Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

مگر وہ جو اتنے سارے سکينڈل تھے اور وہ جو گانا کل رات اس نے گايا تھا۔ اگر اس کی زندگی ميں اور لڑکياں تھيں يا کوئ اور لڑکی تھی تو وہ اس رشتے کو برقرار رکھے ہوۓ کيوں تھا۔ نشوہ يہ بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
ڈل گولڈ اور ميرون لانگ شرٹ کے ساتھ غرارہ پہنے سليقے سے کئيۓ گۓ ميک اپ ميں وہ بے حد پياری لگ رہی تھی۔
بيوٹيشن نے زبردستی اسے ٹيکا پہنايا تھا۔ وہ حيران تھی کہ يہ ٹيکا وہ بيوٹيشن اس کے کپڑوں کے ساتھ ميچ کرکے کيسے لائ تھی۔
وہ يہ نہيں جانتی تھی کہ کسی کو مہندی کی رات ٹيکا ماتھے پر لگاۓ وہ کس قدر حسين لگی تھی کہ وہ آج صبح سے بازاروں کی خاک چھان کر چپکے سے اسکے ڈريس کی شرٹ لے کر گيا ہوا تھا اور ميچ کرکے اس کے لئيۓ نہ صرف ٹيکا لايا بلکہ بيوٹيشن کو بھی خاص ہدايات کيں کہ وہ زبردستی کسی بھی طرح اسے ٹيکا پہنانے پر مجبور کرے۔ اور پھر ويسا ہی ہوا تھا۔

Mirh@_Ch
 

اگلے دن وہ سب صبح ميں ہی واپس آگۓ کہ رات ميں بسمہ اور شرجيل کی بارات کا فنکشن تھا اور بے شمار کام کرنے والے تھے۔
جزلان نے سب لڑکيوں کے لئيۓ بيوٹيشن کا انتظام کيا ہوا تھا سو انہيں تيار ہونے ميں کوئ خاص مشکل درپيش نہيں آئ۔
جزلان نے بليک شلوار قميض کے ساتھ سليٹی رنگ کی شال لی ہوئ تھی۔ نشوہ نے غور کيا تھا کہ وہ مغربی لباس کی نسبت زيادہ تر شلوار قميض پہنتا تھا اور اسکو وہ بے حد سوٹ بھی کرتی تھی۔
غلط فہميوں کے بادل چھٹے تھے تو نشوہ نے جزلان کے مزاج اور عادات پر غور کيا تھا۔
اس کی فيلڈ اور افواہوں کے سبب وہ اسے جتنا برا انسان وہ اسے سمجھتی تھی اس کے نزديک رہنے سے اس نے جانا کہ وہ اتنا برا نہيں اور خاص طور پر اس نے جزلان کو سب عورتوں کی عزت ہی کرتے ديکھا تھا۔

Mirh@_Ch
 

آگ کی تپش اور کچھ جزلان کے الفاظ کی تپش نے نشوہ کے گال دہکا دئيۓ تھے۔ سب سحر زدہ اس کی آواز سن رہے تھے۔
جيسے ہی گانا ختم ہوا سب نے تالياں بجا کر اسے بھرپور داد دی۔
"يہ يقيناّّ بھابھی کے لئيۓ تھا" ارمغان نے شرارت سے ديکھتے ہوۓ کہا۔
"ضروری نہيں" جزلان کے جواب پر نشوہ نے الجھن بھری نظروں سے اس کی جانب ديکھا۔ چہرے پر شرم و حيا کی جو لالی کچھ دير پہلے تھی اب وہاں فکر کی پرچھائياں تھيں۔

Mirh@_Ch
 

کسی کزن نے نشوہ کو بھی بھيچ ميں گھسيٹا۔
"مجھے تو پتہ ہی نہيں يہ گانا بھی گا ليتے ہيں" نشوہ کے جواب پر سب نے اوووو کی آواز نکالی۔
"جزلان بھائ چليں آج بھابھی کو امپريس کر ديں" ارمغان نے کہا۔
"وہ آل ريڈی مجھ سے بہت امپريس ہيں" جزلان نے مسکراہٹ دباتے نشوہ کو ديکھا
"بھئ مجھے کيا پتہ باتھ روم سنگر ہيں يا واقعی کچھ گٹس بھی ہيں" نشوہ نے اپنے ازلی خود اعتماد انداز ميں جزلان کو گويا اکسايا۔ جزلان کے حوالے سے سب کا چھيڑنا اور يہ خوابناک ماحول اور جزلان کی آنکھوں کی چمک سب بہت اچھے لگ رہے تھے جنہوں نے نشوہ کو بھی اس ماحول کا حصہ بننے پر مجبور کر ديا۔
جزلان نے بھنويں اچکا کر اس کی جانب ديکھا۔
پھر گٹار تھام ليا۔

Mirh@_Ch
 

جھٹ پٹ سب نے عمل کيا اور کھانا کھا کر سب اپنی اپنی کافی کا مگ لئيۓ جنوری کی سرد رات ميں درميان ميں آگ دہکاۓ خوش گپيوں ميں مصروف تھے۔
"ايوری بڈی ناؤ گيٹ ريڈی ٹو ہئير آ بيوٹی فل سونگ ان جزلان بھائز وائس" آفتاب نے اپنے موبائل کو مائيک کے سے انداز ميں منہ کے پاس لاتے کھڑے ہو کر اعلان کيا۔
"نو وے" جزلان نے ہاتھ اٹھا کر صاف انکار کيا۔ اس وقت وہ ڈارک گرے شلوار قميض پر کريم کلر کا تسہ لئيۓ ہر منظر پر چھا رہاتھا يا اس کے سامنے بيٹھی نشوہ کو محسوس ہو رہا تھا۔
"کوئ نخرے نہيں چليں جزلان بھائ۔۔" سب نے يک زبان ہو کر اس کی نہ کو خاطر ميں لاۓ بنا کہا۔
ايک جلدی سے اندر سے گٹار لے آيا۔
"بھابھی آپ بھی سفارش کريں"

Mirh@_Ch
 

اپنی آخری آرامگاہ کی طرف" اس کی بات کا مطلب سمجھتے نشوہ کے چہرے پر اطمينان بکھرا۔
"شکر ہے" اس نے بے اختيار شکر ادا کيا۔
"صد افسوس بيچارے سانپ کی موت پر آپ شکر ادا ک رہی ہيں" اس کا ہاتھ تھام کر چلتے ہوۓ اس نے نشوہ کو چڑايا۔
"وہ بيچارا تھا۔ مجھے کاٹ ليتا تو اس کی جگہ ميں آخری آرامگاہ کا سفر کر رہی ہوتی"نشوہ نے برا مناتے کہا۔
"شٹ اپ نشوہ" اس کی بات پر جس قدر دہل کر جزلان نے اس ناراضگی سے ديکھتے کہا نشوہ ساکت رہ گئ۔
جزلان نے پھر کوئ اور بات نہ کی اور نہ ہی نشوہ نے۔ نشوہ کو ايسا لگا وہ اپنی بے اختياری پر خود ہی اب خفت زدہ ہے۔
___________________
رات ميں ان سب کزنز نے اسی فارم ہاؤس ميں رکنے کا پروگرام بنايا۔ رات کی تاريکی ميں فارم ہاؤس کے بڑے سے لان ميں انہوں نے بورن فائر کا سوچا۔

Mirh@_Ch
 

اب اسے بھی سانپ کی پھنکار کی آواز قريب سے آ رہی تھی۔
"نہيں نہيں ميں آپ کو آگے نہيں جانے دوں گی" اس نے جزلان کو مضبوطی سے پکڑتے ہوۓ کہا۔
"کيا بچپنا ہے نشوہ ہٹيں نہيں تو ميں آپکو سانپ کے آگے کردوں گا حد ہوتی ہے" اس نے جھٹکے سے اس سے خود کو چھڑواتے کہا اور ذرا سا ہی آگۓ بڑھا تھا کہ اسے پاس سے تيزی سے رينگتا ہوا سانپ نظر آگيا۔ جزلان کے ہاتھ ميں گن تھی اور اس کا نشانہ بھی بہت اچھا تھا۔ اس نے سانپ کا نشانہ ليتے فائر کيا جو سيدھا اس کے سر پر لگا۔
فائر کی آواز پر نشوہ نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر بے ارادہ چيخ ماری۔
جزلان نے مڑ کر نشوہ کو ديکھا جو کانوں پر ہاتھ رکھے آنکھيں ميچے خوفزدہ کھڑی تھی۔
وہ اس کے قريب گيا۔
"نشوہ"اس نے اس کے ہاتھ ہٹاتے آہستہ سے اسے آواز دی۔
"کہاں گيا" اس نے ہاتھ نيچے کرتے آنکھيں کھولتے خوفزدہ لہجے ميں پوچھا۔

Mirh@_Ch
 

جزلان نے اسے اپنے پيچھے آنے کا کہتے قدم آگۓ بڑھاۓ۔ ليدر کی براؤن جيکٹ اور بلو جينز کی پينٹ پہنے وہ نشوہ کو مضبوط سائبان لگا مگر اس کی باتيں۔۔۔۔۔
"ڈرائيں تو مت اب" اسکی بات سنتے وہ خوفزدہ ہوتی اس کے قريب ہوئ۔
ابھی وہ دونوں تھوڑا سا آگے گۓ ہوں گے کے ادھر ادھر خوف سے ديکھتی نشوہ کو دائيں جانب سے ايک سانپ پھن پھيلاۓ اپنی جانب بڑھتا دکھائ ديا۔
"سانپ" خوف سے چيخ مارتی وہ جزلان کے پہلو سے لگ گئ۔
جزلان بھی چوکنا ہوا۔ مگر اپنے ساتھ کھڑی تھر تھر کانپتی نشوہ کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔
"کہاں ہے مجھے دکھا تو ديں" اس نے چڑ کر نشوہ کو خود سے عليحدہ کرنے کی کوشش کی۔
"اس۔۔۔اسس طرف" اس نے جزلان کے ساتھ لگے لگے ہی جواب ديا۔
"آپ پيچھے ہٹيں گی تو ميں ديکھوں گا نہ نہيں تو وہ اپنا کام کردکھاۓ گا۔" جزلان نے اسے رسانيت سے سمجھاتے کہا۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ نے اس کی غصيلی نظروں سے خائف ہوتے ہوۓ سوچا۔
"ميں تو بس پکچرز لے رہی تھی وہ ايک دم ہی آگے چلی گئيں" اس نے اپنی طرف سے صفائ دينی چاہی۔ نجانے کيوں اب اس شخص کے سامنے وہ جارحانہ انداز نہيں رہے تھے جو کچھ دن پہلے نشوہ کے تھے۔
"وہ کيا آپکو اپنے کندھوں پر اٹھا کر يہاں سے واپس جانے کا کہتيں۔اوپر کا چيمبر بالکل ہی خالی ہے" اسے پھر سے ڈپٹتا وہ آخر ميں آہستہ سے بڑبڑايا۔ مگر آواز اتنی اونچی تھی کہ نشوہ کے کانوں تک پہنچ گئ۔
اس وقت وہ اس پر انحصار کئيۓ ہوۓ تھی نہيں تھی زبان ميں کچھ سنانے کی کھجلی بڑی شدت سے ہوئ تھی۔
"چليں اب يا رات يہيں اس حسين درخت کے ساۓ ميں گزارنی ہے۔ جب سانپ لٹکيں گے اس پر سے تب ميں ديکھوں گا يہ درخت کتنا خوبصورت لگتا ہے"

Mirh@_Ch
 

کہاں ہيں آپ سب ادھر ہمارے پاس آچکی ہيں" جزلان نے پريشانی سے پوچھا۔
نشوہ نے روہانسی آواز ميں اسے اندازے سے اس جگہ کی کچھ نشانياں بتائيں جہاں وہ موجود تھی۔
"اوکے ميں آرہا ہوں" جزلان نے موبائل بند کيا۔
"تم لوگ فارم ہاؤس پر پہنچو ميں نشوہ کو لے کر آتا ہوں" تيزی سے کہتا وہ اس سمت چل پڑا جہاں وہ تھی۔
وہ پريشان کھڑی جزلان کے جلدی سے آنے کی دعا مانگ رہی تھی ايک مرتبہ پھر وہی اس کا نجات دہندہ بنا تھا۔
کچھ دير ہی گزری تھی کہ ايک سمت سے اسے جزلان تيزی سے اپنی سمت آتا ہوا دکھائ ديا اس نے ايک پرسکون سانس فضا کے سپرد کی۔
"بہت شوق ہے آپکو مصيبتوں ميں پھنسنے اور دوسرے لوگوں کو پھنسانے کا" وہ آتے ہی نشوہ پر برس پڑا۔ سخت تيور لئيۓ وہ اسے ايسے گھور رہا تھا جيسے نشوہ کو ايک جڑ دے گا۔
"يہ تو دن بدن خوفناک ہوتا جا رہا ہے"

Mirh@_Ch
 

جبکہ نشوہ يہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ يہ پروگرام اس کے لئيۓ بنا ہے يا جزلان نے واقعی شکار پر جانا تھا۔
تمام وقت لڑکے شکار ميں مصروف رہے اور لڑکياں اس جنگل ميں پھرنے ميں۔
نشوہ ايک درخت کے قريب کھڑی اس درخت کی عجيب و غريب شاخوں کو ديکھنے اور موبائل ميں اس کی تصويريں کھينچنے ميں اتنی محو ہوئ کہ اسے پتہ ہی نہيں چلا کب باقی لڑکياں باتيں کرتی ہوئ کہيں آگے نکل گئيں۔
تھوڑی دير بعد جب وہ تصويريں کھينچ کر فارغ ہوئ تو اندازہ ہوا کہ وہ اکيلی رہ گئ ہے۔
وہ تو رونے والی ہوگئ کيونکہ شام کے ساۓ پھيل رہے تھے اور وہ اس جگہ سے بھی ناواقف تھی۔
اردگرد ديکھتے پھر اس نے جزلان کو فون کرنے کا سوچا شکر تھا کا سگنلز آرہے تھے۔
لڑکيوں کو نشوہ کے بنا آتے ديکھ کر وہ بھی پريشان ہوا ابھی وہ اس کے نمبر پر فون ملانے والا تھا کہ نشوہ کا فون آگيا۔

Mirh@_Ch
 

ہر حال ميں" اس نے اصل مسئلہ جزلان کو بتايا۔
"تو چلے چليں گۓ نا يار کل تو اسٹيے ہے اور پرسوں بارات ہے نہ تو کل پروگرام بناتے ہيں مجھے بھی بہت ٹائم ہو گيا ہے شکار کھيلے ہوۓ" جزلان نے کھڑے کھڑے سارا پروگرام طے کيا۔
نشوہ نے اپنے سامنے کھڑے چاکليٹ براؤن شلوار قميض اور کالا تسہ کندھوں پر لپيٹے جزلان کو ديکھا۔ اپنے تيکھے نقوش ميں نجانے آج وہ اسے اتنا اچھا کيوں لگا۔ ہلکی سی شيو نے اسے اور بھی جاذب نظربناتی تھی۔
جزلان نے اچانک اپنی نظروں کا رخ نشوہ کی جانب کيا۔ اس نے گڑ بڑا کر نظروں کا رخ آفتاب کی طرف موڑا۔
"مجھ سے بہتر تو يہ آفتاب ہی ہے" اس نے دل ميں سوچا اور پھر اپنی بدلتی کيفيت پر خود ہی ہنس پڑا۔
___________________
اگلے دن جزلان نے شکار کے لئيۓ سب کو آمادہ کر ليا لڑکياں سب بہت خوش تھيں کہ انہيں پھرنے کا موقع مل گيا

Mirh@_Ch
 

مگر اس کے سحر نے جزلان کو اپنی لپيٹ ميں لے ليا تھا۔
اندر کی جانب بڑھتے ہوۓ وہ اسی کزن کے ساتھ کسی بات پر الجھتی نظر آئ۔
"جزلان بھائ! آپکی بيگم بہت ٹيڑھی عورت ہيں" وہ کسی بات پر تنگ آيا ہوا تھا بے اختيار جزلان کو پکار بيٹھا۔
جزلان نے محسوس کيا تھا کہ واپس آکر نشوہ کا رويہ سب کے ساتھ کافی بہتر ہوگيا ہے وہ بے زاری جو شروع مين اسے نظر آئ تھی وہ اب نہيں تھی۔
جزلان کی نظر اس دشمن اول کے چہرے کے اردگرد ہی تھی وہ بھی جزلان کو قريب آتا ديکھ کر خاموش ہوگئ۔
"کيا کرديا ميری بيگم نے" جس محبت سے اس نے نشوہ کے قريب کھڑے ہوتے پيار سے اسے ميری بيگم کہا وہ نشوہ کی دھڑکن تيز کرنے کے لئيۓ بہت تھا۔
"کل سے رٹ لگائ ہوئ ہے کہ فارم ہاؤس کے قريب جو جنگل ہيں وہاں کل صبح جانا ہے ۔

Mirh@_Ch
 

نجانے کيا ہو رہا تھا وہ جس کے ساۓ سے بھی وہ دور بھاگتا تھا آہستہ آہستہ دل اسی کے لئيۓ ہمکنے لگا تھا۔
مہندی کی رات تھی پرپل،پرپل، شالنگ پنک اور اورنج رنگ کے لہنگے اور لانگ شرٹ ميں قرينے سے دوپٹہ لئيۓ ہلکے سے ميک اپ ميں وہ جس کے نقش تعريف کے قابل نہيں تھے جزلان کو بار بار جکڑ رہے تھے۔
مہندی کی رسم شروع ہونے سے پہلے دينا کے بڑے بيٹے آفتاب کے ساتھ کھڑی وہ کسی بات پر بے اختيار کھلکھلائ اور اسی لمحے مہمانوں کو ريسيو کرنے کے لئيۓ کھڑے جزلان کی نظر اس کے چہرے پر پڑی جو پھر پلٹنے کو انکاری ہوگئ۔
Carry brother
کی آواز نے اس کے جذبات اور بھی بھڑکاۓ
اس کے کسی کزن نے اسٹيريو پر اونچی آواز ميں اس کا گانا لگايا تھا اور جزلان کا دل بس گانے کی بس ايک ہی لائن ميں اٹک کر رہ گيا
You…can’t take my eyes off you.
وہ کب کی وہاں سے چلی گئ تھی

Mirh@_Ch
 

کيوں کا بہت بڑا سوالہ نشان اس کے دماغ ميں پيدا ہوا۔ اس نے جزلان کو کيوں بچايا کيا اس رات کے احسان کا بدلہ۔ جبکہ اس نے نشوہ پر نہيں خود پر اور اس خاندان پر احسان کيا تھا۔
اس کی الجھن بھری آنکھوں کو اپنے وجود کے آر پار ہوتے وہ بہت اچھی طری سے محسوس کر رہی تھی۔
وہ يہ سب کيوں کر رہی تھی وہ خود نہيں جانتی تھی۔
ان کی واپسی کے تيسرے دن جيسے ہی ان کی تھکاوٹ اتری سميا پھوپھو کی بيٹی بسمہ کی شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے۔ دونوں بہنيں آپس ميں رشتہ کر رہيں تھيں۔ شرجيل دينا کا بيٹا تھا جس سے بسمہ کی شادی ہو رہی تھی دونوں بہنيں ايک ہی گھر ميں بياہی ہوئ تھيں اور ايک ہی حويلی ميں رہتی تھيں۔ لہذا سبحان شاہ بسمہ کو اپنے پاس لے آۓ کہ يہاں سے رخصت ہو کر وہ اپنے گھر جاۓ۔ سب کو يہ آئيڈيا پسند آيا۔
جزلان واپسی کے لئيۓ پر تول رہا تھا مگر کسی نے اسے جانے نہ ديا۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ اس دن کے بعد سے جزلان سے نہيں الجھی اور نہ ہی جزلان نے ايسی کوئ حماقت کی۔ دو دن گزرتے ساتھ جيسے ہی جزلان نے ديکھ اس کے زخم کچھ بہتر ہوۓ ہيں تو اس نے واپسی کی سيٹ کروا لی۔
نشوہ کو تو جيسے چپ لگ گئ تھی جو ان کے واپس جانے تک نہين ٹوٹی۔
جويلی پہنچ کر سب انہيں تيسرے ہفتے ہی واپس آتے ديکھ کر پريشان ہوۓ اور جب نشوہ کے زخم ديکھے تو اس سے بھی زيادہ پريشان ہوۓ۔
"کچھ نہيں بس ہائيکنگ کے ليۓ يہ مجھے لے گۓ تھے وہاں توازن نہيں برقرار رکھ سکی تو گر گئ اسی ليۓ تو جزلان نے ٹرپ بھی شارٹ کر ديا بہت پريشان ہو رہے تھے يہ" نشوہ نے جزلان کے کچھ بی بولنے سے پہلے جس طرح بات سنبھال کر ايسی کہانی بنائ جس نے ہر طرح سے جزلان کو بچا ليا۔
جزلان نے الجھ کر اس کی جانب ديکھا۔

Mirh@_Ch
 

ميں نے يہ سب صرف انسانيت کے ناطے کيا ہے۔ کوئ لالچ آپکی ذات سے نہيں ہے نہ ہی کوئ غرض۔" اس نے اتنا کہتے ساتھ ہی نشوہ کو شرمندگی سے دوچار کيا۔
وہ جو اسے جوتے کی نوک پر رکھ رہی تھی تو کس خوش فہمی ميں تھی کہ جزلان اس کی مجبت ميں گوڈے گوڈے ڈوبا ہے۔ اس نے تو اس رشتے کی بنياد ہی دھوکے سے کی تھی تو پھر يہ کيسے اميد رکھ سکتی تھی کہ جزلان اپنے خالص جذبے اس کے نام کرے گا۔ وہ کيوں اور کس لئيۓ يہ اميد رکھ رہی تھی وہ خود نہيں جانتی تھی

Mirh@_Ch
 

پوليس کا شکريہ ادا کرکے اسے لئيۓ واپس ہوٹل آيا۔
نشوہ ابھی تک اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے شاک کی سی کيفيت ميں تھی۔
"نشوہ ليٹ جائيں اور يہ دوائيں لے ليں پہلے" کمرے ميں آتے ساتھ ہی اس نے نشوہ کو بيڈ پر لٹانے سے پہلے دوائيں اس کے سامنے سائيڈ ٹيبل پر رکھيں۔
"آپ نے مجھے کيوں بچايا" نشوہ يک ٹک اس کے چہرے کو ديکھتے ہوۓ بولی۔
وہ جو مڑ کر اپنا کوٹ اتار رہا تھا نشوہ کے سوال پر اس کے ہاتھ تھم گۓ۔ مڑ کر ايک نظر اس پر ڈالی پھر اپنا کام جاری رکھا۔
"کيونکہ آپ کو آپکی ماں نے مير ےحوالے کيا ہے، کيونکہ آپ ميرے گھر کی عزت ہيں کيونکہ اللہ نے ايک بہت اہم رشتے کے حوالے سے آپ کی حفاظت کا مجھے ذمہ دار ٹھہرايا ہے۔کيا ان سب وجوہات کے باوجود ميں آپ کی نہ بچاتا۔ اور سب سے بڑھ کر يہ کہ ميں ايک انسان ہوں۔ اپنے ذہن کو زيادہ مت تھکائيں۔

Mirh@_Ch
 

اور جزلان کا جوالہ ديا۔ نشوہ کے آنسو اور بھی بے اختيار ہوۓ۔ جس حوالے کو وہ ماننے سے انکاری تھی آج اسی نے اس کی عزت بچائ تھی۔ اس نے روتے ہوۓ انہيں بتايا کہ وہ ہی جزلان کی بیوی ہے۔ انہوں نے اسے گاڑی ميں بٹھا کر جزلان کو فون کيا اور اسے قريبی ہاسپٹل آنے کا کہا۔ نشوہ کے ماتھے اور ہاتھوں سے بہنے والے خون کے سبب وہ فوری اس کا ٹريٹمنٹ کروانا چاہتے تھے۔
نشوہ تو ابھی تک بے يقينی کی کيفيت ميں تھی۔
ہاسپٹل ميں داخل ہوتے اس کی نظر جوں ہی جزلان پر پڑی وہ خود پر اختيار کھوگئ اور اس کی طرف تيزی سے بڑھتے ہوۓ اس کے ساتھ لگتے اس کی مضبوطی سے تھامتے بس روتی چلی گئ۔
جزلان اس کی حرکت پر کتنے لمجے ہلنے کے قابل نہيں رہا۔
پھر آہستہ سے اس کی کمر سہلاتا اپنے بازو کے حصار ميں لئيۓ اسے ايمرجنسی ميں لے کر گيا اس کا ٹريٹمنٹ کروايا ۔

Mirh@_Ch
 

کس کے لئيۓ جس کی حيثيت کو وہ کچھ دير پہلے ماننے تک کو تيار نہين تھا۔
___________________
وہ چھ لڑکے تيزی سے نشوہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اب اس نے بھاگنا شروع کرديا تھا۔
پيچھے مڑ کر ديکھنے کے چکر ميں وہ يکدم ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گری۔ سردی کے سبب چوٹ بھی شديد آئ ہتھيلياں اور ماتھا بری طرح چھل گۓ۔
اس سے پہلے کہ وہ لڑکے نشوہ تک پہنچتے پوليس کی گاڑی کا سائرن بجنے لگ گيا وہ سب اتنے ہوش ميں تھے کہ پوليس کے سائرن کو پہچان سکتے فوراّّوہ سب وہاں سے دوسری سمت بھاگتے ہوۓ غائب ہوگۓ۔
نشوہ کو تو يقين نہيں آرہا تھا کہ موت اتنی قريب آکر چلی گئ تھی۔ وہ وہيں بيٹھی رونے لگ گئ يہاں تک کہ پوليس کی گاڑی اس کے نزديک آگئ۔
ايک پوليس والا اتر کر اس کے قريب آيا