عائش میں بھی ہوں مجھے بھی گلے لگا لو یار
زار جو پیچھے کھڑا منہ کے ڈیزائن بنا رہا تھا ایک دم بولا تو عائشہ شاہ سے الگ ہوئی اور نیچے بیٹھ گئی
ہائے او رہنا مجھے دوسرا شاہ مل گیا ہے یہاں تو اؤ اِدھر،،
او جان شاہ میرا بہت اُداس ہوا تھا آپ سے،،
ڈرامے باز نہ ہو تو میرا پارا بیٹا،،
عائشہ نے اس کے دونوں گالو پے باری باری کیس کیا جو پہلے ہوئے بہت خوبصورت تھے بلکل شاہ کی کاپی تھا زار بھی
افشال کہا ہے،،
ایک دم عائشہ کو اپنی بیٹی کا خیال آیا
آئی سويعر عائش میں اور ڈیڈ اسے لینے گے تھے مگر وہ اپنے ایک منٹ بڑا ہونے کا روب دل کر کہتی ہے میں شام کو آفاق کے ساتھ آ جاؤ گی جاؤ تم ،،
زار صحیح افشال کی نقل اتارتے ہوئے بتا رہا تھا شاہ اور عائشہ کا قہقہ بے اختیار تھا
جس کو موت تک پہنچانے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کی زندگی تم نے برباد ہی تو کر دی تھی ،،
وہ رو دیا اور ہاتھ جوڑنے لگا جو ہل ہی رہے تھے بس و ہنس دی اور وہ رو دیا کبھی و بھی دن تھے جب وہ رو رہی تھی فریاد کر رہی تھی اپنی زندگی کی اپنے وجود میں پلنے والی جان کی زندگی کی مگر اس ظالم کو ترس نہیں آیا تھا عائشہ نے اپنے آنسو انگلی پر چن کے انگوٹھے سے دور جھٹک دیے اور مسکرا دی
میڈیا والی اس کے آس پاس تھے مگر وہ سامنے کھڑے اپنے بچوں اور شاہ کو دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی شاہ بھی مسکرا رہا تھا عائشہ بھاگ کے شاہ کی طرف گئی شاہ نے بازو پھیلا لیے اور وہ ان میں جا سمائی نیو بہت خوبصورت لگ رہی تھی بہت خوبصورت میڈیا والو نے ایک ساتھ کلک کیا منظر کو جو خوشیوں سے بھر پور تھا محبتوں سے بھر پور تھا
انہیں کیسز کے سلسلے میں مگر و نہیں لیتی تھی کیونکہ وہ لوگ جھوٹ فریب دھوکہ دہی سب کرنے کو کہتے تھے اور وہ اسے گوارا نہیں تھا
نہال کو اس کے سامنے سے لے کر کیا جانے لگی تو وہ اسے دیکھنے لگی
رُکو،،
افسوس کیا حالات ہو گئی ہے تمہاری نہال ہاشمی ،،
وہ ویل چیر پے تھا ہاتھ اور بازوئوں سے محتاج آنکھیں جھکی مردہ لگ رہا تھا وہ تو ہاں یہ عائشہ کی اُن گولیوں کا کمال تھا وہ گولیاں جو اس نے نہال ہاشمی کو اپنی زندگی کی بازی ہارنے ہوئے ماری تھی یہ و ہی نہال ہی تھا عزتوں کے ساتھ کھیلنے والا لڑکیوں کو کھلونے کی طرح سمجھنے والا نہال ہاشمی آج خود کھلونا بنا ہوا ہے وہ ہنس دی
تو۔۔۔تم۔۔۔کو۔۔۔کون۔۔ہ۔۔ہو،،
عائشہ شازب سکندر مہتاب چوہدری ان شارٹ مسز شازب سکندر،،
وہ مسکراتے ہووے بول رہی تھی
عدالت میں حل چل کچھ گئی تھی عائشہ نام آنکھوں سے مسکرا دی اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگی کے اس نے اسے اتنی مشکلوں کے بعد اتنی خوشیاں دی کے کوئی حساب نہیں
نہال کو پولیس کی کسٹڈی میں باہر لئے جایا گیا عائشہ جیسے ہی باہر نکلی تو میڈیا اس کے گرد جمع ہو گیا
میم آپ کیسا فیل کر رہی ہے ،، میم آپ کو کیس جیت کر کیسا لگ رہا ہے ،،، میم نہال جسے انسان کو پھانسی تاک پہنچنے کے بعد آپ کو کیا فیل ہو رہا ہے،،میم کیا آپ خوش ہیں ،،جیسے سوال پوچھے جانے رہے تھے مگر و خاموش تھی کچھ لوگ اس کی اس خاموشی کو اس کی مغروریت سمجھتے تھے وہ ایک بہت اچھی لائر ثابت ہوئی تھی غریبوں کے لیا رحم دل مگر امیروں کے لیا پتھر دل و اس قدر بہترین وکیل تھی کے بڑے بڑے خود اس سے ملنے آتے تھے
جو جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی شاہ ہنس دیا ڈریسنگ کے سامنے کھڑی و حجاب بنا رہی تھی شاہ نے اسے اپنے حصار میں لیا تو وہ گھورتی ہوئی جلدی سے باہر کی طرف نکل گئی شاہ کا منہ دیکھنے والا تھا وہ اسے ایسے چھوڑ کر چلی گئی تھی عائشہ ایک دم رکھی پھر شاہ کی طرف بھاگتی ہوئی آئی اور شاہ کو ہگ کرنے اس کی گل پے کیس کر کے بھاگ گئی
زار اور افشال کو لے کر ٹھیک ایک بجے آپ کوٹ آئیں گے یاد سے اللہ حافظ ،،
وہ جلدی سے بولتی ہوئی باہر نکل گئی سب سے میل کے وہ کوٹ کے لیے اپنی ہونڈا میں نکل گئی
تمام ثبوتوں اور گواہوں کو پیش نظر رکھ کر یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کے نہال ہاشمی کو سزائے موت کی سزا سنائی جائے اور اس کی ساری پراپرٹی پر قانونی طور پر پر قبضہ کر لیا جائے !!! ڈان،،،
Last part
آپ آئے نہ لائن پے ،،
کون سی لائن تابی،،
افف زار عائشہ یہ ہوتی نہ تو آپ کو بتاتی ہے وقت تابی تابی کرتے رہتے ہو کبھی مما بھی بول لیا کرو ،،
کبھی نہیں اور آیشی مجھے کچھ نہیں کہتی اگر یہاں آج ہوتی بھی تو ،،
وہ چڑاتے ہوئے کہنے لگا تو تعبیر ہنس دی
چلو ذرا شاہ سے سیٹ کرواتی ہوں میں آپ کو،،
وہ کھلکھلا کے ہنس دیا اور تعبیر کے گال پر کس کر دی پھر دونوں اندر چلے گئے
@@@@@
شاہ شاہ چھوڑیں مجھے افف ٹائم دیکھیں اوپر سے آپ کے بس میں ہو تو پورا دن اور پوری رات مجھے اپنے پاس سے اٹھنے ہی نہ دیں ہائے شاہ میں لیٹ ہو گئی آج میرے کیس کا لاسٹ ہے آج فیصلہ ہو جائے گا نہال کی زندگی کا اور دیکھیں میں کتنی لیٹ ہو گئی ،،
عائشہ بولی جا رہی تھی اور شاہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھے جا رہا تھا
پلیز زیب پلیز میں آٹھ سال سے آپ سے محبت کرتی ا رہی ہوں اور اپنی آخری خواہش بس پوری کرنا چاہتی ہوں،،
مطلب آخری کیوں؟؟،
آپ باقی باتیں چھوڑیں بس مجھ سے ابھی اور اسی وقت نکاح کریں ورنہ بہت ساری زندگیاں تباہ ہو جائیں گی،،
شاہ کو شوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا جب دادا جان نے یہ بات سنی اور انہوں نے اجازت بھی دے دی شاہ حیران ہوا وہ ایسا کسی کر سکتا تھا عائشہ نہیں
@@
زار رکو زار ،،
کیا ہے تابی،،
زار میرا نام لینا کہ چھوڑو گے بتاتی ہوں میں زیبی کو کتنا تنگ کرتے ہو مجھے،،
تعبیر جو کہ سے دو سالہ زار کے پیچھے بھاگ رہی تھی جو اس کے ہاتھ ہی نہیں آ رہا تھا اور اب وہ ٹھیک گئی اور چڑ کر شاہ کو بتانے کی دھمکی دینے لگی زار صاحب بھاگتے ہوئے اس کے پاس آ گے وہ ہنس دی
زیب میں آج آخری دفعہ آپ سے کچھ مانگنے آئی ہوں،،
تعبیر شاہ کے پاس گئی جو نڈھال سا جیسے صدیوں سے بیمار ہو ایسے ہسپتال کے بینچ پر بیٹھا تھا سر اٹھا کر تعبیر کی طرف دیکھا جو روئی روئی اور اس کی حالت کسی کو بھی بہکا سکتی تھی ایسی تھی وہ اسے لیے اک روم میں چلا گیا کیونکہ باہر بہت سے لوگوں کی نظروں کا مہور بنی ہوئی تھی
بولیں،،
مجھ سے نکاح کر لیں پلیز،،
شاہ کو جھٹکا لگا اس نے عجیب سے نظروں سے تعبیر کو دیکھا
تعبیر آپ ٹھیک نہیں ہیں پلیز آرام کریں گھر چلی جائیں ،،
میں بالکل ٹھیک ہوں پلیز میری بات مان لیں پھر کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگو گئی میری پہلی اور آخری خواہش ہے میں آپ کے ساتھ بھی نہیں رہی گی اور میں وعدہ کرتی ہیں عائشہ بھی بچ جائے گی،،میں آپ کو کبھی نظر بھی نہیں اؤ گی
اسد نے اسے گلے لگا لیا تو وہ مزید اونچا رونے لگی
اسد عائشے وہ۔۔۔۔وہ ۔۔ اسد و میری جان ہے اسد اسے بچا لو نہ پلیز اسد کچھ کرو،،
اسد کی جان کچھ نہیں ہو گا کچھ بھی نہیں ابھی ٹھیک ہو جائے گی دیکھ لینا کچھ نہیں ہونا پلیز رونا بند کریں ہمت تو مت ہاریں پلیز،،
اسد عائزہ کی اسی حالت دیکھ خود ہارنے لگا تھا اس نے گرتف اپنی مزید مضبوط کر دی اور اس کے بل سہلانے لگا
اسد کی جان اسد ہار جائے گا آپ ایسے کرو گی تو،،
نہیں ما۔۔۔میں ٹھیک آپ کو نہیں ہارنا کبھی نہیں ،،
عائزہ نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اور اسد کے بھی و نہیں چاہتی تھی اسد ہار جائے ان کو تو جیتنا تھا ہاں ان کو جیتنا تھا کسی کی زندگی کو ہرا کر
__________
اس کے ساتھ سر پھوڑ رہی تھی بس وہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی محبت قربانی بھی تو مانگتی ہے تو وہ کیوں نہ قربان ہو جائے
تین گھنٹوں بعد جب عائزہ باہر آئی
ایم سوری اگر تین گھنٹوں میں ہارٹ کا انتظام ہو جاتا ہے تو ٹھیک ہے ہم آپ کی پشنٹ کو بچا لیں گے ورنہ نہیں،،
وہ بول تو از ا ڈاکٹر رہی تھی مگر اس کی آواز کانپ رہی تھی اس میں ہمت نہیں تھی ہوتی بھی کہاں عائشہ کی حالت ہے ہی اسی تھی یہ خبر دادا جان کو نہیں بتائی گئی تھی اُن کی بھی جان کو خطرہ تھا چاچی جان کو بھی نہیں بتائی گئی شاہ ویسے یہاں نہیں تھا چچا جان اور باقی گھر والے تھے اُن کو بتا دیا گیا تھا عائزہ خاموشی سے اپنے کیبن میں چلی گئی اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی اسد اسے ڈھونڈھتے ہوئے جب وہاں گیا تو روتے دیکھ پاگل ہی تو ہو گیا تھا
کھینچی اور اتار دی و ڈر گئی مگر ابھی وہ پوری نہیں اُتار سکا تھا جب شاہ نے رکھ کے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور جتنی دیر و سنبھلتا اتنی دیر تک اس نے تعبیر پر چادر صحیح کر کے دی تعبیر تو وہی دل ہار گئی تھی وہ شاہ سے بانچ سال چھوٹی تھی اس کا دماغ ابھی بچوں والا تھا مگر اس کی محبت بچوں والی نہیں تھی اس دن کے بعد وہ ہر وقت شاہ لوگو کے ساتھ پائی جانے لگی ایان اور اسد تو ہر وقت اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے مگر شاہ زیادہ تر خاموش اور سنجیدہ ہی رہتا تھا پیرس میں یونی کی ہر لڑکی اس کو دیکھتی اور اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی تھی سب اُس کے پیچھے پاگل تھی تھی بے شک و غیر مسلم تھی مگر شاہ کو دیکھتے ہی مر جاتی اٹھ سال و ایک ساتھ رہے بہت مزے کیے بہت کچھ سیکھا مگر شاہ کے دل میں محبت نہ پیدا کر سکی وہ پتھر تھا
تعبیر ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی نہ ماں تھی اور باپ نشا کرتا تھا اس نے اپنی بیٹی کو کسی امیر زادے کے آگے پیچ دیا اور وہ اسے پیرس لئے گیا و اک اچھا انسان نہیں تھا وہ اگلے جا کر اسے پیچھے والا تھا اک رات و وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی اس نے اپنی پہچان اپنا خلیہ تک بدل لیا اور پھر کی دن اور راتیں ایک پرانی پوشیدہ سے عمارت میں گزاری کافی دن وہاں رہنے کے بعد جب وہ باہر نکلی تو اس نے جاب بھی کرنی سٹارٹ کی سطح اس نے اسٹڈی کرنا بھی سٹارٹ کر دی یونی کے بعد وہ پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنا گزرا کر لیتی اس نے ہوسٹل میں ہی ایک کمرہ لئے لیا کیونکہ و وہاں محفوظ تھی ایک دن اس کی ملاقات شاہ ایان اور اسد سے ہوئی اس دن ایک لڑکے نے اس کے اوپر سے بڑی سی کلی چادر جو ہر وقت اس کے اوپر رہتی تھی و
تعبیر بھی کچھ دور تک ہسپتال پہنچ گئی تھی شاہ کی حالت دیکھ وہ پریشان ہو گئی وہ جانتی تھی شاہ عائشہ سے بہت محبت کرتا ہے وہ عائشہ کو کچھ نہیں ہونے دے گی کچھ نہیں
مسلسل دو گھنٹے کے بعد حریم کے ہاں ایک ننی سے جان نے جنم لیا سب بہت خوش تھے مگر وہ خوشی دیکھا نہیں سکتے تھے دادا جان بھی اب کافی بہتر تھے سب مسلسل دعائیں مانگ رہے تھے عائشہ کی زندگی کی
تعبیر اور عائزہ مایوس تھی کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب کچھ نہیں نہ وہ دنیا میں آنے والی ننی جان کو بچا سکتی اور نہ عائشہ کے چانسیز تھے بچنے کے کیونکہ عائشہ کا ہارٹ کام کرنا چھوڑ چکا تھا گولی لگنے کی وجہ سے ہارٹ بند ہو چکا تھا تعبیر بہت پریشان تھی اسے کیا کیا یاد نہ آیا وہ جانتی تھی محبت کو کھونا کیا ہوتا ہے اور پا کر کھونا کیا ہوتا ہے یہ اس سے بہتر کوں جان سکتا تھا
شاہ کی پوری ٹیم گولیوں کی آواز سن کے دروازے کو توڑتے ہوئے اندر چلے گئے شاہ تو ہم ہو گا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا ہو گا اب کیا عائشہ کو یہ گولیاں نہیں و جلدی سے اندر کی طرف بھاگا اندر کامنظر دیکھتے ہی و بھاگ کر عائشہ کے پاس پہنچا اور کچھ نہ دیکھا بس عائشہ اسے جلدی سے اٹھائے باہر گاڑی میں لے گیا وہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا اسے ہو سکتا ہے وہ اسے چھوڑ کے جانے چکی ہو اگر وہ دیکھے تو نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا ریش ڈرائیو کر کے ہسپتال پہنچا عائزہ نے جاتے ہیں کیس اپنے ہاتھ میں لیا مگر وؤ ہمت ہار گی تھی عز ا ڈاکٹر و نہیں ہار سکتی تھی سب گھر والے بھی کچھ دیر تک وہ پہنچ گئی دادا جان کو وقت پر طبی امداد دے کر بچا کیا گیا تھا ہریمکی طبیعت بھی خراب ہو گئی ہوئی تھی اس کا آپریشن چل رہا تھا عائشہ کا بھی جاتے ہی آپریشن سٹارٹ کر دیا گیا
اللہ عائشہ ہار گئی ہار گئی میں آج میں خود سے ہار گئی آج زندگی سے ہار گئی اللہ ،،
اس کی حالت قابل رحم تھی کوئی اسے دیکھتا تو رو دیتا و روتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی آخری دفعہ جو چہرہ اس کے سامنے آیا وہ شاہ کا تھا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ و چہرہ دیکھ کر خاموش ہو گئی ہر طرح سے خاموش سناٹا صرف سناٹا تھا وہاں
مگر وہ اس انسان کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے کبھی نہیں اسے شدید درد نے گھیر رکھا تھا مگر اسے پرواہ نہیں تھی وہ جانتی تھی اس کے پیٹ میں پلنے والی نانی جان کو یہ درندہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کر چکا ہے و اونچی اونچی آواز سے تو دی نہال کی گولیاں لگنے کی وجہ سے بے ہوش ہو چکا تھا اور وہ پاس اپنی زندگی کے حتم ہونے پر چیخ رہی تھی چلا رہی تھی وہ اپنی زندگی کے حتم ہونے پر نہیں تو رہی تھی و تو اپنے ساتھ ہونے والی ظلم پر رو رہی تھی وہ تو اپنی خوشیوں کے چھین جانے پے رو رہی تھی وہ اپنی منہوسیت پے رو رہی تھی
کیوں زندگی تو نے میرے ساتھ ایسا کیا کیوں کیا !!!! کیوں ،،
وہ چلا رہی تھی تو رہی تھی اس کی آواز بہت اونچی تھی بہت اونچی و اپنے اندر کا غبار نکل رہی تھی
اس نے بتایا تھا کے و پریگننٹ ہے مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی اسے صرف بدلہ لینا تھا
اتنی دیر میں باہر سے آوازیں انے لگی و ڈر گیا تھا ان کو کیسے پتہ چلا وہ اکیلا ہی تھا اس لیے زیادہ خوف زدہ ہو گیا وہ عائشہ کے پیٹ میں کئی ٹھوکریں مارتا گیا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کے و روئے یہ چلائے پھر اٹھ کر پچھلے دروازے کی طرف جانے لگا مگر اس سے پہلے عائشہ نے پاس پڑی گن اٹھائی اور کی فائر اس کی ٹانگوں پے کر دیے وہ لڑکھڑا کر نیچے جا گرا ؤ اس آفات کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے گرتے ہی چیخ پڑا اور پھر جلدی سے اپنی گن نکلی اور کیسے ہی عائشہ کی طرف فائر کیا تو عائشہ نے اس کے ہاتھ پر فائر کر دیا گن اس کے ہاتھ سے دور جا گری مگر افسوس عائشہ کو گولی لگ گئی اس کے دل پے وہ کرہ کر رہ گئی مگر اس کے ہاتھوں پر کئی فائر کر دیے وہ اتنا تو جانتی تھی کے و زندہ نہیں بچے گی
دوسروں کی عزت کی جب حفاظت کرتا ہے تو پھر اس کی کیسے عزت خراب ہو سکتی تھی
________
وہ اس کے ٹھکانے پر پہنچے اور چاروں طرف سے گھیرے میں لیا یہ کوئی پرانا سا مکان تھا شاہ کو جو جو اتا تھا اج اس نے پڑھ دیا وہ صرف عائشہ کی جان اور عزت سلامت چاہتا تھا
چھوڑو مجھے میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ،،
تم نے میرا چھوڑا ہی کیا ہے ،،
میری غلطی تو بتاؤ ،،
غلطی جاننی ہے نہ تو سنو تمہاری غلطی یہ ہے کے تو شازب سکندر کی وائٹ ہو تمہاری غلطی یہ ہے کے تم ایان سلمان کی بہن ہو تمہاری غلطی یہ ہے کے تم چوہدری خاندان کی بہو ہو یہ ہے تمہاری غلطی ،،
چلاتے ہووے اس نے زمین پر گری عائشہ کو بتایا اور اس کے پیٹ میں پاؤں سے ٹھوکر ماری جس پر وہ چیخنے لگی کے رہ گئی نہال کو آج صبح اس کے کسی چیلے نے بتایا تھا جو عائشہ پر نظر رکھے ہوئے تھے
شاہ پاگل ہو گیا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اتنا تو وہ جان گیا تھا عائشہ کیس کے پاس ہے مگر اسے ڈر تھا وہ پریگننٹ تھی اس کے ساتھ کش غلط نہ کر دے نہال و جانتا تھا نہال اپنے باپ رستم ہاشمی کی موت کا بدلہ ضرور لے گا مگر اس وے سے و اندازہ نہیں کر سکا وہ یہ خبر لیک نہیں کرنا چاہتا تھا اس کی عزت کا معاملہ تھا آخر کسے وہ یہ نیوز منظر عام پر آنے دیتا اس کا سیل فون رنگ ہوا
سر نہال کا پتہ چل گیا ہے اس کی گاڑی ٹرس ہو گئی ہے آپ جلدی سے آفیس آئیں،،
اوکے ،،
وہ جلدی سے آفیس گیا وہاں سب کچھ علی پہلے ہی تیار کر چکا تھا وہ جاتے ہی نہال کے ٹھکانے کی طرف نکل گئے وہ ابھی ابھی وہاں پہنچا تھا شاہ کو ڈر تھا عائشہ کی زندگی کا کہیں وو کچھ غلط نہ کر دے اسے اللہ پر یقین تھا وہ اس کی عزت کی حفاظت کریں گے
مگر اُن کو لگا شاید کوئی کام پڑھ گیا ہو وہ اکثر لیٹ اتی رہتی تھی مگر آج کچھ زیادہ ہی لیٹ ہو گئی تھی کسی نے شاہ کو نہیں بتایا مگر ابھی شاہ کو پتہ لگانے پر و بوکھلا گیا جلدی سے عائشہ کے سیل پر کال کی مگر کوئی جواب نہیں تین گھنٹے پہلے اس کی عائشہ سے بات ہوئی تھی اس وقت و یونی سے آ رہی تھی مگر ابھی تک نہیں پہنچی تھی وہ سخت پریشان ہوا اوپر سے سیل بھی آف و یونیفارم میں ہی عائشہ کی یونی کی طرف نکل گیا مگر آدھے راستے میں عائشہ کی گردی دیکھ بھاگتا ہوا اس تک گیا گاڑی میں سے عائشہ غائب تھی باقی سب وہی تھا وہ ڈر گیا
نہیں عائش آپ کہاں ہیں ،،
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اس نے پورے سٹی میں سیکورٹی فورسز تعینات کروا دی ہر جگہ ڈھونڈا ہر طرف گیا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا رات کے بارہ بج چکے تھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain