ڈھونڈتے رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔
اذیت مصیبت ملامت بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
کسی شاعر نے پاکستان اور وہاں کے عوام میں چائے کی مقبولیت پر کچھ یوں لکھا :
مہمان آرہے ہیں ………………..چائے بنا لو
سر میں درد ہے ………………..چائے بنا لو
تھکاوٹ ہو رہی ہے………………..چائے بنا لو
موت آرہی ہے………………..چائے بنا لو
کا دیا جو تھا دہلیز پر
اسے کس نے بُجھادیا ہے
ان اداسیوں کو کس نے
میرے گھر کا پتا دیا یے۔۔۔۔
وہ جو انتظار میں تھیں دو آنکھیں
انہیں کس نے سُلا دیا یے
جوتنکا تنکا چُن کے بنایا تھا
وہ آشیانہ آخر کس نے جلا دیا ہے
وہ جو ساحل کی ریت پر لکھے تھے ساتھ ساتھ اپنےنام
انہیں کیوں لہروں نے مٹا دیا ہے
میرے گھر کا پتا دیا ہے
دکھوں کو کس نے
میرا در دِکھا دیا ہے
یہ آنسوؤں کو کس نے
میری آنکھوں میں بسا دیا ہے
یہ کس کی محبتوں کو دل نے
خود میں دفنا دیا ہے
میری آنکھوں سے نیند کو
آخر کس نے چرا لیا ہے۔۔۔۔
خواب میں پا کے اسے جشن منانے والوں
خواب اچھے ہوں تو تعبیر اُلٹ ہوتی ہے !!!
ہم تب ہی ہارتے ہیں جب ہم اندر سے ہار چکے ہوتے ہیں!
دل کو ہزار چیخنے، چــــلانے دیجئــے
جو آپکا نہیں ھے ،اسے جانے دیجئے
جو تیری جستجو میں چھوڑ دیا___!
اُس کا نعم البدل تو تُو بھی نہیں___!
میری ساری پوئٹری صرف اس کے لیے
جس کا ابھی تک کوئی اتا پتہ نہیں😏😏
تم میرے ذہن سے اتر جاؤ
میں تمہیں عمر بھر دعا دوں گی ____
تم کو میں بتلاؤں جنوں کی حد کیسے،
میں نے خود کو خود پر ہنستے دیکھا ہے
زندگی ان دنوں جتنی بوجھل ہے پہلے کبھی نہیں تھی! 😢
ساتھ دینے والا لڑکھڑا جائے تو اسے سنبھال لیا جاتا ہے تبدیل نہیں کیا جاتا🌚🌼
مجھے دکھ ہے مگر پھر بھی
میری دعا ہے " تم آباد رہو...
تلخی ایام سے تھک کہ جب بھی گری۔۔۔۔
اک خواہش شدت سے بیدار ہوئی ،
پھر حسرتوں میں وہ شما ر ہو ئی ،
کا ش کہ تم تھام لو ہا تھ ہما را ،
گرتے حو صلے کو دو سہارا ،
پھر آںکھیں بند کر کے ،
تمہیں محسوس کرتی ہوں ،
پھر آہ بھر کے اٹھتی ہوں۔۔۔۔۔
سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔
کچھ خواب حقیقت بن نہیں سکتے ،
اُس نے مُحبّت چھُپا لی
مگر کرنی نہیں چھوڑی
عجیب پاگل لڑکی ہے
اکیلے مرنا چاہتی تھی
عشق کے سبھی اعزاز
اپنے نام کرنا چاہتی تھی
عجیب پاگل لڑکی ہے
اکیلے مرنا چاہتی تھی
خوشیوں بھرے جیون کو
بے رنگ کرنا چاہتی تھی
عجیب پاگل لڑکی ہے
اکیلے مرنا چاہتی تھی
میری شامیں اداس ہیں
میرے دن بہت مایوس ہیں
میرا دل ایک زخمی پنچھی سا ہے
جو دن رات تڑپتا ہے
میری روح گھائل ہے
اور میری آزادی کی راہ میں
زندگی حائل ہے
بہت بے کیف ، بے چین رہتی ہوں
زندگی سمندر جیسی لگتی ہے
موت جس کا ساحل ہے
دکھوں سے چور ہے دل
ہجر کے ہاتھوں بہت مجبور ہے دل
کچھ تو اس دکھ کا مداوا کر دو
کوئی معجزہ دکھا کر
اس شخص کو لوٹا دو
جس کے نام پے دل
اب بھی دھڑکتا ہے
جس کے ہجر میں دل
اب بھی تڑپتا ہے اسے لوٹا دو
اسے میرا کر دو
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی ایسے شخص کے لیۓ اہم ہیں جس سے زیادہ اہم آپ کے لیے کوئی نہیں تو ابھی اور اسی وقت ایک زوردار تھپّڑ اپنے منہ پر مار کر خود کو ہوش میں لائیں اس سے پہلے کہ وہی اہم شخص آپ کو آپ کی اوقات یاد دلاۓ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain