
"اتنی محبت سے ميں نے يہ موبائل ليا تھا۔ پيسے جمع کر کرکے" اس کی بات پر جزلان شاکڈ رہ گيا جس دولت کی اس نے کبھی پرواہ بھی نہيں کی تھی اس کی بيوی بے تحاشا جائيداد کی مالک ہوتے ہوۓ بھی کتنا عرصہ پيسے پيسے کی محتاج رہی تھی۔
"پليز رونا نہيں ايسا ہی ايک اور موبائل لادوں گا جتنے کہيں گی لادوں گا مگر اپنے آنسو ان چيزوں کے لئيۓ مت بہائيں جن کی کوئ جيثيت نہيں مگر آپکے يہ آنسو کسی کے لئيۓ بہت قيمتی ہيں۔" جزلان نے ہاتھ بڑھا کر اسکی آنکھ ميں اٹکا ايک آنسو اپنی پور پر چن ليا۔
ايک عجيب سا تعلق ان کے درميان بن گيا تھا جس سے دونوں نظريں بھی چرا رہے تھے اور اس ميں بندھنے کے بھی خواہش مند تھے۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ اپنے جوتے پہننے کمرے ميں آئ تو ڈريسنگ ٹيبل کے سامنے کھڑے جزلان نے بھرپور نظروں سے اس کے سجے سنورے روپ کو ديکھا۔
لوگوں کے دل محبوبہ کے آويزوں ميں اٹک جاتے ہيں اور اس کا دل اپنی محبوبہ کے ٹيکے ميں اٹک گيا تھا۔
جلدی جلدی جوتے پہنتے وہ تيزی سے جزلان کے قريب آئ اور جھک کر ٹيبل سے اپنا موبائل اٹھاکر تيزی سے مڑی
کا اسکے ہاتھ سے موبائل اس اينگل سے گرا کہ اس کی اسکرين اچھی خاصی ٹوٹ گئ۔
"آآآآ" ايک چيخ اس کے حلق سے برآمد ہوئ۔
"کيا ہوگيا ہے " جزلان بھی تيزی سے مڑا۔ اپنے موبائل کی جالت ديکھ کر نشوہ کے آنسو بس گرنے کو تيار تھے۔
جزلان نے جھک کر موبائل کو چيک کيا مگر وہ جس بری طرح ٹوٹا تھا ٹھيک ہونے کے آثار نہيں لگ رہے تھے۔
"ميرا موبائل" نشوہ نے بسورتی شکل بنا کر آہستہ سے موبائل اس کے ہاتھ سے ليا۔
"