Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

نشوہ نے جو بات اسے کہی تھی اب وہ اس کی شکل ديکھنے کا روادار نہيں تھا۔
"آپ شادی کا ڈرامہ چاہتے تھے وہ ہوگئ اب اور کيا کروں آپکی پوتی کے گھٹنے سے لگ کر بيٹھا رہوں" اس نے اکتاہٹ بھرے لہجے ميں کہا۔ وہ ابھی تک يہ نہيں جانتا تھا کہ اچانک سبحان شاہ کو نشوہ کيسے ملی اور انہوں نے اس نکاح کا فيصلہ اتنی عجلت ميں کيوں کيا۔ نشوہ کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات تھے ہی نہيں کہ وہ يہ سب اس سے پوچھتا۔
"تم جس طرح يہ شادی کرکے بھاگے ہو لگتا ہے کوئ جرم سرزد ہوا ہے تم سے۔ کيا اتنی بری ہے ميری پوتی، صبورہ کيا سوچتی ہوگی کہ زبردستی تمہيں اس شادی کے لئيۓ آمادہ کيا ہے" انہوں نے اب جذباتی انداز اختيار کرکے اسے ٹريپ کيا۔
" اب آپ کو کيا بتاؤں آپکی پوتی کس قدر زہريلی ہے" اس نے دل ميں سوچا۔
" آجاؤں گا" اس نے انہيں ٹالنا چاہا۔

Mirh@_Ch
 

سبحان شاہ يہی سمجھے کہ نشوہ کہ دماغ سے اب جائيداد کا بھوت اتر چکا ہے مگر وہ يہ نہيں جانتے تھے کہ يہ شادی اس کھيل کا ايک حصہ ہے جو اب نشوہ نے کھيلنی تھی۔ وہ بھی سب کے ساتھ اچھا بن کر ايسے رہ رہی تھی جيسے اب اسے کسی سے کوئ گلہ نہيں۔ گلہ اسے واقعی کسی سے نہيں تھا سواۓ اپنے دادا، بلال شاہ اور ان کی بيوی کے۔
باقی سب اس سازش سے ناواقف تھے جس نے صبورہ بيگم کو مجبور کيا تھا کہ وہ دو سال کی نشوہ کو اس سياہ کالی رات ميں اس حويلی سے نکلنے پر مجبور کيا تھا۔
________________-
"ہيلو" مصروف سے انداز ميں اس نے سبحان شاہ کا فون اٹينڈ کيا۔
"کيا بات ہے بھئ برخوردار شادی کی اتنی خوشی چڑھی ہے کہ اب ہميں شکل ہی نہيں دکھانی" اس کی شادی کو بيس دن گزر چکے تھے نہ اس نے وہاں کے کسی بندے کو فون کيا تھا نہ ہی وہاں جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

Mirh@_Ch
 

جزلان کے مسکراتے لب سنجيدگی کا لبادہ اوڑھ گۓ تھے۔ لب سختی سے بھينچ کر اس نے نشوہ کو خود سے الگ کيا اور ہاتھ اٹھا کر فوٹو سيشن کا سلسلہ ختم کروايا۔
اس رات پھر فنکشن ختم ہونے کے بعد وہ وہاں رکا نہيں۔ ضروری کام کا بہانہ بنا کر شہر چل پڑا۔
نشوہ نے جانے سے انکار يہ کہہ کر کيا کہ اسے سب کے ساتھ رہنا ہے۔ سبحان شاہ کے دونوں بيٹے اور ان کے بچے اسی حويلی ميں رہتے تھے جبکہ سيما اور دينا دونوں بيٹياں پاس کے گاؤں ميں رہتی تھيں۔ اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ سب کزنز بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ کچھ شہر پڑھ رہے تھے اور کچھ گاؤں ميں ہی تھے۔ سب کو نشوہ کا فيصلہ پسند آيا اور سب نے اسے سراہا تھا۔سواۓ زروہ بيگم کے جو نشوہ اور صبورہ کو صرف سبحان شاہ کی وجہ سے برداشت کر رہيں تھيں۔

Mirh@_Ch
 

ہاہاہا جيلس ہو رہيی ہيں اب آپ۔۔۔افسوس بيويوں والے جراثيم پيدا ہوگۓ۔ ابھی تو ميں نے آپکو کوئ مقام ديا تک نہيں" جزلان کے سرد لہجے نے اسے اس کی حيٹيت جتا دی تھی۔
"ميں نے تو سنا تھا بڑے ايٹی ٹيوڈ والے ہيں۔ ايک لڑکی مسلسل آپکی حيٹيت کی نفی کر رہی ہے پھر بھی اسے بانہوں ميں بھرے محبت کی آس لگاۓ بيٹھے ہيںبس اتنی ہی ہمت تھی آپ ميں کہ آپ کا غرور ايک حسين لڑکی کو ديکھ کر پاش پاش ہوگئ اور آپ اپنی حيثيت سے اتنی پستی ميں آنے کو تيار ہو گۓ۔" اب جو تير نشوہ نے چلايا تھا وہ سيدھا نشانے پر بيٹھا تھا۔
"آپ جيسی ہزاروں دن رات ميرے آگے پيچھے پھرتی ہيں۔" اس نے دانت پيستے ہوۓ کہا
"مگر افسوس ان ميں کوئ بھی مجھ جيسی خالص اور ان چھوئ نہيں ہوتی۔ آئندہ مجھے ان کے ساتھ کمپير مت کيجئيے گا۔" اس نے تيکھے چتون سے جزلان کو ديکھتے ہوۓ کہا

Mirh@_Ch
 

اس کے بعد جس جس انداز سے اس نے تصويريں اتراوئيں نشوہ کی برداشت سے باہر تھا۔ وہ نشوہ کا ہاتھ، کندھا اور کمر اس جارحانہ انداز سے پکڑتا جيسے اپنی انگلياں اس کے جسم کے آر پار کردے گا۔
"بس اتنی سی ہمت تھی۔ ابھی تو ميں نے اپنی محبتوں کے خزانے آپ پر لٹانے کا آغاز کيا ہے" اسکی جانب ديکھتے اسے کمر سے تھامے اس نے طنزيہ انداز ميں جس بات کا حوالہ ديا نشوہ کو پھر سے اپنی کہی گئ بات کا سوچ کر ڈوب مرنے کا دل کيا۔
"اپنی محبتيں انہيں پر لٹائيں جو آپ جيسوں کے لئيۓ مری جاتی ہيں" ايک مرتبہ پھر وہ سوچے سمجھے بنا بول گئ۔
بظاہر ديکھنے ميں ايسا ہی لگ رہا تھا کہ تصويريں کھينچواتے وہ دونوں محبت بھری گفتگو کر رہے ہيں۔
مگر ان کے مابين کس قسم کے طنز و تشنہ کا تبادلہ ہو رہا تھا يہ صرف وہی جانتے تھے۔

Mirh@_Ch
 

انہوں نے بيٹی کے تيور ديکھ کر دبے لفظوں مين اسے سمجھانا چاہا۔ ماں تھيں اس کی رگ رگ سے واقف تھيں۔
"اس پر ہم پھر بات کريں گے" اس نے اردگرد ديکھ کر بات کو ٹالا۔ وہ جان گئيں کے اس کے ارادے اس رشتے کو لے کر ٹھيک نہيں۔ وہ اطمينان جو کچھ دير پہلے ان کے چہرے پر تھا اب مفقود تھا۔
_________________
تمام ارينجمنٹ حويلی سے تھوڑا فاصلے پر بنے ان کے فارم ہاؤس ميں کيا گيا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد اس کے لان ميں ان کو فوٹوسيشن کے لئيۓ لے جايا گيا۔
نشوہ جانے پر آمادہ نہين تھی۔ مگر جزلان نے صبغہ بھابھی کو کہہ کر اسے زبردستی راضی کيا تھا۔
فوٹوسيشن شروع ہوتے ہی ابھی فوٹو گرافر نے دو چار تصويريں کھينچی تھيں کہ جزلان نے اسے روک ديا۔ وہ خود ڈائريکٹر تھا اور جانتا تھا کہ کپل شوٹس کے کيا کيا پوسز ہوتے ہيں۔

Mirh@_Ch
 

صبورہ کو اس نے اپنے ايک ايک مہمان سے لے جا کر ملايا تھا۔
"کيسی ہے ميری بيٹی" انہيں صبح سے اب اس کے پاس بيٹھنے کا موقع ملا تھا۔
"ياد آگئ ہے آپکو ميری اپنے چہيتے بھتيجے سے فرصت مل گئ ہے آپکو۔" اس نے ماں کو اپنے ساتھ اسٹيج پر بيٹھتے ديکھ کر شکوہ کيا۔
"بے وقوف اب وہ صرف ميرا بھتيجا نہيں۔ تمہارے حوالے سے اس سے اب زيادہ اہم رشتہ بنتا ہے۔" انہوں نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں ميں ليتے محبت سے گھرکا۔
"ہمم رشتہ" اس نے سر جھٹکا۔
"نشوہ اپنی فضول سوچوں پر عمل کرکے اپنی زندگی کو جہنم مت بنانا۔ جزلان بہت اچھا ہے اور ہميں اس دولت اور جائيداد کا کيا کرنا ہے جو اپنوں کو دشمن بنا دے۔ نہ تمہارے باپ نے اسے کبھی اہميت دی نہ مين ديتی ہوں۔ پھر تم ان چيزوں کے پيچھے کيوں لگی ہو۔ اتنی اچھی زندگی ہے تمہاری۔ دولت کی ريل پيل ہے اور کيا چاہيئۓ تمہيں"

Mirh@_Ch
 

کيوں نشوہ" اسکے سامنے آتے بيڈ کی سائيڈ ٹيبل سے اپنا والٹ اٹھاتے ہوۓ اس نے جن کاٹ دار نظروں سے نشوہ کو ديکھا نشوہ نے فوراّّ نظروں کا زاويہ بدلا۔
نشوہ کو اپنا بلنٹ انداز آج خود ہی کھلا۔ کاش وہ خاموش ہی رہتی۔
کچھ دير بعد بيوٹيشن آگئ جس نے رات کے وليمے کے فنکشن کے لئيۓ نشوہ کو تيار کرنا تھا۔
اسٹيل گرے اور سلور کام والی ميکسی پہنے ميں ہلکے سے ميک اپ ميں بھی وہ ہر کسی کو مبہوت کر رہی تھی۔
جزلان بھی ڈارک گرے سوٹ پر وائٹ شرٹ کے اوپر سٹيل گرے ٹائ لگاۓ ہاتھ ميں اپنا مخصوص سگار تھامے اپنے مغرور تيکھے نقوش سميت وہ ناقابل تسخير لگ رہا تھا۔
کل کی طرح وہ نشوہ کی خوبصورتی کو آج کسی خاطر ميں نہيں لا رہا تھا۔
بہت کم وہ اس کے ساتھ اسٹيج پر بيٹھا تھا۔ ہاں مگر صبورہ بيگم کے احترام ميں اس نے کوئ کمی نہيں آنے دی تھی۔

Mirh@_Ch
 

محبتوں کے خزانے" کچھ دير سوچنے کے بعد اس نے سر جھکا کر جواب ديا جس کو سب نے اس کی شرم و حيا پر محمول کيا۔
جبکہ اس کے لہجے کی کاٹ کمرے ميں داخل ہوتا جزلان ہی سمجھ پايا۔ نشوہ کی چونکہ دروازے کی جانب پيٹھ تھی اسی لئيے اسے جزلان کے اندر آنے کا پتہ نہيں چل سکا۔
"ہاۓ جزلان بھائ آپ اتنے رومينٹک ہو سکتے ہيں ہميں اندازہ نہيں تھا" اس کی ايک اور کزن نے جزلان کی جانب ديکھ کر شرارت سے کہا۔
جزلان کی آمد کا جان کر نشوہ کا دل کيااسے کوئ منتر آتا ہوتا اور وہ خود کو اس منظر سے غائب کر ليتی۔
" مجھے تو واقعی معلوم نہيں تھا کہ ميں اتنا رومينٹک ہوں مگر ان کی بے تحاشا محبت کے آگے ميری سرد مزاجی زيادہ دير قائم نہيں رہ سکی۔ جب ان جيسی محبت کرنے والی بيوی ہو تو بندہ خودبخود رومينٹک ہو جاتا ہے ۔۔

Mirh@_Ch
 

اگلے دن صبح سے لوگوں کا تانتہ بندھ گيا سب جزلان شاہ کی بيوی کو ديکھنا چاہتے تھے۔ گاؤں بھر کی عورتيں نشوہ کو ديکھنے آ رہيں تھيں۔ جو لائٹ پنگ اور فون کلر کی شلوار قميض ميں ہلکے ميک اپ ميں بے حد خوبصورت مگر بيزار بيٹھی تھی۔ اس کی پلينگ ميں يہ سب نہيں تھا مگر اسے مجبوراّ يہ سب برداشت کرنا پڑھ رہا تھا۔
دوپہر کے وقت اس کی تھکی ہوئ شکل ديکھ کر اسے کمرے ميں جانے کی اجازت مل گئ۔ اس کی پھو پھو کی بيٹياں اسے اندر جزلان کے کمرے ميں لے گئيں جہاں اس نے رات گزاری تھی۔
وہ سب ريليکس ہو کر اس کے سامنے بيڈ پر بيٹھی اس سے باتيں کر رہيں تھيں۔ نشوہ ان سے نارمل انداز ميں بات کر رہی تھی۔
"بھابھی جزلان بھائ نے آپکو رونمائ ميں کيا گفٹ ديا۔" سميا پھوپھو کی بيٹی بسمہ نے اشتياق سے نشوہ سے سوال کيا۔
"

Mirh@_Ch
 

شکر کريں کہ ميں چچی کی محبت کے آگے مجبور ہوں نہيں تو اس بات کا بہت اچھے سے جواب آپ کو دے سکتا تھا۔" جن نظروں سے اس نے نشوہ کو سر سے پاؤں تک ديکھا تھا وہ حقيقت ميں کانپ گئ تھی۔
جزلان نے اس کا بازو چھوڑا اور خود ڈريسنگ روم ميں چلا گيا۔
جبکہ نشوہ دل تھام کر بيٹھ گئ۔ وہ يہ بھول گئ تھی کہ کچھ لمحوں پہلے وہ اس کی ذات کا مالک بن چکا تھا اور اب کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔ وہ کيسے اسے روک سکتی تھی۔ اب اس نے جزلان کے سامنے اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کا سوچا تھا۔
واپس اسی جگہ پر ليٹتے ہوۓ وہ جزلان کے بارے مين ہی سوچتے ہوۓ سونے کی کوشش کرنے لگی

Mirh@_Ch
 

اس نے ديوار کے سامنے رکھے کاؤچ کی جانب اشارہ کرتے اسکی نظروں کو نظر انداز کيا۔
"يہ سب مجھے يہاں لانے سے پہلے سوچنا چاہئيے تھا۔ ميں نے ہاتھ جوڑ کر آپکو اس شادی کے لئيۓ مجبور نہيں کيا تھا۔ تو پھر ميں اپنا آرام کس خوشی ميں آپ کے لئيۓ برباد کروں آپکو ميں برداشت نہيں تو يہ مسئلہ اپنے دادا حضور کو بتائيں" کہتے ساتھ ہی بلينکٹ اسکے ہاتھ سے کھينچتے دوبارہ اپنے اوپر لے کروٹ لے کر ليٹ گئ۔
"مجھے مجبور مت کريں کہ ميں جاہل مردوں کی طرح آپ کے ساتھ زور زبردستی کروں" جزلان نے اسے وارننگ دينے والے انداز ميں کہا۔
"ميں خود کو جاہلوں سے نمبٹنے کے لئيۓ تيار کرکے ہی آئ ہوں" اس کے جواب نے جزلان کا دماغ حقيقت ميں گھما ديا۔
اب کی بار اس نے نہ صرف بلينکٹ کھينچا بلکہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر نيچے کھڑا کيا۔ وہ اس افتاد کے لئيۓ تيار نہيں تھی۔
ہکا بکا اسے ديکھتی رہ گئ۔

Mirh@_Ch
 

آہستہ آہستہ کرکے وہ سب باہر نکل گۓ۔ اور بھابھی جانے سے پہلے نشوہ کو کمرے کے ساتھ بنے ڈريسنگ روم ميں اس کی کپڑوں کی الماری دکھا کر چلی گئيں۔
سب کے جانے کے بعد جزلان نے کمرہ لاک کيا اور کپڑے چينج کرنے دائيں سمت بنے واش روم ميں چلا گيا۔
جبکہ نشوہ نے ڈريسنگ روم ميں کپڑے چينج کرکے ميک اپ صاف کيا۔ اور جزلان کے آنے سے پہلے بيڈ پر دراز ہوگئ۔
جزلان اسے بيڈ پر ديکھ کر بھنا گيا۔
تيزی سے اس کی جانب بڑھا جو بلينکٹ سر تک لئيۓ سونے کی ايکٹنگ کر رہی تھی۔
اس نے بڑھ کر اس پر سے بلينکٹ کھينچا۔
"اٹھيں يہاں سے کيا سوچ کر آپ يہاں ليٹی ہيں" وہ کھڑا سے گھور رہا تھا۔
"تو کہاں ليٹوں؟" اس نے بھی اسی کے انداز ميں پوچھا۔
"جہنم ميں۔۔اٹھيں يہاں سے جتنا برداشت کرنا تھا آپ کو کر ليا اس سے زيادہ ميں نہيں کر سکتا۔ وہ سامنے کاؤچ ہے جا کر ليٹيں وہاں"

Mirh@_Ch
 

اب اتار دوں يا ساری رات ايسے ہی کھڑے ہونا ہے مجھے" اندر آکر جزلان نے طنزيہ لہجے ميں صبغہ کو مخاطب کيا۔
"اگر تمہارا دل چاہ رہا ہے تو کھڑے رہو" انہوں نے شرارت سے کہا۔
"دل تو کر رہا ہے کہ۔۔۔۔" اسے اتارتے جزلان نے جن نظروں سے نشوہ کو ديکھتے جملہ ادھورا چھوڑا اس کی گہرائ صرف وہ دونوں ہی جانتے تھے۔
"سينسر پليز ابھی ہم موجود ہيں اتنی رومانٹک گفتگو آپ دونوں اکيلے ميں کيجئيۓ گا" ارمغان نے شرارت سے کہا۔
اس کی بات پر ايک استہزائيہ مسکراہٹ جزلان کے لبوں کو چھو گئ۔
"اب آپ لوگ مہربانی کرکے ہميں آرام کرنے ديں گے" جزلان اس سب ڈرامے سے اب اکتا گيا تھا۔
"اوہے ہوۓ حوصلہ ميرے بھائ" اس کے کسی کزن نے جزلان کو چھيڑا۔

Mirh@_Ch
 

جزلان نے اپنی خونخوار نظريں سر جھکاۓ شرم و حيا کی پوٹلی بنی نشوہ کو ديکھا دل تو کيا اٹھا کر نيچے پٹخے اسے مگر سب کی موجودگی کے سبب اس کے قريب گيا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی جزلان نے اسے نازک سی گڑيا کی مانند اپنے بازوؤں ميں اٹھايا۔
مگر نہ چہرے پر کسی محبت کے جذبات تھے اور نہ دل ميں جبکہ نشوہ کا اس رسم پر دل کيا کہ يہاں سے بھاگ جاۓ کس مصيبت ميں پھنس گئ تھی۔
جزلان ايک لمبی راہداری سے گزر کر ايک کمرے کے سامنے رکا۔ بہت سے لوگ ان کے پيچھے تھے۔ صبغہ نے بڑھ کر دروازہ کھولا۔
وہ کمرہ کيا تھا پھولوں کی دکان تھی۔ بيڈ پر چھت سے لے کر چاروں اطراف پھولوں کی لڑيوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
اسی طرح بيڈ کے سامنے پھولوں کی پتيوں سے دل بنايا گيا تھا۔ پورے کمرے ميں ديواروں پر پھولوں کی کلياں چسپاں کی ہوئيں تھيں۔

Mirh@_Ch
 

کہ کاش آج دانيال بھی ان کے ہمراہ ہوتے۔
نجانے کون کون سی رسميں ہوئيں۔ نشوہ کا اب تھکاوٹ اور نيند سے برا حال تھا۔
اس کی حالت ديکھتے جزلان کی بھابھی نے سب کو رسميں ختم کرکے انہيں کمرے ميں پہنچانے کا کہا۔ويسے بھی رات کے تين بج چکے تھے۔
"چلو بھائ اب اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے بھابھی کو اٹھا کر کمرے ميں لے کر جاؤ" جزلان سے چھوٹے ارمغان نے جزلان کو مخاطب کيا۔ سب کزنزنے مل کر اسے بک اپ کيا۔
"يار پليز ميں بہت تھکا ہوا ہوں۔ اور يہ فضول کی رسم ہے" اس نے بيزاری سے کہا۔ وہ تو اب اس کے ساۓ سے بھی دور بھاگنا چاہتا تھا کجا کہ اسے بازوؤں ميں اٹھا کر کمرے ميں لے کر جاتا۔
نشوہ کو اس رسم کا پتہ نہيں تھا لہذا وہ نظريں جھکاۓ کچھ الجھن کا شکار تھی۔
"بک بک نہ کر چل ميری بيٹی کو لے کر جا" سبحان شاہ جانتے تھے کہ ان کے کہے کو وہ نہيں ٹالے گا۔

Mirh@_Ch
 

گھنٹے کا باقی کا سفر جلد ہی کٹ گيا۔
جيسے ہی ان کی گاڑی اس عاليشان حويلی ميں داخل ہوئ جس سے نشوہ ساری زندگی محروم رہی تھی۔ ان کی گاڑی پر چاروں جانب سے پھولوں کی پتيوں کی بارش شروع ہوگئ۔
گاڑی رکتے ہی سب سے پہلے جزلان تيزی سے باہر نکلا ايسے جيسے قيد سے رہائ ملی ہو۔
نشوہ نے نخوت سے اس کے اس طرز عمل کو ديکھا جيسے وہ کوئ چھوت ہو۔
گاڑی سے باہر آتے ساتھ ہی نجانے کون کون اس کے گلے لگا وہ تو سب چہروں سے انجان تھی۔
جزلان کا چھوٹا بھائ ہينڈی کيم ہاتھ ميں پکڑے ہر ہر منظر کو قيد کرنے ميں مصروف تھا۔
نشوہ بہت سے لوگوں کے ساتھ بڑے سے ہال نما کمرے ميں داخل ہوئ۔
صبورہ بھی ساتھ ساتھ تھيں۔ اور خوش تھين کہ انہيں تو نہيں مگر ان کی بيٹی کو يہاں کے لوگوں کی محبتيں مل رہی ہيں۔ آنکھيں بھی جھلملا رہيں تھيں

Mirh@_Ch
 

اسے کچھ لمجے لگے سمجھنے ميں کہ نشوہ کا سر کس خوشی ميں اس کے کندھے پر آيا ہے مگر پھر اس نے بجاۓ اسے کے کہ نشوہ کا سر اپنے کندھے پر رہنے ديتا۔
اس نے نشوہ کے سر کو ايک جھٹکے سے پيچھے کيا کہ اس بچاری کی آنکھ کھل گئ۔
وہ اسے اب کسی قسم کی رعايت ينے پر تيار نہيں تھا۔
اسٹيج پر اس کا ہاتھ تھامنے ميں ہچکچاہٹ کو جس طرح وہ شکار ہوئ اور جس طرح اس نے جزلان کا پاؤں کچلا تھا وہ اب اسے وہ مقام دينے کو تيار نہيں تھا جو شايد وہ اسے اس نۓ بننے والے رشتے کے سبب دے ہی ديتا۔
مگر اب تو اس کے لئيۓ کوئ سافٹ کارنر پيدا کرنے کا سوال ہی پيدا نہيں ہوتا۔
نشوہ نے کھا جانے والی نظروں سے جزلان کو ديکھا جو اپنے موبائل ميں گم تھا۔
اس کی نيند اب پوری طرح اڑ چکی تھی۔

Mirh@_Ch
 

تمام راستہ خاموشی سے گزرا۔ جزلان کی والدہ بھی خشک مزاج کی خاتون تھیں لہذا انہوں نے بھی نشوہ سے کوئ خاص بات نہ کی بلکہ بہت سا راستہ سوتے گزارا۔
انہين ديکھ کر نشوہ کو بھی نيند آگئ۔ اور پھر کچھ دنوں سے وہ اتنی بے چين تھی کہ نيند تک صحيح سےلے بھی نہين پائ۔ اب تو دريا ميں کود پڑی تھی ابھرے يا ڈوب جاۓ يہ تو آنے والے حالات نے بتانا تھا۔
يہ بھی اطمينان تھا کہ سبحان شاہ نے صبورہ کو اپنے ساتھ حويلی ميں رہنے کے لئيۓ زور ديا تھا۔ کچھ پس و پيش کے بعد مان ليا تھا۔ اور ايک اور گاڑی ميں صبورہ بيگم بھی ان کے ساتھ حويلی جا رہی تھيں۔
ان تمام باتوں کو سوچتے کس وقت اسے اونگھ آئ وہ خود نہيں جانتی تھی۔ يکدم نيند ميں اس کا جھولتا ہوا سر جزلان کے شانے سے ٹکرايا۔

Mirh@_Ch
 

کوئ نہيں جانتا تھا کہ دونوں کے درميان کسی قسم کا بدلہ چل رہا ہے۔
رخصتی کے بعد نشوہ کو انہوں نے سيدھا حويلی لے کر جانا تھا۔
شہر سے گاؤں ميں بنی ہوئ حويلی تک کا راستہ تين سے چار گھنٹے پر مشتمل تھا۔
لہذا فيصلہ يہ کيا گيا کہ نشوہ کو پہلے جزلان کے گھر لے جاکر آرام دہ کپڑے پہناۓ جائيں گے پھر وہاں سے حويلی لے جايا جاۓ گا۔
جزلان کے گھر جاتے ہی اس کی بڑی بھابھی فيضان کی بيوی صبغہ نے نشوہ کو خوبصورت سا ہلکے کام والا آف وائيٹ فراک ديا جس کے کناروں پر اورنج اور ريڈ رنگوں کی پٹی لگی تھی اور اسی طرح کا چٹا پٹی کا ّپاجامہ تھا۔
جزلان بھی کلہ اور شيروانی اتار کر آف وائيٹ شلوار قميض پر کيمل کلر کی شال شانوں پر لپيٹ کر لينڈ کروزر کی سيٹ پر نشوہ کے ساتھ بيٹھا ہوا تھا۔
جزلان اس کے دائيں جانب جبکہ اس کی ماں يعنی جزلان کی والدہ بائيں جانب براجمان تھيں۔