غزنوی تم نے کیا سوچا ہے اس بارے میں؟"
سحرش نے کمرے کا دروازہ اچھے سے لاک کرتے ہوئے پوچھا۔
"کس بارے میں آپی؟"
وہ سحرش کے اس وقت کال کرنے کا مقصد نہیں سمجھ پایا تھا۔وہ بزی تھا مگر اس وقت سحرش کی کال مصروف ہونے کے باوجود اسے لینی پڑی تھی۔کچھ دیر میں اس کی ایک بہت اہم میٹنگ شروع ہونے والی تھی اور ابھی اسے کچھ اہم پوائنٹس دیکھنے تھے۔
"ایمان کے بارے میں۔۔۔اور کس کے بارے میں۔۔تم بھی نا غزنوی۔۔"
وہ اسکی غیر دماغی پہ کھولتے ہوئے بولی۔
"آپی۔۔۔اس وقت مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔۔میں اس بارے میں گھر آ کر بات کروں گا۔"
فائقہ نے قریب آ کر اسکے ہاتھ تھام لئے تھے۔
"نہیں تو۔۔۔بھلا میں کیوں ناراض ہوں گی تم سب سے۔۔"
وہ مسکرائی۔
"ابھی جو تھوڑی دیر پہلے۔۔۔۔ہم نے۔۔۔"
فائقہ خاموش ہوئی۔
"ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔میں بالکل ناراض نہیں ہوں۔۔۔یہ بتاؤ کہ سحرش آپی کہاں ہیں۔۔نیچے لاؤنج میں بھی نہیں تھیں۔"
ایمان نے کمرے میں نظر دوڑائی۔
"وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنا فون لے کر نکلی تھیں۔۔شاید گھر بات کرنی تھی انہوں نے۔"
عنادل نے کہا تو وہ واپس پلٹ گئی۔۔
"اچھا ہوا تم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ غزنوی بھائی سے بات کرنے گئی ہیں۔"
"چلو چلنے کی تیار کرو۔۔تم سب نے تو بیگز بھی ایسے کھول کر رکھ دیئے ہیں جیسے کئی دن رہنے کے لئے آئے ہو۔"
لاریب کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔
اب وہ سب اپنا سامان اپنے سفری بیگز میں رکھ رہی تھیں۔
"تم لوگوں نے تیاری کر لی ہے تو لنچ کے لئے نیچے آ جاؤ۔۔"
وہ سب ابھی ابھی پیکنگ کر کے فارغ ہوئی ہی تھیں کہ ایمان کمرے میں آئی۔۔وہ انہیں لنچ پہ بلانے آئی تھی۔
"آ رہے ہیں۔۔"
عنادل کے کہنے پر وہ پلٹ کر جانے لگی۔
"ایمان۔۔۔!!"
فائقہ کے پکارنے پر وہ رکی اور مڑ کر فائقہ کیطرف دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔
"تم ہم سے ناراض ہو۔۔۔۔آئی ایم سوری اگر تمھیں میری کوئی بات بری لگی ہے تو۔۔"
تمھارا مطلب ہے۔۔۔جلدی جلدی ایک اور پلان بنانا پڑے گا۔"
عنادل نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
"تو پھر کیا کریں ایسا۔۔۔؟؟"ارفع کھسک کے ان کے قریب ہوئی۔
"آرام سے بیٹھو تم سب۔۔۔کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کرنی۔۔میں غزنوی سے بات کرتی ہوں۔۔"
سحرش نے اُن سب کو سر جوڑتے دیکھکر کہا اور فون اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
"وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔"عنادل نے سحرش کے باہر نکلتے ہی کہا۔
"ایمان کا رویہ دیکھا ہے نا۔۔یہ نہ ہو کہ وہ ہم سے بھی ناراض ہو جائے۔سحرش آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔اگر غزنوی بھائی چاہیں تو ایمان کو روک سکتے ہیں۔وہ بیوی ہے ان کی۔"
فائقہ نے اپنی فلاسفی جھاڑی تو وہ سب بھی اسکی بات سے متفق نظر آئیں۔
بیٹھی ایمان کو متوجہ کیا۔
"آں۔۔۔ہاں۔۔۔کچھ نہیں۔۔"
وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی۔
"لگتا ہے ایمان کا واپس جانے کو دل نہیں چاہ رہا۔"
فائقہ جو اپنے فون میں بزی تھی، ہنستے ہوئے بولی۔
اس کی بات سن کر باقی سب بھی ہنس دیں۔۔صرف سحرش ہی تھی جو اسکے چہرے کو سنجیدگی سے بغور دیکھ رہی تھی جبکہ ایمان ان سب کے اسطرح ہنسنے پر جھنپ گئی تھی۔
"ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔تم لوگ اپنے فضول اور بیکار کے اندازے لگانا بند کرو۔"
وہ یہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی۔
"لگتا ہے تیر نشانے پر بیٹھا ہے۔"
ارفع نے شرارتی نگاہوں سے سحرش کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی مگر اس کی شرارت بھانپ گئی تھی۔
کوئی نہیں۔۔۔تم لوگوں کو تو کوئی کام نہیں۔۔لیکن بابا مجھے بار بار فون کر رہے ہیں کہ کب آ رہے ہو۔میں تو نہیں رک سکتا۔وہ اب ہاتھوں سے بال سنوار رہا تھا۔
"اچھا ایک دن اور۔۔"ملائکہ نے کہا۔
"نہیں ملائکہ ہم مزید نہیں رک سکتے۔۔"
سحرش نے اسکے بال سنوارے۔
"مگر آپی۔۔۔"اب کی بار عنادل نے کہا تھا۔
"شاہ گل نے صبح فون کر کے کہا تھا کہ آج واپس آو۔۔چلو اٹھو۔۔۔تیاری پکڑو۔۔میں زرا مصطفی کو قہوہ دے کر آتی ہوں۔"
پرخہ اٹھتے ہوئے بولی اور کمرے سے نکل گئی۔ایمان بالکل خاموش ان کی باتیں سن رہی تھی۔وہ ابھی تک ان لمحوں کے اثر سے نکل نہیں پائی تھی۔
"ایمان۔۔۔!! کہاں گم ہو۔۔صبح سے دیکھ رہی ہوں۔۔کچھ زیادہ ہی چپ ہو۔۔کوئی پرابلم ہے کیا؟"
سحرش نے خاموش بیٹھی ایمان کو متوجہ کیا۔
غزنوی اپنی شرط بیان کرتا۔۔۔اسکی آنکھوں میں جھانکتا، چہرہ اسکے چہرے کے قریب لایا تھا۔ایمان بے دھیانی میں لگاتار اسی کی طرف دیکھے جا رہی تھی مگر درپردہ وہ اسکی شرط کے پیچھے چھپے معنی تلاش رہی تھی۔
غزنوی مسکرا دیا اور اسکی کھلی آنکھوں میں پُھونک مارتا واش روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ پلکیں جھپکاتی وہیں کھڑی رہ گئی۔ ________________________________________
"چلو گرلز۔۔تیاری پکڑو۔۔داجی کا حکم ہے کہ آج کی تشریف لے کر آؤ۔"
وہ سب ناشتے کے بعد گپ شپ میں مگن تھیں جب فروز وہاں آیا۔
"فروز بھائی ابھی کچھ دن اور رک جاتے ہیں نا۔۔"
ملائکہ کا جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔صرف اسی کا نہیں باقی سب کا بھی فلحال جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔فروز ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال برش کرنے لگا۔
جو اسکی حالت سے پوری طرح حَظ اُٹھاتا اسے دیکھ رہا تھا۔اسی دوران ایک کمزور لمحے نے غزنوی کو اپنی گرفت میں لیا اور اس نے ایمان کے ہاتھ پہ لب رکھ دیئے۔۔ایمان کو لگا جیسے اسکا دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔۔اسکا وجود کسی مجسمے کی صورت وہیں تھم گیا تھا۔وہ چاہ کر بھی اپنا ہاتھ کھینچ نہیں پائی تھی۔
"تمھاری کلائیاں چوڑیوں سے سجی اچھی لگتی ہیں۔"
وہ دوبارہ اسکی کلائی پہ جھکا تھا مگر اس سے پہلے کہ غزنوی کے لب اس کے ہاتھ کو چھو پاتے، ایمان نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا۔
"راستہ دیں۔۔"وہ سرد لہجے میں بولی۔
"ایک شرط پہ۔۔۔۔"غزنوی نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
"شرط۔۔۔۔؟؟ کیسی شرط۔۔؟؟"ایمان نے پوچھا۔
"اس شرط پہ کہ تم یہاں سے نہیں جاؤ گی۔۔۔یہیں رہو گی میرے پاس۔۔"
وہ سیدھے اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔
"یہ سب کر کے آپ کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں؟"
ایمان نے شرٹ ایک بار پھر اسکی جانب بڑھائی۔
"میں نے کیا کیا ہے؟"
معصومیت کی انتہا تھی۔وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی نامکمل شخص اپنے کھوئے ہوئے حصے کو دیکھتا ہے۔ایمان گہری سانس خارج کرتی بیڈ کی جانب آئی اور شرٹ بیڈ پہ رکھی اور دروازے کی جانب بڑھی۔
لیکن اسے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر باہر قدم رکھتی۔۔۔غزنوی اسکے آگے آ کر اسکا راستہ روک گیا۔
"تم نے چوڑیاں کیوں نہیں پہنیں۔۔؟؟"
غزنوی نے اسکی کلائی اپنی نرم گرفت میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔غزنوی سے اتنے غیر متوقع سوال کی اسے قطعی امید نہیں تھی۔وہ آنکھوں میں حیرتوں کا سمندر لئے اسے دیکھ رہی تھی
وہ قریب آئی اور شرٹ لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔۔غزنوی مسکراہٹ دباتے ہوئے سیدھا ہوا اور شرٹ اسکی سمت بڑھائی۔۔ایمان کی نگاہیں جھکی ہوئیں تھیں۔۔اس لمحے وہ اسکی سوال کرتی نگاہوں کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔
ایمان شرٹ لے کر آئرن اسٹینڈ کی جانب آ گئی۔شرٹ ٹیبل پہ رکھ کر سوئچ آن کیا اور کچھ لمحے استری گرم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔اسی دوران غزنوی بھی اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔وہ خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی شرٹ آئرن کرنے لگی مگر کب تک وہ اسکی نظروں کی قید کو سہتی۔۔وہ مسلسل اس پہ نظریں جمائے اسے کنفیوز کر رہا تھا۔۔آخر ایمان کی برداشت جواب دے گئی۔
"آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟"
ایمان نے شرٹ اسکی طرف بڑھائی جو غزنوی اس سے لینے کی بجائے اسکے مزید قریب آیا۔۔نظریں اب بھی ایمان کے چہرے کو فوکس کیے ہوئے تھیں۔
"کیوں۔۔۔؟؟ آپ کو ایسے دیکھنا منع ہے
وہ چائے ختم کرتے ہوئے بولی۔۔وہ بھی اب سب کے سامنے کوئی دوسرا ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتی تھی۔اس لئے چائے ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے ناشتے کے متعلق چند ہدایات دیتی کچن سے نکل آئی۔
اس کا رخ غزنوی کے روم کی جانب تھا۔۔دوسری جانب وہ اسی انتظار میں تھا کہ کب روم میں داخل ہوتی ہے۔۔لہذا بڑے آرام سے بیڈ پہ بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد اسے دستک کی آواز آئی۔اس نے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کے لئے بیڈ سے اپنی شرٹ اٹھائی اور الماری کھول کر کھڑا ہو گیا۔
ایمان اجازت ملتے ہی کمرے میں داخل ہوئی۔۔اس نے غزنوی کو الماری میں کچھ تلاش کرتے ہوئے پایا۔
"لائیں دیں۔۔میں کر دیتی ہوں۔۔۔شاہدہ مصروف ہے۔"
وہ ایمان کو رخ پھیرتے دیکھ کر شاہدہ کی جانب مڑا۔۔جسکے چہرے پہ اب ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔وہ بھی اپنے صاحب کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔
"جی بس ابھی کر دیتی ہوں۔۔"
وہ اپنے آٹے سے سَنے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔
"میں خود کر لوں گا۔"
وہ غصیلی نظروں سے ایمان کی پشت کو گھورتا باہر نکل گیا۔ایمان نے اسکے جاتے ہی سکھ کا سانس لیا تھا۔
"بی بی۔۔۔آپ جا کر شرٹ استری کر دیں نا۔۔اب وہ خود کیسے کریں گے۔۔پہلے بھی دو شرٹس جلا چکے ہیں اور پھر سارا غصہ مجھ پر نکالا تھا بلکہ کام سے فارغ ہی کر دیا تھا۔وہ تو اللہ بھلا کرے کمیل صاحب کا۔۔وہ عین موقع پر آ گئے اور ہماری جان بخشی ہوئی۔ان دنوں صاحب بڑے غصے میں رہتے تھے۔اب کہیں پھر سے نہ جلا دیں شرٹ ورنہ پھر میری شامت آ جائے گی۔"شاہدہ نے اسے پچھلے ہفتے کا واقعہ بتایا۔
تمھارے بچے ٹھیک ہیں؟"ایمان نے اس سے پوچھا۔
"ہاں جی۔۔۔شکر ہے اللہ کا۔۔بالکل ٹھیک ہیں۔ناشتے میں کیا بناؤں؟"شاہدہ نے فریج سے آٹا نکالتے ہوئے اس سے پوچھا۔
"پراٹھے اور آملیٹ۔۔۔میں مدد کر دوں گی۔۔آٹا کم ہو گا اور گوندھ لو۔"
وہ بولی تو شاہدہ نے سر اثبات میں ہلا اور کام میں مشغول ہو گئی۔۔ساتھ ہی ساتھ زبان کے جوہر بھی دکھا رہی تھی۔
ایمان گھونٹ گھونٹ چائے پیتی اسکی باتوں پہ مسکرا رہی تھی جب غزنوی تیزی سے کچن میں داخل ہوا۔ایمان کو وہاں موجود دیکھکر ایک پل کو اسکی آنکھوں کے آگے رات والا منظر گھوم گیا۔وہ ابھی بھی اسی گلابی لباس میں تھی۔ایمان فوراً رخ پھیر گئی تھی۔۔
"شاہدہ بی بی۔۔۔میں نے تم سے رات کو کچھ کہا تھا اگر تمھیں یاد ہو تو۔۔۔؟؟"
شاہدہ کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر جو خوشی کی چمک دِکھی تھی وہ دیکھ کر اسکے مسکراتے لبوں پہ سنجیدگی چھا گئی۔وہ یہ چمک کسی اور کی آنکھوں میں دیکھنے کی خواہش دل میں پال رہی تھی مگر اسے سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا تھا۔
"بی بی۔۔اور کون کون آیا ہے ہے۔۔کیا شاہ گل بھی آئیں ہیں آپ کے ساتھ؟"شاہدہ نے پوچھا۔
"نہیں شاہ گل تو نہیں آئیں۔۔بچیوں نے سب نے مری جانے کا پلان بنایا تھا۔ہم سب مری گئے تھے دو دن کے لئے۔۔کل واپسی تھی مگر راستے میں فائقہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔اسی لئے ہم اسے یہاں لے آئے۔۔"
ایمان وہیں ٹیبل کے قریب کرسی نکال کر بیٹھ گئی۔
"اچھا۔۔اب کیسی ہیں فائقہ بی بی۔۔۔؟؟"
شاہدہ نے ناشتے کی تیاری شروع کرتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں۔۔۔اب بہتر ہے۔"وہ مختصراً جواب دیتی چائے پینے لگی
ارے بی بی۔۔۔آپ۔۔۔یااللہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔"
شاہدہ نے ایمان کو کچن میں دیکھ کر اپنی آنکھیں زور زور سے رگڑ ڈالیں اور جب یقین ہو گیا تو خوشی سے اسکی طرف بڑھی۔ایمان چائے بنا رہی تھی۔اس نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔
"آپ کب آئیں۔۔۔کیا رات کو آئیں تھیں۔۔کیونکہ شام تک تو میں یہیں تھی۔"
شاہدہ نے اس سے پوچھا۔۔۔اسکے چہرے پر حیرت تھی۔
"رات کو۔۔۔کافی دیر سے۔۔۔تم اپنے کوارٹر میں تھی۔۔صرف میں ہی نہیں باقی گھر والے بھی آئے ہیں۔"
چائے تیار تھی۔۔اس نے اپنے لئے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
"اوہ جی۔۔۔بہت اچھا کیا کہ آپ آ گئیں۔۔قسم سے آپ کے جانے سے یہ گھر تو بالکل سُونا سُونا ہو گیا تھا۔صاحب بھی صبح آفس جاتے تو پھر رات گئے لوٹتے ہیں۔گھر میں بالکل خاموشی رہتی
وہ گلابی ڈوپٹہ خود پہ پھیلائے سوئی ہوئی تھی۔چہرہ بھی ڈوپٹے میں چھپا رکھا تھا۔اسے یاد آیا کہ گلابی رنگ کا لباس تو ایمان نے پہن رکھا تھا۔
یہ خیال آتے ہی وہ صوفے پہ ہاتھ ٹکا کر معمولی سا جھکا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے سے ڈوپٹہ ہٹایا۔
وہ گہری نیند میں تھی۔
غزنوی کی نظریں اسکے چہرے پہ پھسلنے لگیں۔اس نے ٹیبل کو صوفے کے قریب کیا اور وہیں بیٹھ گیا۔نجانے کتنی ہی دیر وہ اسے یونہی دیکھتا رہا۔۔
پھر اس خیال سے کہیں اسکی نیند کھل گئی اور اس نے اسے یہاں بیٹھے دیکھ لیا تو کیا سوچے گی۔وہ اٹھا اور اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔وہاں سے اٹھ کر جاتے ہوئے اس کے دل نے شدت سے یہ دعا کی تھی کہ ایمان وہیں اس کے پاس رک جائے۔۔۔
_________
سو۔۔۔
وہ تب سے کھلا ہے اور اُس میں کچھ تمھاری چوڑیاں،
ایک انگوٹھی اور ان کے بیچ میں کچھ زرد لمحے
اور اُن لمحوں کی گرہوں میں بندھی کچھ لمس کی کرنیں،
نظر کے زاویے پوروں کی شمعیں اور سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ملیں گی
اوروہ سب کچھ جو میرا اور تمھارا مشترک سا اک اثاثہ ہے سمٹ پائے
تو لے جانا۔۔۔مجھے جانے کی جلدی ہے۔۔۔
نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔کروٹ پہ کروٹ بدل رہا تھا مگر نیند تو جیسے روٹھ گئی تھی۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔پانی کی تلاش میں نظریں سائیڈ ٹیبل پر گئیں مگر ٹیبل خالی تھی۔
وہ پانی پینے روم سے باہر آ گیا۔۔لائٹ آن کی۔۔سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے اسکی نظر لاؤنج میں صوفے پہ بےخبر سوئے ہوئے وجود پہ پڑی۔وہ کچن کیطرف جانے کی بجائے صوفے کیطرف بڑھا۔
تمھیں جانے کی جلدی تھی
اب ایسا ہے کہ جب بھی
بے خیالی میں سہی لیکن کبھی جو اِس طرف نکلو
تو اتنا یاد رکھنا
گھر کی چابی صدر دروازے کے بائیں ہاتھ پر
اک خول میں رکھی ملے گی
اورتمھیں معلوم ہے
کپڑوں کی الماری ہمیشہ سے کھلی ہے
سیف کی چابی تو تم نے خود ہی گم کی تھی
تمھیں جانے کی جلدی تھی۔۔۔سو اپنی جلد بازی میں
تم اپنے لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے ،پوروں کی شمعیں
میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑ آئے ہو۔۔
وہاں تکیے کے نیچے
کچھ سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں،
کسی نوزائیدہ خوشبو کے تازہ خوابچے
بستر کی شکنوں میں گرے کچھ خوبرو لمحے
ڈریسنگ روم میں ہینگر سے لٹکی ایک سترنگی ہنسی کو
بس اچانک ہی پسِ پردہ لٹکتا چھوڑآئے ہو۔۔
ایمان نے کہا تو وہ کمرے کیطرف بڑھ گئیں۔جب تک وہ کمرے میں داخل نہیں ہوئی ایمان وہیں کھڑی رہی۔کچھ دیر وہ وہیں کھڑی رہی اور پھر لاؤنج میں آ گئی۔اس نے لائٹ آف کی اور اپنا ڈوپٹہ پھیلا کر صوفے پہ لیٹ گئی۔سارے دن کی تھکاوٹ نے اسے جلد ہی نیند کی وادیوں میں دھکیل دیا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain