دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں دیکھو ہمارا رنگ بھی و نہیں رہا آنکھوں سے خوش گمانی کی پٹی اُتر چُکی اب صاف دیکھتا ہُوں میں اندھا نہیں رہا اپنے بہت سے یار تھے جانے کہاں گئے؟ جب سے ہمارے ہاتھ میں پیسہ نہیں رہا ہم نے بھی کب کی چھوڑ دی منزل کی جُستجو یوں بھی ہمارے پاؤں میں رستہ نہیں رہا پہلے تو میری آنکھ سے اوجھل ہوا وہ شخص پھر اس کے بعد ذہن میں چہرہ نہیں رہا
سنتے ہیں ہم پرانا مکاں اب نہیں رہا بستے تھے اپنے خواب جہاں اب نہیں رہا یوں تو بہت رہیں تھیں ہمیں ان سے رنجشیں لیکن یہ کیا کہ رازِ نہاں اب نہیں رہا آنکھوں میں جل رہی ہے بجھے خواب کی تھکن وہ حسنِ بے مثال جواں اب نہیں رہا سچ بولنے کو کوئی بھی راضی نہ تھا مگر اور جھوٹ بولنے کا گماں اب نہیں رہا پیروں تلے زمین تو پہلے ہی کھو گئی سر پر تھا آسماں کا سماں اب نہیں رہا ہم نے بلندیوں کا سفر ترک کر دیا اک تیر ہو رہا تھا کماں اب نہیں رہا اب ڈھونڈنے چلے ہو کسے، رت بدل چکی گلشن میں آرزو کا نشاں اب نہیں رہا کچے تھے رنگ خواب کے، کچی تھی عمرِ شوق اک دیپ جل بجھا تھا دھواں اب نہیں رہا سب سن رہے تھے شوق سے،آواز کھو گئی شعلہ بیان کا تھا بیاں اب نہیں رہا شائستہ مفتی
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
اداس شامیں اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا۔ کسی کی آنکھوں میں رت جگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا۔ ابھی نئی وادیوں نئے منظروں میں رہ لو۔مگر میری جان یہ سارے تمکو ایک ایک کر کے چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا۔ جو شام ڈھلتے ہی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں۔ اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا۔ میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا۔ اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تمکو بھول جائیں تمھارے اپنے۔ اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا۔ میری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر بچھڑنے والے میری وہ باتیں اگر کبھی رلائیں تو لوٹ آنا۔