عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر میں یہ پوچھ پوچھ تھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جواب مجھے نہ دے سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا ۔۔۔۔وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پہ کوئی گلا نہ تھا ۔۔۔۔۔اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا ۔۔۔۔
کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استاد ہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استاد توڑ دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کا طلسم علم کی شمع جلاتے ہیں ہمارے استاد منزل علم کے ہم لوگ مسافر ہیں مگر راستہ ہم کو دکھاتے ہیں ہمارے استاد زندگی نام ہے کانٹوں کے سفر کا لیکن راہ میں پھول بچھاتے ہیں ہمارے استاد