محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے کبھی دلسوز لمحوں سے کبھی بے کار رسموں سے کبھی تقدیر والوں سے کبھی مجبور قسموں سے مگر یہ ہار جاتی ہے۔۔۔۔ کبھی یہ پھول جیسی ہے کبھی یہ دھول جیسی ہے کبھی یہ چاند جیسی ہے کبھی یہ دھوپ جیسی ہے کبھی مسرور کرتی ہے کبھی یہ روگ دیتی ہے کسی کا چین بنتی ہے کسی کو رول دیتی ہے کبھی لے پار جاتی ہے کبھی یہ مار جاتی ہے محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے
ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا بغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھا اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا مری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہے اسے ناراض ہونا چاہیے تھا چلا آتا یقیناً خواب میں وہ ہمیں کل رات سونا چاہیے تھا سوئی دھاگہ محبت نے دیا تھا تو کچھ سینہ پرونا چاہیے تھا ہمارا حال تم بھی پوچھتے ہو تمہیں معلوم ہونا چاہیے تھا وفا مجبور تم کو کر رہی تھی تو پھر مجبور ہونا چاہیے
زندگی خاک نہ تھی ، خاک اُڑاتے گزری تجھ سے کيا کہتے ، ترے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی ياد کی رو ميں گزرا شام آئي تو کوئي خواب دکھاتے گزری اچھے وقتوں کی تمنا ميں رہی عمرِرواں وقت ايسا تھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر ميں ہوں خوشياں تيری اُن کو آتا ہے نبھانا سو نبھاتے گزری زندگی نام اُدھر ہے کسی سرشاری کا اور اِدھر دور سے ايک آس لگاتے گزری رات کيا آئی کہ تنہائي کی سرگوشی ميں ہو کا عالم تھا مگر سنتے سناتے گزری بارہا چونک سی جاتی ہيں دھڑکن دل کی کس کی آواز تھی يہ کس کو بلاتے گزری
ذحالِ مستی مکُن بہ رنجِش بہ حالِ ھجراں بے چارا دل ھے سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن تمھارا دل یا ہمارا دل ہے وہ آکے پہلو میں ایسے بیٹھے کہ شام رنگین ھو گئی ہے ذرا ذرا سی کھلی طبیعت ذرا سی غمگین ہو گئ ہے سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن تمھارا دل یا ہمارا دل ہے کبھی کبھی شام ایسے ڈھلتی ہے جیسے گھونگھٹ اُتر رہا ہے تمھارے سینے سے اُٹھتا دھواں ہمارے دل سے گزر رہا ہے سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن تمھارا دل یا ہمارا دل ہے یہ شرم ہے یا حیا ہے کیا ہے؟ نظر اُٹھاتے ہی جھک گئی ہے تمہاری آنکھوں پہ گر کے شبنم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain