💕میں نے تو رنگ دیا،
ہر رنگ تیرے نام سے
میری آنکھوں سے پوچھ ع
کسے کہتے ہیں..💕
نگاہِ دید سے جی بھر کے دیکھا
آج دل کو راضی کر کے دیکھا
قاتل کے ہاتھ میں لذت بہت تھی
میں نے کٸی بار مر کے دیکھا
تقویت مل گٸی میری شرارت کو
جب اس نے چار سو ڈر کے دیکھا
اپنا شیرازہ خود ہی سمیٹنا پڑا
جہاں بھی میں نےبکھر کے دیکھا
مری تشنگی پہلے سے بڑھ گٸی وسیم
جب میں نے سمندر میں اتر کے دیکھا
نہ وہ ادائیں ، نہ ناز و غرور ، خیر تو ہے ؟
اداس بیٹھے ہیں میرے حضور ، خیر تو ہے ؟
ہماری سانس کو تم نے اسیر کر ڈالا !
نہ کوئی جرم نہ کوئی قصور ، خیر تو ہے ؟
وہ بزم جس کو ہمارے لہو نے نام دیا
سجا رہے ہیں اُسے ہم سے دور ، خیر تو ہے ؟
اکڑ کے چلتے ہیں مسجد میں حضرتِ واعظ
رکوع و سجدہ پہ اتنا غرور ، خیر تو ہے ؟
تمہارے شہر کے سب لوگ محتسب نکلے !
کہ میکدہ ہوا آنکھوں سے دور ، خیر تو ہے ؟
تیرے بغیر بھی جی لیں گے ، مسکرا لیں گے
کہاں گیا وہ ہمارا غرور ؟ خیر تو ہے ؟
جنوں بھی ، شوق بھی ، دیوانگی بھی حیراں ہے
کہ محوِ رقص ہے اپنا شعور ، خیر تو ہے ؟
تیری گلی ہے نظر میں ، کہ وادیِ سینا
مہک رہے ہیں نگاہوں میں طور ، خیر تو ہے ؟
#Ghazal
چڑھا ہوا ہے جو دریا اترنے والا ہے
اب اس کہانی کا کردار مرنے والا ہ
سنا ہے شہر میں آیا ہے جادو گر کوئی
تمام شہر کو تصویر کرنے والا ہے
یہ آگہی ہے کسی حادثے کے آمد کی
بدن کا سارا اثاثہ بکھرنے والا ہے
ذرا سی دیر میں زنجیر ٹوٹ جائے گی
جنون اپنی حدوں سے گزرنے والا ہے
تمام شہر بنایا گیا ہے آئینہ
یہ آج کس کا سراپا سنورنے والا ہے
علاّمہ محمّد اقبال
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان!
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ہمسایۂ جبریل امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمن
بنتے ہیں مری کار گہ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان
💞💞
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بُلا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تُم کو
وصؔی شاہ
اقرار کر گیا کبھی انکار کر گیا
ہر بار اک عذاب سے دوچار کر گیا
رستہ بدل کہ بھی دیکھا مگر وہ شخص
دل میں اُتر کر ساری حدیں پار کر گیا 💞
(سیدہ پروین شاکر)
ﮐﮩﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺏ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﯽ،؟
ﺟﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﭼُﺮﺍ ﻟﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ
ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ
ﺗﻌﺒﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺩﮮ ﺟﺎﮰ
ﺟﻮ ﻏﻢ ﮐﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺳﮯ
ﮨﺮ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺟﮕﻨﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ
ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺠﺎﺗﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ
ﺁﻧﺴﻮ ﮨﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺟﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﻮ
ﺟﻮ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺮﮮ
ﻭﮦ ﺩﻝ ﺟﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻨﺪﺭ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﻣﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﮮ
ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﺮﮮ
ﺍﺏ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﯽ،؟
ﺟﻮ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻧﻘﺪﯼ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﻝ ﻛﺎ ﺭﻭﮒ ﺑﻨﮯ
ﺟﻮ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺑﮭﺎﻟﯽ ﮨﻮ
نہیں اُٹھتیں وہ آنکھیں پھر کسی پہ
کہ جن آنکھوں میں فنا ہوتی ھے محبت❤
عمر بھر جس کا ازالہ ___ نہ کر پائیں
بس ایک ایسی ہی خطا ہوتی ھے محبت
نہ چاھت ھے چاند کی،
نہ آرزو ھے ستاروں کی،
نہ امید ھے نظاروں کی،
نہ خواہش ہے بہاروں کی،
آپ جیسا اک دوست مل جائے
تو
کیا ضرورت ہے ھزاروں کی./
کسی بھی اور کے
ہاتھوں سے مرنے دے گا نہیں
وفا پرست ہو دشمن
تو اس سے پیار کرو
چلن رہا ہے
محبت مزاج لوگوں کا
جسے ملو اسے
فوراً سے بے قرار کرو
تُم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
کِس طرح چھوڑ دوں تمہیں جانا
تم میری زندگی کی عادت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تُم میری آخری محبت ہو🖤🥀
قاصد! اُسے کہنا، کوئی پیغام نہیں ہے
کیا اور جہاں میں مجھے کچھ کام نہیں ہے
کرتا ہے یہ دعویٰ کہ خُدا صِرف مِرا ہے
دیوانہ تِرا، یُوں ہی تو بدنام نہیں ہے
ہے درد و غمِ ہجر گو برداشت سے باہر !
لیکن یہ ابھی باعثِ انجام نہیں ہے
آ یا ہے مِرے نام ہی پروانہ اجل کا
اس دہر میں کوئی مِرا ہمنام نہیں ہے
جس روز سے ساقی نے ہے آنکھوں سے پلائی
اُس روز سے ہاتھوں میں مِرے جام نہیں ہے
کہتا ہےسَرِ دار اناالحق ہی انالحق
اے عشق! تجھے کچھ غمِ انجام نہیں ہے؟
تڑپو نہ مِرے بعد اگر یاد میں میری !
ذیشان علی عکس میرا نام نہیں ہے
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں
ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش
بوند تک بو نہ سکے جو کبھی صحراؤں میں
اے میرے ہمسفرو تم بھی تھکے ہارے ہو
دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں
جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہو گا
مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں
مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد
کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
قتیل شفائی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain