اس شہر میں کتنے لوگ ملے
سب بھول گئے کچھ یاد نہیں
اک شخص کتابوں جیسا تھا
وہ شخص زبانی یاد رھا
تو چانڑ میریاں اکھیاں دا
میتھو اولے یار نا ھویا کر
🙂🙂🙂🥺🥺☹️☹️
آج ہلکی ہلکی بارش ہے اور سرد ہوا کا رقص بھی ہے
اج پھول بکھرے بکھرے ہیں انمیں تیرا عکس بھی ہے
اج بادل گہرے گہرے ہیں اور چاند پہ لاکھوں پہرے ہیں
کچھ ٹکڑے تمھاری یادوں کے بڑی دیر سے میرے دل میں ٹھرے ہیں
لوگ بھی کیسے چلے جاتے ہیں زندگی سے
جن سے باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں
ان سے بات ہی ختم ہو گئی ۔۔۔
ویکھی کدرے ڈب نا جاویں
اکھاں دے وچ کبھ نا جاویں
پھل جے تینوں کہ بیٹھے آں
کنڈیاں وانگوں چبھ نا جاویں
یوں اسے بچھڑنا بھی اسان نہ تھا
جاتے جاتے اس کا یوں مل کر دوبارہ دیکھنا
جدے ویکھا اسے پاسے تو دسناےانج رچیایں یار نگاہیں اچ
تیرے ایا رونق بن گئی ہے میرے دل دیاں سنجیاں جائیں اچ
انکھیں تو تا دانش وڑ سگناں میں میں بیلیاں بلدیاں بھاہیں اچ
اوہ لحضہ ای عید توں ودھ ہوندے جیڑا نبھداے تیریاں بانہیں اچ
❤️❤️❤️❤️
دل دے اندر وسن والا
مالک اے مہمان نہی ھوندا
اتنا قریب آگیا تھا
مجھے لگا میرا ھی ھے وہ
وہ ایک دن ہمیں دیوانہ وار ڈھونڈے گا
اُسے کہو کہ ابھی ہیں تو آس پاس رہے
کبھی کبھی ھم وہ بھی کھو دیتے ھیں
جسے ھم بڑے حق سے کہتے ھیں یہ میرا ھے
اکھاں تینوں ویکھیا تے ھوووگئیاں تیریاں
میریاں تے ساھواں ھنڑ رھیاں نئیں میریاں
اور وہ
وہ جو تعمیر ھونے والی تھی
لگ گئی آگ اس عمارت میں
☹️☹️ جون ایلیا
چار دن کی چاندنی تھی
ھمیں لگا چاند ھمارا ھوگیا
ہوں خاک مگر عالم انوار سے نسبت ہے
میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکارﷺ سے نسبت ہے
دنیا کی شہنشاہی کو رکھتا ہوں میں ٹھوکر پر
کونین کے اس مالک و مختار سے نسبت ہے
میں خاک کا پتلا ہوں وہ ﷺ عرش کے راہی ہیں
اس پا ر کا باسی ہوں اور اس پار سے نسبت ہے
سر جھک نہیں سکتے سر محشر بھی ہمارے
سر اس لیے اونچے ہیں کہ سردارﷺ سے نسبت ہے
سرکار ﷺ کے دامن سے الطاف ہوں وابستہ
ؑغم پاس بھی کیوں آئیں کہ غم خوار سے نسبت
در در کی غلامی ھمیں اچھی نہیں لگتی
آقا کے غلاموں کا قبیلہ ھی بہت ھے
ھونٹوں پے جو تو حلاوت سی بکھیرے
یہ نام مصطفیٰ رسیلہ ھی بہت ھے
صل اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
❤️❤️❤️❤️😘😘😘😘😘😘
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تُو بڑے پیار سے بڑے چاوْ سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی حدت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی تُو نیندوں کے سفر پر جاتی
مَرمَریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی
میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا
جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
کاپنی آنکھوں کو ترے حُسن سے خیرہ کرتا
مجھ کو بےتاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
وصی شاہ
کبھی کسی سے اتنی زیادہ شکایت ھوتی ھے
کے شکایت کرنے کا بھی دل نہیں کرتا
یاد آئیں گی غفلتیں تم کو
دکھ نا ھونے کا دکھ بڑا ھوگا
کدی ویکھاں میں چن ولے
کدی حسن نبی(صل اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) ویکھاں
جدوں تک سامنڑے سوھنڑا نا میں چن نوں کدی ویکھاں
جنے ھک وار تکیا اے مصطفی کریم(صل اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم)دا چہرہ
پچھدا اے زمانے تو میں اس تو بعد کی ویکھاں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain