Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

مجھے جان کر کچھ کرنا بھی نہيں۔ يہ تمہاری يہاں کی دنيا ان جاگيرداروں کی دنيا سے بہت مختلف ہے تم نہيں جانتيں يہ لوگ اپنوں کو بھی جب دشمن کے روپ ميں ديکھتے ہيں تو اس کا کيا حشر کرتے ہيں۔ اس وقت يہ صرف سفاک جاگيردار ہوتے ہيں۔ نہ کسی کے باپ نہ بھائ نہ بيٹے۔
تمہاری ايک حماقت کے سبب انہوں نے ہمارا سراغ تو پا ليا مگر مزيد کسی اونچ نيچ سے بچنے کے لئيۓ ميں نے اس رشتے کے لئيۓ ہامی بھر لی ہے کہ اب مجھ ميں کسی کی دشمنی سہنے کی ہمت نہين۔ ويسے بھی اب اس سب کے بعد ہم يہاں سے چھپ کر کہاں جائيں گے۔ ميں نے تمہارے مستقبل کو اللہ کے حوالے کيا استخارہ کيا ہے اور مجھے اميد ہے اللہ تمہارے حق ميں بہت بہتر کرے گا ان شاء اللہ" ان کے بے فکری بھرے لہجے ميں بھی چھپی فکر پر نشوہ کو بے اختيار بے حد پيار آيا۔

Mirh@_Ch
 

ہر بار جيت ان کے حصے ميں نہيں آۓ گی۔ ميری رگوں ميں بھی انہی کا خون ہے۔ ميں انہيں انجام تک پہنچانے کے لئيۓ اب کسی بھی حد تک جانے کو تيار ہوں۔" اس نے ايک کچھ دير سوچنے کے بعد ايک عزم سے کہا۔
"بکواس نہيں کرو۔۔اگر تم اس رشتے کو ويسے ہی شروع کرنے کا سوچ رہی ہو جيسے ہر عام لڑکی سوچتی ہے اپنی شادی کے متعلق تو ٹھيک ہے۔ مگر اب ميں اپنے آخری رشتے کو کسی انتقام کی بھينٹ نہيں چڑھا سکتی۔ ميرے پاس ہے ہی کون تمہارے علاوہ" انہوں نے اس کے ارادے ديکھتے قطعيت سے اسے باز رہنے کو کہا۔
"افوہ ميری جذباتی امی۔ کچھ نہيں ہوتا۔ آپ کو ابھی ميرے ٹيلنٹ کا پتہ نہين۔ ميں آفس ميں سب سے خطرناک جرنلسٹ مشہور ہوں" اس نے بڑے تفاخر سے کہا۔
"

Mirh@_Ch
 

ہاں مگر اب مجھے لگتا ہے وہ لوگ بدل گۓ ہيں" انہوں نے جيسے اسے تسلی دلائ۔
"پليز امی انسان کو اتنا بھی سادہ نہيں ہونا چاہئيۓ جتنی آپ ہيں۔ جو لوگ اپنی الاد کے لئيۓ نہيں بدلے انہوں نے ميرے اور آپ کے لئيۓ کيا بدلنا ہے۔ بابا تو ان کے اپنے تھے۔ سگی اولاد تھے انہوں نے بابا کی غلطی معاف کی تھی۔ جو کہ غلطی تھی بھی نہيں۔ انسان کی عادتيں بدلتی ہيں مگر فطرت نہيں اور غرور، تکبر اور دھوکہ دہی انکی فطرت ہے عادت نہيں" اس کے سخت لہجے ميں گھلی سچائ سے وہ انکاری نہيں تھيں۔ کچھ دير وہ خاموش رہی جيسے کچھ سوچ رہی ہو
"مگر ميں اس سب کا حصہ بنوں گی۔ ميں نہ صرف وہ سب حاصل کروں گی جس پر وہ غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتے تھے بلکہ کئيے ہوۓ ہيں ۔ انتقام اب شروع ہوا ہے اور ميں اتنی آسانی سے انہيں بخشوں گی نہيں۔ آپ کل ہی انہيں ميرا اس شادی کے لئيۓ اقرار پہنچا ديں۔

Mirh@_Ch
 

تم اس کی منگ ہو" ان کا يہ بتانا تھا کہ نشوہ کو اپنے کانوں پر يقين نہيں آيا کہ يہ سب انہوں نے نشوہ کے ہی بارے ميں کہا ہے۔
"امی" اس کی آواز جيسے کسی گہری کھائ سے آئ
"آپ۔۔۔آپ لوگ يہ کيسے کر سکتے ہيں ميرے ساتھ۔ امی اتنی بڑی غلطی۔۔" اس نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑا۔
"بيٹا ميں چونکہ ان کی من چاہی بہو نہيں تھی تو يہی سوچا کہ شايد اس طرح وہ لوگ مجھ سے راضی ہو جائيں اور"
"اور آپ نے مجھے قربان کر ديا" اس نے يک لخت سر اٹھا کر ان کی بات کاٹی اور تلخی سے بولی۔
"ايسا نہيں ہے بيٹا" انہوں نے بے بسی سے آنسو پيتے ہوۓ کہا۔
"کاش آپ يہ سب مجھے پہلے بتا ديتيں تو ميں کبھی بھی ان کو وہ نوٹس بھيجنے والی غلطی نہ کرتی"
"ميں نے تمہيں اسی لئيۓ منع کيا تھا"
"مگر آپ نے مجھے کھل کر تو ہر بات نہيں بتائ تھی" اس نے ماں کی غلطی کی نشاندہی کی۔
"

Mirh@_Ch
 

کيا بات ہے امی جو کچھ کہنا ہے کہہ ديں۔ آپ اگر يہ سمجھ رہی ہيں کہ مجھے پتہ نہيں چل رہا کہ آپ اتنی دير سے مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہی ہيں تو آپ کا خيال غلط ہے۔ اگر ماں باپ بچوں کے چہرے پڑھ سکتے ہيں نا تو بچے بھی ماں باپ کے چہرے پڑھنے کی صلاحيت رکھتے ہيں" نشوہ جب سے آفس سے آئ تھی محسوس کر رہی تھی کہ صبورہ بيگم اس سے کچھ کہنا چاہتی ہيں۔
دونوں اس وقت ٹی وی کے سامنے بيٹھی کوئ ٹاک شو ديکھنے ميں مصروف تھيں۔
نشوہ تو ديکھ رہی تھی جبکہ صبورہ بيگم کچھ سموچنے ميں مگن تھيں۔
"ديکھو ميں جو بات کہنے لگی ہوں اسے بہت تحمل سے سننا تمہاری جذباتی طبيعت سے ميں بہت تنگ ہوں" انہوں نے کہنے سے پہلے تمہيد باندھنی چاہی۔
"آپ بلا جھجھک کہيں"
"تمہارے دادا کا فون آيا تھا۔ اصل ميں تم جب چھوٹی سی ہی تھيں اور ہم وہاں تھے تب تمہاری بات تمہارے تايا کے بيٹے سے طے کر دی گئ تھی۔

Mirh@_Ch
 

جزلان کے لئيۓ تو کچھ کہنا بے سود ہو گيا تھا۔
"تو پھر مجھے ابھی بلا کر يہ سب بتانے کی ضرورت ہی کيا تھی۔ نکاح والے دن کہتے آؤ اور سائن کردو" اس نے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی کوئ کوشش نہين کی اور پھٹ پڑا۔
"وہ بھی کر ليں گے" انہوں نے محظوظ ہوتے کہا۔ جانتے تھے انکار تو کرے گا نہيں۔
"مجھے چچی سے ملنا ہے ايڈريس بتائيں" اس نے کچھ سوچتے ہوۓ انہيں مخاطب کيا۔
اور جو ايڈريس اسے پتہ چلا اسے سنتے ہی وہ کتنی دير بے يقينی کی کيفييت سے نہيں نکل سکا۔
دنيا گول ہے ۔ اس بات پر آج اس کا يقين اور بھی پختہ ہو گيا تھا۔

Mirh@_Ch
 

وہ لڑکی جو اتنے سالوں سے آپ کی ياداشت سے بھی محو ہو چکی تھی يکايک آپ لوگوں نے پتہ نہيں کہاں سے اسے ديسکور کرليا اور اب ميری منگ بھی ڈکلئير کر ديا۔ واؤ" اس کا طنزيہ لہجہ انہيں غصہ دلانے کے ليۓ کافی تھا۔
"ديکھو جزی! ميں نے تمہيں اس لڑکی پر ريسرچ کے ليۓ نہيں بلايا۔ بس تمہيں اطلاع دينی تھی کہ وہ تمہاری منگ ہے اور منگ کو چھوڑنا ہمارے ہاں اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کہ نکاح توڑنا ہے۔ منگ کی خاطر يہاں خون کی ندياں۔۔۔"
"او پليز بابا حضور يہ سب اب فرسودہ باتيں ہو گئ ہيں۔ کيا آپ نے اس منگ صاحبہ سے پوچھا ہے کہ ميں اسے منظور ہوں کہ نہيں" اس کا لہجہ اب بھی طنزيہ تھا۔
"ہم اپنی بات کرو۔ کيونکہ ہم کچھ دنوں ميں نکاح کی ڈيٹ فکس کرنے والے ہيں" وہ تو جيسے سب کچھ طے کئيۓ بيٹھے تھے۔

Mirh@_Ch
 

جان گئيں تھيں کہ وہ اب کچھ سننے کے موڈ ميں نہيں۔"ٹھنڈے دماغ سے سوچو بيٹا" انہوں نے وہاں سے اٹھتے ہوۓ کہا۔
________________________________
"آپ لوگ يہ سوچ بھی کيسے سکتے ہيں" وہ تو سبحان شاہ کی بات سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گيا۔
کل شام ہی اسے باباحضور کا فون موصول ہوا جس مين انہوں نے جزلان کو فوری حويلی آنے کا حکم ديا۔
جزلان يہی سمجھا کہ زمينوں کی کوئ بات ہو گی۔ حالانکہ جب سے اس نے فلم ميکنگ کا کام شروع کيا تھا وہ زمينوں اور حويلی کے کاموں سےدور رہتا تھا۔
مگر کل ہی سبحان شاہ کے بلانے پر چلا آيا۔
مگر يہ نہيں جانتا تھا کہ يہاں آکر کيا خبر سننا پڑ جاۓ گی۔
"کيوں کيا مسئلہ ہے اس بات ميں۔ " انہوں نے ہنکارا بھر کر اس کے غصيلے چہرے کی جانب ديکھتے ہوۓ کہا۔
"مسئلہ نہيں مسائل ہيں ۔۔

Mirh@_Ch
 

تم نے تب ميری بات نہيں مانی۔ مگر خير انہوں نے ہاتھ آگے بڑھايا ہے تو ہميں کسی قسم کے غرور کا مظاہرہ کرنا زيب نہيں ديتا۔ اور اللہ بھی صلح رحمی کو پسند فرماتے ہيں۔ مين نہيں چاہوں گی کہ تم کبھی بھی اللہ کی ناراضگی کی زد ميں آؤ" انہوں نے پيار سے اسے سمجھاتے کہا
"ميں آپ کی طرح کی دريا دلی کا مظاہرہ نہيں کرسکتی ميں بہت کم ظرف ہوں ميں انہيں اتنی آسانی سے معاف نہيں کرسکتی" نشوہ انکے ہاتھ چھوڑتے غصے سے پيچھے ہٹتے بيڈ کے ساتھ ٹيک لگا کر بولی۔
"اتنے بڑے بول نہيں بولتے ميری جان" انہوں نے اسکے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے بے بسی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"پليز امی ابھی تو مجھے يہ سب مت سمجھائيں ميرا دماغ کھول رہا ہے" نشوہ جان گئ کہ وہ اسے کنوينس کرنے بيٹھی ہيں۔

Mirh@_Ch
 

آج جب ميں نے حصہ مانگنے کی بات کی تو ہماری محبت انکے دلوں ميں جاگ گئ"
"بری بات نشوہ وہ لوگ بہت شرمندہ تھے"انہوں نے نشوہ کے لہجے کی سختی کو کم کرنا چاہا۔
"امی وہ لوگ شرمندہ ہر گز نہيں تھے۔"نشوہ نے ان کی بات پر افسوس سے سرجھٹکا۔
"بس وہ آپ کو اور مجھے بے وفوف بنانے آۓ تھے۔ اور وہ اپنے مقصد ميں کامياب بھی ہوگۓ ہيں۔ کيونکہ آپ نے ان پر اعتماد کر ليا ہے۔ کيا ايک ٹھوکر کافی نہين۔ آپ کيسے يہ سب کرسکتی ہيں" نشوہ کو سمجھ نہين آرہی تھی کہ کن الفاظ ميں ماں کو سمجھاۓ۔
"ديکھو بيٹا مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ وہ شرمندہ تھے اور اس کے پيچھے ان کی کيا نيت تھی کيا نہيں ميں نہيں جانتی مگر کوئ شخص اپنے رويے کی معافی مانگے تو ايک موقع دينا تو بنتا ہے۔ ميں نے تمہيں اسی ليۓ پہلے منع کيا تھا ہ سب مت کرو وہ ہم تک پہنچ جائيں گۓ۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ نے ان کی بات پر چہرہ دوسری طرف موڑ ليا اور پھر ايکسکيوزمی کہتی ڈرائينگ روم سے باہر چلی گئ۔ اور تب تک اپنے کمرے سے نہيں نکلی جب تک يقين نہيں آگيا کہ وہ لوگ يہاں سے چلے نہيں گۓ۔
"نشوہ يہ کيا طريقہ تھا بيٹا تمہيں ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہيں کرنا چاہئيے تھا " صبورہ بيگم ان لوگوں کے جاتے ہی نشوہ کے کمرے ميں آئيں جو بيڈ پر آلتی پالتی مارے موبائل ہاتھ ميں ليۓ اس پر کچھ ٹائپ کرنے پر مصروف تھی۔
وہ اس کے سامنے بيٹھيں خشمگيں نظروں سے اسے ديکھ رہی تھيں۔
نشوہ نے ٹائيپنگ روک کر انکی جانب ديکھا اور موبائل سائيڈ پر رکھ کر انکے ہاتھ اپنے ہاتھوں ميں ليۓ۔
"آپ کيسے ان کی حمايت ميرے سامنے کر سکتی ہيں۔ وہ لوگ اس سے بھی بدتر سلوک کے مستحق تھے۔ کيا آپ وہ سب تکليفيں بھول گئيں جو ان کی مہربانيون سے ہميں ملی ہيں۔

Mirh@_Ch
 

اس کا گستاخ لہجہ فی الحال برداشت کرنا ان کی مجبوری تھی۔
"ديکھو بيٹا ماضی ميں جو کچھ ہوا ہم اسے دہرانے نہيں۔ آۓ بس اتنا کہوں گا کہ وہاں سے نکلنے کے بعد تم دونوں کہاں گۓ ہميں معلوم ہوتا۔ تھوڑا سا بھی تم دونوں کا سراغ پتہ ہوتا تو ہم کبھی اتنے سال تم دونوں سے دور نہ رہتے۔ ہم نے تم دونوں کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر سب بے سود رہا۔ ہم آج اسی سب کی معافی مانگنے آۓ ہيں۔ تمہارا نوٹس ملتے ہی يہ تقويت ہوئ کہ تم يہيں کہيں ہمارے قريب ہو بس وہاں سے تمہيں ٹريس کرنے ميں آسانی ہوئ۔ ہم تو تھے ہی چھوٹےظرف کے مگر ہم اميد کرتے ہيں کہ تم بڑے پن کا مظاہرہ کرکے ہماری معافی کا پاس رکھو گی۔ اور جلد ہی ہمارے ساتھ اپنی حويلی چلو گی" سبحان شاہ نے جس تحمل کا مظاہرہ کرکے اس کے اعتراضات کا کو ختم کرنے کی کوشش کی وہ قابل ديد تھا۔

Mirh@_Ch
 

مگر اس رقت اس کی سوچيں اتنی منتشر تھيں کہ وہ اس بات پر کوئ خاص توجہ نہيں دے پائ اور صبورہ کے ساتھ بيٹھ گئ۔
"آپ لوگ يہاں کيوں آۓ ہيں" اس نے بے لچک لہجے ميں سوال کيا۔
وہ اپنی اور اپنی ماں کی تکليفوں کو اتنی جلدی بھول کر انہيں بخشنے کو تيار نہ تھی۔
نشوہ کے سوال پر بلال شاہ اور سبحان شاہ ميں نظروں کا تبادلہ ہوا۔
"نشوہ ايسے بات نہيں کرتے" صبورہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔
"رہنے دو بہو اسے کہہ لينے دو يہ حق بجانب ہے۔ ہميں برا نہيں لگا" سبحان شاہ نے ہاتھ اٹھا کر صبورہ کو کچھ کہنے سے روکا۔
"آپ کو برا لگنا بھی نہيں چاہيے۔ کہ جس بہو اور پوتی کی ياد آپ کو اتنے سالوں ميں نہيں آئ اب ايک دم سے ان کی محبت اتنی جاگی کہ ايک عدالتی نوٹس ملتے ہی آپ لوگ ہماری سابقہ حيثيت اور اپنی محبتيں ہمارے اوپر لٹانے چلے آۓ۔" اس نے حقارت آميز لہجے ميں انہيں آئينہ دکھايا۔

Mirh@_Ch
 

نشوہ کو يہ سمجھنے ميں دير نہيں لگی کہ يہ شخص اس کا دادا سبحان شاہ ہے۔ اس نے طائرانہ نظر ڈرائنگ روم پر ڈالی جہاں ايک صوفے پر روئ روئ سی ضبورہ کے ساتھ ايک عورت اور ايک اور دو اور آدمی براجمان تھے۔ دونوں سبحان شاہ جيسے ہی حليے ميں تھے۔ بس فرق اتنا تھا کہ اس کے سر پر شملے موجود نہيں تھے۔
نشوہ لئے دئيۓ انداز ميں اپنے دادا سے ملی۔
يہ سب گرمجوشی بھی وہ اچھی طرح جان گئ تھی کہ اس کے بھيجے گۓ عدالتی نوٹس کا نتيجہ تھی۔
اسکے سرد رويے کو وہاں بيٹھے ہر شخص نے محسوس کر ليا تھا۔
"بيٹا يہ تمہارے تايا بلال شاہ ہيں اور يہ ان کی بيگم زروہ شاہ۔ ساتھ ميں تمہارے چچا نوفل شاہ ہيں۔" انہوں نے وہاں بيٹھے ان تمام لوگوں کا تعارف کروايا۔ بلال شاہ کی شکل اسے کچھ ديکھی بھالی لگی۔

Mirh@_Ch
 

جيسے ہی اس کی گاڑی گلی ميں آئ۔ اپنے گھر کے باہر دو چمکتی دمکتی لينڈ کروزرز ديکھ کر وہ الجھن کا شکار ہوئ۔
گيٹ کی چابی ہر وقت اس کے پاس موجود ہوتی تھی۔ گاڑی سے اترتی وہ حيرت زدہ سی گھر کا گيٹ کھول کر گاڑی اندر لاکر کھڑی کرنے کے بعد گيٹ بند کرکے گاڑی کو لاک لگا کر اپنی فائلز اور پرس اٹھاۓ اندر داخل ہوئ تو ڈرائينگ روم سے باتوں کی آواز آئ۔
وہ اسی کيفیت ميں جونہی اندر داخل ہوئ۔ دروازے کے سامنے ہی ايک قدرے عمر رسيدہ شخص کلف لگے سفيد شلوار سوٹ پر کالی شال لپيٹے سر پر پگڑی رکھے بے جد طمطراق سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہاتھ ميں چھڑی پکڑے نہايت کروفر سے بيٹھا تھا۔
نشوہ کے اندر آتے ہی سيدھا نظر سامنے گئ تو اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ نشوہ کی جانب مسکرا کر بڑھے۔
"ميرے جگر کا ٹکڑا ميرے دانيال کی نشانی"

Mirh@_Ch
 

"اس کا ايڈريس وغيرہ سب پتا کرواؤ ہم کل ہی اس کے گھر جائيں گے۔ اور ہاں جزی کو بھی کل پرسوں تک حويلی آنے کا کہو اس سے بھی اس معاملے سے متعلق کچھ بات کرنا بہت ضروری ہے" انہوں نے جلد ہی اگلا لائحہ عمل تيار کرتے بلال کو حکم ديا اور خود پر سکون ہو کر اخبار پڑھنے ميں محو ہو گۓ۔
"جی بابا حضور آج ہی ميں اس لڑکی کا پتہ کرواتا ہوں" بلال شاہ تيزی سے باہر کی جانب چل پڑے۔
______

Mirh@_Ch
 

"يہ کسی صورت نہين ہو سکتا۔ جس رات وہ عورت ہمارے چہروں پر کالک مل کر اس حويلی کی دہليز عبور کرگئ تھی اس وقت اسے سوچنا چاہئيۓ تھا کہ اس کا اس حويلی سے تعلق تھا۔ اب ايک دم سے اٹھ کر وہ ہم پر کيس کر دے گی تو ہم اتنی ہی آسانی سے سب کچھ طشتری ميں رکھ کر اسے دے ديں گۓ۔ تو يہ اس کی بھول ہے" غم و غصے سے بلال شاہ کا برا حال تھا۔
"بيٹے اس وقت جوش سے نہيں ہوش سے کام لو۔ اليکشن سر پر ہيں۔ لڑکی کا تعلق بھی ميڈيا سے ہے۔ ہمارے انکار کی ضورت ميں وہ ہمارے خلاف کچھ بھی چھپوا دے، کوئ پريس کانفرینس کروا دے۔۔تو ہماری ساکھ تو برباد ہوجاۓ گی نا۔ اسی ليۓ اسے دھمکانے کی بجاۓ کوئ مفاہمتی حل نکالتے ہيں۔ تاکہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے" ان کی معنی خيز بات نے بلال شاہ کو بہت کچھ سمحھا ديا۔
"

Mirh@_Ch
 

کاش وہ اس رات حويلی کے باہر بھاری نفری لگوا ديتے جس رات دانيال کی بيوہ اس بچی کے ہمراہ انکی حويلی کی چوکھٹ پار کرکے گئ تھی۔
وہ اسی اميد پر جی رہے تھے کہ وہ کہيں مر کھپ گئ ہو گی۔ مگر آج کے ملنے والے اس عدالتی نوٹس نے انہيں اچھی طرح باور کروا ديا کہ نہ صرف وہ زندہ ہے بلکہ اس کی بيٹی يعنی سبحان شاہ کی پوتی نے ان پر جائيداد ميں حصے کا دعوی کرکے ان پر کيس بھی کروا ديا تھا۔
"اسلام عليکم! بابا حضور خيريت کچھ پريشان لگ رہے ہيں" بلال شاہ روزانہ کی طرح جونہی سبحان شاہ کے کمرے ميں انہيں صبح کا سلام کرنے آۓ۔ ايک ہاتھ ميں کوئ کاغذ پکڑے گہری سوچ ميں ڈوبے سبحان شاہ سے پوچھا۔
"جب آستين کا سانپ پاليں گے تو وہ ڈسے بغير نہيں رہے گا۔" انہوں نے وہ کاغذ اسی طری بلال شاہ کو پکڑايا۔
وہ کاغذ کا ٹکرا انہيں بھی حيرت اور پريشانی سے دوچار کرگيا۔

Mirh@_Ch
 

اس کے لئيۓ مجھے جس حد تک بھی جانا پڑا ميں جاؤں گی۔" اس نے نڈر انداز ميں ماں کو اپنے ارادوں سے با خبر کيا۔ اور وہ تو اس کے ارادے سن کر کانپ گئيں۔
"نشوہ کيوں مجھے بے موت مارنا چاہتی ہو۔ تم کل ہی کيس واپس لو گی۔" انکے تحکم بھرے انداز کا بھی اس پر کوئ اثر رہ ہوا۔
"سوری امی ميں ايسا کچھ بھی نہيں کرنے والی۔ آپ اور ميں اس حويلی اور اس جاگير ميں سے اپنا حصہ لے کر رہيں گے" اس نے اٹل انداز ميں کہا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چل پڑی۔
جبکہ صبورہ بيگم اپنا سر پکڑ کر بيٹھ گئيں۔
____________________
ناشتے کی ٹيبل پر اخبار کے ساتھ ملنے والے نوٹس نے انکی بھوک پياس حقيقت ميں اڑا دی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس عدالتی نوٹس کو ديکھ رہے تھے۔

Mirh@_Ch
 

انکی بات کی تہہ تک پہنچتے اس نے اپنی نظروں کا رخ ايک مرتبہ پھر سے ٹی وی کی جانب کرکے ايسا تاثر ديا کہ وہ اس معاملے ميں اب کوئ بات نہين کرنا چاہتی۔
"ميں کچھ بات کر رہی ہوں تم سے" انہيں نشوہ کيا يہ انداز ايک آنکھ نہيں بھايا۔
"جی جانتی ہوں" اس نے منہ بناتے کہا۔
"اگر جانتی ہو تو اس معاملے کو يہيں پر ختم کر دو۔ ميں نہيں چاہتی کہ جس اولاد کو ميں وہاں سے بچا کر لائ ہوں۔ تمہاری اس حماقت کی وجہ سے وہی سب پھر سے دہرايا جايا۔ مجھ ميں اپنی جوان اولاد کو کھونے کی ہمت نہيں۔" صبورہ بيگم نے منت بھرے انداز ميں کہا۔
"امی پليز! وہ لوگ مجھے کھا نہيں جائيں گے، مگر آپ کی ان فضول دور انديشيوں کے سبب ميں اپنا حق کسی صورت ان غاصبوں کو ہڑپ نہين کرنے دوں گی۔ ميں انکی ہستيوں تک کو ہلا کر رکھ دوں گی۔