اور مزيد کوئ وقت ضائع کئيۓ بنا وہاں سے اٹھ کر باہر چلی گئ۔
جبکہ جزلان يہ جاننےسے قاصر تھا کہ وہ يہ رويہ اس کے ساتھ کيوں اپناۓ ہوۓ ہے۔
________________________
"نشوہ يہ جو تم کرتی پھر رہی ہو يہ سب ہم دونوں کی زندگی ميں سواۓ طوفان کے اور کچھ نہيں لے کر آۓ گا" وہ جو چھٹی والے دن بيٹھی بہت دنوں بعد ٹی وی پر اپنی پسند کی فلم ديکھ رہی تھی سامنے صوفے پر بيٹھی ماں کی کہی گئ بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھی۔
کسی قدر اچھنبے سے انہيں ديکھا۔۔جيسے سمجھ نہ آ رہی ہو کو وہ کيا کہہ رہی ہوں۔
"تم کيا سمجھتی ہو تم مجھے کچھ نہيں بتاؤں گی تو مجھے پتہ نہيں چلے گا کہ تم شاہوں کے خاندان پر کيس کروا چکی ہو" انہوں نے کڑے تيوروں سميت اسے ديکھا۔
خوفزدہ ہيں کيا مجھ سے" اب کی بار پوچھے جانے والے سوال پر نشوہ کی تيورياں چڑھ گئيں۔
"افسوس آپکو يہ جان کر شديد مايوسی ہوگی کہ ميں اس قسم کی کسی بھی کيفيت ميں مبتلا نہيں ہوں" اس نے تلخی سے جواب ديا۔
"ہاہاہا! ايک بات تو بتائيں ميں نے آپ کا کيا چرايا ہے جو آپ مجھ سے اتنی خفا ہيں" اس نے نشوہ کے سامنے والی کرسی سنبھالتے ہوۓ اپنی آنکھوں کی چمک سے نشوہ کو نظريں چرانے پر مجبور کيا۔
"ميں اجنبيوں سے بے تکلف ہونا پسند نہين کرتی" اس نے جزلان کے سامنے جد بندھی کی ديوار کھينچی۔
"اجنبيوں سے بات نہين کرتيں مگر ان کے بارے ميں بات ضرور کرتی ہيں" اس نے واضح طنز کيا۔
"يہ مت بھوليں کہ اس فيلڈ ميں آنے کے بعد آپکی ذات پبلک پراپرٹی ہے اور پبلک پراپرٹيز کو تو ہر کوئ ڈسکس کرتا ہے" نشوہ نے واضح طور پر اسے اس کی حيثيت باور کرائ۔
تھوڑی تھوڑی دير بعد پين کو دانتوں ميں دبا کر رک جاتی جيسے کچھ سوچ رہی ہو۔ پھر دوبارہ سے پين حرکت ميں آجاتا۔
مزنی کی کال آئ تو اسے ايکسکيوز کرکے اٹھنا پڑا۔
اب جزلان کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف نشوہ تھی۔
نشوہ نے دل ہی دل ميں اسے کوسا کہ اب چلا بھی جاۓ۔
تھوڑی دير بعد بال پوائنٹ تھامے ايک مردانہ ہاتھ اس کی نظروں کے سامنے آيا۔
حيرت کے مارے اسے سر اٹھانا پڑا۔ نظر سيدھی سامنے کھڑے جزلان پر پڑی جس کے ہونٹوں پر استہزائيہ مسکراہٹ تھی۔
"کافی دير سے آپ کچھ لکھنے کی کوشش کر رہی ہيں۔ مگر افسوس آپ کے پين نے آپ کے ساتھ ضد باندھی ہوئ ہے نہ چلنے کی۔ تو ميں نے سوچا کيوں نہ آپکو اپنا پين دے دوں ہو سکتا ہے يہ آپکی مشکل آسان کردے۔" ايک گہری مسکراہٹ اس نے نشوہ پر اچھالی۔
"بہت شکريہ مجھے ضرورت نہيں" نشوہ نے نطروں کا رخ پھيرتے سنجيدگی سے جواب ديا۔
نشوہ نے اسے اپنی جانب آتا ديکھ کر فوراّّ نظريں پيپر پر جھکا کر بے مقصد پين چلاتے ايسے پوز کياجيسے کوئ بہت اہم پوائنٹس نوٹ کر رہی ہو۔
جبکہ مزنی جزلان کو اپنی جانب آتا ديکھ کر خوشی سے پھولے نہيں ےما رہی تھی۔
"ہاۓ تو آپ لوگ ہيں ذاکر صاحب کی جرنلسٹس۔ نشوہ کو ايک نظر ديکھ کر وہ مزنی کی جانب متوجہ ہوا۔
"ہاۓ يس سر۔۔ آپ کيسے ہيں۔" مزنی تو ايسے خوشی سے بولی جيسے پتہ نہيں کب سے اس کا انتظار کررہی ہو۔
"بالکل ٹھيک۔۔ہميشہ کی طرح بہت خوبصورت" اب کی بار اسکی متبسم آواز نشوہ کو سنائ دی۔
مگر اس نے پھر بھی سر اٹھا کر اسے ديکھنا مناسب نہيں سمجھا۔بلکہ وہ اسے اس قابل بھی نہيں سمجھتی تھی کہ ايک نگاہ بھی اس پر ڈالتی۔
وہ کافی دير وہاں کھڑا نشوہ پر گاہے بگاہے نگاہ ڈالتا مزنی سے باتيں کرتا رہا۔
مگر نشوہ نے بھی اپنا سر نہ اٹھانے کی قسم کھائ ہوئ تھی۔
جزلان کی فلم کے سيٹ پر پہنچتے ہی انہيں وہ ايکٹريس سامنے بيٹھی نظر آگئ۔ انہوں نے جاتے ساتھ ہی اسے قابو کرکے جلدی جلدی انٹرويو ريکارڈ کرنا شروع کيا۔
آدھے انٹرويو کے بعد اس ايکٹريس کے نخرے شرو ع ہو گۓ ۔
وہ پانی پينے کا بہانا کرتی اٹھ کر اسٹوڈيو کے اندر چلی گئ۔
انہيں يہ سب برداشت کرنا تھا آخر نوکری کا معاملہ تھا۔
"کيا مصيبت ہے ايک دنيا ميں لگتا ہے ہم ہی مصروف نہيں باقی تو پوری دنيا بڑے بڑے کام کر رہی ہے" نشوہ نے منہ بناتے ادرگرد ديکھتے تبصرہ کيا۔
اس نے يہ ديکھ کر اطمينان کيا کہ جزلان وہاں پر موجود نہيں تھا۔
حيرت بھی ہوئ کہ ايکٹرز موجود ہيں اور کام کرنے والہ اسٹاف بھی ہے مگر ڈائريکٹر اور پروڈيوسر نہيں۔
ابھی اس نے يہ سوچا ہی تھا کے سامنے سے وہ کريم کلر کے پينٹ کوٹ مين ملبوس ہلکی سی شيو ميں اپنے مغرور نقوش سميت سامنے سے آتا نظر آياا۔
مگر ڈائريکٹر اور پروڈيوسر کا نام سن کر نشوہ کو غش پڑنے لگ گۓ۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو اس بندے سے فون پر مرہ ماری کی تھی اور اب اسی کے سيٹ پر۔۔۔۔۔۔
"يار يہ ٹکلو باس کسی دن ميرے ہاتھوں قتل ہو جاۓ گا ميں بتا رہی ہوں تمہيں۔" مزنی کيمرہ۔۔رائٹنگ پيڈز اور ريکارڈر پکڑتی نشوہ کو بازو سے کھينچتے ہوۓ ساتھ لے جاتے مسلسل اس کی حالت پر مسکرا رہی تھی۔
اور نشوہ کی جان جلا رہی تھی۔
"وہ تمہيں کھا نہيں جاۓ گا۔ اس کو ديکھ کر ايسے پوز کرنا جيسے تم اسے جانتی ہی نہيں۔ اب خاموشی سے انٹرويو کے سوال لکھو اس سے پہلے کہ ميں تمہيں اس چلتی گاڑی سے دھکا دے دوں" گاڑی سٹارٹ کرکے سڑک پر لاتے مزنی نے اسے اب کی بار خاموش کروانے کے ليۓ دھمکی دی۔ جس کا نشوہ پر خاطر خواہ اثر ہوا۔
اف يار پليز سر سے کہہ کر کسی اور کو ساتھ لے جاؤ سيريسلی ميں اب خودکشی کر لوں گی۔" مزنی، نشوہ کی دہائيوں پر محظوظ ہو رہی تھی۔
"اب آيا نہ اونٹ پہاڑ کے نيچے" نشوہ کی جانب زچ کر دينے والی مےکراہٹ پھينکتے اس نے مزے سے سر کو جنبش دی۔
"تمہارے دانت تو ميں آج ہی توڑ دوں گی۔ کاش مجھے پتہ ہوتا وہ ہيروئن کس کے سيٹ پر موجود ہوگی تو کبھی بھی سر کے سامنے اس کا انٹرويو لينے کی ہامی نہ بھرتی۔"وہ مسلس تلملا رہی تھی۔
نشوہ کے باس نے اسے صبح ہی ايک مشہورو معروف ايکٹريس کا انٹرويو لينے کا کہا تھا۔ اس نے بڑے جوش و خروش سے سر ہلا کر ہامی بھر لی۔ مگر کچھ دير پہلے مزنی نے انکشاف کيا کہ وہ ايکٹريس اس وقت جزلان شاہ کی نئ فلم کے سگٹ پر ہے اور اس نے انہيں اپنی ايکٹريس کا انٹرويو کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ لہذا وہ مزنی کی گاڑی ميں وہاں جانے کے ليۓ تيار ہو رہيں تھیں۔
اور کبھی کبھی ايسوں کے ساتھ سب سے برا بھی ہو جاتا ہے" نشوہ نے اسے تصوير کا دوسرا رخ بھی دکھايا۔
"تو کيا تم يہ کہنا چاہتی ہو کہ نعوذباللہ اللہ ظالم ہے" مزنی نے سنجيدہ نظروں سے اسے کھوجا۔
"اللہ نہ کرے ميں کيوں ايسا سوچوں" اس نے برا مانا۔
"تو بس پھر وسوسوں کو دل ميں جگہ مت دو۔ اللہ پر يقين رکھو وہ کبھی تمہارے ساتھ غلط نہين کرے گا۔ جتنا وسوسوں ميں گھرو گی تو پھر برا نہ بھی ہونا ہوا تو تمہارے کمزور اعتقاد سے برا ہوجاۓ گا۔ اللہ نا انصافی کسی کے ساتھ نہين کرتا" مزنی نے اسکے ٹيبل پر دھرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔
نشوہ کو اندازہ نہ ہوا وہ يکدم غصے ميں کيا کہہ گئ ہے۔ مگر جيسے ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ توبہ استغفار کرنے لگ گئ۔
"اوۓ ہوۓ تو بات يہاں تک پہنچ گئ۔۔آخر اس نے تمہيں بھی امپريس کر ہی ديا" مزنی نے اسکی بات پکڑتے شرارت سے کہا۔
"اللہ نہ کرے مجھ پہ ابھی اتنے برے دن نہيں آۓ۔ اور ہاں امپريس تو نہيں مگر ڈپريس ضرور کر ديا ہے اسکی بکواس نے مجھے" نشوہ نے اب کی بار تشويش سے کہا۔
رات کو تو بہادر بن کر جزلان شاہ کو اچھی خاصی سنا ديں تھيں۔ مگر اب پريشان تھی کہ اس نے نشوہ کی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا کر کوئ نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
اور اپنے خيال کا اظہار نشوہ نے مزنی سے بھی کر ديا تاکہ وہ اسے کوئ بہتر مشورہ بتاۓ۔
"پاگل مت بنو۔۔جو لوگ کسی کا برا نہيں کرتے انکے ساتھ اللہ کبھی برا نہيں کرتا" مزنی نے اب کی بار سنجيدگی سے اسے سمجھايا۔
نشوہ نے محبت سے اسے ديکھا جو اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔ اچھے دوست بھی اللہ کا انعام ہوتے ہيں۔ اور مزنی ايسی ہی تھی۔ اس کے ہر درد سے واقف۔
"يہيں بيٹھو ميں بتاتی ہوں" نشوہ نے مزنی کو اپنی ٹيبل کے سامنے رکھی کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کيا اور آہستہ آواز ميں رات ميں جزلان شاہ سے ہونے والی گفتگو الف سے ے تک سناتی چلی گئ۔
مزنی تو حيرت کے مارے بے ہوش ہونے کو تھی۔
"کس قدر ناشکری عورت ہو تم۔۔۔اس اپالو نے تمہيں دوستی کی آفر کی۔ وہ نک چڑھا جو اپنی فينز کے ساتھ تصويريں بھی ايسے بنواتا ہے جيسے ان پر احسان عظيم کر رہا ہو۔ اس نے ميری اتنی بکواس حليے والی دوست کو کيا کمال آفر کی اور تم بے وقوف نے اسے ٹھکرا ديا۔ بہت ہی کوئ بدذوق عورت ہو" مزنی کی آہيں جاری و ساری تھيں۔
"تم سے ايسے کہہ رہی ہو جيسے اس نے مجھے دوستی کی نہيں شادی کی آفر کر دی ہو"
جزلان پيسے کی بنا پر ہی اپنی طبقت دکھا کر ہی نشوہ کو لوئر کلاس کی لڑکی سمجھ کر اپنی دوستی کے شکنجے ميں پھنسانا چاہتا تھا۔
کاش وہ بھی اتنی ہی مالدار ہو جاۓ کہ اس جزلان جيسے ہوارورں کو منٹ ميں لائن حاضر کر سکے۔ سر اونچا اٹھا کر غائب دماغی سے مزنی کو ديکھتے اس نے سوچا۔
"کيا ہو گيا ہے کہاں کھوئ ہو ميڈم" مزنی نے اسکی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر اسے متوجہ کيا۔
"کچھ نہيں تم بتاؤ اپنے کيبن ميں تمہيں چين نہيں جو ميری کن سوئياں لينے آ جاتی ہو" اس نے بگڑتے ہوۓ کہا۔
"مسئلہ بتاؤ اور مجھے پتہ ہے جب تک بات کرو گی نہيں اسی طرح سڑے کريلے جيسی شکل رکھوگی اور تمہں پتہ ہے جب تک ميں تمہارے دماغ ميں چلنے والا مسئلہ نہيں جان لوں گی چين سے نہين بيٹھوں گی۔ اب بتاؤ کہاں جا کر پھوٹو گی يہاں يا لنچ کے لئيۓ کيفے جا کر۔"
ہيلو ہيلو۔۔۔
بگڑے بگڑے سے ميرے سرکار نظر آتےہيں۔
کسی کی عزت افزائ کے آثار نظر آتے ہيں" وہ جو اپنے کيبن ميں پيپرز سامنے پھيلاۓ کھنٹے سے نيا آرٹيکل لکھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر دسواں صفحہ بھی ردی کی ٹوکری کی نظر کرنے کے بعد اپنے منتشر ذہن کو قابو ميں کرنے کے ليۓ سر ہاتھوں پر گراۓ بازو ٹيبل پر رکھے خود کو پرسکون رکھنے کے جتن کر رہی تھی۔ اسی لمحے مزنی نے اسکے کيبن ميں جھانکا اور اسے اس پريشان حالت ميں ديھک کر شرارت کيۓ بغير نہيں رہ سکی۔
رات ميں جزلان کی عزت افزائ کرنے کے بعد بھی اسے سکون نہيں ملا تھا۔ وہ کوئ گری پڑی لڑکی تھی جسے اس نے اتنی گھٹيا آفر کی تھی۔ پيسہ انسان کو کتنا مغرور اور طاقتور بنا ديتا ہے۔ کل رات اسے اس بات پر يقين ہوگيا تھا۔
مگر وہ اسے کسی صورت بخشے گا بھی نہين۔ کوئ ايسا پيدا نہيں ہوا تھا جو جزلان شاہ کی اس طرح تذليل کرے۔۔
اور نشوہ نہ صرف يہ ہمت کر چکی تھی بلکہ وہ جزلان کی دشمنوں کی فہرست ميں دشمن اول بھی بن چکی تھی۔
وہ موبائل کو بيڈ پر پھينکتا اب اپنی حماقت پر پچھتا رہا تھا کہ اس نے ايسی مغرور لڑکی کو يہ سب کہنے کا موقع ہی کيوں ديا۔ ہاتھ بالوں ميں پھنساۓ گود ميں رکھے تکيے پر کہنياں ٹکاۓ وہ اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بالآخر جب کہيں سکون نہيں آيا تو وہ روم ريفريجريٹر کی جانب بڑھا۔ اپنا پسنديدہ مشروب نکالا اور اپنے اندر کی کھولن کو کم کرنے لگا۔
يہ تو طے ہوگيا تھا وہ کبھی نہ کبھی اس لڑکی سے بدلہ ضرور لے گا۔
___________________
دعا کريں صبح کے اخبار ميں ميں آپ کی شرافت کا بھانڈا نہ پھوڑ دوں۔ نمبر ليا ہے تو يہ بھی جانتے ہوں گے کہ جرنلسٹ ہوں اور کالمز بھی لکھتی ہوں۔ اخبار والے تو ويسے بھی چٹ پٹی خبریں چھاپنے کے شوقين ہيں۔۔۔ باۓ" نشوہ استہزائيہ لہجے اور الفاظ نے اسکی ذات کے حقيقت ميں پرخچے اڑا دئيے۔
ايک معمولی سی جرنلسٹ جو چھوٹے سے گھر ميں اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہے۔ باپ اس کا مر چکا ہے۔ اور کوئ رشتے دار ہے نہيں۔ وہ جزلان شاہ کی اس آفر کو جو يقيناّّ اس نے آج تک کسی کو نہين کی کسی خاطر ميں لاۓ بغير اسکی ذات کے بخيے ادھيڑ گئ تھی۔
اپنے دو سو گزپر بنے گھر ميں ہر آسائش سے سجے کمرے ميں بيٹھے اس کا غم و غصے سے برا حال ہوگيا۔
فی الحال تو وہ کسی ردعمل کے نتيجے ميں اس لڑکی کو کچھ نہين کہہ سکتا تھا کيونکہ وہ ہر وقت خبروں اور اپنے پرستاروں کی زد ميں تھا۔
جو بھی ہے مگر آپ ہر گز نہيں ہيں۔ سو آئندہ مجھے کال کرنے کی کوشش مت کيجئيۓ گا" اپنے تيکھے لہجے ميں کہتی وہ دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
جزلان يہی سمجھا کہ خوامخواہ کے نخرے کر رہی ہے۔
"اچھا لسن۔۔۔آئ وانٹ ٹو بی يور فرينڈ" جزلان نے اپنے مخصوص مغرور انداز ميں کہا۔
مگر وہ يہ نہيں جانتا تھا کہ اس کے سامنے نشوہ شاہ ہے جو کوئ عام لڑکی نہيں نہ عام جذبات رکھتی ہے۔
"کاش ميں آپکی يہ آفر سن کر خوشی سے پاگل ہو جاتی مگر افسوس آپ ميرا جواب سن کر ضرور غم و غصے سے پاگل ہو جائيں گے" اس نے کاٹ دار لہجے ميں کہا۔
"اس تھرڈ کلاس آفر کو ميں کنسيڈر کرنا بھی توہين سمجھتی ہوں ۔ جس خام خيالی ميں آپ نے مجھے کال کی ہے اسے خام خيالی ہی رہنے ديں۔ ہم جيسے لوگوں سے بات بھی آپ جيسی پبلک سيليبرٹيز کو بڑی سوچ سمجھ کر کرنی چاہئيے۔
"تو مبارک ہو آپ کا سرکل مجھ جيسی سے محروم ہی رہے گا۔ اس قسم کی گری ہوئ آفرز آپ اپنے جيسيوں کو کريں۔ آئم ناٹ آف يور ٹائپ" اس نے جان چھڑاتے ہوۓ صاف الفاظ ميں اسے انکار کيا۔ اس نے اپنی بائيس سالہ زندگی ميں کبھی کسی لڑکے سے دوستی نہيں کی تھی۔ کجا کہ وہ جزلان جيسے اوباش بندے کو دوست بناتی جس ميں دنيا جہاں کی برائياں تھيں۔ جنہيں اس کی اچھی پرسنيلٹی، اعلی لہجہ اور پيسہ دبا ديتا تھا۔
اس نے آج تک کسی لڑکی کو خود سے دوستی کا نہيں کہا تھا يہ پہلی تھی جو جزلان کے خود سے فون کرنے کور ايسی آفر کو کسی خاطر ميں نہيں لا رہی تھی۔
جتنا وہ انکار کر رہی تھی اتنا ہی جزلان اس کی جانب کھچ رہا تھا۔
"چليں يہ بتائيں آپ کی ٹائپ کيا ہے" وہ کيوں اس تحمل سے اس کی بتنی باتیں سن رہا تھا يہ وہ خود نہيں جانتا تھا۔
"
بلکہ ان کی بولتی بھی بند کرواتی ہوں۔ کسی بھول ميں مت رہيۓ گا۔" وہ اسے وارن کرتی جزلان کی اچھی خاصی خبر لے گئ تھی۔
"ہاہاہاہا۔۔۔واؤ۔۔۔سيريسلی آئ لائک دس ڈيرنگ سٹائل۔ گڈ ٹو نو کہ آپ جيسی نڈر لڑکياں بھی اس ملک ميں ہيں۔ جو ہم جيسوں کے ہوش اڑا سکتی ہيں" جزلان کے بے باک انداز نے اسے سر سے پاؤں تک ہلا ديا۔
"ايکسکيوزمی مسٹر اپنی يہ چيپ اور تھرڈ کلاس گفتگو آپ اپنی فلموں تک محدود رکھيں۔ مجھ جيسيوں تک کنووے کرنے کی ضرورت نہين" وہ غصے سے آگ بگولا ہو رہی تھی۔
"چليں ايک ڈيل کرتے ہيں ميں آپ کو اپنی باتوں سے تنگ نہيں کروں گا اگر آپ مجھ سے دوستی کر ليتی ہيں۔ ميرے سرکل ميں ابھی تک آپ جيسی بندی نہيں آئ" وہ تو جيسے آج نشوہ کو زچ کرنے کی قسم کھاۓ بيٹھا تھا۔
"
ہاہاہا آئ لائا يور سٹائل۔۔۔بڑی توپ چيز ہيں بھئ۔ ميں جزلان شاہ بول رہا ہوں جس کی فلم پر کچھ دن پہلے آپ نے سينما ميں بيٹھے کافی سير حاصل گفتگو کی۔ ميری ذات کا جتنی باريک بينی سے آپ نے جائزہ ليا ہے۔ ديٹ از سيريسلی ويری امپريسيو۔ ميں بہت کم کسی کی تعريف کرتا ہوں۔ آپ پہلی وہ خوش نصيب خاتون ہيں جس نے مجھے متاثر کيا ہے۔۔۔ادروائز تو سب عقل سے پيدل ہوتی ہيں" نشوہ کو اپنے بارے ميں بتاتا وہ استہزائيہ ہنسا۔
جہاں اس نے نشوہ کو کچھ دن پہلے کا واقعہ ياد دلا کر اس کی سيٹی گم کی وہيں اپنے غرور ميں عورت ذات پر کئيۓ جانے والے تبصرے نے نشوہ کا دماغ بھک سے اڑايا۔
"ايکسکيوزمی مسٹر اول تو يہ کہ ميرا نمبر آپ نے کس خوشی ميں ليا۔ دوسرے يہ کہ مجھے آپ کے امپريس ہونے يا نہ ہونے سے کوئ مطلب نہيں۔ ميں دن ميں آپ جيسے ہزاروں لوگوں کو نہ صرف امپريس کرتی ہوں
کيسی ہيں مس جرنلسٹ" اب کی بار طنز ميں چھپی آواز آئ۔
"سوری آپ کون ميں نے پہچانا نہيں" نشوہ نے سچائ سے کہا۔
"آپ ميری آواز يقيناّنہيں پہچانتی ويسے تو بڑے بڑے انکشافات کرتی ہيں ميرے بارے ميں" مسکراتی آواز نے نشوہ کو الجھن ميں ڈالا۔
"ديکھيں آپ جو کوئ بھی ہيں مجھے نہيں معلوم آپ کا وقت قيمتی ہے کہ نہيں مگر ميراوقت بہت قيمتی ہے اور ميرا اس وقت فضول کی کسوٹی کھيلنے کا کوئ موڈ نہيں لہذا آپ مہربانی فرما کر اپنا تعارف کرواۓ نہيں تو ميں کال کاٹ دوں گی۔" نشوہ نے بيزاری سے کہا۔
اب کی بار اس نے کال بھی نہيں کاٹی فون تو پہلے بھی سائلينٹ پہ تھا۔ اسی ليۓ اسے کوئ ٹينشن نہيں تھی۔ کئ مرتبہ انجان نمبر کی کال کاٹنے پر بھی اگلے بندے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ دوسری طرف لڑکی ہے جو بات کرنے سے کترا رہی ہے۔
جيسے ہی کال بند ہوئ اب کی بار نشوہ کو ميسج موصول ہوا۔
اس نے بھنا کر ان باکس کھولا۔
"نشوہ پليز پک اپ مائ کال" اپنا نام ديکھ کر وہ سمجھ گئ کہ کسی جاننے والے کی ہی کال تھی۔
لہذا اب کی بار کال آنے پر اس نے دوسری بيل پر ہی اٹھا ليا اور کان سے لگاتے سلامتی بھيجی۔ اس کی عادت تھی وہ کبھی فون اٹھاتے ہيلو نہيں کہتی تھی ہميشہ سلامتی بھيجتی تھی۔
"وعليکم سلام" فون کے دوسری طرف سے ابھرنے والی بھاری گھمبير آواز نشوہ کے ليۓ انجان ہی تھی۔ اس نے تھوڑی دير رک کر پہچاننے کی کوشش کی۔
"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain