دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوہئ شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے
وہ مروّت سے ملاِ ہے تو جھکا دوں گردن
میرےدشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
بے نوا شہر کا سایہ ہےمرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جا ئے
احمد فراز
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس! مروت میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا
مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہو گا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
حصص میں بانٹ رہے ہیں مجھے مِرے احباب
میں کاروبارِ شراکت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا
دستک کی تو ہر اِک کو اجازت ہے لیکن
کھلتا نہیں ہر اِک پہ درِ یار، خبردار
اس دیس میں محبوب کا فرمان ہےقانون
ہے جُرم یہاں حُجت و تکرار، خبردار
لازم نہیں اُس دل پہ رہِ عشق میں سجدہ
جس دل کو وضو ہے ابھی درکار، خبردار
ہے عشق کے روزے میں فقط لذتِ سحری
تا عمر نہیں صورتِ افطار، خبردار
وہ حُسنِ مجسم ہے ،حجابوں میں نہاں ہے
اَسرار ہے، اَسرار ہے، اَسرار، خبردار
حضرتِ بیدم شاہ وارثی
غزل
کچھ الگ ہی فضا دی مجھے
پھر طلب بھی جدا دی مجھے
کس جنم کی خطا کے عوض
ہر کسی نے سزا دی مجھے
برق کچھ آشیاں پر گری
کچھ پتوں نے ہوا دی مجھے
ہے کہاں وہ مرا لا مکاں
ہر مکاں نے صدا دی مجھے
چاشنی جو پرستش میں ہے
تلخیوں نے خدا دی مجھے
اچھی آنکھوں کے پجاری ہیں میرے شہر کے لوگ
تو میرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا
ھم قیامت بھی اُٹھائیں گے تو ھوگا نہیں کچھ
تو فقط آنکھ اٹھائے گا تو چھا جائے گا
پھول تو پھول ہیں وہ شخص اگر کانٹے بھی
اپنے بالوں میں سجائے گا تو چھا جائے گا
یوں تو ہر رنگ ہی سجتا ہے برابر تجھ پر
سرخ پوشاک میں آئے گا تو چھا جائے گا
جس مصور کی نہیں بکتی کوئی بھی تصویر
تیری تصویر بنائے گا تو چھا جائے گا
قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا
ازل سے تا بہ ابد صرف اک سفر میرا
خراج مجھ کو دیا آنے والی صدیوں نے
بلند نیزے پہ جب ہی ہوا ہے سر میرا
عطا ہوئی ہے مجھے دن کے ساتھ شب بھی مگر
چراغ شب میں جلا دیتا ہے ہنر میرا
سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی اپنی انا
پکاروں کس کو جو دے ساتھ عمر بھر میرا
میں غم کو کھیل سمجھتا رہا ہوں بچپن سے
بھرم یہ آج بھی رکھ لینا چشم تر میرا
مرے خدا میں تری راہ جس گھڑی چھوڑوں
اسی گھڑی سے مقدر ہو در بہ در میرا
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
محسن نقوی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain