Damadam.pk
Mrwa_11's posts | Damadam

Mrwa_11's posts:

Mrwa_11
 

برسوں بعد ملے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں
بھول گیا میں بات بتانا وه شرمانا بھول گئی
خاور احمد

Mrwa_11
 

ہم جو شاعر ہیں سخن سوچ کے کب کرتے ہیں
لفظ خود اپنے، معنی کو طلب کرتے ہیں
کچھ تو چمکائے ہوئے رکھتے ہیں شب کو آنسو
"کچھ تیری یاد کے جگنو بھی غضب کرتے ہیں"

Mrwa_11
 

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

Mrwa_11
 

" وہ اب ترسے گا مُجھ سے بات کرنے کو!
جِس نے اپنے لہجے سے میرا دِل دُکھایا تھا ۔

Mrwa_11
 

غور سے دیکھا مجھے اور پھر کہا اُس نے
اُف کیسے کیسوں کو کھا گئی محبت ......

Mrwa_11
 

تُو نہ ہوتا تو کسی اور کا ہو بھی جاتا
تیرے ہونے سے یہ امکان کہاں بچتا ہے...!
جس کے ہاتھوں سے تُو ہاتھ چھڑا لے اپنا
نبض چلتی بھی رہے انسان کہاں بچتا ہے...!

Mrwa_11
 

شُہرتیں اپنی اداسی میں خلل ڈالتی ہیں
اس لیے نام کمانے سے بہت ڈرتے ہیں🔥

Mrwa_11
 

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں!
منیر نیازی

Mrwa_11
 

جان پیاری تھی مگر جان سے پیارے تم تھے
جو کہا تم نے وہ مانا گیا ، ٹالا نہ گیا

Mrwa_11
 

غلط گمان ہے تیرا کہ ہم جدا ہونگے
دعائیں مانگنے والوں کی خیر بنتی ہے!!

Mrwa_11
 

ہر مرٙض اپنی الگ طرزِ دوا رکھتا ہے
میری بینائی کو درکار ہے کُرتا تیرا

Mrwa_11
 

اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ تیز بارش میں
طویل رنجشوں پہ گفتگو نہیں کرتے۔!

Mrwa_11
 

رفاقت_ ہجر مجھ کو وحشت سکھا رہی ہے
فروغ پاتی ہوئی اذیت کا کیا کروں اب؟

Mrwa_11
 

مجھے بھی مل گیا ہے اور کوئی،
بچھڑ کر وہ بھی زندہ بچ گیا ہے
مری حالت کے بارے مت بتانا
اسے اتنا ہی کہنا “بچ گیا ہے"

Mrwa_11
 

چاۓ جیسا کردار ھے میرا
کسی کو حد سے زیاده پسند ھوں تو
کسی کو نام سے ھی نفرت

Mrwa_11
 

اک بار تیرے ہو گئے تو بس ہو گئے
ہر روز کرنا نیا اب استخارہ کیسا

Mrwa_11
 

میرے خدا مجھے طارق کا حوصلہ دے دے
ضرورت آن پڑی،،،،،،،،،،،،کشتیاں جلانے کی

Mrwa_11
 

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے
پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی

Mrwa_11
 

پھرتے ہیں کب سے در بدر
اب اِس نگر اب اُس نگر
اک دوسرے کے ہمسفر
میں اور میری آوارگی
ہم بھی کبھی آباد تھے ،،،ایسے کہاں برباد تھے،،
بے فکر تھے آزاد تھے،،، مسرور تھے دلشاد تھے،،
کوئی چال ایسی چل گیا
ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر
میں اور میری آوارگی
یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا، وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو بھی کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کہ وہ دلبر گیا،
تیرے لئے میں مر گیا
روتے ہیں اس کو رات بھر
میں اور میری آوارگی،،،،

Mrwa_11
 

داستانیں ہی سنانی ہیں تو پھر اتنا تو ہو
سننے والا شوق سے یہ کہہ اٹھے پھر کیا ہوا