سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں ہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں کون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد بال و پر اس کے ترے تیر لیے پھرتے ہیں تو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو مشعلیں نالہٓ شب گیر لیے پھرتے ہیں تیری صورت سے ملتی نہیں کسی کی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں معتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر کو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں رنگ خوباں جہاں دیکھتے ہی زاد کیا آپ زور آنکھوں میں تصویر لیے پھرتے ہیں جو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہے آپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں سر کشی شمع کی گر لگتی نہیں ان کو بری لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں تا گنہ گاری میں ہم کو کوئی مطعون نہ کرے ہاتھ میں نامہٓ تقدیر لیے پھرتے ہیں قصر تن کو یوں ہی بنوا نہ بگولے ناسخؔ خوب ہی نقشہٓ تعمیر لیے پھرتے ہیں
شہر کا شہر ہُوا جان کا پیاسا کیسا سانس لیتا ہے مِرے سامنے صحرا کیسا مِرے احساس میں یہ آگ بَھری ہے کِس نے رقص کرتا ہے مِری رُوح میں شُعلہ کیسا تیری پرچھائیں ہُوں نادان! جُدائی کیسی میری آنکھوں میں پِھرا خوف کا سایہ کیسا اپنی آنکھوں پہ تجھے اِتنا بھروسہ کیوں ہے تیرے بِیمار چَلے توُ ہے مسِیحا کیسا یہ نہیں یاد، کہ پہچان ہماری کیا ہے اِک تماشے کے لِیے سوانگ رچایا کیسا مَت پِھری تھی، کہ حرِیفانہ چَلے دُنیا سے سوچتے خاک، کہ موّاج ہے دریا کیسا صُبْح تک رات کی زنجِیر پِگھل جائے گی لوگ پاگل ہیں، سِتاروں سے اُلجھنا کیسا دِل ہی عیّار ہے، بے وجہ دھڑک اُٹھتا ہے ورنہ افسردہ ہَواؤں میں بُلاوا کیسا
سوچ، ڳڻتي، غم، خوشيءَ جا مامرا، کوڙ آھن زندگيءَ جا مامرا ـ ڪنھن عدالت ۾ ٻڌڻ جوڳا نہ ھا، اک، ڪجل ۽ عاشقيءَ جا مامرا ـ ايئن رھندا جيئن رھندا ٿا اچن؟ حل بہ ٿيندا آدميءَ جا مامرا؟ ٿي سگھيا دنيا سان ھم آھنگ ڪٿي، عشق سچي، سادگيءَ جا مامرا ـ پيار، عزت، احترامن کان سواءِ، ڪيئن ھلندا دوستيءَ جا مامرا ـ