وہ سب سے چهپ کر مجهے چاہنے لگا تها
پهر کسی نے شور کیا اسکا دهیان ٹوٹ گیا
تمھارے بعد میں نصرت کے گیت سنتا ہوں
تو دکھ کے سارے ہی سازوں میں یاد آتا ہے
جو پوچھتا ہے دعاؤں میں یاد رکھو گے؟
وہ شخص مجھ کو نمازوں میں یاد آتا ہے 🥀
دلِ مرحوم کا ماتم کروں یا روؤں اس دن کو
تمہارے چاہنے کی جب پڑی تھی ابتدا دل میں
ہمیں رقیب سے مل کر بھی مسکرانا ہے
ہمارا کرب تمہاری سمجھ سے باہر ہے
مجھے اس کی آواز کا مرہم چاہیئے
اسے کہو نا میرا نام پکارے!
تجھکو سوچوں تو میرے چہرے پر😍
تیری مسکراہٹ کا اثر رہتا ہے
کھو گیا ہوں کہیں اپنے ہی تعاقب میں
مل سکا خود سے تو اک روز ملاؤں گا تمہیں
رکهو تم اپنے پاس تاویلیں ، وضاحتیں ،
فرصت طلب نہیں ہوں ، توجہ طلب ہوں میں
وہ نمازوں میں دعاوں کے وظیفوں جیسا
میں رعایا کی طرح ہوں وہ خلیفوں جیسا
اس کا ہر نقش ہے ازبر مجھے آیت کی طرح
اس کا ہر لمس میسر ہے صحیفوں جیسا
اب که یہ دشت مرے پاوں پڑا ہے ورنہ
اس کا میرا تو تعلق تھا حریفوں جیسا
یہ تعلق بھی توانائی گنوا بیٹھا ہے
بوڑھے احساس کی مانند، ضعیفوں جیسا
زندگی پاوں کی ٹھوکر پہ ہمیں رکھتی ہے
اس کا انداز نہیں یار شریفوں جیسا
نبض تھم جائے اگر یاد کا موسم اترے
عشق میں حال ہوا دیکھ نحیفوں جیسا
دونوں مل جل کے کریں جیت کو تقسیم
کیوں نہ اس بار جمے کھیل حلیفوں جیسا
عجیب تقاضے ہیں چاہتوں کے
بڑی کٹھن یہ مسافتیں ہیں
میں جس کی راہوں میں بچھ گیا ہوں
اسی کو مجھ سے شکایتیں ہیں
شکایتیں سب بجا ہیں لیکن
میں کیسے اس کو یقین دلاؤں
جو مجھ کو جاں سے عزیز تر ہے
اسے بھلاؤں تو مر نا جاؤں
میں خاموشی کی انتہا میں
کہاں کہاں سے گزر گیا ہوں
اسے خبر بھی نہیں شاید
میں دھیرے دھیرے بکھر گیا ہوں
جو شخص بھی اپنا قد و قامت نہیں رکھتا
وہ شہر کے آئینے سلامت نہیں رکھتا
مجھ سے یہ شکایت ہے مرے چارہ گروں کو
میں زخم چھپانے کو علامت نہیں رکھتا
وہ دوست اگر ہے تو مجھے حوصلہ بخشے
دشمن ہے تو کیوں حرف ملامت نہیں رکھتا
یہ عہد بغاوت ہے کرو فکر سروں کی
دستار تو کوئی بھی سلامت نہیں رکھتا
راس آ ہی گیا ترک تعلق اسے آخر
آنکھوں میں وہ پہلی سی ندامت نہیں رکھتا
اب کس کی تسلی کو غزل سوچئے محسن
اب کون یہاں دل میں قیامت نہیں رکھتا
محسن نقوی
کتنی دلکش ہوتی ہے نہ محبت کی تاثیر❤
خوش جب تم ہوتے ہو لب ہمارے مسکراتے ہیں😘❤
شاید تم ناواقف ہو ہمارے مزاج سے
تیری توقع سے بھی زیادہ سر پھرے ہیں ھم
محبت عمر بھر تم سے کریں گے اور تم کو
بزرگوں کے کہے پہ عاجزانہ چھوڑ دیں گے🥀🖤
تُو میرے بعد ہوئے حادثوں کی خبروں پر
سبھی سے کہتا پھرے گا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں
تُو میرا وقت کھا گیا سارا،
میرا تجھ سے حساب بنتا ہے
تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
زخمِ دل کو کبھی اچھا نہــیں ہونے دینا
میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا
اتنی جلدی اسے پسپا نہـــیں ہونے دینا
تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے
میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا
اس نے کھائی ہے قسم پھر سے مجھے بھولنے کی
میں نے اس بار بھی ایسا نہیں ہونے دینا
مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نے
ایسے مُرتد کا جـنازہ نہـیں ہونے دینا
دل کے اندر آگ لگائی جا سکتی ہے..
دل والوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے..
اُس نے ہنس کر میری جانب دیکھ لیا ہے..
یعنی اُس سے بات بڑھائی جا سکتی ہے..
سات سمندر پار تو باتیں ہو جاتی ہیں..
کیا ماضی میں کال ملائی جا سکتی ہے..؟
نئی محبت مہنگی پڑتی ہے تو دیکھو..
کوئی پرانی ٹھیک کرائی جا سکتی ہے..؟
دروازے پر دستک دے کر دیکھ لیا ہے..
دروازے سے ٹیک لگائی جا سکتی ہے..
زندگی سے بھی خواب ہمیں کچھ مل سکتے ہیں..
جیسے موت سے نیند چُرائی جا سکتی ہے..
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺸﻖ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ !
ﺑﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ !
ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﻣُﺠﮭﮑﻮ ؟
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﮬُﻮﻧﮉتی ﭘﮭِﺮﻭﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ
ﺍپنے ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬ لوﮞ ﺯﻧﺠﯿﺮ ؟
ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣِﻠُﻮﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ
ﺗﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ ؟
ﺗﻮ ﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺩِﮐﮭﻮﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ !
ﺗﯿﺮی ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﮭُﮑﺎﺩﻭﮞ ﺳَﺮ ؟
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﮩﻮﮞ ؟ ﺑﮩﺘﺮ
اے شبِ ھِجر! کبھی توُ ھی بتا دے مُجھ کو
ایک سے لگتے ھیں کیوں سارے زمانے مُجھ کو
مُجھ سے وہ دُور بہت دُور ھُوا جاتا ھے
لیے جاتے ھیں کہاں شہر کے رَستے مُجھ کو
اِس طرح مِل کہ کِسی شے کی تمنا نہ رھے
یُوں مجھے دیکھ کہ پھر کوئی نہ دیکھے مُجھ کو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain