ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا
ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا
لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگالیے
تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا
(پروین شاکر)
.
غزل
اکیلا کس کو دینے شہ گیا ہے
سمندر کے جو زیرِ تہہ گیا ہے
سیاست کی پڑی ہے اب بھی تجھ کو
مرا گھر پانیوں میں بہہ گیا ہے
امیرِ شہر کو کیا فکر اس کی
غریبِ شہر کا گھر ڈھہ گیا ہے
بڑا تھا حوصلہ اس شخص کا جو
محبت کے غموں کو سہہ گیا ہے
زبانی یاد ہیں جو چند غزلیں
اثاثہ اب یہی کچھ رہ گیا ہے
کئی بچے ابھی تک رو رہے ہیں
کوئی جانے انہیں کیا کہہ گیا ہے
شاعر: محسن نقوی.
وہ دلاور ــ جو سیاہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہُوئے سورج کے ــ پجاری نکلے
سب کے ہونٹوں پہ ـ ـ مرے بعد ہیں باتیں میری!
میرے دُشمن ــ میرے لفظوں کے بھکاری نکلے
اِک جنازہ اُٹھا مقتل سے ـ ـ عجب شان کے ساتھ
جیسے سج کر ــ کسی فاتح کی سواری نکلے
ہم کو ہر دَور کی گردش نے ـ ـ سلامی دی ہے
ہم وہ پتھر ہیں ــ جو ہر دَور میں بھاری نکلے
عکس کوئی ہو ـ ـ خدوخال تمہارے دیکھوں
بزم کوئی ہو ــ مــــگر بات تمہاری نکلے
اپنے دُشمن سے مَیں ـ ـ بے وجہ خفا تھا محسنؔ
میرے قاتل تو ــ میرے اپنے حواری نکلے...!💔💔
کچھ تو تیری ہر ادا نے مار ڈالا
بچا جو میری انا نے مار ڈالا
نہ آئیں نیندیں سویرے جب ہوۓ پھر
شب_ فرقت کی صدا نے مار ڈالا
وہ جو رہتی ہیں ہر دم قریب میرے
ان آنکھوں کی کر بلا نے مار ڈالا
نہیں دکھ اتنا رقیب کے ہوۓ تم
کہ جتنا تیری رضا نے مار ڈالا
نہ ہوئ کم اس کی بے وفا یوں سےکبھی
محبؔت تیری جفا نے مار ڈالا
جیے رکھتا تھا تیرا فراق مانی
مجھے تیری اک شفا نے مار ڈالا
صبراں دے گھٹ بھرنے پیندے
سجناں دے دکھ جرنے پیندے
🌀
یاراں خاطر کنی واری
کُتّے کم وی کرنے پیندے
🌀
حق نوں حق جتاون دے لئی
سِر نیزے تے دھرنے پیندے
عشق دے پینڈے کرنے سوکھے؟
اگ دے دریا ترنے پیندے
🌀
پھلاں دے تاجر نوں اک دن
بھا سُولاں دے کرنے پیندے
ﻃﺎﺭﻕ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ
" ﮨﻤﺰﺍﺩ ﺩﺍ ﺩُﮐﮫ " ﺳﮯ -
ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻥ ﻧﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺭﺍﺗﺎﮞ
ﻧﮧ ﮔُﻠﺸﻨﺎﮞ ﻭﭺ ﮔُﻼﺏ ﻣﮩﮑﻦ
ﻧﮧ ﺩﺷﺖ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﺮﺍﺏ ﺩﮨﮑﻦ
ﻧﮧ ﺷﺎﻡ ﻭﯾﻠﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﻟﺒﮭﮯ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻟﺒﮭﮯ
ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮰ ﺩﻝ ﻧُﻮﮞ ﻣﻼﻝ ﮐﻮﺋﯽ
ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮰ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﻼﻝ ﮐﻮﺋﯽ
ﻧﮧ ﺍِﺫﻥ ﺩﯾﻮﮰ ﺣﻀﻮﺭﯾﺎﮞ ﺩﮰ
ﻧﮧ ﺣُﮑﻢ ﻻﻭﮰ ﺍﻭ ﺩُﻭﺭﯾﺎﮞ ﺩﮰ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﺮﮦ ﺣﺒﯿﺐ ﻭﻟﻮﮞ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺟُﻤﻠﮧ ﺭﻗﯿﺐ ﻭﻟﻮﮞ
ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻥ ﻧﮯ ۔ ۔ﻋﺠﯿﺐ ﺭﺍﺗﺎﮞ!
__مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں
میں لکھ لکھ کر__ مٹایا جا رہا ہوں__🍂
__مجھے سننے پہ جو راضی نہیں ہیں
اسے پھر بھی__ سنایا جا رہا ہوں__🌸
__مجھے ہر طور ہے مٹی میں ملنا
نگاہوں سے بہایا__ جا رہا ہوں__😭😭
__محبت نے سیاست سیکھ لی ہے
سلیقے سے __ستایا جا رہا ہوں__💔💔
__جہاں پر امتحاں بنتا نہیں ہے
وہیں پہ آزمایا__ جا رہا ہوں__🥀🥀
گزرتے وقت کے بہتے
دھارے میں
ہم بھی چپ چاپ یوں
بہہ جائیں گے
نہیں ہوگا گماں
اک آہٹ کا بھی
ڈھونڈنے والے
ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔۔
(احساس بس جائے )
بس اتنی سی دُعا ہے
تیری روح میں
میرا احساس بس جائے
تو جہاں بھی جائے
مجھے محسوس کر پائے
اندھیرے ہوں اُجالے ہوں
چاند اور ستارے ہوں
ہر ایک کی چمک
میرا چہرہ دکھا جائے
تیری آواز میں میرے ا
ہوں شامل
تیرے رنگوں میں میرا رنگ بس جائے
اس احساس کی گہری ڈور میں لپٹی
یوں میری محبت امر ہو جائے
بس اتنی سی دُعا ہے
تیری روح میں میرا
احساس بس جائے
بہت سے روگ ایسے تھے
جنہیں نمٹاۓ بیٹھا ہُوں
مگر اک روگ باقی ہے
ابھی جینا بھی ہے مجھ کو
اک مسلسل سے امتحان میں ہوں
جب سے رب میں ترے جہان میں ہوں
صرف اتنا سا ہے قصور مرا
وہ نہیں ہوں میں جس گمان میں ہوں
کون پہنچا ہے آسمانوں تک
ایک ضدی سی بس اڑان میں ہوں
جس خطا نے زمین پر پٹخا
ڈھیٹ ایسا، اسی کے دھیان میں ہوں
اپنے قصے میں بھی یوں لگتا ہے
میں کسی اور داستان میں ہوں
در و دیوار بھی نہیں سنتے
اتنا تنہا میں اس مکان میں ہوں
زندگی اک لحافِ ململ ہے
سرد موسم ہے کھینچ تان میں ہوں
تولتی ہیں مجھے یوں سب نظریں
جیسے میں جنس ہوں دکان میں ہوں
کوئی سمجھا نہ میری بات ابرک
میں کسی اور ہی زبان میں ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain