اس لڑکی کا پتہ کرواؤ" جزلان ميں اس سے زيادہ سننے کی ہمت نہيں تھا۔ وہ غصے کے عالم ميں اٹھتا اپنے ايک بندے کو نشوہ کے پيچھے لگا کر سينما ہال سے باہر نکل آيا۔۔
___________________
"اسلام عليکم" نشوہ بيڈ پر اپنے کمرے ميں بيٹھی ليپ ٹاپ کھولے آفس کا کام کرنے ميں مصروف تھی۔
رات کے اس پہر ايک بجے ايک انجان نمبر سے موبائل پر آنے والی کال کو ديکھ کر حيران ہوئ۔ مگر فون اٹينڈ کرنے کی بجاۓ کاٹ دی۔
اس وقت زيادہ تر محبتوں کے مارے مجنوں کالز کرکے چيک کرتے ہيں کہ کہيں کوئ لڑکی ان کے انتظار ميں جاگ رہی ہو تو گھٹيا بات چيت کرکے فلرٹ کو فروغ ديا جاۓ۔
وہ اتنی ميچورڈ اپروچ کی تھی کہ کبھی اس طرح کی سستی محبت ميں نہيں پڑی تھی۔
وہ پھر سے اپنے کام ميں مصروف ہوگئ۔ ابھی کال بند کئيۓ دوسيکنڈ نہيں گزرے تھے کہ دوبارہ سے وہی نمبر موبائل اسکرين پر جگمگانے لگا۔
اف ايک قيامت برپا کرديتا ہے" مزنی تو شديد حد تک متاثر تھی اس سے۔
"ايک تم۔۔۔ايک تمہاری دنيا کو ايسے لفنگے ہی پسند ہے۔ شکر ہے خود کام نہيں کرتا نہيں تو بالکل ہی فلاپ ہوں اس کی فلميں۔۔۔ہمم بدمعاش کہيں کا۔۔سگار پيتے ہوۓ تو با لکل ہی کريپی لگتا ہے" نشوہ کو ويسے بھی سگريٹ اور سگار پينے والے مرد بہت ہی برے لگتے تھے۔
جزلان سگار کے کش ليتے اپنے ضبط کا امتحان لے رہا تھا۔
اس کے ساتھ ہی اس کا ايک باڈی گارڈ بھی بيٹھا تھا۔ اس کے سامنے ايک لڑکی کے ہاتھوں اتنی بے عزتی اسے شديد طيش دلا رہی تھی۔
"اور يہ فلم ديکھو ذرا سواۓ بے حيائ اور عريانی کے ہے ہی کيا اس ميں۔ عورت کو کس گندے روپ ميں دنيا کے سامنے پيش کيا جا رہا ہے۔ يہيں سے اسکی ذہنيت کا پتہ چلتا ہے" اس کے اعتزاضات کا پٹارہ بند ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا۔
"
جو سن لے گا" اندھيرے کے سبب کوئ نہيں جانتا تھا کہ اس فلم کا ڈائريکٹر اور پروڈيوسر ان کے درميان ہے۔
فلم کو لگے ہفتہ ہوا تھا۔ جزلان کی عادت تھی وہ اپنی فلم کے ريليز ہونے کے بعد کوئ ايک شو عام لوگوں کے ہمراہ بيٹھ کر ضرور ديکھتا تھا۔
جب ہر جگہ اس کی تعريف ہوتی تھی تو اس کے غرور کا گراف کچھ اور اونچا ہو جاتا تھا۔ نخوت حد سے سوا ہو جاتی تھی۔ اور پھر شہرت اور پيسہ دو ايسی چيزيں ہيں جو انسان کو کبھی بری نہيں لگتيں۔
پيسے کی اس کے پاس کبھی کوئ کمی نہيں رہی تھی ہاں شہرت کا نشہ اسے ضرور چڑھ چکا تھا۔
"ايک تم بے وقوف ہو جسے وہ ڈان، چرسی اور اسگلر لگتا ہے۔ ميں تو کہتی ہوں اسے خود اپنی فلموں ميں کام کرنا چاہيۓ۔ ايک دنيا فدا ہے اس پر۔۔کيا پرسنيلٹی ہے کسی بھی لڑکی کا آئيڈيل ہے وہ۔۔۔اور جب سگار کے کش لگاتا ہے
اس کا سگار پيتا ہاتھ کتنے لمحے ايک ہی جگہ پر ساکت ہوگيا۔
وہ سوچ بھی نہيں سکتا کہ جن دو لڑکيوں کی بحث وہ پچھلے دس منٹ سے سن رہا تھا ان ميں سے ايک اسکے بارے ميں اس طرح کے خيالات رکھتی ہوگی۔
وہ جو پيدا ہی دنيا کو تسخير کرنے کے ليۓ ہوا تھا۔ جسکی خوبصورتی اور مغرور پرسنيلٹی ديکھ کر لڑکياں آہيں بھرتی تھيں۔ اس کے ساتھ ايک تصوير لينے کے ليۓ مری جاتی تھيں۔ ايک عام سی لڑکی يوں اسکی شخصيت کی دھجياں بکھير دے گی۔
اس نے آج تک اپنے ليۓ صرف تعريفی کلمات سنے تھے۔ جنہوں نے يقيناّ اس کا دماغ ساتويں آسمان پر پہنچا دياتھا۔ کہ وہ ايک لڑکی کے منہ سے اپنی بدتعريفی برداشت نہيں کر پايا
"پاگل آہستہ بولو" مزنی نے اسے چپ کروانا چاہا۔
"کيوں آہستہ بولوں۔۔وہ کوئ يہاں بيٹھاہے
يار تم تو ہو ان رومانٹک، کاش تمہيں اندازہ ہو يہ دونوں ايک دوسرے کے قريب کھڑے ايک پرفيکٹ ورمانٹک کپل نگ رہے ہيں" مزنی نے جس حسرت کا مظاہرہ کيا نشوہ نے افسوس سے سر ہلايا۔
"تو بيٹا تمہيں انکے رومانٹک کپل ہونے پر کيا فائدہ مل رہا ہے۔ فلم ہے کس کی اور ڈائريکٹر کون ہے" نشوہ نے اپنے دھيان ميں سرسری سا پوچھا۔
"ہاۓ ميرا آل ٹائمز فيورٹ اينگری ينگ مين۔ جزلان شاہ" مزنی نے محبت سے چور لہجے ميں جس شخص کا نام ليا نشوہ کو تو سنتے ساتھ ہی چارسو چاليس والٹ کا کرنٹ لگا۔
"وہی اسمگلر۔۔۔چرسی۔۔۔بڑا ڈان" نشوہ کی آواز ايک چيخ کی صورت نکلی۔ جو اس کی سيٹ کے بالکل پيچھے بيٹھے جزلان تک باسانی پہنچ چکی تھی۔
يہ۔۔۔۔يہ گھٹيا فلم تم مجھے دکھانے لائ ہو" نشوہ نے نہايت بيزاری اور اکتاہٹ سے سينما کی اسکرين پر محجت کے گيت گاتے ہيرو، ہيروئن کو ديکھتے مزنی سے کہا۔
وہ دونوں ميٹرک سے لے کر يونيورسٹی تک بہترين دوست رہيں تھيں اور اب يونيورسٹی ختم ہوتے ہی جاب بھی اکٹھے کر رہيں تھيں۔
ہفتے کی رات تھی مزنی نے مووی کا پروگرام بنا ليا۔
چھ سے نو کا شو ديکھنے کی دونوں کو بڑی مشکل سے اجازت ملی۔
نشوہ سمجھی کوئ بہت کمال کی فلم ہے جسے ديکھنے کے ليۓ مزنی نے پچھلے ايک ہفتے سے رٹ لگائ ہوئ تھی۔
مگر فلم ديکھتے اسے سخت مايوسی ہوئ وہی گھسا پٹا اسکرپٹ۔ ايک لڑکا، ايک لڑکی کچھ ظالم سما ج جو ان کی محبت کے بيچ آجاتے ہيں۔
اچهی باتوں کا اثر آجکل اس لیے بهی نہیں ہوتا کیونکہ لکهنے والا📝اور پڑهنے والے یہ سمجهتے ہیں کہ یہ دوسروں کے لیے ہے✴
صرف محبتوں کے چکر میں ہی دل اداس نہیں ہوتے
اللہ کے حق میں کمی کرنے سے
نمازیں چھوڑنے سے
جھوٹ بولنے سے
قرآن کو نہ پڑھنے سے
خیانت کرنے سے
یہاں تک کہ گانے سننے سے بھی دل کا سکون رخصت ہوجاتا ہے
ایک بے نام سی بے چینی رہتی ہے
اس بے چینی کی جڑ ہی اللّٰه سے دوری اللّٰه کو یاد نہ رکھنا ہے
💞
محبوب کا اظہارِ محبت عورت دل پر لکھتی ہے ، اور اولاد کا اظہارِ محبت روح پر۔
پہلا قبر تک جاتا ہے دوسرا آسمانوں تک ساتھ لےکر جاتی ہے۔
الف از عمیرہ احمد
الحمداللہ کہئیے اور خوش رہئیے.
آپ کی زندگی لاکھوں لوگوں سے بہترین ہے
بیشک🌼
ﻟﻮﮒ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ میں ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮوں 🙄
ایسا کیسے ہو سکتا ۔۔۔؟ 😕
اب میں کون سا سیڑھی ساتھ لے کے گھومتی ہوں جو مزے سے اتر جاؤں 🤗
میں کیسے اتروں ۔۔۔🤯
نہیں مطلب کیسے ۔۔۔۔؟؟؟؟ 😕
شاہ چلا ہی تو پڑا تھا
تم لوگ نیو پیدا کر لینا ،،
تعبیر نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا تو سب کا قہقہ بلند ہوا جس پر عائشہ شرما کر شاہ کے سینے میں منہ چھپا گئی
اللہ اللہ بے شرموں،،
عائشہ تعبیر حریم اور آئزا کی زندگی بہت خوبصورت ہو گئی تھی تین سال کا یہ عرصہ بہت خوبصورت تھا کچھ نئے لوگ بھی شامل ہوئے اس سفر میں کچھ چلے گی عائشہ بہت برے حالات سے گزری پر ہمت کرتی رہی ان سب کی محبت نے ایک ساتھ جوڑا رکھا سب کو ان کی محبت عشق تک پہنچ گئی تھی سجدہ بھی ان لوگو نے کبھی نہیں چھوڑا تھا اور عشق تو ان سب کے اندر بس چکا تھا اللہ کے سامنے اللہ کے گھر و لوگ آج سب مل کر سجدہ ع عشق کر رہے تھے کیونکہ
ساجدہ ع عشق میں گرنے کے واسطے
زندگی مانگ لیا تُجھے راب سے
The end
ہاں تو شازب بھائی بتاؤ زار میرا ہوا پھر،،
شاہ ہنس دیا زار عائشہ کا ہے میری تو افشال ہے ،،
چلیں پھر عائشے جی آج سے زار ہمارا میری زرشائل اور زار ڈان ہو گے ،،
یہ تم منگ رہی ہو یا حکم دے کے ہمارا بچا ہم سے چھین رہی ہو ،،
جو مرضی سمجھو زار تو اب میرا ہوا ،،
اسے کیسے جی تم،،
اس سے پہلے کے عائشہ کچھ اور بولتی ایان نے فوراً ٹوکا
اور ہاں شازب صاحب سن لو آج کے بعد افشال آپ کی نہیں ہماری ہوئی سمجھے ہمارا آفاق اور افشال ماشاء اللہ ،،
ہیں!!!!!! ہمارے بچے ہم کہاں جائیں گے پھر،،
وہ تمہیں اپنانا ہی تو نہیں چاہتا ہوں تھا اسے و میل گیا تو وہ پھر تمہیں کیوں دیکھے دوبارہ پھر
بے بسی کی انتہا دیکھنی ہے
تو دیکھو مقدر بنت خوا کا
جو آج بھی بے گناہ ماری جا رہی ہے
کبھی بھی کے گناہوں پر تو کبھی باپ کی غلطیوں پر
جو تم سے سچ محبت کرتا ہو گا وہ کبھی تم سے زاہدہ بات نہیں کرے گا نہ تم سا کسی چیز کی ڈیمانڈ کرے گا وہ نکاح کرے گا صرف نکاح
تعبیر تعبیر۔۔۔علی کی جان کہاں کھو گئی،،
تعبیر ایک دم ہوش میں آئی
کچھ نہیں ما۔۔میں یہی تھی،،
اعلی نے پیار سے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دی اور تھوڑا سا پیچھے ہو کے علی کے کندھے کے ساتھ ٹیک لگا ہے
ایسے لوگوں پے ایک بات جان لو جو سچ ہو گا و برای سے روکے گا اور باتیں بتائیے گا زندگی کی محبت کی اور جو جھوٹا ہو گا وہ تجھے برائے کی طرف لے کر جائے گا وہ تجھے زندگی سے کہیں دور محبت سے کہیں دُور گندی دنیا میں لے ہے گا وہ تم سے شیطانی باتیں کرے گا وہ توجہ سے ترے جسم کا پوچھے گا وہ سچی نہیں ہو گا وہ جھوٹے ہیں فریبی ہے بھوکے بعض ہے بظاھر و تم سے کہیں گا میں تم سے نکاح کرو گا ایسے ویسے مگر و خالی دھول ہو گا وہ کبھی بھی تم سے محبت نی کرے گا بلکہ تم پر اپنی ہوس پوری کرے گا اور جب تم نے اس کے مفاد سے اسے منع کیا تو وہ لڑے گا زللی کاری گا ناراضگی دکھائے گا اور پھر تباہ کر دے گا سنوکسی مجبوری کا نام دے کر سنو مرد کبھی بھی کسی بھی حال میں مجبور نہیں ہوتا وہ بول سکتا ہے اگر وہ بولنا چاہے
اس کی خوشی ہنسی غم دُکھ درد سب کچھ اپنے نام کرتے ہیں اُن کو خوش رکھتے ہیں چاہے خود کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہوں کبھی بھی اس پر انچ نہیں آنے دیتے چاہے خود مر رہے ہوں کیونکہ عورت ایک نازک سا کانچ کی گڑیا ہوتی ہے اور گڑیا کو تو سنوار سنوار کر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ ذرا سی بات اختیاری پر ٹوٹ ہی نہ جائے
محبت حمے خود غرض ہونا نہیں دیکھتی بلکہ محبت ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا سیکھتی ہے یہ محبت ہوئی کے ایک تو رہا ہے اور دوسرا پاس بیٹھا ہنسے اس کے رہنے پر یہ کیسی محبت ہے ایک پاگل ہو محبت میں اور دوسرا انا پرست اپنی انا کا جھنڈا لہرایا رہے ہر وقت اور اگلے کو رُلاتا رہے محبت توجہی کوئی آج تک نہ سمجھ سکا اور جو سمجھا تو وہ جان سے گیا پھر
اکثر لوگ محبت کو مجبوری کا نام دیتے ہیں مجھے ہنسی آئی ہے
وہ شاہ کی طرح بننا چاہتا تھا اور پھر وہ بنا بھی تھا کہتے ہیں نہ زندگی میں کچھ چیزیں ہمارے بھلے کے لیا ہے ہوتی ہیں اور جب اللہ تعالٰی نے کہا ہے کہ پاک مردوں کو پاک عورتیں اور بڑے مرد عورتوں کو بڑے ہی ملنے ہیں تو تعبیر پھر کیوں انکار کرتی اپنے رک کی مرضی کے فیصلے پر وہ ماں ہے تھی اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے شاہ کی محبت نے اسے کبھی رخ تکلیف نہیں دیا جا اس کی معصوم محبت پر سوال کیا جا ئے کی نہ قدری کی نہ اسے ذلیل کیا نہ اسے ہاں شاہ محبت نے اسے کبھی بھی نہیں توڑا تھا اور شاہ نے اسے ٹوٹنے سے پہلے ہی ایک ایسے انسان کے خوالے کیا تھا جو خود کی جان پے بھی کھیل جاتا مگر تعبیر کو افف تک نہ کہتا کیونکہ نیک مرد کبھی بھی اپنی بیویوں کے ساتھ برا سلوک نہیں کرتے نی کسی کو کرنے دیتے ہیں کیونکہ نکاح کرکے و عورت کو اپنے نام کرتے ہیں
شاہ نے سکون کا سانس لیا سب گھر والے ایک دفعہ پھر سے زندگی کی طرف مائل ہوئے سب نے عائشہ کا بہت خیال رکھا تعبیر کا نکاح علی سے ہو گیا تھا اس کے لیا یہ فیصلہ بہت مشکل تھا مگر جب یہ جانا کہ یہ شاہ کا انتہائی ہے اس کے لیا تب وہ بے فکر ہو گئی وہ جانتی تھی شاہ کبھی بھی اسے برے ہاتھوں میں نہیں بھیجے گا وہ جانتی تھی شاہ اسے اپنے جیسا ہی کوئی ڈھونڈ کے دے گا فیصلہ بہت مشکل تھا اس کے لیے مگر اس نے لیا تھا کیونکہ اب اور کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا علی شاہ کا بہت اچھا دوست تھا کافی عرصے سے دونوں ساتھ کام کر رہی تھی وہ بالکل شاہ کی طرح ہی تھا نرم تنیت کا کیونکہ شاہ نے اسے اپنے جیسا خود بنایا تھا اپنی اداتو سے اپنے کاموں سے اپنی حرکتوں سے و ہر وقت شاہ کے ساتھ ہوتا تھا آفیس میں اس آج تک شاہ کو کسی کی طرف مائل ہوتی نہیں دیکھا تھا
انصاف کر سکتے ہو تب دوسری شادی کرو ورنہ نہیں اور وہ خود اقرار کر رہ تھا کے و نہیں انصاف کر سکتا تو وہ پھر کیسے کسی کی زندگی تباہ کر دیتا نہیں کبھی نہیں وہ اس دن بہت رویہ تھا عائشہ کے پاس کے نماز پیچھا کر و بہت رویہ اللہ سے بہت سی دعائیں کی پھر عائشہ کے پاس بیٹھ کر بہت کہا
عائشہ آٹھ جاؤ نہ دیکھو آٹھ جاؤ ورنہ آج دادا جان کا فیصلہ نہ جانے کتنی زندگیاں تباہ کر دی گئی عائشہ پلیز آج میری سن لو آج بس پھر جو مرضی کرنا میں کش نہیں کہو گا کبھی پلیز،،
وہ عائشہ کا ہاتھ پکڑے رو رہا تھا جب ایک دم اس کی سانسیں تیز ہوئی جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا گیا ایک دفعہ پھر سے ڈاکٹرز نے ہمت کی اس کے دل کا آپریشن کیا گیا پھر سرجری اور نہ جانے کیا کیا آخر تین گھنٹے کے طویل سفر کے بعد عائشہ نے آنکھیں کھول دی مگر چھت کو ہی گھورا بس مگر اب وہ خطرے سے باہر تھی
پھر وہ تینوں گھر آئے تو گھر میں سب آئے ہووے تھے ایان حریم عائزہ دادو تعبیر لوگ سب ہی تو تھے وہاں وہ ایک دم خوش ہو گئی خوشیاں اب اس گھر کا مقدر تھی بہت امتحان آئے مگر اب خوشیوں کا وقت تھا محبتوں کا وقت تھا فیملی ٹائم تھا سب میل کے بٹن کرنے لگے تعبیر علی کو دیکھتی کسی اور ہی جہاں میں گم ہو چکی تھی
اس دن شاہ عائشہ کے پاس چلا گیا تھا جب دادا جان نے تعبیر سے نکاح پر اجازت دے دی و جانتا تھا وہ غلط کرے گا یہ نکاح کر کے عائشہ کے ساتھ خود کے اور سب سے بڑھ کر تعبیر و عائشہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا عائشہ کا ہاتھ پکڑے بس روۓ جا رہا تھا اور اللہ سے فریاد کر رہا تھا کے و اس کی مدد کے وہ انصاف نہیں کر سکتا تھا اگر وہ تعبیر سے نکاح کر لیتا تو کیونکہ اللہ بھی کہتی اگر تم افورڈ کر سکتے ہو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain