کمال شخص تھا جس نے مجھے تباہ کیا
خلاف اس کے یہ دل ہو سکا ہے اب بھی نہیں
ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﺅﮞ
ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﻭﮞ ؟
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ
ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گے میں تنہا رہ جاؤں گا...
شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہو میں شاید مر جاؤں گا...!
نصیب میں لکھی گٸیں ھیں اذیتیں
سہے بغیر تو ہم مر بھی نہیں سکتے 🔥
احباب نے ، رقِیب نے ، دِل نے ، رفِیق نے
یہ بھی رہا نہ یَاد کہ کِس کِس نے مَات دی
روٹھ جانا تو سہ بھی سکتا ہوں __!!
پر سنا ھے مجھ سے بدگماں ہے وہ شخص __!
تیری بے رخی سے میرے ہمنوا میری داستان ختم ہوئی__!!
میری تم سے تھی سب نسبتیں اک تیرے سوا میرا کون تھا __!!
تم سے بچھڑا ہوں تو رویا ہوں وگرنہ کل تک
رونے والوں کو بھی فنکار کہا کرتا تھا
گم شدہ رختِ سفر میں تری تصویر بھی تھی__!
ورنہ اتنا نہیں ہوتا مجھے سامان کا دکھ__!
صرف ہمی سمجھتے تھے تیری ذات کے پیچ و خم
ہمیں ڈر ہے تو کسی اور کے ہاتھوں خود کو گنوا دے گا
پھر یوں ہوا اک شخص سے محبت ہو گئی مجھ کو
پھر یوں ہوا اسکی عادت سی ہوگئی مجھ کو
پھر یوں ہوا ہزاروں باتیں ہونے لگیں درمیان ہمارے
پھر یوں ہوا رات بھر جاگنا پڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا اپنی دنیا سمجھ لیا اس کو میں نے
پھر یوں ہوا سب سے منقطع ہونا پڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا وہ چھوڑ گیا مجھ کو
پھر یوں ہوا اکیلے رہنا پڑگیا مجھ کو
پھر یوں ہوا زندگی میں طاق راتیں آگئیں
پھر یوں ہوا رب سے مانگنا پڑگیا مجھ کو
پھر یوں ہوا زندگی موت جیسی لگتی تھی
پھر یوں ہوا زندہ رہ کے مرناپڑگیا مجھ کو.,
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تُو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
خرچ لمحوں میں، تیرے دست کشادہ سے ہوئے
کتنی صدیوں کی مشقت سے کمائے ہوئے ہم..
اسی کے نام سے لفظوں میں چاند اترے ہے
وہ اک شخص کو دیکھوں تو آنکھ بھر آئے
جو کھو چکے ہیں انہیں ڈھونڈنا تو مشکل ہے
جو جا چکے ہیں انہیں کوئی کس طرح لائے
طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں
ہم ایسے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں
بس ایک بار انھیں دیکھنے کی خواہش ہے
پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں
کاش کبھی یادوں کا بھی اتوار آتا۔۔۔۔۔۔۔🍂
کاش کبھی سوچوں کی بھی چُھٹی ہوتی
عجیب شرط لگائی ہے احتیاطوں نے
کہ تیرا ذکر کروں اور تیرا نام نہ ہو
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
(احمد فراز)
ایسا بےحس کے پگھلتا ہی ناں تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھر دیکھا
دکھ ہی ایسا تھا کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستا ہوا اکثر دیکھا
پتے برابر نکلے ضد کی بازی میں۔۔ 🍂
وہ مغرور سرپھرا, میں انا پرست
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain