حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکن نظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کو وہ جلوہ، جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے ترے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے خدا کا گھر سمجھ رکّھا ہے اب تک ہم نے جس دل کو قتیل اس میں بھی اک بُتخانہ بن جائے تو کیا کیجے
وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا دیتے ہیں اجالے مرے سجدوں کی گواہی میں چھپ کے اندھیرے میں عبادت نہیں کرتا بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ہے میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا قتیل شفائی
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے جبر و سفاکی و طغیانی کا باغی ہوں میں نشۂ قوتِ انسان کا باغی ہوں میں جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون ظلم و عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون تشنگی نفس کے جذبوں کی بجھانے کے لیے نوعِ انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں میری آواز، یہ تنہا میری آواز نہیں
غزل اسحاق سميجو جِنن جو خوف هو، رستو به هو سُنسان گهڻو، وهَم جي رات به دل جو ڪيو نقصان گهڻو! نچي نچي ٿي لکيو ڀئُه، نديءَ تي پاڇولي پَھاڙي وڻ به پُٽن جيئن هيو شيطان گهڻو! خفا گهڻا نه ڪڏهن پالجن محبت ۾ وڏي سفر تي نه کڻجي ڪڏهن سامان گهڻو! ملڻ جي رات، بشارت جي رات جھڙي هئي هوا سُڳنڌ ڀَري، حُسن مھربان گهڻو! سرءُ شھيد ڪري وئي وڻن جي حُسناڪي سَٺو بسنت کان ٿيندو نه هي اپمان گهڻو! هي تنھنجي عشق جي ڪھڙي مَقام تي پھتس زمينَ ڏور، ۽ ويجهو آ آسمان گهڻو!
شاعر: نواب مرزا داغ دہلوی یہ سُنتے ہیں اُن سے یہاں آنے والے جہنم میں جائیں وہاں جانے والے ترس کھا ذرا دل کو ترسانے والے اِدھر دیکھتا جا اُدھر جانے والے مرادل، مرے اشک، غصہ تمہارا نہیں رکتے روکے سے یہ آنے والے وہ جاگے سحر کو تو لڑتے ہیں مجھ سے کہ تھے کون تم خواب میں آنے والے وہ میرا کہا کس طرح مان جاتے بہت سے ہیں شیطان بہکانے والے اِدھر آؤ اس بات پر بوسہ لے لوں مرے سر کی جھوٹی قسم کھانے والے ہمیں پر اُترتا ہے غصہ تمہارا ہمیں بے خطا ہیں سزا پانے والے وہ محفل تمہاری مبارک ہو تم کو سلامت رہیں بے طلب آنے والے جو واعظ کے کہنے سے بھی توبہ کرلوں نہ کوسیں گے کیا مجھ کو میخانے والے
حوروں کی تمنّا نہیں اے حضرتِ واعظ،،، ہم تاک میں ہیں جس کی وہ ہے پردہ نشیں اور یا رب ہوں بہت تنگ بدل چرخ و زمیں اور یا پھینک دے دنیا سے نکلوا کے کہیں اور صورت کو تری دیکھ کے یاد آتی ہے اس کی آنکھوں میں مری پھرتی ہے ایک شکل حسیں اور مسجد سے ہیں بت خانے کے انداز نرالے در اور ہے سر اور ہے سنگ اور،، جبیں اور زخم دلِ مجروح میں زلفوں نے بھرا مشک چھڑکے گا نمک اس پہ وہ حسنِ نمکیں اور اللّٰہ کا گھر کعبے کو سب کہتے ہیں لیکن دیتا ہے پتا اور وہ ملتا ہے کہیں اور
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے 🙏 تیرے کہے سے ہم اے داغ چھوڑ دیں گے عشق خدا کے واسطے کیوں دیتا ہے خدا کے لیے داغ دہلوی
میں اب تو تیرے ! گماں میں بھی نہیں لیکن تجھے اب بھی میں نے یقیں میں رکھا یہ تو تھا جو بدل گیا ! مجبوریوں کے بھنور میں ... میں نے آج بھی کسی کو تیرے مقابل نہیں رکھا ...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain