ہاں یہ بات ٹھیک ہے نا۔۔۔"
بلقیس بیگم نے یہ کہہ کر اپنے ساتھ بیٹھی رقیہ کو دیکھا۔جو اس وقت سے ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی۔
"رقیہ بیٹا۔۔۔"
انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ اپنے آنسووں پہ قابو نہ رکھ سکی اور ان کے سینے سے لگ کر رو دی۔
سحرش اور پرخہ اسے ان سے الگ کیا اور اسے حوصلہ دینے لگیں جبکہ ایمان انہیں غیر دماغی سے دیکھ رہی تھی۔اس کا ذہن کچھ اور ہی تانے بانے بُننے میں لگا ہوا تھا۔اب جب کہ سب ختم ہونے جا رہا تھا تو اسے یہاں رہنا بالکل مناسب نہیں لگ رہا تھا۔اوپر سے غزنوی کا رویہ۔۔۔۔اس کی سوچ سے بالاتر تھا۔وہ اسے بالکل سمجھ نہیں پا رہی تھی۔وہ یہاں آ کر بری طرح پھنس گئی تھی۔اس نے اس سلسلے میں عقیلہ بیگم سے بات کرنا مناسب سمجھا۔اب وہی اسے بہتر مشورہ دے سکتی ہیں۔
ایمان منمنائی۔
"دیکھو بیٹا۔۔اب تم جا رہی ہو تو ہمارا یہاں رکنا مناسب نہیں لگتا۔۔بھئی اب مالکن ہی گھر میں نہیں ہو گی تو ہم یہاں کیسے رہیں گے۔۔تم خود ہی سوچو کیا یہ مناسب ہے۔۔؟"
بلقیس بیگم کے چہرے پہ پریشانی ایک بار پھر جگہ بنا چکی تھی۔
"خالہ آپ یہاں رہیں۔۔غزنوی نے کہا تو ہے آپ سے۔"
ایمان ان کی پریشانی سمجھ رہی تھی۔
"لیکن تمھاری بات اور ہے بیٹا۔۔۔تم گھر کی مالکن ہو۔۔وہ تو سارا دن باہر ہو گا۔۔سچی بات ہے بیٹا۔۔!! میں تو تمھاری غیر موجودگی میں یہاں نہیں رہ سکتی۔"
وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
"خالہ آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں۔۔میں اور غزنوی اب۔۔۔"
"خالہ آپ یہاں رہیں۔۔ایمان نہیں جائے گی۔۔کچھ وقت بعد غزنوی کے ساتھ ہی آ جائے گی۔"
اس سے پہلے کہ ایمان اپنی بیوقوفی میں اپنے اور غزنوی کے رشتے کی پول کھولتی۔۔پرخہ جلدی سے بولی۔
وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔۔سحرش اور پرخہ بھی مسکراہٹ دبائے ہوئے تھیں۔
"ایمان۔۔!! کیا غزنوی ٹھیک کہہ رہا ہے؟"
بلقیس بیگم اب ایمان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔وہ کچھ نہ کہہ سکی۔۔بس خاموش رہی۔۔
"ائے لڑکی۔۔یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔شوہر کو یہاں ملازموں کے سہارے چھوڑ کر جا رہی ہو۔"
وہ ایک دم سے بولیں تو ایمان ان کی بات پر پہلو بدل کر رہ گئی۔
"خالہ۔۔وہ شاہ گل چاہتی تھیں کہ ہم رمضان ان کے پاس گزاریں۔۔اس لئے۔۔۔"
اس نے بات کرتے ہوئے غزنوی کی جانب غصیلی نظروں سے دیکھا۔جو مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
"ائے اگر ایسی بات ہے تو پھر بھی شوہر کو یوں اکیلے چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔۔"
بلقیس بیگم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
بلقیس بیگم نے بہتی آنکھوں سے غزنوی کی جانب دیکھا۔
"خالہ بیٹا بھی کہتی ہیں اور پرایا بھی کر رہی ہیں۔آپکے بیٹے کا گھر ہے اور رقیہ میری بہن ہے۔۔آپ یہیں رہیں میرے پاس۔۔اور پریشان بالکل نہ ہوں۔"
غزنوی نے بلقیس بیگم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
"میں ویسے بھی اکیلا ہوتا ہوں۔۔آپ لوگ میرے ساتھ رہیں گے تو یہاں بھی کچھ زندگی کے آثار دکھائی دیں گے۔"
اس نے کنکھیوں سے ایمان کی طرف دیکھا جس نے اس کی بات پر پہلو بدلا تھا۔
"ائے یہ کیسی بات کی۔۔اکیلے کب ہو۔۔ماشاءاللہ اتنی پیاری بیوی ہے تمھاری۔۔"
بلقیس بیگم نے چہرہ صاف کرتے ہوئے ایمان کی جانب دیکھا۔
"کہاں خالہ۔۔۔ان کی ضد ہے کہ رمضان المبارک اعظم ولا میں گزاریں گی اور میں اپنے کام کی وجہ سے نہیں جا سکت۔۔یہ جا رہی ہیں۔۔تو میں اکیلا ہی ہوا نا۔"
غزنوی گھر آیا تو بلقیس بیگم اور رقیہ لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں۔ایمان انہیں آرام کی غرض سے اوپر کمرے میں چھوڑ کر آئی تھی مگر وہ بیس منٹ بعد ہی واپس نیچے آ گئیں تھیں۔ایمان بھی وہیں موجود تھی۔
"السلام علیکم۔۔!!"
غزنوی کی آواز پہ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔اس وقت وہاں ایمان، پرخہ اور سحرش ہی موجود تھے۔
"خیریت۔۔۔؟؟"
غزنوی نے بلقیس بیگم کا سرخ چہرہ اور سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو وہ ان کے پاس آیا۔۔مگر اس نے پرخہ سے پوچھا۔۔غزنوی کا پوچھنا تھا کہ بلقیس بیگم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
پرخہ نے ساری تفصیل بتائی تو پہلے تو اسے بہت غصہ آیا مگر پھر بلقیس بیگم کا خیال کر کے وہ ان کے پاس آیا اور انہیں تسلی دی۔
"بیٹا۔۔۔اور کچھ سجھائی نہیں دیا تو میں رقیہ کو لے کر یہاں آ گئی۔۔"
ویسے سحرش۔۔۔لڑکی تو اچھی ہے۔۔ویسے بھی ایمان اور غزنوی کی علیحدگی ہونے والی ہے تو غزنوی کے لئے رقیہ کیسی رہے گی؟"
پرخہ نے جان بوجھ کر بلند آواز میں کہا تاکہ ایمان سن لے۔۔ایمان کے قدم وہیں تھم گئے۔اس نے پلٹ کر دیکھا وہ دونوں اب دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ایمان سے ایک قدم بھی مزید نہیں لیا گیا۔۔
اس کے کانوں میں ایک ہی تکرار ہو رہی تھی۔۔
غزنوی اور رقیہ۔۔
اس سے آگے وہ مزید کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی۔پرخہ اور سحرش نے پلٹ کر ایمان کی طرف دیکھا جو تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی غزنوی کے روم میں غائب ہو گئی تھی۔
پرخہ نے ہنستے ہوئے سحرش کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائی جس پہ سحرش نے مسکراتے ہوئے ہاتھ مارا تھا۔۔
اللہ نے انہیں موقع دیا تھا تو وہ اسے کیوں ہاتھ سے جانے دیتیں۔اب غزنوی کے آنے کی دیر تھی۔۔
ہم انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں نا۔۔"
ایمان نے ایک اور حل بتایا۔۔
"مشکل ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جائیں۔۔کیونکہ کچھ دن میں ان کا بیٹا واپس آ جائے گا۔۔اور غزنوی کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے اس معاملے میں۔۔"
پرخہ نے اسکی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
"تو پھر۔۔۔۔۔؟؟"
اس نے پریشانی سے دونوں کی طرف دیکھا۔
"تو پھر یہ کہ تمھیں ان کے پاس رکنا پڑے گا یہاں۔۔۔پھر جب ان کا بیٹا آ کر انہیں لے جائے گا تو تم واپس آ جانا۔"
سحرش نے اپنی طرف سے حل بتایا۔۔جسے سن کر ایمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جبکہ پرخہ کے لبوں پہ دبی دبی مسکراہٹ کھیل گئی۔
"تم پریشان کیوں ہوتی ہو۔۔۔غزنوی کو آ لینے دو۔۔وہ دیکھ لے گا سب۔۔"
سحرش نے کہا تو ایمان اٹھ کر کچن کیطرف بڑھ گئی۔
وہ پرخہ کے اتنے سخت رویے پر حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"مطلب یہ کہ ان کا اسطرح یہاں غزنوی کے ساتھ رہنا مناسب نہیں۔۔اگر تم یہاں رہتی تو تب بات کچھ اور ہوتی۔۔لیکن تمھاری غیر موجودگی ان کی بیٹی کے لئے مزید مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔۔جو عورت رقیہ کو اپنے آوارہ بھائی کے ساتھ جوڑ سکتی ہے وہ کیا کیا نہیں کر سکتی۔۔کل کو اگر اسے پتہ چلے گا کہ وہ یہاں رہتی ہیں وہ بھی تمھاری غیر موجودگی میں تو کیا کیا نہیں کہے گی۔"
پرخہ نے اسے سمجھایا۔
"پرخہ ٹھیک کہہ رہی ہے ایمان۔۔اور اگر بلقیس خالہ کو یہ معلوم ہوا کہ تم یہاں نہیں رہ رہی ہو تو وہ یہاں نہیں رکیں گی۔۔اگر وہ اکیلی ہوتیں تب بات کچھ اور تھی۔۔۔مگر اب جبکہ انکی جوان بیٹی بھی ان کے ساتھ ہے تو۔۔۔یہاں رہنا قطعی مناسب نہیں لگے گا انہیں۔"
سحرش کی باتیں اسے صحیح لگ رہی تھیں۔۔
وہ نروٹھے انداز میں بولی تو انہوں نے محبت سے اسے ساتھ لگایا۔
"آپ بیٹھیں میں کچھ کھانے کو منگواتی ہوں۔"
ایمان نے کہا۔
"ایمان تم بیٹھو خالہ کے پاس۔۔۔میں کہہ دیتی ہوں شاہدہ سے۔۔سحرش تم رقیہ کو بلا لاؤ۔۔وہ بھی کچھ کھا لے۔"
پرخہ فوراً اٹھی اور جاتے جاتے سحرش سے رقیہ کو بلا کر لانے کا کہا۔سحرش اٹھ کر سیڑھیوں کیطرف بڑھ گئی۔
ایمان نے ان کے نہ نہ کرنے کے باوجود اپنی نگرانی میں انہیں کھانا کھلایا اور پھر انہیں آرام کرنے کی غرض سے اوپر والے کمرے میں لے گئی۔
__________________________________
"ایمان تم نے تو انہیں یہاں رکنے کا کہہ دیا ہے مگر وہ یہاں کسطرح رہ سکتی ہیں جبکہ تم بھی یہاں موجود نہیں ہو۔"
وہ بلقیس بیگم کو روم میں چھوڑ کر آئی تو پرخہ نے اس سے کہا۔
"کیا مطلب ہے آپی۔۔۔؟
خالہ آپ پریشان نہ ہوں۔۔اللہ سب بہتر کرے گا۔۔آپ آرام سے بیٹھیں، میں آپکے لئے کچھ کھانے کو منگواتی ہوں۔"
ایمان نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"ارے نہیں بیٹا۔۔۔۔بھوک نہیں ہے۔۔مجھے تو اپنی بچی کا غم ہے۔۔میرا کیا ہے آج زندگی ہے کل نہیں۔۔۔کیا بنے گا میری معصوم بچی کا۔۔"
پریشانی ان کے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔
"خالہ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔۔۔آپ یہاں رہیں اور دیکھئیے گا رقیہ کے لئے اس سے بھی اچھا رشتہ مل جائے گا۔۔اپ کیوں فکر کرتی ہیں۔۔اللہ اپنا کرم کرے گا۔۔انشاءاللہ۔۔!!"
ایمان نے انہیں حوصلہ دیا تھا۔
"آمین۔۔۔!! اللہ تمھیں خوش رکھے بیٹا۔۔۔لیکن ہم تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔"
بلقیس بیگم شرمندگی سے بولیں۔
"کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خالہ۔۔اب آپ نے دوبارہ ایسا کہا تو میں ناراض ہو جاؤں گی۔"
بس بیٹا کہا تو ہے۔۔جب مصیبت آتی ہے تو ہر طرف سے آتی ہے۔۔۔بس یہ پوچھنا میری جان کو آ گیا کہ کیوں ان سے غلط بیانی کی اور کیوں میری بیٹی کے پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔بس پھر کیا، وہ ہنگامہ کیا۔۔وہ ہنگامہ کیا کہ اللہ کی پناہ۔۔۔میری بیٹی پر وہ گھٹیا الزامات لگائے اور ہمیں دھکے مار کر گھر سے نکال دیا۔وہ میرا چھوٹا سا ٹیپو رو رو کر کہتا رہا کہ مما دادو کو مت نکالو گھر سے۔۔۔مگر وہ زہرہ ہی کیا جس پہ کسی کے آنسوؤں کا اثر ہو۔۔۔میرا بچہ کتنا رو رہا تھا۔۔"
وہ پھر سے پوتے کو یاد کر کے رو دیں۔
"خالہ۔۔۔آپکا بیٹا۔۔۔۔؟؟"
ایمان نے پوچھا۔
"وہ بیچارہ کام کے سلسلے میں کچھ دن کے لئے شہر سے باہر گیا ہے۔۔بس یہی موقع مل گیا اسکو اور اپنے دل کی مراد پوری کر لی۔"
بلقیس بیگم نے ایمان کیطرف دیکھا۔
رقیہ پسند بھی آ گئی تھی۔۔لڑکا سرکاری اسکول میں استاد ہے۔چھوٹا سا خاندان ہے۔۔مگر میری بہو۔۔۔بے شمار برائیاں نکال کر بیٹھ گئی۔اسکی ایک ہی ضد کہ رقیہ کا رشتہ اسکے بھائی سے کر دیا جائے۔۔ہائے۔۔میں کیسے اپنی بیٹی اس آوارہ کے نکاح میں دے دوں۔۔مگر نہیں۔۔۔۔ہر بار کیطرح چپکے سے لڑکے والوں کے گھر فون کر دیا کہ ہمیں رشتہ منظور نہیں۔"
وہ تفصیل بتاتے ہوئے ایک بار پھر رو دیں۔۔ایمان، سحرش اور پرخہ نے نہایت تاسف سے انکی طرف دیکھا۔
"میں نے کچھ دیر پہلے ان کے آنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جھٹ انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ ایسی لڑکی کو ہم کیونکر بیاہ کر لے جائیں جس کا پہلے ہی اپنی بھابھی کے بھائی سے چکر چل رہا ہو۔۔میری معصوم بچی پر اتنا بڑا الزام لگا دیا۔۔بہت منایا۔۔ترلے کیے۔۔مگر۔۔۔۔۔"
ایمان کو انہیں اسطرح روتے دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا تھا۔
بیٹا تمھیں برا تو نہیں لگا کہ میں اپنی بیٹی کو لے کر تمھارے در پر آ گئی ہوں۔۔معاف کرنا بیٹا کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔۔غزنوی اور تمھارا خیال آیا تو یہاں چلی آئی۔۔تمھیں برا تو۔۔۔"
"کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خالہ۔۔۔اسے بھی اپنا گھر سمجھیئے۔"
ایمان نے ان کے آنسو پونچھے جو پھر سے ٹوٹی ہوئی لڑی کی صورت ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
"شکریہ بیٹا۔۔اللہ تمھیں سدا خوش اور آباد رکھے۔"
انہوں نے تشکر بھری نظروں سے ایمان کو دیکھا۔۔
"آپ بتائیں تو سہی۔۔آخر ایسی کیا بات ہو گئی؟"
ایمان نے پوچھا۔
"بس بیٹا۔۔۔جب مصیبت آتی ہے تو ہر طرف سے گھیرے میں لے لیتی ہے کہ انسان کو کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔۔آج رقیہ کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے تھے۔۔اللہ اللہ کر کے تو اتنا اچھا رشتہ ملا تھا۔
سحرش نے عنادل کو اشارہ کیا کہ وہ رقیہ کو وہاں سے لے جائے۔۔عنادل اور باقی سب رقیہ کو لے کر اوپر کمرے میں چلی گئیں جبکہ لاریب کچن کی جانب بڑھ گئی۔
"کیا مطلب۔۔۔کس نے گھر سے نکال دیا ہے آپکو۔۔؟"
ایمان نے حیرانی سے پوچھا۔
"بہو نے۔۔۔ہائے میرا ٹیپو کیسے رو رہا تھا۔"
وہ اپنا سفید ڈوپٹہ چہرے پہ رکھے مزید تیزی سے رو دیں۔
"خالہ۔۔!! آپ یہ لیں پانی پیئں۔۔اور پرسکون ہو کر مجھے ساری بات بتائیں۔"
ایمان نے لاریب کے ہاتھ سے گلاس لے کر ان کے ہاتھ میں دیا۔بلقیس بیگم نے گلاس منہ کو لگایا اور دھیرے دھیرے پانی پینے لگیں۔۔سحرش اور پرخہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئیں جبکہ ایمان ان کے پاس ہی بیٹھی تھی۔پانی پی کر گلاس انہوں نے ایمان کو دیا اور ڈوپٹے سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ایمان کیطرف دیکھا۔
ایمان کچن میں تھی۔شاہدہ بھی وہیں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔باقی سب لاؤنج میں بیٹھیں گپ شپ لگا رہی تھیں۔۔اسی دوران ایمان کو لاؤنج سے آتے غیر معمولی شور نے متوجہ کیا۔وہ چولھا بند کرتی لاؤنج میں آئی۔
لاؤنج میں دائیں طرف رکھے ڈبل سیٹر صوفے پر بلقیس بیگم بیٹھی رو رہی تھیں۔انکے ساتھ ہی ان کی بیٹی رقیہ بھی پریشان چہرہ لیے ماں کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔سحرش اور پرخہ انہیں خاموش کرا رہی تھیں۔وہ پریشانی سے ان کی طرف بڑھی۔
"کیا ہو گیا بلقیس خالہ۔۔۔؟؟ خیریت تو ہے نا۔۔؟"
ایمان ان کے قریب آئی اور ایک لمحے کو ان کے ساتھ بیٹھی رقیہ کو دیکھا جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
"ارے میرا بیٹا یہاں نہیں تھا ورنہ اسکی مجال تھی جو وہ مجھے گھر سے نکالتی۔۔ہائے میرے اللہ۔۔!! اب میں اس جوان جہان بچی کو لے کر کہاں جاؤں گی۔"
غزنوی نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
"ارے نہیں۔۔۔کیا تمھیں لگتا ہے کہ ایسا ہوا ہو گا۔۔وہ تو قطعی تیار نہیں تھی۔۔ہم زبردستی لے کر گئے تھے اور یہاں تو وہ فائقہ کی وجہ سے آ گئی تھی۔۔اور ہاں لڑکوں میں سے بھی کسی کو نہیں پتہ۔۔"
سحرش نے اسے بتانا ضروری سمجھا۔
"جی ٹھیک ہے۔۔۔میں میٹنگ ختم ہوتے ہی آ جاؤں گا۔۔اللہ حافظ۔۔!!"
غزنوی فون رکھ چکا تھا۔۔
سحرش بھی فون اپنے ہینڈ بیگ میں رکھتی کمرے سے باہر آ گئی۔اسکا رخ ڈائننگ روم کی طرف تھا۔دوسری جانب غزنوی یہ سوچ رہا تھا کہ ایمان کو کسطرح واپس جانے سے روکے۔۔وہ چاہتا تو اسے زبردستی روک سکتا تھا مگر اب وہ ایمان کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کے حق میں نہیں تھا۔وہ چاہتا تھا کہ وہ رکے مگر اپنی مرضی سے۔۔۔لیکن ایسا ہوتا اسے مشکل ہی لگ رہا تھا۔
_________________________________________
"کیا سچ آپ چاہتی ہیں کہ وہ رک جائے؟"
غزنوی نے فائل بند کر کے ایک طرف رکھی۔۔۔سحرش مسکرا دی۔
"ہاں بالکل۔۔۔بلکہ ہم نے آؤٹنگ کا پلان بھی تم دونوں کے لئے بنایا تھا۔۔وہاں جانا اور واپسی پر تمھاری طرف آنا۔۔سب پلاننگ تھی۔"
وہ مزے سے اسے بتا رہی تھی اور وہ حیرانگی سے سن رہا تھا۔
"ہم اسے تمھارے پاس لے آئے اب جلدی آ کر سنبھالو، کیونکہ ہم شام سے پہلے روانہ ہوں گے۔۔بس یہی کہنا تھا تم سے۔۔۔اب کرو کام۔۔۔مگر یاد رہے گھر جلدی آنا اگر ایمان کو روکنا چاہتے ہو تو۔۔۔"
سحرش نے اسے ڈھکے چھپے الفاظ میں سمجھا دیا تھا کہ وہ ایمان کو مزید فورس نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس نے ایمان کو منانے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ نہیں مان رہی تھی۔
"ویسے آپی۔۔۔کیا ایمان بھی اس پلاننگ میں شامل تھی؟"
ایسا لگتا تھا کہ لوٹ آئے ہیں گزرے ہوئے دن
مل گئے تھے مجھے کچھ دوست پرانے میرے!
ﺩﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﮮ
ﺟﺐ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻮ ﺗﺮﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﮮ!
ﺍﮎ ﺗُﻮ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻠﻨﺪ
ﺍﮎ ﯾﮧ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮦ ﮐﮯ ﺗﺮﯼ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﮐﺮﮮ!
ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﮮ!
وہ مصروف انداز میں بولا تو سحرش ایک گہری سانس خارج کرتی رہ گئی۔اسکی یہ لاپرواہی ہی معاملات کو اس نہج پر لے آئی تھی۔
"غزنوی۔۔میں چاہتی ہوں کہ ایمان تمھارے پاس ہی رہ جائے۔۔تم دونوں مل کر ہی اس رشتے کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہو ورنہ تو۔۔۔میں نے یہی بات ڈسکس کرنی تھی۔۔لیکن تم مصروف ہو تو۔۔۔خیر گھر آؤ تو پھر بات کرتے ہیں۔"
وہ فون رکھنے لگی تھی کہ غزنوی کی آواز آئی۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain