مگر وہ اسے کسی مصيبت ميں ہر گز ديکھنا نہيں چاہتا تھا۔
اس نے فوراّّموبائل پر پوليس کو انفارم کيا کہ اس کی بيوی اکيلی کہيں نکلی ہے، راستوں سے ناواقف ہے اور يقيناّ واپسی کا راستہ بھول گئ ہے۔
وہاں کی پوليس فوراّّ حرکت ميں آگئ۔ اس نے جلدی سے نشوہ کا حليہ بتايا۔
شکر ہے کہ اس کے کوٹ کا رنگ اسے ياد تھا۔
"يا اللہ وہ کہيں سے مل جاۓ۔ ميں اس کا محافظ بن کر اسے يہاں لے کر آيا تھا اور اب خود بے بس ہوں۔
يا اللہ اسے کوئ نقصان نہ پہنچے" وہ جانتا تھا کہ يہاں رات کے وقت سڑکوں پر کيا کچھ ہوتا ہے اور اکيلی پريشان لڑکی کو يہاں کے نشئ لڑکے کيسے اپنی بھوک مٹانے کا سامان بناتے ہيں۔ جو بھی تھا وہ جيسی بھی تھی اس کی بيوی اس کی عزت تھی۔
وہ اپنی کيفيت پر حيران تھا اس نے بہت سالوں بعد اللہ کو پکارا تھا
صرف اس کی ظاہری شخصيت، اس کے پروفيشن اور اس کے اردگرد کی چکا چوند سے وہ اسے گھٹيا ترين انسان سمجھتی تھی۔
انسان بھی سمجھتی تھی يا نہيں۔ اس نے تلخی سے سوچا۔
ہوٹل کے کمرے ميں واپس آيا تو کمرہ خالی ملا وہ يہی سمجھا کہ واش روم ميں ہوگی۔ وہ آگے بڑھ کر جاگرز اتارتے جب انہيں واش روم کے آگے رکھنے کے لئيۓ گيا تو واش روم کا دروازہ کھلا ديکھ کر وہ حيرت کا شکار ہوا۔ وہاں سے بالکونی کی جانب آيا وہ بھی خالی۔ اب حقيقت ميں اس کی پريشانی عروج پر پہنچی۔
اس نے واپس جاگرز پہنے سيدھا نيچے بنے کاؤنٹر پر گيا انہوں نے بتايا کہ اس کی ساتھ آئ لڑکی کچھ دير پہلے ہی باہر گئ ہے۔
کمرے سے نکلتے اس نے اتنا تو ديکھ ليا تھا کہ اس کا موبائل بھی کمرے ميں ہے۔
اپنے کچھ دير پہلے کے کہے الفاظ ياد آۓ۔ "جہنم ميں جائيں" وہ اس وقت غصے ميں تھا
اب اپنی حماقت کا احساس شدت سے ہوا۔ وہ واقعی جذباتی تھی اور اسی وجہ سے بہت سے نقصانات اٹھاتی تھی۔ مگر آج جو نقصان وہ اٹھانے والی تھی وہ عزت کا تھا اور اس سے بڑا نقصان عورت کے لئيۓ اور کوئ ہو ہی نہيں سکتا جس کا مبادل کچھ اور کبھی نہيں ہوتا۔
اس نے خوفزدہ نظروں سے ان کی جانب ديکھ کر واپسی کے لئيۓ قدم بڑھاۓ تيز تيز چلتے اسے ايک اور دھچکا لگا جب اسے واپسی کا راستہ بھول گيآ۔
اس نے بے اختيار پريشان ہوتے اللہ کو ياد کيا۔ کہ وہ سب سے بڑی بجانے والی ذات ہے۔
______________________
کچھ دير غصے ميں کھولنے کے بعد اس نے واپسی کی راہ لی يہ سوچ کر کہ کل واپس پاکستان کی ٹکٹس کرواۓ گا۔ وہ مزيد اس لڑکی کے ساتھ نہيں رہ سکتا تھا جو ہر لمحہ اسے اپنی تلخ باتوں سے کچوکے لگاتی تھی۔
بڑبڑاتے ہوۓ وہ بھی اپنا گرم کوٹ پکڑتی سر کو اچھے سے اسکارف سے ڈھکتی شوز پہن کر کمرے سے اور پھر ہوٹل سے باہر سنسان سڑکوں پر چلنے لگی۔
آنسو قطار در قطار اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ ہر چيز دماغ سے محو ہو گئ تھی سواۓ اس کے کہ اب دوبارہ اس بندے کے پاس نہيں جانا۔
آنسو بہاتی شوں شوں کرتی وہ آگے سے آگے بڑھتی جا رہی تھی رات کے بارہ بج چکے تھے اور سڑکوں پر سواۓ کسی مجبور يا آورہ گردوں اور شراب کے نشے ميں دھت لڑکے اور لڑکيوں کے اور کوئ نہ تھا۔
کچھ دور چلنے کے بعد نشے ميں جھولتے کچھ انگريز لڑکوں کا ايک ٹولا اسے اپنی جانب آتا دکھائ ديا۔ اس نے يکدم اپنے آگے کو اٹھتے قدموں کو روک کر يہ تصديق کی کہ آيا يہ اس کا وہم ہے يا واقعی وہ کسی مصيبت ميں پھنسنے لگی ہے۔
غصے ميں نکلتے وقت نہ اس نے موبائل ليا تھا اور نہ ہی پيسے اس کے پاس تھے۔
"کيا چاہتی ہين آپ کی مرضی سے اٹھوں بيٹھوں سانس لوں۔ کس خوشی ميں آپ کون سی ميری اتنی چہيتی بيوی ہيں۔ اپنے دماغ سے خوش فہميوں کو نکال ديں تو بہتر ہوگا۔" اس نے سختی سے کہتے نشوہ کی اچھی خاصی تذليل کی نشوہ کو ايسا ہی محسوس ہوا۔
"مجھے الرجی ہے اس کے دھوئيں سے تو کيا کروں کہاں جاؤں" وہ غصے سے چيخی۔
"جہنم ميں جائيں ميری طرف سے گلے کا طوق بن کر رہ گئيں ہيں" وہ غصے سے کہتا اپنا کوٹ پکڑتا شرربار نگاہوں سے اسے ديکھتا بيڈ کے سائيڈ پر رکھے جوگرز پہنتا کمرے سے باہر نکلتا چلا گيا۔
نشوہ اتنی بے عزتی سہہ نہيں پائ۔
"کس خوشی ميں ميں اس بندے کی اتنی باتيں سنوں۔ ٹھيک ہے پھر جہنم ميں ہی جا کر دکھاؤں گی۔ کب سے مجھے عذاب کہے جا رہا ہے ميں تو جيسے مر رہی تھی اس سے شادی کے لئيۓ۔"
اتنی ہی سچی مسلمان ہيں تو يہ تک نہيں پتہ آپکو کہ تصديق کے بغير کسی کے بارے ميں غلط بات سوچنا اور کہنا بہتان ہے اور گناہ کے کس درجے پر يہ آتا ہے مجھ سے زيادہ آپ بہتر جانتی ہوں گی۔ کيونکہ آپ ہی تو يہاں مسلمان ہيں باقی تو سب کافر ہيں۔" جزلان تو جيسے آج پھٹ پڑا تھا۔
نشوہ تو اس کے تيور ديکھ کر ششدر ہی رہ گئ۔ کب سوچا تھا کہ وہ ايسا آتش فشاں ہوگا۔
اس کی بازو چھوڑ کر وہ واپس بيڈ پر جا بيٹھا۔
اور اپنے پسنديدہ مشغلے ميں مصروف ہوگيا۔
نشوہ کو سگار اور سگريٹ کے دھوئيں سے الرجی تھی۔ دو سگاروں کے سلگنے تک تو وہ خاموش بيٹھی رہی۔ جب کن اکھيوں سے جزلان کو تيسرا سگار سلگاتے ديکھا تو اسے اپنی خاموشی توڑنی پڑی۔
"باقی کے سگار کيا آپ صبح ميں پی سکتے ہيں" اس کا لہجہ نہ چاہتے ہوۓ بھی طنزيہ ہوگيا۔
جزلان نے تيکھی نظروں سے اسے ديکھا جو آگ بھڑکا کر اب سامنے رکھے صوفے پر ٹانگيں اوپر کو رکھے باہر ديکھ رہی تھی۔
وہ غصے سے اس کی جانب بڑھا نشوہ کو اپنے الفاظ کی سنگيںی کا اندازہ تب ہوا جب جزلان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کيا۔
"کتنی پارسا ہيں آخر آپ جو ہر وقت مجھے عياش اور اوباش ہونے کے طعنے ديتی ہيں۔ کتنی لڑکيوں سے کے ساتھ آج تک پکڑہ ہے آپ نے مجھے۔ مسئلہ کيا ہے آخر آپکے ساتھ۔ نہ خود چين سے رہتی ہيں نہ مجھے رہنے دے رہی ہيں۔ کس چکر ميں آپ نے اس شادی کے لئيۓ ہامی بھری تھی۔ آج بتا ہی ديں مجھے۔ کس نے آپ کو مجبور کيا تھا۔ عذاب بن گئيں ہيں آپ ميرے لئيۓ۔ ميں نے آپکو يہاں باندھا ہوا ہے کيا۔ ميری طرف سے جہاں مرضی جا کر آپ بھی اپنے شوق پورے کريں۔ ليکن آئندہ عياش ہونے کا طعنہ ديا تو مجھ سے برا کوئ نہيں ہوگا۔
اس نے غصے سے دانت کچکچاتے جزلان کے بے پرواہ انداز ديکھے جو جوتے اتار کر سائيڈ پر رکھ کر اب بيڈ پر بيٹھا موبائل پر کچھ ديکھنے ميں مصروف تھا۔
بيڈ سے ٹيک لگاۓ اس نے سرسری نگاہ اٹھا کر اپنے سامنے پنک ٹراؤزر اور اسی کے ہمرنگ ٹی شرٹ ميں ملبوس اور بليک کارديگن پہنے گلے ميں پنک اور ريڈ اسکارف لئيے غصے ميں کھڑی جزلان کو گھور رہی تھی۔
"نہيں يہ تلخ حقيقت ميں نہيں بھلا سکتا" اس نے سپاٹ لہجے ميں جواب ديا۔
نشوہ کا دل کيا اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر دور پھينک دے۔
"اس سب کے لئيے آپ لاۓ تھے مجھے۔ خود تو باہر گھومتے پھرتے ہيں ميں ايک ہفتے سے يہاں سڑ رہی ہوں۔ پتہ نہيں کہاں سے رنگ رلياں منا کر آتے ہيں" جزلان کا اسے کسی خاطر ميں نہ لانے والا انداز نشوہ کو بھڑکا گيا۔ پھر جو دل ميں آيا بولتی چلی گئ۔
گيا ہوگا کہيں کلبوں ميں عياش انسان۔" اس نے نخوت سے سوچا۔
اور پھر يہ روزانہ ہونے لگ گيا۔ جزلان ہوٹل آتا نيند پوری کرتا اور بن ٹھن کر پھرنے نکل جاتا۔
کبھی کبھار واپسی پر ہاتھ مين تھيلے پکڑے ہوتے۔ نشوہ کو مخاطب تک نہين کرتا۔ بس وہاں کی انتظاميہ کو کہہ ديتا کہ اس ٹائم پر کھانا اور اس ٹائم پر چاۓ پہنچانی ہے۔
مگر نشوہ ان حرکتوں سے تنگ آگئ۔ "کچھ تو انسان ميں رواداری ہوتی ہے۔ بندہ جھوٹے منہ ہی پوچھ لے تم بھی چلی چلو مگر نہيں۔ پتہ نہيں باہر جا کر کيا کيا کارنامے کرتا ہے" وہ کمرے کی کھڑکی سے باہر پڑنے والی برفباری کو محويت سے ديکھتی اندر ہی اندر کھول رہی تھی۔
اس رات جزلان کچھ جلدی آگيا تو نشوہ نے بھی اس کی کلاس لينے کی ٹھانی۔
"آپ شايد بھول گۓ ہيں کہ ميں بھی آپکے ساتھ آئ ہوں"
وہ جو آنکھيں موندے آنکھوں کی جھری سے اس کی سب حرکتيں ملاحظہ کر رہا تھا اپنے اوپر ديے جانی والی رضائ سے اتنا سا اطمينان تو ہوا کہ اس کے ساتھ ليٹی لڑکی بے حس نہيں ہے۔ مگر وہ کيا حالات ہيں جنہوں نے اسے اتنا تلخ بنا ديا يہ جاننا ضروری تھا۔
___________________
رات ميں کہيں جاکر نشوہ کی آنکھ کھلی وہ بھی بھوک کے احساس سے۔
اس نے فوراّّ اٹھ کر اپنے ساتھ خالی جگہ کو ديکھا۔
اٹھ کر بيٹھتی اپنے بال سميٹے جو سونے کے باعث بکھرے ہوۓ تھے۔ آنکھيں کچھ اردگرد کے منظر سے مانوس ہوئيں تو ٹيبل پر پڑی کھانے کی ٹرے نظر آئ اور ساتھ مين ايک چٹ بھی تھی جو يقيناّّ جزلان رکھ کر گيا تھا۔
"ميں باہر جا رہا ہوں آپ کھانا کھا لينا کب واپسی ہو کچھ کہہ نہيں سکتا" بس اتنی سی تحرير۔
نشوہ نے غصے سے وہ چٹ موڑ تروڑ کر پھينک دی۔
کمرے ميں داخل ہو کر جزلان نے سامان پھينکا۔ جوتے اتارے اور بيڈ پر دراز ہوگيا۔
پہلی رات کے بعد سے جزلان نے يہ موقع ہی آنے نہيں ديا تھا کہ وہ دونوں ايک ہی کمرے ميں رہتے۔ پہلی رات بھی بظاہر تو وہ ايک کمرے ميں تھے مگر جزلان ڈريسنگ روم ميں چلا گيا تھا۔
مگر آج اتنے گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ خود اتنا تھکی ہوئ تھی ليکن مسئلہ يہ تھا کہ بيڈ پر تو جزلان پھيل کر ليٹا تھا تو وہ اب کہاں ليٹتی۔
ٹھںڈ اتنی تھی کہ اس ميں نيچے ليٹنے کی ہمت نہيں تھی وہ آگے بڑھی اچھے سے جائزہ ليا کہ جزلان کی نيند گہری ہے کہ نہيں۔
وہ کروٹ لئيے چہرے پر بازو رکھے ليٹا تھا۔
نشوہ نے ايک تکيہ اور کچھ کشنز اٹھا کر حفظ ماتقدم کے طور پر درميان مين لگا کر ديوار سی بنائ۔ کچھ تسلی ہوئ تو دوسری جانب ليٹ کر پاؤں کے قريب رکھی رضائ اپنے اور جزلان کے اوپر لی۔
جبکہ اس کے جواب پر نہ صرف ائير ہوسٹس بلکہ نشوہ کی بھی آنکھيں کھلی کی کھلی رہ گئيں۔
پھر ائير ہوسٹس نے واقعی نشوہ کو کہيں اور بٹھا ديا وہ يہ بھی نہيں کہہ سکی کے ميں اپنے شوہر کے پاس ہوں۔
جس اجنبيت کا مظاہرہ کرکے اس نے ائير ہوسٹس کو بلا کر جزلان کی عزت افزائ کرنی چاہی تھی اس کو يہ بتاتی کہ وہ اس کا شوہر ہے تو وہ يقيناّ نشوہ کی ذہنی حالت پر شبہ کرتی جس نے خود جزلان کو اسموکنگ سے منع کرنے کی بجاۓ ائير ہوسٹس کا سہارا ليا تھا۔
باقی کا سفر جيسے تيسے کٹ ہی گيا اور وہ دونوں پيرس کے ائير پورٹ پر پہنچ گۓ۔ جہاں پہلے سے ہی ہوٹل کی گاڑی موجود تھی جہاں سبجان شاہ نے ان کی بکنگ کروائ تھی۔
کمرے کی چابی لے کر جزلان لفٹ کی جانب بڑھا يہ ديکھے بنا کے پيچھے وہ آ رہی ہے کہ نہہيں۔ لاتعلقی کا عظيم مظاہرہ کر رہاتھا۔
نشوہ نے بھی کوئ بات کرنا ضروری نہ سمجھا۔
اس نے غصيلے لہجے ميں ائيڑ ہوسٹس کو کہتے ساتھ ہی اس کی توجہ جزلان کی جانب دلائ جو ان دونوں سے بے خبر آنکھيں موندے سگار کے کش لينے ميں مصروف تھا۔
"ايکسکيوزمی سر" ائير ہوسٹس نے جزلان کے قريب ہوتے ہلکا سا اس کا کندھا بجايا۔
جزلان نے آنکھيں کھول کر سواليہ نظروں سے اس ائير ہوسٹس کو ديکھا اور کانوں سے ہينڈ فری اتاری۔
"سر يہ ميم آپکے سگار پينے سے تھوڑا اريٹيٹ ہو رہی ہيں اگر آپ مائنڈ نہ کريں تو۔۔" اس نے متانت سے اس طرح بات کی کہ نشوہ کی بات بھی رہ جاۓ اور جزلان کو بھی برا نہ لگے۔
"ان محترمہ کو آپ کہيں اور ايڈجيسٹ کر ديں اس کے بعد ميں جب ڈرنک کروں گا تو ان کی پارسائ اس سے بھی زيادہ متاثر ہوگی۔" اتنا کہہ کر اس نے واپس ہينڈ فری لگائ اور ايک مرتبہ پھر سے آنکھيں موند ليں۔
سرسری نگاہ اس پر ڈال کر اس نے سر جھٹکا پھر اپنے کام ميں مصروف ہوگيا۔
جيسے ہی جہاز کے جھٹکے لگنے بند ہوۓ نشوہ نے آنکھيں کھول کر سکھ کا سانس ليا۔
مگر نظر تيسرا سگار جلاتے جزلان پر پڑی تو اس کے ماتھے پر ناگواری سے بل پڑ گۓ۔
"آپ اپنا يہ شوق تنہائ ميں پورا کيا کريں" نشوہ نے ناگواری سے جزلان کو کہا۔ اپنی بات پر کوئ ردعمل نہ ہوتے ديکھ کر اس نے جزلان کی سمت چہرہ موڑ کر ديکھا تو نظر اسکے کانوں ميں موجود ہينڈ فری پر پڑی۔
اس نے بيل دبا کر ائيڑ ہوسٹس کو بلايا۔
"جی ميم" کچھ دير بعد مسکراتے چہرے کے ساتھ ائيڑ ہوسٹس اس کی جانب آئ۔
"آپ پلين ميں لوگوں کو سگريٹ اور سگار نوشی سے منع کيوں نہيں کرتے۔ اب ان صاحب کی وجہ سے مجھ سے سانس لينا دشوار ہوگيا ہے"
اگلے دن صبح وہ دونوں گاؤں سے لاہور آۓ جہاں لاہور ائير پورٹ سے وہ دونوں پيرس کے لئيۓ روانہ ہوۓ۔ نشوہ کو جہاز کے سفر سے ہميشہ خوف آتا تھا۔ پہلے تو ہميشہ مزنی اس کے ہمراہ ہوتی تھی جس کے ساتھ لگ کر وہ اپنا خوف شئير کرتی تھی مگر اب اس کے ساتھ جو شخص تھا نہ تو وہ اسے تھام سکتی تھی نہ اپنے خوف کے بارے ميں کچھ بتا سکتی تھی۔
بيلٹ باندھ کر جزلان نے اپنے موبائل سے ہينڈ فری لگائ اور مکمل طور پر نشوہ سے بے خبر ہو کر سگار سلگا کر چہرہ مکمل طور پر کھڑکی کی جانب موڑ کر بيٹھ گيا۔
نشوہ نے جہاز کے ٹيک آف کرتے ہی سختی سے سيٹ کے ہتھے کو تھام کر آنکھيں زور سے ميچ ليں اور تيزی سے آيات کا ورد کرنے لگی۔
جزلان نے سگار کی راکھ پھينکنے کے لئيے جونہی رخ موڑ کر اپنا ايش ٹرے ساتھ لاۓ ليپ ٹاپ کے بيگ سے نکالنا چاہا نظر سيدھی خوف سے آنکھيں بند کئيۓ نشوہ پر پڑی۔
مجھے آپ ميں کوئ ايسا انٹرسٹ نہيں۔ لہذا اپنے دماغ سے يہ بات نکال ديں۔ ميں آپ جيسی مغرور اور خودپسند لڑکيوں کو اس قابل بھی نہيں سمجھتا کہ انہيں کچھ لمحے اپنے پاس بٹھاؤں۔ آپ کے ساتھ يہ تعلق صرف مجبوری ہے اور کچھ نہيں۔" اس نے تمسخرانہ لہجے ميں نشوہ کا دماغ اچھی طرح ٹھکانے لگا ديا تھا۔ اپنی بات کہہ کر وہ زيادہ دير وہاں رکا نہيں۔ اور اس کے قريب سے گزرتا اپنے مخصوص شاہانہ انداز سے چلتے ہوۓ کمرے سے باہر چلا گيا
"آپ نے انہيں منع کيوں نہيں کيا" وہ اندر آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔
جزلان جو کہ کاؤچ پر بيٹھا اپنے موبائل ميں مصروف تھا تيکھی نظروں سے نشوہ کے لال بھبھوکا چہرے کو ديکھا۔
"ويسے تو بہت لمبی زبان ہے آپکی اس کا استعمال کرکے آپ نے اپنے چہيتے دادا کو منع کر دينا تھا۔" وہ آگے ہی سڑا بيٹھا تھا نشوہ کی بات نے اور بھی اسے جلا کر راکھ کيا۔
"سنا ہے چہيتے آپ ہيں ان کے" اس نے جواب دينے ميں دير نہيں کی۔
"آپ کو خوف کس بات کا ہے۔۔۔۔اتنے اچھے تعلقات ہيں ہمارے کہ ہم ہنی مون منائيں گے۔ اور کس خوش فہمی ميں ہيں آپ اتنی کوئ حسينہ عالم نہيں آپ جس کے لئۓ ميں پاگل ہو جاؤں۔ شکل ديکھی ہے اپنی کوئ ايک نقش بھی تعريف کے قابل نہيں" اس نے جس انداز ميں بات شروع کرتے آخر ميں نشوہ کے پرخچے اڑاۓ وہ کچھ دير کے لئيۓ اسکی بولتی بند کرواگۓ۔
جو جبڑے بھينچے ايسے بيٹھا تھا جيسے زبردستی وہاں اسے بيٹھنے پر مجبور کيا گيا ہو۔
نشوہ کا دل تو کيا کہے "آپ جيسا ہی سفاک" مگر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر بولی
"بہت اچھا" سبحان شاہ کی گردن کچھ اور اکڑ گئ۔
"گريٹ! ميں نے تمہاری اور جزلان کی کل کی پيرس کی ٹکٹس کروا دی تھيں ميری طرف سے تم دونوں کے لئيۓ شادی کا گفٹ ہنی مون کی صورت۔۔۔ خوب انجواۓ کرو" انہوں نے مسکراتے ہوۓ جو خبر نشوہ کو دی وہ اس کے لئيۓ تو کسی موت کی خبر سے بھی بڑھ کر تھی۔ جبکہ باقی سب نے خوب خوشی کا اظہار کيا۔
اس نے بے يقين نظروں سے جزلان کی جانب ديکھا اس اميد پر کہ وہ انکار کردے مگر اس کے چہرے کے سنجيدہ تاثرات سے يہی لگ رہا تھا کہ وہ اس خبر سے واقف ہے اور اسی لئۓ ايسی سنجيدہ صورت بنا کر بيٹھا تھا۔
کچھ دير بعد وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چل پڑا۔
وہ بھی اس کے پيچھے آئ۔
جب۔۔۔" زروہ شاہ نے جس انداز ميں اس کے باپ کے بارے ميں بات کی اس کا دل کيا وہ ان کا منہ توڑ دے۔
ضبط سے اس نے مٹھياں بھينچ ليں۔
ان کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ايک گاڑی تيزی سے پگڈنڈی سے گزری۔ وہ سب وہاں سے تھوڑے سے فاصلے پر باغوں ميں چل رہی تھيں۔
"ميرا جزلان" انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر خوشی سے چہچہاتے اس گاڑی کی جانب ديکھا۔
"اللہ کرے مر جاۓ" نشوہ نے دل ميں اسے بد دعا دی۔ وہ اس وفت شديد نفرت کے زير اثر تھی۔" يعنی آج بھی ان لوگوں کے دلوں ميں ميرے بابا کے لئيۓ اتنی ہی نفرت ہے" اس نے دل ميں سوچا۔
جس وقت وہ لوگ حويلی واپس آئيں گھر کے مرد بھی ہال نما کمرے ميں موجود تھے۔ جہاں پر ان سب کا زيادہ تر وقت گزرتا تھا۔
"آؤ بھئ بيٹا کيسا لگا اپنا گاؤں" انہيں اندر آتا ديکھ کر سبحان شاہ نے لہجے ميں مجبت سمو کر نشوہ سے پوچھا۔
اس نے ايک نظر جزلان کو ديکھا
کتنے دنوں تک" وہ بھی جيسے اسے ہر حال ميں اسی جگہ بلانے پر تلے بيٹھے تھے جہاں وہ دوبارہ قدم نہيں رکھنا چاہتا تھا۔
"کل شام" اس نے آخڑ فيصلہ کرکے کہتے اپنی جان چھڑائ
"ٹھيک ہے باقی بات کل شام کو ہوگی" انہوں نے ہنکارا بھر کر کہتے فون بند کرديا۔
وہ اس لڑکی کے سامنے نہيں جانا چاہتا تھا مگر کتنی دير۔ اس نے سوچا۔
__________________
"يہ سب زمينيں کس کی ہيں" آج صبح ہی وہ سب اسے گاؤں دکھانے لائيں تھيں۔
"ہماری" زروہ شاہ جو کہ اس کی ساس بھی تھيں نخوت سے بوليں۔
"اور ميرے بابا کی زميںيں کہاں ہيں" اس نے حسرت سے پوچھا۔ باقی سب آگے جاچکے تھے جبکہ وہ اور زروہ شاہ پيچھے رہ گئيں تھيں۔
"تمہارے باپ کی اب کوئ زمين نہيں ہے، جتنا وہ نافرمان تھا بابا حضور نے اسے تب ہی عاق کر ديا تھا ۔۔۔"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain