Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

جو ڈل گولڈ کی شيروانی اور سر پر ريڈ رنگ کا کلہ پہنے محفل پر پوری طرح چھايا ہوا تھا۔ وہی مغرور نظر اس نے نشوہ پر ڈالی جو نشوہ کو زہر سے بھی زيادہ بری لگتی تھی۔
تمام کيمرے حرکت مين تھے فليش پر فليش پڑھ رہے تھے۔ کچھ تصويريں کھڑے ہو کر کھنچوانے کے بعد جونہی وہ بيٹھنے لگے پيچھے ہوتے نشوہ نے جان بوجھ کر جزلان کے پاؤں کو بری طرح کچلا۔
جزلان نے بڑی مشکل سے ضبط کيا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا الٹے ہاتھ کی ايک اسے لگاۓ۔
بدقت اپنی جگہ پر بيٹھتے ہوۓ جزلان اس طرح سے بيٹھا کہ نشوہ کا دوپٹہ اس بری طری سے جزلان کی سائيڈ سے اس کے نيچے آيا کہ اس کے بالوں ميں پنوں کی مدد سے لگے دوپٹے کے سبب اس کے بال بہت برے طريقے سے کھنچے کہ وہ کراہ کر رہ گۓ۔
اپنی بے اختيار امڈنے والی مسکراہٹ کو روکتا ہوا جزلان آرام سے اٹھا اس کا دوپٹہ اپنے نيچے سے نکالا اور بيٹھ گيا۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ اس وقت ريڈکلر کی شرٹ کے نيچے ريڈ اور بلو شرارے اور بلو ہی کلر کے دوپٹے ميں ملبوس تھی۔ خوبصورتی سے کئيے گۓ ميک اپ نے آج اس کی خوبصورتی کو جس انداز سے نکھارا تھا سب ششدر رہ گۓ تھے۔ دلہن بن کر جس قدر روپ اس پر آيا تھا اس نے جزلان کو بھی کچھ لمجوں کے لئيۓ ساکت کر ديا تھا جو اسٹيج پر کھڑا لمحہ بہ لمحہ سامنے سے آتی نشوہ کو ديکھنے ميں محو تھا۔ اس کے اسٹيج کے پاس آتے ہی نجانے کس جذبے کے تحت اس نے آگے بڑھ کر اسے اوپر آنے کے لئيۓ اپنا ہاتھ پيش کيا جسے نشوہ نے بدقت تھام ليا۔
مگر اس کی ہچکچاہٹ نے جزلان کو طيش دلايا۔ اسکے اوپر آکر جزلان کے ساتھ کھڑے ہونے تک جس سختی سے جزلان نے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑا تکليف سے نشوہ کی آنکھوں ميں آنسو سمٹ آۓ۔ اس نے غصے بھری نظر اٹھا کر جزلان کو ديکھا۔

Mirh@_Ch
 

اور پھر بہت سے وسوسوں اور خوف کے باوجود وہ دن آ ہی گيا جب اس کے تمام جملہ حقوق جزلان کے نام ہوگۓ۔ اس کی جانب سے تو اس کے آفس والے ہی تھے۔ جبکہ جزلان کی جانب سے بہت زيادہ گيدرنگ تھی۔
بہت سے لوگ حيران تھے کہ انہوں نے اپنے آپسی رشتے کو کبھی ڈکلئير نہين کيا اور بہت سی لڑکياں افسردہ تھيں کہ ان کا چارمنگ ہيرو کتنی آسانی سے ايک ايسی لڑکی کا ہوگيا جسے وہ کسی خاطر ميں نہيں لاتيں تھيں۔
سبحان شاہ نے ان کی شادی کا سارا ارينجمنٹ خود کروايا تھا۔ جزلان تين بھائ اور ايک سوتيلی بہن تھے۔ مگر سبحان شاہ کو اپنے پوتے پوتيوں ميں سب سے زيادہ پيار جزلان سے ہی تھا۔
ان کے تين بيٹے اور دو بيٹياں تھيں۔ بلال شاہ، پھر دانيال اور آخر ميں نوفل شاہ سب سے چھوٹے تھے۔ دو بيٹياں دينا بيگم اور سيما بيگم تھيں۔ سب اپنے بچوں والے تھے۔

Mirh@_Ch
 

وہ کبھی بھی زبردستی نہيں کرے گا تمہارے ساتھ" مزنی کی باتوں نے اسے يک گونہ سکون پہنچايا۔
مگر کبھی کبھی ہم جو باتيں کسی کے بارے ميں سوچتے ہيں قسمت، وقت اور حالات اس کے الٹ کرتے ہيں

Mirh@_Ch
 

تمہيں کيا ٹينشن ہے پھر" مزنی کی بات پر اسے لگا جيسے اسکے سر کا آدھا بوجھ کم ہوگيا ہو۔
"صحيح کہہ رہی ہو" اس نے مزنی کی بات کی تائيد کی۔
"ديکھ لو يار کہيں وہ زبردستی کوئ بکواس نہ کرے ميرے ساتھ" نشوہ نے اپنا خدشہ بتايا۔
"ارے بے وقوف تمہيں اس کے بارے مين اتنا نہيں پتہ کيونکہ وہ تمہيں کبھی اچھا نہين لگا۔ جبکہ ميں نے تو اس کا چھوٹے سے چھوٹ انٹرويو بھی پڑھا ہوا ہے۔ وہ بہت اونچی ناک والا بندہ ہے۔ جو لوگ اسے ايک مرتبہ اگنور کرتے ہيں وہ انہيں دس مرتبہ اگنور کرتا ہے۔ لہذا اسے شروع دن سے منہ مت لگانا تم ديکھنا وہ تمہارے ساۓ سے بھی بھاگے گا۔ وہ ايسے لوگوں کو خاطر ميں ہی نہيں لاتا جو اسکی حيثيت کو نہيں مانتے۔ تمہيں تو ويسے بھی اس سے الرجی ہے۔

Mirh@_Ch
 

پھر نشوہ کو سارے حالات کے بارے ميں مزنی کو بتانا پڑا۔ وہ تو ويسے بھی اس کی واحد دوست تھی جس سے اس نے اپنے تمام درد اور تکاليف کو ہميشہ شئير کيا تھا۔
اب کی بار بھی اس نے اچھے دوستوں کی طرح اس کو ہمت دلائ۔
"مجھے سمجھ نہيں آ رہا ميں کيسے ايسے شخص کو برداشت کروں گی" اس نے پريشانی سے مزنی سے کہا۔
"ميری ايک بات سنو تمہيں تو ويسے بھی اس رشتے سے کوئ مطلب نہين تھا۔ تمہارا مين ايم تو وہ حصہ حاصل کرنا ہے جس پر تمہارے دادا يا ان کے باقی بچے غاصب بن کر بيٹھے ہيں۔ تم نے کون سا يہ رشتہ بہت چلانا ہے۔ لہذا تم شروع ميں ہی سب سے کہنا کہ تمہيں حويلی ميں ہی رہنا ہے۔ اس سے تم آسانی سے اپنے حصے کے لئيۓ بھی لڑ سکتی ہو اور جزلان سے بھی دور رہ سکتی ہو۔ ويسے بھی اسے تم جيسی لڑکی ميں کوئ انٹرسٹ نہيں ہوگا۔ جس کے دن رات بنی سنوری عورتوں ميں گزرتے ہيں۔

Mirh@_Ch
 

چچ چچ آپ مجھ جيسی کے ساتھ شريفوں جيسی زندگی کيسے گزاريں گے۔ پہلے اس کے بارے ميں غوروفکر کريں۔" وہ کہاں کسی کو حاوی آنے ديتی تھی اور جزلان تو اسے ہميشہ سے زہر لگتا تھا۔ اسے ايسے مرد سخت ناپسند تھے جو عورت کو ٹشو پيپر سے زيادہ حيثيت نہين ديتے تھے۔ نجانے کس کس کے ساتھ کس کس حد تک وہ جا چکا ہوگا۔
"شٹ اپ" جزلان اتنی صاف گوئ برداشت نہين کر پايا اور چلا اٹھا۔
"ميں بھی ديکھتا ہوں مجھ جيسے بے شرم انسان کی نفرت کو آپ کب تک اور کہاں تک سہہ پائيں گی" وہ پھنکارتے ہوۓ بولا۔
"ہمم۔۔" اس نے جزلان کی بات کو خاطر ميں لاۓ بنا فون بند کر ديا۔ مگر خود سر پريشان سی اس مسئلے سے نپٹنے کا سوچنے لگی۔
____________________
مزنی کو جب اس نے بتايا کہ اس کی شادی جزلان سے ہو رہی ہے تو وہ کتنی دير بے يقينی سے اس کی جانب ديکھتی رہ گئ۔

Mirh@_Ch
 

ہاۓ کيسی ہيں مس جرنلسٹ مبارک ہو کچھ دن بعد آپ کی شادی ہونے والی ہے" اس نے نشوہ کو چڑانے کا آغاز کيا۔
"تو کيا کروں پھر" اس نے روکھے انداز مين جواب ديا۔
"تو يہ کہ ايک اسمگلر اور ڈان سے شادی ہونے پر آپ کوئ واويلا نہيں کر رہيں حيرت کا مقام ہے۔ميں نے تو آج اظہار ہمدردی کے لئيۓ فون کيا ہے کہ جس شخص سے آپ چند لمحوں کے لئيۓ بات کرنا پسند نہيں کرتيں اس کے ساتھ عمر بھر کا رشتہ جڑنے جا رہا ہے، چچ چچ چچ۔۔۔" جزلان کا ايک ايک لفظ اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا۔ اسے اب ايک محاذ پر نہيں بہت سے محاذوں پر بيک وقت لڑنا تھا۔
"مجھے آپ کی ہمدردی کی کوئ خاص ضرورت نہيں۔ آپ اپنی خير منائيں کہ مجھ جيسی لڑکی آپکی زندگی کو کتنا عذاب بنا دے گی۔ مجھے تو آپ سے ہمدردی ہو رہی ہے۔ آپ کے تو پورے سرکل ميں کوئ شريف لڑکی نہيں۔

Mirh@_Ch
 

مجھے کا لگے کہ وہ جزلان ہو يا کوئ اور" اس نے خود کو تسلی دی۔
____________________
رات ميں وہ کمرے ميں بيٹھی کالم لکھ رہی تھی کہ موبائل پر انجان نمبر سے کال آئ۔ گوکہ يہ نمبر اس کے لئيۓ اب بھی اجنبی تھا کہ اس نے اس نمبر کو سيو نہيں کيا ہوا تھا۔ مگر وہ اس نمبر سے اتنی انجان نہيں تھی۔ يہی تو وہ نمبر تھا جس نے کچھ دن اسکی آنکھوں کی نينديں تک اڑا ديں تھيں۔ اور اب بھی آنے والے دنوں ميں اس کا مالک يقيناّّ اس کی زندگی کو پرسکون رہنے نہيں دے گا۔
اس نے ايک لمبی سانس خارج کرتے بالآخر فون اٹھا ہی ليا۔
"ہيلو" اس کے سرد لہجے نے دوسری جانب موجود جزلان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرا دی۔

Mirh@_Ch
 

اس کی ماں اور بھی نجانے کيا کيا کہہ رہی تھيں۔ مگر اس کے کان سائيں سائيں کر رہے تھے۔
وہ سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔ اپنے کچھ دن پہلے کے الفاظ دماغ ميں گونجے جب وہ مزنی سے اس کا ذکر کرتے ہوۓ بے اختيار کہہ گئ تھی۔
"اس نے مجھے دوستی کی آفر کی ہے شادی کی نہيں" اف کچھ الفاظ کيسے انسان کے آگے آجاتے ہيں۔ اس کی تو ايسی کوئ نيت بھی نہيں تھی پھر۔۔۔ اس کا دل کيا وہ واقعی ايسی جگہ روپوش ہو جاۓ اب کی بار جہاں اس کی قسمت ميں ايک شرابی اور ہر برائ ميں لتھڑا شخص نہ ہو۔
اب اسے يہ فيصلہ مشکل لگنے لگ گيا تھا۔ اور اپنی سادہ لوح ماں کی سادگی پہ رشک آيا جو اسے نشوہ کے لئيۓ ايک پرفيکٹ ميچ سمجھتی تھيں۔
"خير مجھے يہ شادی کون سا بہت عرصہ برقرار رکھنی ہے۔ کچھ دير کی بات ہے اور بس پھر ميں اس رشتے کو ختم کر دوں گی۔

Mirh@_Ch
 

اسی لئيے مين نے تو اس ميں ان شاہوں جيسی بے حسی اور غرور نہيں ديکھا۔
"نشوہ ميرا دل بہت مطمئن ہوا ہے جزلان سے ملنے کے بعد۔ وہ بہت اچھا ہے۔ شرافت محبت ہر لحاظ سے وہ ميری بيٹی کے لئيۓ بالکل مناسب ہے" انہوں نے محبت سے اس کا ذکر کيا۔ جو جزلان نام سن کر ہی کچھ دير کو ساکت رہ گئ تھی۔
"وہ يہاں آيا تھا" اس نے تصديق کروائ۔
"ہاں نا" صبورہ نے مسکراتے لہجے ميں بتايا۔
" کرتا کيا ہے وہ" شک کے ناگ اس کے دماغ ميں کلبلاۓ۔
دل ميں مسلسل دعا جاری تھی کہ وہ نہ ہو جسے وہ سمجھے ہوۓ تھی۔
"تم تو جانتی ہوگی اسے۔ فلم ميکنگ کرتا ہے۔ شکر ہے اس کے لہجے ميں جاگيرداروں والا غرور نہيں۔ اور نہ وہ ان کے ساتھ رہتا ہے۔ مجھے تو سب سے بڑا اطمينان يہی ہوا کہ وہ يہيں شہر ميں رہتا ہے۔ کم از کم تم ان لوگوں کی گھريلو گندی پوليٹکس سے تو دور رہو گی"

Mirh@_Ch
 

چاہے انتقام کی غرض سے ہی ليکن آخر تو وہ شخص اس کا کل مختار بن بيٹھے گا نا۔ يہی سوچ اب اسے کھاۓ جا رہی تھی۔
"ظاہر ہے جب بيٹياں اپنے گھروں کو جانے والی ہوں تو مائيں خوش تو ہوتی ہيں" انہوں نے اس کی شاپنگ ديکھتے کہا۔
"کوئ اور بات بھی ہے" اس نے تفتيشی انداز ميں کہا۔
"ہاں جزی آيا تھا مجھ سے ملنے" انہوں نے سر اثبات ميں ہلاتے مسکراتے ہوۓ کہا۔ نشوہ کی ايک بيٹ مس ہوئ۔
"کيوں" اس نے بے اختيار پوچھا۔
"کيوں کيا ظاہر ہے تمہارے حوالے سے ميرا اس کے ساتھ اب رشتہ بننے والا ہے۔ ويسے بھی وہ شروع سے مجھے بہت پيارا ہے۔ آج اسے ديکھ کر جو وسوسے ذہن ميں اٹھے ہوۓ تھے۔وہ سب بس وسوسے ہی نکلے۔ نشوہ وہ بہت اچھا ہے جيسا بندہ ميں تمہارے لئيۓ سوچتی تھی وہ اس سے بھی کہيں زيادہ اچھا اور سلجھا ہوا ہے۔ وہ شروع سے شہر ميں رہا ہے

Mirh@_Ch
 

وعدہ" انہوں نے محبت سے مسکراتے ہوۓ کہا۔
"تھينک يو" اس نے عقيدت سے ان کے ہاتھوں پر بوسہ ديا۔
___________________
"خيريت ہے آج آپ بہت خوش لگ رہی ہيں" وہ جو کچھ دير پہلے مزنی کے ساتھ جا کر اپنی شادی کی شاپنگ بے دلی سے صرف دنيا دکھاوے کے لئيے کرکے آئ تھی۔ اب تھکاوٹ سے چور صوفے پر بيٹھی تھی۔ کبھی کبھی ايسا ہوتا ہے کچھ فيصلے ايسے ہوتے ہيں جو جسمانی تھکاوٹ سے کہيں زيادہ ہميں ذہنی تھکاوٹ سے دوچار کرديتے ہين۔
نشوہ کے لئيۓ اپنی زندگی داؤ پر لگانے کا يہ فيصلہ بھی ايسا ہی تھا۔
وہ ہميشہ سے جذباتی اور جلد بازی ميں فيصلہ کرنے والوں ميں سے تھی۔ اور بہت مرتبہ اسے اپنے فيصلے کے نقصانات بعد ميں نظر آتے تھے۔ يہی جلد بازی اس مرتبہ بھی اسے مہنگی پڑ گئ تھی۔
اس نے ابھی تک اس بندے کو ديکھا تک نہ تھا جس کو وہ اپنی زندگی ميں شامل کرنے والی تھی

Mirh@_Ch
 

وہ ان کی خاطر اس نک چڑھی نشوہ کے لئيۓ جھوٹ بھی بولنے کو تيار تھا۔
"کافی عرصے سے ميں جانتا تھا" اس نے جھوٹ کا سہارا ليا مگر نظريں نيچے رکھيں کچھ لوگوں کے سامنے انسان نظر سے نظر ملا کر جھوٹ بولنے کی ہمت نہيں کر سکتا۔
"تم خوش ہو اس رشتے سے" وہ ماں تھيں پريشان کيسے نہ ہوتيں۔
"ابھی تو کچھ نہيں کہہ سکتا کہ ميں نشوہ کو جانتا بھی نہيں۔ مگر آپکی ان چند سالوں کی مجبت کے عوض ميں آپکو يقين دلاتا ہوں ميں آپکی بيٹی کو ساری زندگی خوش رکھنے کی کوشش کروں گا۔" اس نے محبت سے انکے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔
" مگر آپکو اس کے لئيۓ ايک وعدہ کرنا ہوگا" وہ تو جزلان کی اس محبت پر ہی نہال ہوئ جا رہيں تھيں۔
" ايک نہيں سو کہو ميری جان" وہی محبت سے لبريز لہجہ۔
"آپ ميری ہميشہ دوست رہيں گی۔ ساس اور داماد کا رشتہ کبھی ہمارے درميان نہيں آۓ گا۔" اس کے اس مان پر وہ ہنس پڑيں۔

Mirh@_Ch
 

مجھے ہر سرد و گرم سے بچا کر رکھا ہے تو اب وہ مجھے طوفانوں کی نظر کيسے کر سکتا ہے۔" ان کے اس اعتماد اور اللہ پر توکل نے جزلان کو ساکت کر ديا۔
"چلو چل کر بيٹھو اندر ميں آ رہی ہوں" انہوں نے اپنے مخصوص دھيمے اور مجبت بھرے لہجے ميں کہا۔
"اچھا کيا کرتے ہو" انہوں نے اس کو چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ پوچھا۔
"کچھ خاص نہين بس فلميں بناتا اور ڈائريکٹ کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اپنا حصہ ميں بہت عرصہ پہلے ہی لے کر اپنی بوتيک چلا رہا ہوں۔" اس نے چاۓ کا گھونٹ ليتے ہوۓ تفصيل بتائ۔ اس کے ايک ايک انداز ميں اتنا رکھ رکھاؤ تھا کہ وہ تو بس حسرت سے اسے ديکھ کر اللہ سے شکر کر رہيں تھين کہ ان کی بيٹی کی قسمت کتنی اچھی ہے۔
"تمہيں کب سے اس رشتے کا پتہ تھا" انکے سال ميں چھپا جو مقصد تھا وہ اس سے انجان نہين تھا۔ وہ اسے اتنی عزيز تھيں

Mirh@_Ch
 

اور ديکھ رہاہوں کہ معاف کرنے والوں کے چہرے کتنے پرسکون اور روشن ہوتے ہيں۔ آپ کا دل اتنا بڑا کيسے ہے۔ ميں يہ تو نہيں جانتا کہ تب کيا ہوا تھا۔ ہاں مگر اتنا يقين ضرور ہے کہ غلطی آپکی نہيں ہوگی۔ تو پھر آپ نے ميرے گھر والوں کو معاف کرکے اپنی بيٹی تک مجھے دينے کا فيصلہ کيسے کر ليا۔ آپ کيا جانتی ہيں ميرے بارے ميں" اس کی حيرت کم ہونے کا نام نہين لے رہی تھی۔
وہ اسکی جانب ديکھ کر مسکرائيں۔ پھر پاس آکر اسکے چہرے پر پيار سے ہاتھ رکھا۔
"ميں تمہيں نہيں جانتی مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ ميرے اللہ نے ميری بيٹی کے نصيب ميں کوئ بہت اچھا لڑکا لکھا ہوگا۔ وہ کبھی اپنے بندوں کے ساتھ زيادتی نہيں کرتا۔ اور جب اس نے يہ رشتہ بنا ديا تو پھر ميں کون ہوتی ہوں اس کے حکم اور اس کی مرضی کو چيلنج کرنے والی۔ ميرے اللہ نے ہر مقام پر ميرا ساتھ دياہے۔

Mirh@_Ch
 

ماں کا اصل پيار بھرا روپ اسے صبورہ کے روپ ميں نظر آيا۔ مگر پھر نجانے کيا ہوا کہ وہ حويلی سے دو سال کی نشوہ کو لے کر نکل آئيں۔
وہ تب اتنا چھوٹا تھا کہ اصل معاملے کو تو نہيں جانتا تھا مگر سب کا ان کے ساتھ حقارت آميز رويے کو ضرور پہچانتا تھا۔
اسے اتنا يقين ضرور تھا کہ غلطی اسی کے گھر والوں کی ہوگی۔ صبورہ تو بس محبت ديے جانے والی عورت تھيں۔
"کيا ديکھ رہے ہو" وہ جو چاۓ بنا رہيں تھيں اور ساتھ ساتھ اس کے لئيۓ لوازمات کی ٹرے تيار کر رہيں تھيں۔ آہٹ پر مڑ کر جزلان کو اپنی جانب يک ٹک ديکھتے ديکھ کر پوچھ بيٹھيں۔
"يقيں نہيں ہو رہا کہ آپ ميرے سامنے ہيں۔ آپ نے ميرے ساتھ بہت زيادتی کی ميں نے ہميشہ آپکو اپنی ماں سے بھی بڑھ کر جانا اور آپ نے ميرا بھی خيال نہيں کيا۔ " اس کی نظروں ميں شکايت تھی۔
"

Mirh@_Ch
 

وہ طائرانہ نگاہ گھر پر ڈالتا اندر کی جانب بڑھا ۔
صبورہ اسے بٹھا کر اسکے لئيے چا ۓ بنانے کچن ميں چل پڑيں ۔ تھوڑی دير بعد وہ بھی انکے پيچھے کچن ميں چلا آيا۔ چوکھٹ سے ٹيک لگاۓ وہ ايک ٹک انہيں ديکھ رہاتھا۔
سياہ اور فيروزی عام سے شلوار قميض ميں کالی ہی چادر لئيے وہ آج بھی بے جد خوبصورت لگ رہيں تھيں۔
جزلان کو وہ کبھی بھولی ہی نہيں تھيں۔ اس نے عورت کا اتنا دھيما روپ کبھی نہين ديکھا تھا۔ اس کی اپنی ماں کرخت جاگيردارنی ہی تھيں۔ ايسی ماں جنہوں نے بچپن ميں اسے لپٹا لپٹا کر کبھی پيار نہيں کيا تھا۔
جب بھی صبورہ نشوہ کو پيار کرتيں۔ جزلان حسرت سے انہيں ديکھتا تھا۔
پھر اسی حسرت کو ختم کرنے کے لئيے وہ انکی جانب بڑھا اور انہوں نے اسے بھی ويسا پيار ديا جيسے وہ نشوہ کو ديتی تھيں۔

Mirh@_Ch
 

اور جس لڑکے نے ان کے دروازے پر قدم رکھا تھا وہ واقعی شہزادوں سی آن بان والا ہی تھا۔
بليک جيکٹ اور بليک ہی جينز پہنے۔ گاگلز لگاۓ۔ ہاتھ ميں موبائل پکڑے مہنگی گھڑی پہنے۔ ہلکی سی شيو ميں دمکتے چہرے والا اور اونچے قد کاٹھ والا جزلان شاہ ان کے سامنے تھے۔
"اسلام عليکم" انکی جانب پيار لينے کے لئيے جھکتا جزلان انہيں دل و جان سے پسند آيا۔
اسکے ماتھے پر بوسہ ديا اور اس نے پيچھے ہوتے انہيں اپنے ساتھ لگايا۔
جب وہ حويلی چھوڑ کر نکليں تھيں تب وہ سات سال کا اور نشوہ دو سال کی تھی۔
جزلان تب بھی اپنی ماں سے زيادہ ان سے پيار کرتا ہر وقت انکے اردگرد منڈلاتا۔
اب بھی وہ ايسے ملا جيسے اتنے سارے سال ان کے درميان آۓ ہی نہ ہوں۔
"کيسے ہو۔ اندر آؤ" انہوں نے محبت سے آنسو صاف کرتے اسے اندر بڑھنے کا اشارہ کيا۔

Mirh@_Ch
 

کون ہے" دوپہر کا وقت تھا وہ ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئيں ہی تھيں کہ بيل بجی۔
وہ يہی سمجھيں کے محلے کی کوئ عورت ہو گی۔ مصروف سے انداز ميں سر پر دوپٹہ رکھتے وہ دروازے کے پاس آکر بوليں۔
"ميں صبورہ دانيال سے مل سکتا ہوں۔ جزلان شاہ نام ہے ميرا" باہر سے ابھرنے والی مردانہ آواز پر کچھ لمحے وہ ساکت رہ گئيں۔ جزلان شاہ کو کيسے نہ پہچانتيں وہ۔ ان کی بيٹی کا مستقبل اس لڑکے سے جڑنے والا تھا۔
انہوں نے ابھی تک جزلان کو نہيں ديکھا تھا۔ کل رات ہی انہوں نے سبحان شاہ تک نشوہ کا اقرار پہنچايا تھا۔ اور پندرہ دن بعد ان کا نکاح اور رخصتی طے ہو گئ تھی۔
انہوں نے دھڑکتے دل سے دروازہ کھولا۔ ہر ماں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ انکی بيٹی کی قسمت ميں شہزادوں سی آن بان والا کوئ لڑکا ہو۔