برسوں بعد ملے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں
بھول گیا میں بات بتانا وه شرمانا بھول گئی
خاور احمد
ہم جو شاعر ہیں سخن سوچ کے کب کرتے ہیں
لفظ خود اپنے، معنی کو طلب کرتے ہیں
کچھ تو چمکائے ہوئے رکھتے ہیں شب کو آنسو
"کچھ تیری یاد کے جگنو بھی غضب کرتے ہیں"
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
" وہ اب ترسے گا مُجھ سے بات کرنے کو!
جِس نے اپنے لہجے سے میرا دِل دُکھایا تھا ۔
غور سے دیکھا مجھے اور پھر کہا اُس نے
اُف کیسے کیسوں کو کھا گئی محبت ......
تُو نہ ہوتا تو کسی اور کا ہو بھی جاتا
تیرے ہونے سے یہ امکان کہاں بچتا ہے...!
جس کے ہاتھوں سے تُو ہاتھ چھڑا لے اپنا
نبض چلتی بھی رہے انسان کہاں بچتا ہے...!
شُہرتیں اپنی اداسی میں خلل ڈالتی ہیں
اس لیے نام کمانے سے بہت ڈرتے ہیں🔥
نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں!
منیر نیازی
جان پیاری تھی مگر جان سے پیارے تم تھے
جو کہا تم نے وہ مانا گیا ، ٹالا نہ گیا
غلط گمان ہے تیرا کہ ہم جدا ہونگے
دعائیں مانگنے والوں کی خیر بنتی ہے!!
ہر مرٙض اپنی الگ طرزِ دوا رکھتا ہے
میری بینائی کو درکار ہے کُرتا تیرا
اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ تیز بارش میں
طویل رنجشوں پہ گفتگو نہیں کرتے۔!
رفاقت_ ہجر مجھ کو وحشت سکھا رہی ہے
فروغ پاتی ہوئی اذیت کا کیا کروں اب؟
مجھے بھی مل گیا ہے اور کوئی،
بچھڑ کر وہ بھی زندہ بچ گیا ہے
مری حالت کے بارے مت بتانا
اسے اتنا ہی کہنا “بچ گیا ہے"
چاۓ جیسا کردار ھے میرا
کسی کو حد سے زیاده پسند ھوں تو
کسی کو نام سے ھی نفرت
اک بار تیرے ہو گئے تو بس ہو گئے
ہر روز کرنا نیا اب استخارہ کیسا
میرے خدا مجھے طارق کا حوصلہ دے دے
ضرورت آن پڑی،،،،،،،،،،،،کشتیاں جلانے کی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے
پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی
پھرتے ہیں کب سے در بدر
اب اِس نگر اب اُس نگر
اک دوسرے کے ہمسفر
میں اور میری آوارگی
ہم بھی کبھی آباد تھے ،،،ایسے کہاں برباد تھے،،
بے فکر تھے آزاد تھے،،، مسرور تھے دلشاد تھے،،
کوئی چال ایسی چل گیا
ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر
میں اور میری آوارگی
یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا، وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو بھی کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کہ وہ دلبر گیا،
تیرے لئے میں مر گیا
روتے ہیں اس کو رات بھر
میں اور میری آوارگی،،،،
داستانیں ہی سنانی ہیں تو پھر اتنا تو ہو
سننے والا شوق سے یہ کہہ اٹھے پھر کیا ہوا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain